خصوصیہندوستان

جو چپ رہے گی زبان خنجر لہو پکارے گا آستیں کا

ڈاکٹر سلیم خان

سہراب الدین پرجا پتی معاملے  نے پھر ایک بار پردھان سیوک اور ان کے دست راست کی نیند اڑا دی ہے۔ اس کی وجہ ۳ نومبر ۲۰۱۸ ؁ کو اعظم خان نامی گواہ کا  ہرین پنڈیا کے قتل کا قضیہ کھول کر  بھونچال مچا دینا ہے۔   اس مقدمہ میں جملہ ۱۷۶ گواہ ہیں اور ہر پیشی میں کچھ نئے گواہوں کے خاموشی اختیار کرلینے کی خبر آتی ہے۔ یہ تعداد ۹۱ تک پہنچ چکی ہے۔ اس صورتحال کا نوٹس لیتے ہوئے اس سال ممبئی  ہائی کورٹ کو  سی بی آئی سے پوچھنے پر مجبور ہونا پڑا تھا کہ وہ  گواہوں کی بےخوفی کے ساتھ شہادت کو یقینی بنانے کے لیے کیا کررہی ہے؟  اس سنجیدہ  سوال کا صاف سیدھا جواب تھا  گواہوں کو تحفظ فراہم کرنا  تاکہ وہ بے خوفی کے ساتھ شہادت دے سکیں سی بی آئی کی ذمہ داری نہیں ہے۔ اس کے جواب میںکورٹ نے کہا سی بی آئی کا کام صرف فرد جرم داخل کردینے پر ختم نہیں ہوتا بلکہ گواہوں  کےتحفظ کو یقینی بنانا اس کی ذمہ داری ہے۔   اس خوف و دہشت کے ماحول میں اعظم خان کا عدالت میں کمال بے خوفی کے ساتھ بیان دینا قابلِ صد ستائش ہے۔

اس مقدمہ میں لاحق خطرات سے اعظم خان خوب واقف ہے  یہی وجہ ہے کہ  عرصۂ دراز تک وہ عدالت میں  پیشی سے گریز کرتا رہا۔ اس نے ماہِ جون میں اپنی اہلیہ رضوانہ کے ہاتھ ایک خط روانہ کیا جس میں لکھا تھاکہ وہ اس معاملے میں   سب  راز جانتا ہے مثلاً سہراب الدین، تلسی پرجاپتی  کو کیوں اور کس کے کہنے پر مارا گیا؟ اس لیے اب اس کا بھی انکاونٹر ہوسکتا ہے یا اسے کسی بڑی سازش میں پھنسایا جاسکتا ہے۔ اپنی گواہی کے دوران  اعظم نے عدالت کے سامنے اعتراف کیا تھا کہ ملزمین کے حق میں گواہی دینے کے لیے اس پر دباو ڈالا گیا اور اس کو جھوٹے مقدمات میں ملوث کیاگیا۔ اعظم خان نے اپنے ضمیر کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے اپنی جان جوکھم میں ڈال کرعدالت میں حاضر ہوگیا۔ ویسے اسے گرفتار کرکے حاضر کرنے کا دعویٰ بھی  کیا گیا۔

اس سے قبل سہراب الدین کا معاملہ  ونجارہ تک جاتا تھا اور اس کے ڈانڈے شاہ جی سے ملائے جاتے تھے لیکن  جب سے نئی سرکار آئی ہے عدالت کی نظر میں شاہ جی اور ان کے ساتھی  بے قصور ہو گئے ہیں۔ جن خفیہ ایجنسیوں کی ذمہ داری ملزم کے خلاف دلائل  کو پیش کرنے کی ہے وہ بھی ان کی  پیروی کرتی دکھائی پڑ رہی ہیں۔ ایسے میں اعظم خان نے ساری بساط الٹ دی  ہےاورکیس  کادائرہ وسیع کرتے ہوئے  اسے ہرین پنڈیا کے بہیمانہ قتل سے ملا دیا۔ مودی اور شاہ کے اقتدار سے بے دخل ہونے کے بعد اگر وہ کورٹ  میں حاضر ہوتا تو یہ الزام لگایا جاسکتا تھا کہ  شاہ جی سے انتقام لینے کے لیے نئی سرکار گڑے مردوں کو اکھاڑ رہی ہے۔  یہ بھی کہا جاتا کہ مودی سرکار سےوہ اس قدر خوفزدہ  تھا کہ  گواہی دینے کی ہمت نہیں جٹا سکا لیکن اعظم خان نے اس کا موقع بھی نہیں دیا اور علامہ اقبال کے اس شعر کی مصداق حاضر ہوگیا؎

آئین جواں مرداں حق گوئی و بیباکی

 اللہ کے شیروں کو آتی نہیں روباہی

آنجہانی ہرین پنڈیا بی جے پی کے صوبائی وزیر تھے۔ ۲۶ مارچ ۲۰۰۳؁ کو مودی جی گجرات کے وزیراعلیٰ ہوتے ہوئے ان کا قتل ہوگیا۔  ہرین پنڈیا کے چونکہ مسلمانوں  سے اچھے تعلقات تھے اس لیے انہوں نے فساد کے بعد فرقہ واریت کے زخموں پر مرہم رکھنے کی کوشش کی تھی اورمظالم کا ارتکاب کرنے والوں کے خلاف گواہی بھی دی تھی۔اس زمانے میں  گجرات کے اندر ہونے والی ہر قتل و غارتگری کو دہشت گردی سے جوڑ دیا جاتا تھامگر فساد پر کھلے عام فخر جتانے والےبابو بجرنگی جیسے لوگوں کو چھوڑ کر ہرین پنڈیا جیسے درد مند انسان کاکسی مسلمان دہشت گرد کے ذریعہ ہلاک کردیاجاناناقابل فہم معمہ  تھا۔ اس گتھی کو  اعظم خان کی گواہی نے سلجھا دیا۔

سہراب الدین اور تلسی  دونوں اعظم خان کے  دوست تھے اور خود سہراب الدین نے اسے بتایا تھا کہ سابق  آئی پی ایس افسر ڈی جی ونجارہ نے اسے پنڈیا کی سپاری دی تھی۔ اسی کے  کہنے پر سہراب الدین نے نعیم الدین عرف کلیم الدین اور شاہد رامپوری کی مدد سے یہ قتل کیا تھا۔ اعظم خان کو اس بات کا بہت دکھ ہوا۔ اس نے سہراب الدین سے کہا  کہ ہرین پنڈیا  اچھا آدمی تھا۔ اس کو نہیں مارنا چاہیے تھا۔ اس پر سہراب الدین نے جواب  دیا ’اوپر سے کام دیا تھا‘ اس لیے ظاہر ہے اس  پر عملدرآمد لازم تھا۔ اس وقت گجرات میں دائیں بائیں اور اوپر نیچے کس کا بولا بالہ تھا یہ کون نہیں جانتا۔گجرات کے اندر ۲۰۰۲  ؁   میں شروع ہونے والے فرقہ وارانہ فسادات کے  سلسلہ کی اگلی کڑی  ۲۰۰۳ ؁ کے اندر ہونے والا ہرین پنڈیا کا قتل تھا۔   انہیں اپنی انصاف پسندی اور حق گوئی کے سبب موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ ہرین پنڈیا کے والد پرانے سنگھی تھے۔ لال کرشن اڈوانی نے انہیں ہرین   کے تعزیتی نشست میں اسٹیج پر بلایا تو انہوں یہ کہہ کر انکار کردیا کہ میں اپنے بیٹے کے قاتل کے ساتھ کیسے بیٹھ سکتا ہوں۔ اس وقت نریندر مودی اسٹیج پر موجود تھے۔

 اعظم نے عدالت کو بتایا کہ اس  واردات کے بعد اس نے سہراب الدین کا ساتھ چھوڑ دینے کا ارادہ کرلیا۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ   آدرش گجرات کی پولس  سہراب الدین اور اس کے ساتھیوں گو گرفتار کرکے ان کے ذریعہ پوری سازش کا پتہ لگاتی لیکن مودی سرکار کے ہوتے یہ ناممکن تھا۔ پولس نے  عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لیےاس قتل میں ۱۲ لوگوں کو فتار کیا  اوران میں ۹ کو نچلی عدالت نے عمر قید کی سزا بھی سنادی مگر عدالتِ عالیہ نے  ۲۰۱۰؁ میں سارے ملزمین  کو باعزت بری کردیا۔   اعظم خان نے عدالت کو بتایا کہ وہ سی بی آئی  کے افسر این ایس راجو کے سامنے  ۲۰۱۰؁ میں ہی یہ  راز افشاء کرچکا تھا لیکن راجو نے یہ کہہ کر  اسے درج نہیں کیا کہ اب نئے بکھیڑے میں مت ڈالو۔

نومبر ۲۰۰۵ ؁ میںسہراب الدین کا بھی فرضی انکاونٹر کردیا گیا۔ اس واردات  پر روشنی ڈالتے ہوئے اعظم خان  نے بتایا کہ اودے پور سینٹرل جیل میں وہ تلسی رام  سےملا تھا۔ اس ملاقات کے وقت تلسی رام پرجاپتی اپنے آپ کو سہراب الدین کے قتل کا ذمہ دار ٹھہرا کر رونے لگا اور چونکانے والے  انکشافات کیے۔ تلسی نے بتایا تھا کہ سہراب الدین کی گرفتاری کے لیے پولس پر سیاسی  دباو تھا۔ ونجارہ اور دیگر افسران سہراب الدین کو گرفتار کرنا چاہتے تھے۔ تلسی کو  اس یقین دہانی کے ساتھ مخبری پر راضی کیا گیا کہ ۵ یا ۶ ماہ بعد  سہراب الدین کو رہا کردیا جائے گا لیکن اس کے ساتھ دھوکہ ہوا۔ سہراب الدین اور اس کی اہلیہ قصور بی کو فارم ہاوس میں قتل کردیا گیا۔ تلسی رام کو اس کا اتنا قلق تھا کہ وہ ونجارہ اور چڈسامہ کو جان سے ماردینا چاہتا تھا۔  اعظم خان نے اپنی دسمبر ۲۰۰۶ ؁ میں  اودے پور جیل کے  اندرپرجا پتی کے ساتھ دوسری ملاقات کا ذکر بھی کیا۔ اس  وقت  تلسی نے  ان دونوں میں سے ایک کے قتل کا اندیشہ ظاہر کیا تھا۔   تلسی پرجاپتی کی پیشن گوئی درست ثابت ہوئی اور وہ خود چند ماہ کے اندر ایک فرضی انکاونٹر میں ہلاک  کردیا گیا۔سہراب الدین اور تلسی رام پرجا پتی قتل کے  الزام میں  اپریل  ۲۰۰۷ ؁ کے اندرڈی جی ونجارہ کی گرفتاری عمل میں آئی۔ وہ اس فرضی انکاونٹر کا ملزم نمبر ۱ تھا۔ اس قتل و غارتگری کے اس  پہلے باب کا اختتام ۲۰۱۰ ؁ میں امیت شاہ کے استعفیٰ پر ہوا اور دوسرے باب کا آغاز ۲۰۱۴ ؁ ان کے بری ہونے سے ہوا۔

نریندر مودی کی قیادت میں گجرات کے حالات کیسے تھے اس کا اندازہ لگانے کے لیے سہراب الدین قتل معاملے ایک ایسےشاہد کا بیان دیکھیں جو  گواہی  کے لیے آنا چاہتا ہے لیکن پولس اس کو آنے نہیں دیتی۔ اس شخص کا نام  مہندر سنگھ جھالا ہے۔ ۲۰۱۰ ؁ میں جھالا نے سی بی آئی سے کہا تھا کہدسمبر ۲۰۰۵؁ میں انہیں ایک ہفتہ حراست میں رکھا گیا۔ اس دوران دو مرتبہ اے ٹی ایس افسر ابھئے چڈسامہ نے اس کو یہ دھمکی دے کر پھروتی وصول کی تھی کہ اگر وہ نہیں دے گا تو اسے سہراب الدین کی مانند قتل کردیا جائےگا۔ ونجارہ اور پانڈین  اس کو بجلی کا شاک دینے کی دھمکی دیتے تھے۔ چڈسامہ ٹویوٹا کوالس میں آیا کرتا تھا۔ یہ حسن اتفاق ہے کہ سہراب الدین کے اغواء کی خاطر بھی کوالس جیپ کا استعمال ہوا تھا۔ جھالا کا الزام ہے کہ اس کو ۱۵ لاکھ روپئے کی ادائیگی کے بعد گھر جانے دیا گیا۔ یہ رقم  پولس انسپکٹر این ایچ دھابی نےوصول کی جو سہراب الدین معاملے میں ایک ملزم تھا۔ جھالا نے دیگر معروف بلڈرس کو پیش آنے والی مشکلات کی تفصیلات بھی بتائیں۔ ان کا اصرار ہے کہ اگر گواہی کے لیے انہیں بلایا نہیں  گیا تووہ قانونی کارروائی کریں گے۔

 ۲۰۱۴ ؁ میں مودی جی نے اقتدار سنبھالا اور اس کے بعد امیت شاہ کو بچانے کی خاطر جبر وتشدد کے ایک نئے دور  کی شروعات ہوئی۔  سی بی آئی عدالت کے جج جی ایچ لویا سے امیت شاہ نے اپنی مصروفیت کے سبب  پیشی میں حاضر رہنے سے معذوری  طلب کی اور وہ اجازت مل گئی لیکن پھر ایسا ہوا کہ اگلی  تاریخ پر شاہ جی ممبئی میں ہونے کے باوجود وہ عدالت  کے قریب نہیں پھٹکے بلکہ  اپنا سارا وقت سیاسی سرگرمیوں میں صرف کردیا۔ اس پر ناراض ہوکر خصوصی عدالت کے جج نے  امیت شاہ کو آئندہ تاریخ پر حاضر رہنے کی سخت تاکید کی۔ یہ بات شاہ جی کو گراں گزری۔ اس دوران جج لویا کو ممبئی  ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کے ذریعہ  ۱۰۰ کروڈ روپئے رشوت اور ممبئی میں  ایک شاندار  گھر کی پیشکش کی گئی  جس کو ٹھکرا کرانہوں  نے  عزیمت کا ثبوت پیش کیا۔ اس کے بعد وہ ایک شادی میں شرکت کے لیےناگپور گئے جہاں مشکوک حالات میں ان کا انتقال ہوگیا۔

کاروان نامی جریدے نے اس پر تحقیق و تفتیش  کی غرض سے جج لویا کے والد اور بہنوں سے رابطہ کیا۔  ان سب نے اس موت پر شکوک  شبہات کا اظہار کیا۔ اس  واردات میں کئی باتیں معمول کے خلاف تھیں  مثلاً ہوسٹل کے رجسٹر میں  ان کے نام کا اندراج کا نہ ہونا۔ ان کے لاش کا پوسٹ مارٹم نہیں کیا جانا۔ اسپتال کے رجسٹر میں موت کے متعلق متضاد معلومات کی فراہمی۔ ایک فرضی آدمی کا اپنے آپ کو جج لویا کا وارث قرار دے دینا۔ لاش کو ممبئی میں بیوی بچوں کے پاس روانہ کرنے کے  بجائے بغیر اجازت آبائی گاوں لاتور پہنچا دینا۔  موبائل فون کا کسی غیر متعلق سنگھ کارکن کے ذریعہ  اس تلقین کے ساتھ واپس کیا جانا کہ معاملے کو رفع دفع کردیا جائے۔ اس طرح  کی بے شمار کمیوں اور کوتاہیوں کے باوجود حکومت مہاراشٹر نے اس قتل کو فطری قرار دے دیا اور عدالت عظمیٰ نے اس کو تسلیم کرلیا۔

جسٹس جی ایچ لویا کی موت کا معاملہ ان کی ذات تک محدود نہیں رہا بلکہ ان دوستوں تک پھیل گیا جو انہیں انصاف دلانا چاہتے تھے۔ ان میں سے ایک ایڈوکیٹ کھاندلکر تھے۔ کھاندلکر کی موت بھی غیر فطری تھی۔  ۲۰۱۵؁ میں ناگپور عدالت کے پاس ان کی لاش ملی۔ یہ کوئی نہیں جانتا   کہ  دو روز قبل   وہ کورٹ  کی ۸  ویں منزل سے نیچے گر گئے تھے یا پھینک دیئے گئے تھے؟ جسٹس لویا اور کھاندلکر کےمشترکہ  دوست سابق جج تھومبرے ہوا کرتے تھے۔انھوں نے دہلی میں جاکر پرشانت بھوشن سےجج لویا کی موت کے پس پردہ حقائق کا پتہ لگانے کے لیے ملاقات کی تھی۔ ٹھومبرے کی موت  ٹرین کی اوپری برتھ سے نیچے  گرنے  کے سبب ہوگئی۔ یہ اپنی نوعیت کا ایک منفرد واقعہ تھا۔ اس لیے کہ ٹرین کی اوپری برتھ میں دونوں جانب رکاوٹ ہوتی ہے جس کے درمیان سے کسی بچہ کا بھی گرنا مشکل ہوتا ہے۔ خیر اس واردات کو بھی فطری قرار دے دیا گیا۔ ان دونوں حضرات کا ایک دوست وکیل ستیم اوکے ہے۔ اس شخص پر ۲۰۱۶ ؁ میں  ایک بجلی کا کھمبا گر گیا مگر  وہ بال بال بچ گیا۔ اسی نے پریس کانفرنس میں کپل سبل کے سارے  راز فاش کیے مگر بعد میں  گھبرا کر اپنے سارے دعووں سے دستبردادر ہوگیا۔

اس طرح جب حالات پوری طرح قابو میں آگئے تو ونجارا   کودس سال قیدو بند کی صعوبت ا کے بعد  یکم اگست ۲۰۱۷؁ کوٹرائل کورٹ نے بری کردیا۔  ہونا تو یہ چاہیے تھا جانچ ایجنسی اس رہائی کو چیلنج کرتی لیکن اپنا آدمی اگر مجرم بھی ہوتو اس  کی رہائی پر خوشی کسے نہیں ہوتی ؟ یہی وجہ ہے کہ سنجیو بھٹ جیسے ایماندار افسر کو طرح طرح سے پریشان کرنے والی گجرات سرکار نے اونجارہ  کے خلاف اپیل نہیں کی۔ وہ تو بھلا ہو سہراب الدین کے بجائے رباب الدین کا جس نے ممبئی  ہائی کورٹ میں اس فیصلے کو چیلنج کردیا اور عدالت عالیہ نے اس کو سماعت کے  لیےمنظور ی بھی دے دی اعظم خان کو گواہی دینے کا موقع  ہی نہ ملتا  اور یہ نت نئے انکشافات  بھی  نہیں ہوتے۔

۱۵ سالوں پر محیط اس داستان کے اندر جہاں ایک طرف نریندر مودی اور امیت شاہ  جیسے سیاستداں نظر آتے ہیں وہیں ہرین پنڈیا کا روشن کردار بھی دکھائی دیتا جس نے اپنی پارٹی کے مفاد سے اوپر اٹھ کر حق کا ساتھ دیا۔ اس معاملے میں جہا ں ایک طرف بے شمار جج امیت شاہ کو تحفظ دیتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں وہیں  جینت پٹیل اور جج لویا جیسے لوگوں کی روشن مثالیں بھی سامنے آتی ہیں جو نہ تو سیاسی دباو کے آگے جھکتے ہیں  اورنہ جنہیں دولت کی مدد سے خریدا جاسکتا ہے۔ ونجارہ اور چڈسامہ جیسے   پولس  افسران نے  اپنے سیاسی آقاوں کی خوشنودی  کے لیےسہراب الدین اور پرجاپتی  کو اپنے مذموم مقاصد کے حصول کی خاطر استعمال  کرکے   کام نکل جانے  پر ٹھکانے لگاتے دکھائی دیتے ہیں تو دوسری جانب حق و انصاف کی اس جنگ میں اعظم خان اور مہندر سنگھ جھالا  جیسے لوگ اپنی جان کو خطرے میں ڈال کر حق کی شہادت کا حق ادا کرتے ہیں۔ ان واقعات کا سب سے عبرتناک پہلو یہ ہے کہ  وزیراعظم کو اگر خدا نخواستہ امن کا نوبل انعام  بھی حمل جائے تب بھی  ان کےدامن سے  ناحق خون کے داغ دھبے   نہیں دھلیں گے۔ بقول امیر مینائی ؎

قریب ہے یارو روز محشر چھپے گا کشتوں کا خون کیوں کر  

 جو چپ رہے گی زبان خنجر لہو پکارے گا آستیں کا

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

سلیم خان

ڈاکٹر سلیم خان معروف کالم نگار اور صحافی ہیں۔

متعلقہ

Close