خصوصیسیاست

جنگ کی سیاست، عوامی نفسیات اور سیاست کی جنگ

اے۔ رحمان

سیاست( السّیاسۃ)عربی لفظ ہے جو اردو میں انگریزی  لفظPoliticsکے متبادل کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔ اور یہ استعمال یا ترجمہ لغوی، محاوراتی اور اطلاقی ہر لحاظ سے غلط ہے۔ آکسفورڈ ڈکشنری میں لفظPoliticsکے معنی ہیں ’’کسی علاقے یا ملک کے انتظام یاحکومت سے متعلق سرگرمیا ں خصوصاً برسرِ اقتدار جماعتوں کے مابین مباحث‘‘۔ دوسری جانب عربی لغت میں سیاست کے معنی ہیں ’تدبیر‘ دانشورانہ مشورہ، انتظام، خدمت، ایجاد  وغیرہ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ سیاست، ’ سائس‘ سے مشتق ہے جس کے معنی ہیں ’ جانوروں کو سدھانے اور ان کی دیکھ بھال کرنے والا۔ وطن عزیز میں سیاست داں کے یہی معنی بالکل موزوں اور قطعی سمجھنے جانے چاہئیں۔ جارج برنارڈ شا کا مشہور قول ہے’’ سیاست ہر بے ایمان، بے ضمیر غنڈے کی آخری پناہ گاہ ہے۔ ‘ اور شاسے قبل سیموئیل جانسن کہہ گیا تھا ’’ حب الوطنی ہر بے ایمان، بے ضمیر غنڈے کی آخری پناہ گاہ ہے۔ ‘‘  ملک کی موجودہ سیاست اور سیاست دانوں پر گفتگو کے لیے ان دونوں اقوال کو بنیاد بنایا جاسکتا ہے۔

سیاسی اقتدار کا بنیادی خاصہ ہے کہ صاحبِ اقتدار اپنے رتبے اور قوت کے تسلسل ِمدام کا خواہشمند ہوتا ہے۔ یعنی وہ چاہتا ہے کہ اس کا اقتدار ہمیشہ قائم رہے اور اس کے لیے وہ کوئی بھی قیمت دے سکتا ہے، کسی حد تک بھی گر سکتا ہے اور کوئی بھی تذلیل برداشت کر سکتا ہے۔ یہ بات تقریباً متفق علیہ ہے۔ تو ثابت ہوا کہ جو ادعا، نظریہ، ہدف یا نعرہ لے کر وہ اقتدار میں آیا تھا وہ قطعی بے معنی ہے۔ اقتدار حاصل کرنے کے بعد واحد ہدف اور مقصد صرف اقتدار رہ جاتا ہے۔ یہ بھی سامنے کی بات ہے کہ اقتدار، خصوصاً سیاسی اقتدار جس درجے کا تحفظ فراہم کرتا ہے وہ نہ صرف بے مثل ہے بلکہ انتہائی(Ultimate)  ہوتاہے۔ یہاں شاکا قول صادق ہے کیونکہ دولت بھی وہ تحفظ فراہم نہیں کر سکتی جو حاکمان وقت کو حاصل ہوتا ہے۔

اب حب الوطنی کو لیجیے۔ یہ اک فطری اور پر خلوص جذبہ ہے جو ہر ایمان دار اور صاف باطن شہری کی ذہنی اور جذباتی ساخت (make up ) کا حصہ ہے۔ وطن سے محبت سن شعور سے پروان چڑھتی ہے اور مکمل شخصیت کے اجزائے ترکیبی میں شامل ہوتی ہے۔ لیکن ایک عام اور نارمل شہری اپنی حب الوطنی کا جا و بے جا ڈھول پیٹتا نہیں پھرتا۔ اس کی حب الوطنی اس کے اعمال و اقوال کا لا شعوری حصہ ہوتی ہے۔ لیکن سیاستداں وقتاً فوقتاً اور کسی بھی ضرورت کے تحت اپنی حب الوطنی کا ڈھنڈھورا پیٹنا شروع کر دیتے ہیں، صرف عوام الناس کے جذبات بر انگیختہ کرنے یا ان کی توجّہ کسی اہم تر مسٔلے سے بھٹکانے کے لئے۔ اس کی زندہ اور حالیہ مثال ہے پلوامہ کا دلدوز سانحہ جس میں چوالیس بے قصور جوانوں کی ناوقت شہادت ہوئی، اور ابھی ان کی لاشوں کے ٹکڑے بھی جمع نہیں کئے جا سکے تھے کہ بے رحم اور شقی القلب سیاست نے اپنا روایتی کردار ادا کرنا شروع کر دیا۔ قابل ِ ذکر ہے کہ یہ دہشت گردانہ حملہ ایسے نازک سیاسی ماحول میں وقوع پذیر ہوا جب بر سر ِ اقتدار جماعت کو آئندہ عام انتخابات میں اپنی ممکنہ شکست کا خوف انگیز ہیولیٰ صاف نظر آنے لگا تھا۔

عوام کو احساس ہو چکا تھا کہ جن رنگین اور پرکشش وعدوں اور خوابوں کے رتھ پر سوار ہو کر موجودہ حکومت نے اقتدار کی منزل حاصل کی ہے وہ تمام وعدے اور خواب عملی تعبیر سے محروم رہ گئے ہیں بلکہ ملک و قوم کئی سنگین مسائل سے دو چار ہیں۔ لہٰذا ارباب اقتدار کو سخت ضرورت تھی کسی ایسے دھماکے کی جو عوام کی تمام تر توجہ اپنی جانب منعطف کرلے۔ اور یہ دھماکہ پلوامہ حادثے کی صورت میں نعمت غیر مترقبہ کی مانند ان کی جھولی میں آن گرا۔ اب ذرا غور کیجیے۔ پلوامہ کی المناک خبر آنے سے لے کر لمحۂ موجود تک کیا الیکٹروناک میڈیا پر اس سانحے اور ما بعد واقعات پربحث کے علاوہ کچھ اور دکھایا گیا ہے؟ جمہوریت میں میڈیا کا کردار کتنا اہم ہوتا ہے یہ بتانے کی ضرورت نہیں اور اب جبکہ عوام کی بیشتر توجہ پرنٹ میڈیا کے بجائے ٹی۔ وی چینلز پر مرکوز ہے ان کا فرض اور بھی اہم ہو جاتا ہے۔ لیکن جیسا کہ اب کھلم کھلّا کہا جارہا ہے بکاؤ یا گودی الیکٹرانک میڈیا نے ملک کے تمام سنگین مسائل کی طرف سے چشم پوشی کر لی ہے۔ معاشی اور معاشرتی مسائل جو پلوامہ سے پیشتر درپیش تھے اب بھی ہیں۔ حادثے بھی ہو رہے ہیں، عورتوں اور بچوں کا جنسی استحصال اور قتل بھی کیا جا رہا ہے، لوٹ مار اور دیگر پر تشدد جرائم کا ارتکاب بھی ہو رہا ہے لیکن ہمارے ٹی۔ وی چینلز ان تمام سے قطعی بے پروا ہو کر عوام کو جنگی جنون میں مبتلا کرنے کی بھرپور کوششوں میں مصروف ہیں۔ کوئی ایک چینل ایسا نہیں جو جنگ سے ہونے والی تباہ کاریوں کا ذکر کرے یا دہشت گردی کے سنگین مسئلے کے مستقل حل کی تجاویز پیش کرے۔ کیونکہ جنگ کی سیاست چل رہی ہے اور کامیابی سے چل رہی ہے۔

افسوس ناک بات ہے کہ وزیر اعظم نے ایک سیاسی ریلی کی تو پس منظر میں پلوامہ کے شہیدوں کے فوٹو لگا دیے۔ شہیدوں کی شہادت کو اس بے رحمی سے بھنائے جانے کی کوئی مثال ملک کی  سیاسی تاریخ میں نہیں ملتی۔ یہاں یہ بھی خیال رہے کہ میڈیا نے آج تک ان شہیدوں کے اقربا، ورثا اور اہل خانہ کے بارے میں کسی طرح کی کوئی خبر نشر نہیں کی۔ کوئی نہیں جانتا کہ ان پر کیا گزر رہی ہے اور شہیدوں کی بیواؤں اور یتیموں یا بوڑھے ماں باپ کی کفالت کا حکومت نے کیا انتظام کیا ہے۔ نا عاقبت اندیش سیاسی رہنماؤں کے ذریعے لگائے گئے جنگی نعروں اور پاکستان کو ’ مزہ چکھانے‘ کی عرصے سے چلی آ رہی خواہش کے زیر اثر عوام بھی سب کچھ بھول بھال کر ممکنہ جنگ کے سلسلے میں ہونے والی سیاسی سرگرمیوں اور دونوں ممالک کے مابین کھیلی جا رہی سیاسی شطرنج کی جانب ہمہ تن گوش و نگاہ مسحور ہیں۔ لیکن یہ عوام کی نفسیات ہے جس کے پس پردہ ان کی پر خلوص اورخالص حب الوطنی ہے۔ ان کو جنگ کے نتائج سے آگاہ نہیں کیا جا رہا۔ نہ کوئی یہ بتا رہا ہے کہ جنگ شروع ہوئی تو اس کا اختتام کس مرحلے پر ہوگا یا ملک و قوم کا کون سا مئلہ حل ہو جائے گا۔

یہ فرض کرلیا گیا ہے کہ ہم پاکستان کو پسپا کر دیں گے۔ چلئے مان لیا کر دیں گے۔ لیکن اس کے بعد؟ جنگ میں ہمارے کتنے جیالے شہید ہوں گے، کتنے معصوم اور بے گناہ شہری ناگہانی موت کا شکار ہوں گے، قومی معیشت کو کتنا نقصان پہنچے گا، اس کا حساب کوئی نہیں دے رہا ہے۔ دے گا بھی نہیں۔ کیونکہ جنگ ہونا ممکن ہی نہیں۔ اس کی ایک سادہ سی وجہ تو یہ ہے کہ ہندو پاک میں کسی بھی سطح کی جنگ چھڑی تو وہ فوراً جوہری جنگ کی صورت اختیار لے گی جسے دونوں میں سے کوئی ملک برداشت کرنے کی سکت نہیں رکھتا۔ علاوہ ازیں ابھی ابھی امریکی وزارتِ دفاع  کے ماہرین کی ایک کمیٹی نے اپنے صدر کو ایک مفصل رپورٹ سونپی ہے جس میں کہا گیا کہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان ہونے والی جوہری جنگ کے اثرات ما بعد(Fallout)پورے جنوب مشرقی ایشیا، امریکہ کے مغربی سواحل اور آسٹریلیا تک تباہی کی داستان رقم کریں گے۔ اس یقینی منظر نامے کو دیکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ خود امریکہ اور چین جیسے ممالک بھی ظاہری حمایت اور سیاسی جانبداری کے عوامل کو نظر انداز کرکے اس جنگ کو روکنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ جنگی حرارت میں تخفیف (de-escalation ) کی ابتدا ہو چکی ہے۔ آج رات شاید ہند و پاک کے وزرائے اعظم ایک دوسرے سے گفتگو بھی فرمائیں گے۔ لہٰذا اس مرحلے سے سیاسی جنگ کا آغازہوتا ہے۔ برسر اقتدار جماعت کی بھرپو رکوشش ہے کہ موجودہ صورت حال کو زیادہ سے زیادہ اپنے مفاد کے لیے استعمال کرنے کی غرض سے عوام کے برانگیختہ جذبات کی حدت  اور شدّت کو کم از کم انتخاب کے وقت تک برقرار رکھا جائے اور اس ضمن میں حزب اختلاف پر ملک کی سلامتی سے وابستہ معاملات کے تئیں اغماض اور لاپروائی کے الزامات عائد کرکے عوام کو ان سے برگشتہ کیا جائے۔ اس پورے عمل میں حکومت کی تمام مشینری مامور کر دی گئی ہے۔ اب اس بات پر بغلیں بجائی جا رہی ہیں کہ لائین آف کنٹرول عبور کر کے جیش ِ محمّد کا کیمپ تباہ کر دیا گیا جس میں تین سو دہشت گرد جہنّم رسید ہوئے۔ اس کے علاوہ ہندوستانی فضائیہ نے پاکستان میں گھس کر انتقامی کاروائی کی اور ہمارا جو پائلٹ ان کی حدود میں گر کر گرفتار ہوا اسے بھی بسلامت واپس لے لیا گیا جو ایک بہت بڑی سفارتی کامیابی ہے۔ اس سے قطع نظر کہ تین سو دہشت گردوں کے مارے جانے اور جیش ِ محمّد کے کیمپ کی تباہی کا کوئی بھی ثبوت ابھی تک سامنے نہیں لایا گیا (بی۔ بی۔ سی نے تو اپنے ایک نشریے میں بالاکوٹ کے ویڈیو کلپ اور مقامی باشندوں سے گفتگو  کے ذریعے ثابت کیا ہے کہ ایسا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا)لیکن یہ دعویٰ اگر صداقت پر بھی مبنی ہو تو اس کو ادائیگیٔ فرض سے زیادہ کیا کہا جا سکتا ہے۔

حکومت کسی بھی جماعت کی ہو شہریوں کے جان و مال کی حفاظت اور ملکی سلامتی اس کا فرض ِ اولّیں ہے۔ مسلّح افواج سیاسی اقتدار کے تابع ہیں اور ان کی کارکردگی حکومت کی پالیسی پر مبنی ہوتی ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ جیالے فوجیوں کی جانبازی اور جاں نثاری سے حاصل کی ہوئی کامیابی اور فتح کا سہرا سیاستداں اپنے سر ہی باندھتے ہیں۔ موجودہ حکومت نے تو مسلّح افواج کو بھی سیاست میں گھسیٹنے سے گریز نہیں کیا۔ پہلی مرتبہ ایسا ہوا کہ تینوں عسکری سربراہان ایک میزائل کا چھوٹا سا ٹکڑا لے کر میڈیا کے سامنے پیش ہوئے تاکہ پاکستان کی شرارت اور ہماری بالا دستی ثابت کی جا سکے۔ فوج کے جانبازوں کی شجاعت اور دلیری میں تو کلام نہیں ہو سکتا لیکن معمولی معمولی باتوں پر اس قسم کا تماشہ اس سے قبل کبھی نہیں کیا گیا۔ کرناٹک کے سابق وزیر ِ اعلیٰ نے تو بڑی بے شرمی سے اعلان تک کر دیا کہ فوجی کاروائی سے حکمراں جماعت نے بھرپور سیاسی اور انتخابی فوائد حاصل کر لئے ہیں۔  اس طور پورے سیاسی کھیل کا شاطرانہ منصوبہ (gambit ) اظہر من الشمس ہو گیا، وہ یہ کہ عوام کے خون کی گرمی اور سیاسی گرما گرمی  پاکستان سے لفظی جنگ اور لے دے پر مرکوز رکھی جائے۔ دو ہی مہینے کی تو بات ہے !

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

اے۔ رحمان

صاحبِ تحریر معروف کالم نگار اور سرگرم اردو تنظیم عالمی اردو ٹرسٹ کے چیئرمین ہیں.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close