خصوصیسیاست

تریپورہ اور پنجاب کے چھوٹے انتخابات کا بڑا سبق

تریپورہ اور پنجاب کے اندر بظاہر مخالف جماعتیں کامیاب ہوئی ہیں لیکن ان دونوں صوبوں میں حزب اقتدار جماعتوں نے اپنے مخالفین کو بری طرح  کچل کر رکھ دیا ہے۔

ڈاکٹر سلیم خان

تریپورہ مشرق بعید کا  وہ صوبہ ہے جو نقشے میں بنگلا دیش کے اندر لٹکا ہوا نظر آتا ہے اور پنجاب مغرب بعید کی وہ ریاست ہے جو پاکستان سے چپکی ہوئی ہے۔ ان دونوں صوبوں میں پنچایت  کے انتخابات ہوئے۔  تریپورہ کے اندر ضلع پریشد، گرام سمیتی اور گرام پنچایت کے ضمنی انتخابات سے قبل  ساری  (۱۸)ضلع پریشد سیٹوں پر بی جے پی بلا مقابلہ کامیاب ہوگئی۔گرام پنچایت (۳۲۰۷) اور پنچایت سمیتی  (۱۶۱)کے ۹۶ فیصد نشستیں  بھی بی جے پی  نےبغیر کسی  مقابلے کے  جیت لیں۔ اس کے برعکس   پنجاب  ضلع پریشد اور پنچایت سمیتی کے انتخابات میں اس کو جملہ ۳۲۵۲ میں سے کل ۶۵ پر کامیابی ملی ۹۸ فیصد مقامات پر وہ ہار گئی۔  ضلع پریشد کی ۳۵۳ میں سے ۳۳۱ پر کانگریس نے قبضہ کیا جبکہ بی جے پی کے حصے میں صرف ۲ آئیں یعنی ایک فیصد سے کم اور پنچایت سمیتی ۲۳۵۱ میں سے ۶۳ یعنی ۳ فیصد سے کم۔  یہ انتخاب بی جے پی نے اکالی دل کے ساتھ مل کر لڑا تھا لیکن وہ بھی  ۳۷۱ یعنی ۱۱ فیصد پر سمٹ گئی۔ اسمبلی کے اندر سب سے بڑی حزب اختلاف عام آدمی پارٹی کا حال تو  سب سے خراب ہے۔ وہ ضلع پریشد میں ایک بھی سیٹ نہیں جیت سکی جبکہ پنچایت سمیتی میں اس کو کل ۲۰ نشستوں پر کامیابی ملی۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ پنجاب اسمبلی میں بھی عام آدمی پارٹی کے ۲۰ ارکان ہیں۔

تریپورہ اور پنجاب کے اندر بظاہر مخالف جماعتیں کامیاب ہوئی ہیں لیکن ان دونوں صوبوں میں حزب اقتدار جماعتوں نے اپنے مخالفین کو بری طرح  کچل کر رکھ دیا ہے۔ اس لیے  لازم ہے کہ اس کے پیچھے کارفرما وجوہات کا پتہ لگایا جائے۔ تریپورہ کی کامیابی کو اگر کوئی  بی جے پی کے وزیر اعلیٰ کی مہارت سے منسوب کرتا ہے تو وہ اس کی بہت بڑی بھول ہے۔ وزیر اعلیٰ بپلب داس کو یہ تک نہیں معلوم کہ سیول سروس میں میکانیکل  انجنیر  بھی کام  کرتے ہیں۔ وہ اس بات کا دعویٰ کرتے ہیں کہ مہابھارت کے زمانے میں انٹرنیٹ موجود تھا  اور انٹرنیٹ کا استعمال کرنے والی جدید نسل  کو پان کی دوکان لگانے کی صلاح دیتے ہیں۔ان کی منفرد ونایا تحقیق کے مطابق  رابندر ٹیگور نے برطانیہ سے احتجاج کرتے ہوئےنوبل انعام ٹھکرا دیا تھاوہ اپنے ان  بیانات کے سبب وزیراعظم  کی ڈانٹ  پھٹکار سے بھی نوازے گئے ہیں  ۔ اس کے باوجودبپلب داس کو  ضمنی انتخابات میں ایسی زبردست فتح  حاصل ہوگئی  جبکہ ایسا بھی نہیں ہے کہ تریپورہ کوئی ان پڑھ جاہلوں کا صوبہ ہے۔ خواندگی کے معاملے میں وہ کیرالہ کو پیچھے چھوڑ کر اول نمبر پر آچکا ہے۔

تریپورہ کا سب سے بڑا مسئلہ تعلیم یافتہ نوجوانوں کی بیروزگاری ہے۔ اس صوبے میں  ۲۵ سالوں تک سرخ پرچم لہراتا رہا۔  وہاں کے وزیراعلیٰ مانک سرکار  نہایت سادہ زندگی گزارنے والے غیر بدعنوان اور قابل ترین رہنماوں میں سے ایک تھے۔ سی پی ایم نے گزشتہ ۷۰ سالوں میں تریپورہ کے اندر عوامی فلاح و بہبود کا بہت کام کیا   لیکن مرکز کی کانگریس اور بی جے پی حکومتوں نے صوبے کے اندر  ایسی  سرمایہ کاری  نہیں کہ  جس سے روزگار کے مواقع پیدا ہوسکیں۔ اس  کا نتیجہ یہ ہوا کہ بیروزگاری کامسئلہ  حل  کرنے میں ناکام سے مایوس ہوکر عوام نے ایک ایسی پارٹی کو ووٹ دینے کا فیصلہ کرلیا جس کی مرکزمیں حکومت ہے۔ اتفاق سے اس وقت مرکز میں بی جے پی کی حکومت تھی اور وہ بیروزگاری کی جانب توجہ دہانی میں کامیاب ہوگئی۔ تریپورہ کے لوگ پرامید ہیں  کہ اس طرح ان کا یہ بنیادی مسئلہ حل ہوجائے گا۔ بی جے پی اگر عوام کی ان توقعات پر پوری اترے گی تو اس کو استحکام حاصل ہوگا ورنہ اسے بھی اکھاڑ پھینکا جائے گا۔ یہاں یہ پیغام بھی ہے عوام کو فی الحال اصول و نظریات کے بجائے مسائل کے حل میں زیادہ دلچسپی ہے۔

تریپورہ  کے باشندوں نے جس طرح وہاں کے روایتی  سیاسی حریفوں سی پی ایم اور کانگریس کو مسترد کرکے بی جے پی کو کامیاب کیا اسی طرح کا ماحول گزشتہ صوبائی  انتخاب سے قبل پنجاب میں تھا۔ منشیات کی وباء سے دوچار اڑتے پنجاب کے نوجوانوں کا جھکاوا  کالی دل یا کانگریس کے بجائے عام آدمی پارٹی کی جانب تھا۔ وہ اسے اقتدار میں تو نہیں لاسکے مگر حزب اختلاف کی سب سے بڑی جماعت ضرور بنادیا۔ ا مید یہ کی جارہی تھی کہ آئندہ انتخاب میں دہلی کی طرح پنجاب میں بھی جھاڑو چلے گا لیکن پھرعآپ   خانہ جنگی اور داخلی انتشار کا شکار ہوگئی۔

اس مہابھارت کا  نتیجےمیں  پنجاب کے  مایوس رائے دہندگان نے عآپ پر جھاڑو پھیر دیا۔ بی جے پی نے نوجوت سدھو کے پاکستان  دورے اور جنرل باجوہ سے معانقہ کو بھنا کر انتخاب جیتنے کی کوشش کی لیکن  کانگریس نے اسے گرونانک جیتی کے موقع پر کرتاپور سرحد کے کھولنے سے جوڑ کر بی جے پی کو پٹخنی دے دی۔ ان انتخابی نتائج کا ایک اور پیغام یہ بھی ہے کہ الیکشن صرف  اے وی ایم مشین کی نوحہ گری سے نہیں بلکہ عوام کی نبض پہچان پر اس کے علاج کی یقین دہانی سے جیتے جاتے ہیں۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

سلیم خان

ڈاکٹر سلیم خان معروف کالم نگار اور صحافی ہیں۔

متعلقہ

Close