خصوصیملی مسائل

تین طلاق بِل: متحد اپوزیشن کی پرزور مخالفت 

پاسباں مل گئے کعبہ کو صنم خانہ سے 

خالد سیف الدین

اسلامی تعلیمات سے بے بہرہ، عمل سے دور اور آپس میں عدم اتحاد کی وجہ سے بحیثیت مسلمان آج ہم پر تنقید وتشدّد کی بجلیاں گرائی جارہی ہیں ۔ آج ہم جتنے ذلیل ورسوا ہورہے ہیں کہ شاید اس پہلے کبھی کسی دور میں اتنے ذلیل و رسوا نہ ہوئے ہوں اور شاید کبھی اتنے کمزوربھی نہیں تھے جتنے ہم اپنے آپ میں آج کمزوری محسوس کررہے ہیں ۔ ہر جگہ ہم کوہراساں کیا جارہا ہے۔ ہماری عزت و عفت محفوظ نہیں ہے۔ آج ہمارے خون کی قیمت پانی سے بھی ارزاں ہے۔ آج ہمارا وجود ایک بڑے صبر آزماں دور سے گذررہا ہے آج ہم تعلیم، تجارت، روزگار اور صحت حتیٰ کے زندگی کے ہر پہلو میں ملک کے معاشرے میں سب سے نچلی سطح پر ہیں اور اسی لئے ظلم اور فتنے دونوں کا شکار بنتے جارہے ہیں ۔ بی جے پی اور دیگر ہندو تنظیموں کی مسلم دشمنی اور مسلمانوں کے خلاف غلط و بے سروپا الزامات کی تشہیر (Propaganda) کی وجہ سے ملک میں پیدا شدہ مذہبی نفرتوں کے تحت گذشتہ ساڑھے چار برسوں سے مسلمانوں پر بھیانک مظالم ڈھائے جارہے ہیں۔

مسلمانوں پر منظم حملوں کے بعد اُنکے مکانوں کو لوٹنا اور پھر خاکستر کردینا شمالی ہند میں بی جے پی اقتدار والی ریاستوں میں ایک عام سی بات ہوگئی ہے۔ قانونی اختیار کے بغیر بھیڑ کی شکل میں کسی کو جان سے مارنے دینے (Moblynching) کے بے شمار واقعات سے کون واقف نہیں ہے۔ معصوم بچی آصفہ کی اجتماعی آبروریزی کے بعد قتل کے واقعہ سے ملک کو ساری دنیا میں ہزیمت اُٹھانی پڑی تھی، اس کے باوجود بھی کیا اُس لڑکی کے والدین کو انصاف ملا ؟ عرصہ دراز سے جیلوں میں قید بے قصور مسلم نوجوان جو آج ضعیفی کی دہلیز پر قدم رکھ چکے ہیں اور جن میں سے چند ایک کو ان کے خلاف کوئی ٹھوس ثبوت نہ ہونے کی بنیاد پر عدالتوں نے قید سے آزاد بھی کردیا لیکن ان رہا شدہ بے قصوروں کی باز آبادکاری ( Rehabilitation) کا حکومت کے پاس کوئی منصوبہ نہیں ہے۔ سرکاری ملازمتوں میں مسلمانوں کا گرتا ہوا تناسب، اعلی تعلیم کے حصول میں مسلم طلباء کو درکار وسائل کا فُقدان، سچر کمیٹی کی سفارشات پر عمل آوری کا انتظار، تعلیم کے علاوہ مرکزی، ریاستی سرکاری و نیم سرکاری نوکریوں میں پسماندہ مسلمانوں میں سے بے انتہاء پسماندہ طبقات کے لئے SC, ST کے خطوط پر ریزرویشن کی عدم سہولت، ملک کی فوج بھرتی میں مسلمانوں کے لئے خصوصی کوٹہ کی اُمید، ملک کے قانون ساز اداروں میں مسلم نمائندگی کی گرتی ہوئی تعداد اور مسلمانوں میں بڑھتا ہوا احساس عدم تحفظ، اس کے علاوہ ابھی حال ہی میں بی جے پی قیادت والی حکومتِ مہاراشٹر نے مہاراشٹر معذور ترقیاتیِ بورڈ کے علاوہ دیگر تین پس ماندہ ترقیاتی بورڈکی معاشی خستہ صورتِ حال کو سہارا دیتے ہوئے NSFD سے 325/- کروڑ روپیوں کا قرض حاصل کرنے کیلئے منظوری دے دی ہے جبکہ اس فہرست میں مولانا آزاد فائنانس کارپوریشن کا نام غائب کردیا گیا ہے۔

مولانا آزاد فائنانس کارپوریشن مہاراشٹر بھر میں پیشہ وارانہ تعلیم (Professional Courses)واعلیٰ تعلیم (Higher Education) حاصل کرنے والے مسلم طلباء کو مالی امداد (واپسی کی شرط پر) فراہم کرنے والا واحد نیم سرکاری ادارہ ہے۔ کانگریس ۔ راشٹروادی کانگریس کے گذشتہ پندرہ سالہ دور اقتدار میں اس ادارے نے مسلم طلباء کو کامیابی کے ساتھ مالی مدد فراہم کی تھی اب صورت حال یہ ہے کہ اس ادارے سے توقعات لگائے بیٹھے طلباء اور اُن کے والدین معاشی بحران میں مبتلاء ہیں ۔ یہی وہ بنیادی مسائل ہیں جو مسلمانوں کو تعلیمی و اقتصادی ترقی میں رُکاوٹ بنے پڑے ہیں ۔ وزیر اعظم نریندرمودی نے بی جے پی کی اقلیتوں کی مدد نہ کرنے کی (no minority appeasment) پالیسی پر عمل کرتے ہوئے اپنے دورِ اقتدار میں اپنی تقریروں کے دوران کبھی ملک کی اقلیتوں کو مخاطب نہیں کیا، نہ اُن کو درپیش مسائل حل کرنے کی تدابیر پیش کیں اور نہ ہی کوئی مثبت لائحہِ عمل تجویز کیا بلکہ اس کے بر عکس ایک منظم سازش کے تحت موجودہ مرکزی حکومت نے نام نہاد و خود ساختہ مظلوم مسلم خواتین سے ہمدردی کے عنوان پر مسلمانوں کے مذہبی جذبات سے کھلواڑ کرتے ہوئے ایوانِ لوک سبھا میں اکثریت کے زور پرترمیم شدہ (قانون برائے تحفظِ حقوقِ شادی برائے مسلم خواتین ۲۰۱۸ء) تین طلاق بل پاس کروالیاجبکہ اس بل پر بحث کے دوران ایم پی اسد الدین اویسی اور محمد سلیم نے بڑے جارحانہ رویہ کے ساتھ اس بل کی مخالفت کرتے ہوئے ایوان کو بتایا کہ یہ بل دستورِ ہند کی دفعہ ۱۴، ۱۵،۲۶ اور ۲۹ کے تحت ملک کے باشندوں کو حاصل شدہ مذہبی آزادی و مذہبی سہولیات کی خلاف ورزی کرتا ہے۔اس بحث میں حصہ لیتے ہوئے ایم پی سپریاسولے نے ایوان کو بتایا کہ یہ بل ٹھیک ایک سال قبل اس ایوان میں زیر بحث تھا آپ نے اُسے پاس کرواکر راجیہ سبھا کو بھیجا اور وہ بل وہاں روک دیا گیا۔ انھوں نے ایوان سے دریافت کیا کہ ہم نے اس ایک سال میں کیا حاصل کیا ؟

آپ اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر گواہی دیجئے کہ یہ بل صرف سیاسی بل ہے یا نہیں ؟ جو سماجی قدروں کو بالائے طاق رکھ کر ایوان میں لایا گیا ہے۔ اپنے درد بھرے لب و لہجہ میں سپریہ سولے نے اس بل کی پُرزور مخالفت کرتے ہوئے ایوان کو اُس وقت حیرت زدہ کردیا جب انھوں نے تعلقہ عنبڑ ضلع جالنہ کی رہنے والی کرن کلکرنی کی مثال پیش کی جنہوں نے تقریباً ۲۴ سال قبل مسلم نوجوان سرہان بن فیصل بن ماضی المعروف سرہان چاؤش سے شادی کی تھی اور آج وہ بطور حنا سرہان چاؤش (مسلمان) اپنی زندگی خوشی خوشی گذار رہی ہیں وہ اپنی روزمرہ کی زندگی میں صوم و صلاۃ کی پابندی کررہی ہیں ۔ ایوان حیرت سے اُس وقت شل ہوگیا جب ایم پی رنجیتا رنجن نے اس بل کی مخالفت میں اپنی پُر مغز تقریر کے دوران سورہ النساء کی آیتوں کا ترجمہ پیش کیا اور ایوان سے درخواست کی کے وہ بھی قرآن کی تعلیمات حاصل کریں ۔سپریہ سولے اور رنجیتا رنجن کے علاوہ کرن کلکرنی کے جذبے اور جراء ت کو ہم سلام پیش کرتے ہیں ۔اس بل کی مخالفت کرتے وقت اسد الدین اویسی اور سپریا سولے کی ہم آہنگی کے علاوہ حزبِ اختلاف (opposition) میں شامل تمام پارٹیوں کا اتحاد دیکھ کر ہماری آنکھیں نم ہوگئیں تھیں لیکن اس پُر زور مخالفت کے باوجود مرکزی حکومت نے شرعی قانون پر قدغن لگانے کا کام کیا اور اس بل کو پاس کرواکر یہ ثابت کردیا کہ وہ اس ملک کے آئین اور ملک میں رائج جمہوری نظام سے اختلاف رکھتی ہے اور یہ بھی واضح کردیا کہ اگر وہ مستقبل میں بھی اکثریت حاصل کرلیتے ہیں تو پھر وہ ملک میں بسنے والی تمام اقلیتوں کو انسانی غلامی کا طوق پہنادینگے۔

موجودہ دور میں ملک کے مسلمانوں کی درپیش پریشانیاں آر ایس ایس کی کتاب Bunch of thoughts میں موجود اُس ایجنڈے کی بنیاد پر ہے جس میں صاف طور پر واضح کردیا گیا ہیکہ جب تک اس ملک کے مسلمان اور عیسائی ہندو مذہب قبول نہیں کرلیتے تب تک اُن کے ساتھ دشمنی رکھتے ہوئے ظالمانہ رویہ اختیار کیا جائے۔ تحریک جنگِ آزادی سے خود کو علحدہ رکھنے والا، خود پرست، سرکش اور سربر آوردہ یہ سنگ پریوار جو غرور و نخوت سے اکڑے ہوئے لب و لہجہ میں لفاظّی کے بل پر جھوٹ کو سچ اور سچ کو جھوٹ بنا کر پیش کرتا ہے ۔ خون، نسل اور مذہب کے پیمانوں سے انسان کی عظمت کو ناپنے والے، طاقت و تشدّد کے یہ پیر و کار مسلمانوں کے جذ بات میں انانیت کی آگ لگانا چاہتے ہیں مگر یہ نادان نہیں جانتے ہیں کہ اسلام اپنے ماننے والوں کو ایک خدا کا خوف دے کر دوسرے تمام خوف سے بے نیاز کردیتا ہے۔

خدا کے ایک ادنیٰ سے اشارے پر تمام اسباب و زرائع پیدا ہوتے چلے جائینگے جو قوموں کی سربلندی کیا راستہ ہموار کرتے ہیں اور وہ اس بات سے بھی غافل ہیں کہ جب جب وہ قومیں جو اسلام دشمنی پر اتر آتی ہیں تب تب انہی مخالفین میں سے اکثر یہ پھر ان کے افراد خاندان اپنے صدیوں کے عقیدوں کو تہ و بالہ کرتے ہوئے اپنے آباو اجداد کے مانوس مذاہب سے ہاتھ چھڑاتے ہوئے عین انسانی فطرت کے موافق ایک پر کشش اور پر وقار مذہب، مذہب اسلام کی طرف ذوق و شوق کی پیش قدمی کے ساتھ جوق در جوق دوڑ پڑتے ہیں۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

خالد سیف الدین

خالد سیف الدین کا تعلق شہر اورنگ آباد، مہاراشٹرسے ہے۔ پیشے سے سول انجینئر ہیں۔ راشٹروادی کانگریس پارٹی مہاراشٹر کے ریاستی سیکریٹری کے عہدے پر 2014 سے متمکن ہیں۔ خالد سیف الدین ریاست مہاراشٹر کی بےشمار تعلیمی، ادبی، ثقافتی اور دیگر انجمنوں سے وابستہ ہیں۔ وہ ایک فعال شخصیت کے مالک ہیں،کسی بھی سرگرمی اور پروگرام کی منصوبہ بندی اور اسکے حسن انتظام کیلئے ماہر سمجھے جاتے ہیں۔

متعلقہ

Close