خصوصی

تصور ہند آئین کی روشنی میں (دوسری قسط)

گزشتہ ہفتہ ہندوستانی آئین کی ابتدا میں تحریر کردہ تمہید کا تذکرہ کیا گیا تھا۔جس میں موٹے طور پر یہ بات بتانے کی کوشش کی گئی تھی کہ آزاد ہندوستان کی اساس کار کیا ہے ۔آج کے مضمون میں اُسی سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے شہریت، حق مساوات اور حق آزادی کا تذکرہ کیا جائے گا۔اِن تذکروں کا بنیادی مقصد قاری کو یہ بات ذہن نشیں کرانی ہے کہ گرچہ ہندوستان میں سیاسی،معاشی اورمعاشرتی بنیادوں پر بے شمار مسائل موجود ہیں اور بعض اوقات یہ مسائل اس قدر گہرا رنگ اختیار کر لیتے ہیں کہ ان سے نکل پانا خارج از امکان محسوس ہوتاہے۔اس کے باوجود آئین میں لچک موجود ہے ساتھ مسائل جو چہار طرفہ پھیلے ہوئے نظر آتے ہیں ،ان کا حل بھی بہت حد تک فراہم کیا گیا ہے۔لیکن چونکہ ہندوستانی شہریوں کی ایک بڑی تعداد قانونی چارہ جوئی کو ایک مشکل ترین مرحلہ سمجھتی ہے اور حقیقت بھی کچھ ایسی ہی ہے ۔

پھر چونکہ جہالت،معاشی افلاس اور معاشرتی جکڑ بندیوں کے نتیجہ میں ایک عام شہری خود اپنے اندر اتنی استطاعت محسوس نہیں کرتا کہ دستور اور موجودہ قوانین کی روشنی میں قانی چارہ جوئی کو آگے بڑھا سکے ،لہذا مسائل میں اضافہ ہوتا جاتا ہے ۔نیز وہ افراد جو غنڈہ گردی اورمخصوص فرد، فرقہ ،طبقہ اورگروہ کو دہشت میں رکھنا چاہتے ہیں ،اُن کے خلاف قانونی سطح پر ریاست،حکومت،سیاسی جماعتوں ،مذہبی اور معاشرتی بنیادوں پر قائم گرہوں کی جانب سے منظم و منصوبہ قانی چارہ جوئی نہیں کی جاتی،لہذا امن و آشتی اور لاء اینڈ آڈر کی صورتحال خراب سے خراب تر ہوتی جاتی ہے ۔اس پس منظر میں ضرورت ہے کہ جہاں ایک جانب مختلف قسم کے پریشر گروپ تشکیل دیے جائیں وہیں قانونی چارہ جوئی منظم و منصوبہ بند انداز میں کی جانی ضروری ہے۔تاکہ مسائل حل ہوں ،دہشت پھیلانے والوں پر گرفت کی جا سکے،فرقہ وارانہ چھوٹے اور بڑے واقعات میں کمی آئے اورریاست وملک ،ہمہ جہتی ترقی کی جانب آگے بڑھ سکیں ۔

 آئیے سب سے پہلے دیکھیں کہ آئین ملک کا شہری کسے قرار دیتا ہے؟پھرشہریت کے حصول کے بعد اُسے کس حد تک حق مساوات اورحق آزادی حاصل ہوگی؟شہریت:دفعہ۵کہتی ہے کہ اِس آئین کی تاریخ نفاذ پر ہر وہ شخص بھارت کا شہری ہوگا جس کی بھارت کے علاقہ میں مستقل جائے سکونت ہو، اور(الف) جو بھارت کے علاقہ میں پیدا ہوا،(ب) جس کے والدین میں سے کوئی ایک بھارت کے علاقہ میں پیدا ہوا ، یا(ج) جو تاریخ نفاذ کے عین قبل کم سے کم پانچ سال تک بھارت کے علاقہ کا معمولاً باشندہ رہا ہو۔۔۔۔۔وغیرہ۔

وہیں قانون کی نظر میں مساوات کی تفصیلات دفعہ :14میں بیان کی گئی ہے۔حق مساوات:مملکت کسی شخص کو بھارت کے علاقہ میں قانون کی نظر میں مساوات یا قوانین کے مساویانہ تحفظ سے محروم نہیں کرے گی۔مذہب، نسل۔ذات یا جنس یا مقام پیدائش کی بنا پر امتیاز کی ممانعت:دفعہ:15کے مطابق:(1) مملکت محض مذہب، نسل، ذات، جنس یا مقام پیدائش یا ان میں سے کسی کی بنا پر کسی شہری کے خلاف امتیاز نہیں برتے گی۔(2)کوئی شہری محض مذہب۔ نسل۔ ذات۔جنس۔ مقام پیدائش یا ان میں سے کسی کی بنا پر۔۔۔(الف) دکانوں ۔عام ریستوران۔ہوٹلوں یا عام تفریح گاہوں میں داخلہ کے لیے ، یا(ب) کلی یا جزوی طور سے مملکتی فنڈ سے قائم یا خلایق عامہ کے استعمال کے لیے کنووں ۔تالابون۔اشنان گھاٹوں ۔سڑکوں اور عام آمدورفت کے مقامات کے استعمال کے ناقابل نہ ہوگا یا اس پر کوئی ذمہ داری یا پابندی یا شرط نہ ہوگی۔(3) اس آئین میں کوئی امر اس میں مانع نہ ہوگا کہ مملکت عورتوں اور بچوں کے لیے کوئی خاص توضیع کرے۔

سرکاری ملازمت کے لیے مساوی موقع:دفعہ:14۔(1ـ) تمام شہریوں کے لیے مملکت کے تحت کسی عہدہ پر ملازمت یا تقرر سے متعلق مساوی موقع حاصل رہے گا۔(2) کوئی شہری محض مذہب۔نسل۔ذات۔جنس۔نسب۔مقام پیدائش۔بودوباش یا ان میں سے کسی کی بنا پر مملکت کے تحت کسی ملازمت یا عہدے کے لیے نہ تو قابل ہوگا اور نہ اس کے خلاف امتیاز برتا جائے گا۔(3)  اس دفعہ میں کوئی امر پارلیمنٹ کے ایسا قانون بنانے میں مانع نہ ہوگا جس میں ریاست یا یونین علاقہ کی حکومت یا ان کے اندر کسی مقامی یا دیگر حاکم کے تحت کسی قسم یا اقسام کی ملازمت یا کسی عہدے پر تقرر کی بابت ایسی ملازمت یا تقرر کے قبل اس ریاست میں یا یونین علاقہ کے اندر بود و باش کی ضروری شرط مقرر کی جائے۔(4) اس دفعہ کا کوئی امر تقرارت یا عہدوں کو شہریوں کے کسی ایسے پسماندہ طبقہ کے حق میں جس کی مملکت کے تحت ملازمتوں میں مملکت کی رائے میں کافی نمائندگی نہ ہو محفوظ کرنے کے لیے کوئی توضیع کرنے میں مانع نہ ہوگا۔(5) اس دفعہ کے کسی امر کا کوئی اثر ایسے قانون کے نفاذ پر نہ ہوگا جس میں یہ توضیع درج ہو کہ کسی مذہبی یا فرقہ جاتی ادارے کے امور سے متعلق کوئی عہدہ دار یا ایسے ادارے کی مجلس انتظامی کا کوئی رکن کسی خاص مذہب کا پیرو یا کسی خاص فرقہ سے تعلق رکھتا ہو۔

 ہندوستان کے خمیر میں چونکہ چھوت چھات اور انسانوں کو انسانوں ہی کے درمیان تقسیم کرنے کا رواج قدیم ترین زمانے سے موجود رہا ہے ۔لہذا اِسی کو پیش نظر رکھتے ہوئے ہندوستان کے آئین کی دفعہ17 میں اِس پر روشنی ڈالی گئی ہے۔چھوت چھات کے خاتمہ کے تحت:دفعہ17میں کہا گیا کہ :چھوت چھات کا خاتمہ کیا جاتا ہے اور کسی بھی شکل میں اس پر عمل کرنے کی ممانعت کی جاتی ہے۔چھوت چھات کی بنا پر کوئی ناقابلیت عائد کرنابموجب قانون قابل سزا جرم ہوگا۔وہیں آئین میں خطابات ،مشاہرہ اور تحائف کے سلسلے میں بھی تذکرے موجود ہیں ۔یہ تذکرہ گرچہ عوام الناس کے لیے اہمیت نہیں رکھتے اس کے باوجود خواص کے لیے اس کی اہمیت بڑھ جاتی ہے۔

دوسری جانب ملک کی سا  لمیت اور اُس کے فائدہ و نقصانات ان خطابات ،تحائف اور مشاہیر میں موجود ہوتے ہیں ،لہذا انہیں مقصد کے پیش نظر دفعہ 18 میں اِس کا تذکرہ کیا گیا ہے ۔یہاں اس کا تذکرہ صرف اس لیے کیا جا رہا ہے تاکہ ہم عوام بھی ان باتوں سے واقف رہیں اور اگر کسی مقام پر کسی حکومتی عہدے پر فائز افسر کا معاملہ یا واقعہ ہماری آنکھوں کے سامنے سے گزرے تو ہمیں بھی دیکھنا چاہیے کہ کیا اس شخص نے ان باتوں کا لحاظ رکھا ہے،جن کا آئین میں تذکرہ کیا گیا ہے یا نہیں ؟خطابات کا خاتمہ:دفعہ:18میں کہا گیا کہ :(1)مملکت کوئی خطاب، جو فوجی یا علمی امتیاز نہ ہو، عطا نہیں کرے گی۔(2) بھارت کا کوئی شہری کسی مملکت غیر سے کوئی خطاب قبول نہیں کرے گا۔(3) کوئی شخص جو بھارت کا شہری نہ ہو اس وقت جب وہ مملکت کے تحت کسی نفع بخش یا قابل اعتماد عہدے پر فائز ہو بغیر صدر کی منظوری کے کسی مملکت غیر سے کوئی خطاب قبول نہیں کرے گا۔(4) مملکت کے تحت کسی نفع بخش یا قابل اعتماد عہدے پر فائز کوئی شخص کسی مملکت غیر سے یا اس کے تحت کوئی تحفہ۔مشاہرہ یا کسی قسم کا عہدہ بغیر صدر کی منظوری کے قبول نہیں کرے گا۔

  ہندوستان میں وقتاً فوقتاً مختلف گروہ اور نظریات کے حاملین ــ”حق آزادی”کی آواز اٹھاتے رہے ہیں ۔اس آواز کے پیچھے اصل وجہ عموماً یہی معلوم ہوتی ہے کہ آواز اٹھانے والوں کی شکایت ہوتی ہے کہ اِن کی آواز دبائی جا رہی ہے اور جو آزادی آئین انہیں فراہم کی ہے وہ مختلف طریقوں سے سلب کی جا رہی ہے۔لہذا لازم ہے کہ ہرفرد واقف ہو کہ آئین میں ‘حق آزادی’سے مراد کیا ہے ؟اور کس حد تک اور کن کن دائروں میں آئین نے اسے ‘حق آزادی’ فراہم کی ہے؟مختصراً دفعہ 19 کے چند نکات یہاں درج کیے جا رہے ہیں تفصیل سے آئندہ ہفتہ لکھا جائے گا۔دفعہ:19میں کہا گیا ہے کہ  (1) تمام شہریوں کو حق حاصل ہوگا:(الف)آزادیٔ تقریر و آزادیٔ اظہار کا؛(ب) امن پسندانہ طریقہ سے اور بغیر ہتھیاروں کے جمع ہونے کا؛(ج) انجمنیں یا یونین قائم کرنے کا؛(د) بھارت کے سارے علاقہ میں آزادانہ نقل و حرکت کرنے کا؛(ہ) بھارت کے علاقہ کے کسی حصہ میں بود و باش کرنے اور بس جانے کا ، اور(ز) کسی بھی پیشہ کے اختیار کرنے یا کسی کام کاج ، تجارت یا کاروبار کے چلانے کا۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

آصف اقبال

آصف اقبال دہلی کے معروف کالم نگار ہیں۔ بنیادی طور پر آپ سافٹ ویئر انجینئر ہیں۔ آپ کی نگارشات برصغیر کے مؤقر جریدوں اور روزناموں میں شائع ہوتی ہیں۔

متعلقہ

Close