خصوصیسیاست

جھنجھنا

ڈاکٹرعابدالرحمن

بابری مسجد کی مسماری کو ۲۶ سال کا لمبا عرصہ بیت چکا۔ 6 دسمبر 1992 کے سیاہ دن سپریم کورٹ کی ہدایات اور یوپی حکومت کے ذریعہ بابری مسجد کی حفاظت کی حلفیہ ذمہ داری لینے کے باوجود بابری مسجد کو مسمار کردیا گیا تھا اور اسکی جگہ ایک عارضی مندر بنا دیا گیا تھا جو ابھی بھی جوں کا توں قائم ہے۔ اس وقت یوپی کے وزیر اعلیٰ کلیان سنگھ نے نہ مسجد کی حفاظت کے لئے کچھ کیا اور نہ ہی اس کی جگہ بنے عارضی مندر کو ہٹانے کی کوئی کوشش کی وجہ صاف تھی کہ وہ خود مسجد کی مسماری اور مندر کی تعمیر چاہتے تھے، اس واقعہ کی تحقیقات کرنے والی لبراہن کمیشن نے اپنی رپورٹ میں کلیان سنگھ کے متعلق کہا ہے کہ انہوں نے پہلے ہی سے ریاستی اور ضلعی انتظامیہ میں کچھ ایسے پھیر بدل کئے تھے کہ انتظامیہ ان کا غلام بن گیا تھا انتظامیہ نے اختیارات ہونے کے باوجود مسجد کو بچانے اور کارسیوکوں کو مسجد تک پہنچنے سے روکنے کے لئے کچھ نہیں کیا۔

کمیشن کو تو جانے دیجئے کہ یہ ملکی سیاست کا ایک ادنیٰ کھلونا رہے ہیں ان کا مقصد وقت گزاری اور سیاسی کالا بازاری کے سوا کچھ نہیں۔ خود کلیان سنگھ نے بڑے فخر سے یہ اعلان کر رکھا ہے کہ ’’ میں نے وزیر اعلیٰ کی حیثیت سے ریاستی پولس کو حکم دیا تھا کہ وہ ایودھیا میں جمع ہو نے والے رام بھکتوں پر گولی نہ چلائیں اور اس طرح میں بابری مسجد مسماری کا ذمہ دار ہوں ‘۔ لیکن ملک کے قانون نے نہ اس وقت ان کا کچھ بگاڑا اور نہ ہی اس اعلان کے بعد ان کو کوئی فرق پڑا۔ اس کے علاوہ تقریباً ہر ۶ دسمبر کو ’شوریہ دیوس ‘منایا جاتا ہے، لیکن قانون نے آج تک کبھی نہیں پوچھا کہ آخر یہ لوگ کس کے خلاف بہادری کا جشن مناتے ہیں ؟اس دن مسلمان تو مقابلہ پر تھے نہیں جو تھا وہ بابری مسجد کا بے یار و مدد گار ڈھانچہ تھا اور اس کی حفاظت کا ذمہ دار قانون اور عدلیہ تھی یعنی ان کا جشن بہادری قانون اور عدلیہ کے خلاف ہے، ہر دراصل ہر ۶ دسمبر کویہ لوگ اسے منھ چڑاتے ہیں کہ جس بے یار ومددگار عمارت کی حفٖاظت کا وہ ذمہ دار تھا انہوں نے اسے ڈھادیا !

بابری مسجد کن لوگوں نے توڑی تھی، کون لوگ اس کے منصوبہ ساز اور سازشی تھے اور اس سے ان کا مقصد کیا تھا یہ تو ساری دنیا کو معلوم ہے حالانکہ اس کے ملزمان یہی کہتے آرہے ہیں کہ بابری مسجد کی مسماری منصوبہ بند نہیں تھی بلکہ یہ کار سیوکوں کا بے ساختہ ردعمل تھا، لیکن یہ بھی کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے کہ اس ’بے ساختہ ردعمل ‘ میں ان لوگوں کا کیا رول تھا، اس وقت ان لوگوں نے قانون کی آنکھوں میں جو دھول جھونکی تھی اب اس واقعہ کو زائد از ربع صدی گزر جانے کے بعد بھی قانون اپنی آنکھوں کی دھول صاف نہیں کرپا یا ہے۔ یہ تو نہیں کہا جاسکتا کہ بابری مسجد کے ملزمین چھوڑ دئے گئے لیکن جس طرح سے یہ مقدمہ چلا اس سے ایسا ضرور لگتا ہے کہ ان ملزمین کو مجرم ثابت کر نے کی نیت ہی نہیں ہے۔ ایک طرف یہ دراصل حکومت و انتظامیہ کی انتہائی شاطری ہے تودوسری نظام عدل کی شرمناک ناکامی۔ یوں تو اس معاملہ میں ابتدا ہی میں لکھنؤ کی سیشن عدالت نے لال کرشن اڈوانی، مرلی منوہر جوشی، اوما بھارتی، ونے کٹیار، اشوک سنگھل، وی ایچ ڈالمیا، سادھوی رتھمبرا اور اچاریہ گری راج کشور وغیرہ کے خلاف مجرمانہ سازش رچنے کے الزام کے تحت مقدمہ چلانے کے لئے بادی النظر میں ابتدائی بنیاد (prima facia base (موجود ہونے کا اقرار کرتے ہوئے فرد جرم عائد (charge frame ) کی تھی، لیکن پچھلے بیس سالوں میں بابری مسجد کے ان اصل ملزمین پر کوئی مقدمہ نہیں چل سکا، کبھی حکومت کی لا پروائی اور قانونی عمل کی کمی یا ٹیکنیکل غلطی کی وجہ سے جو شاید انہیں بچانے کے لئے جان بوجھ کر کی گئی تھی خود عدلیہ نے جس کی نشاندہی بہت پہلے کردی تھی، اس کے یکے بعد دیگرے ہر پارٹی کی حکومت یوپی میں آئی لیکن کسی بھی حکومت نے اس غلطی کو درست کر نے کی زحمت گوا را نہیں کی اوروہ لوگ بہت آزادی سے آئین و قانون اور عدلیہ کا مذاق اڑاتے رہے۔ اسی طرح سی بی آئی بھی اس معاملہ کی ناجائز طوالت کے لئے ذمہ دار ہے کہ سی بی آئی نے بھی اس معاملہ میں ملزمین اور انصاف کے ساتھ آنکھ مچولی کھیلی کبھی ملزمین پر سازش کے الزامات لگائے اور کبھی نہیں لگائے وجہ صاف ہے کہ سی بی آئی کی حیثیت سرکاری طوطے سے زیادہ نہیں۔

 بہرحال ۲۵، سال بعدیعنی مارچ ۲۰۱۷ میں سی بی آئی نے پلٹی کھائی اور ان ملزمین پر مقدمہ قائم کر نے کی دراخواست سپریم کورٹ سے کی جس کے بعد یہ طے ہوا کہ اس معاملہ میں کچھ خاص الخاص مانے جانے والے افراد پر مجرمانہ سازش رچنے کا مقدمہ قائم کیا جائے، اور اس کیس کی روزمسلسل سنوائی کر کے دو سال کے عرصہ میں فیصلہ سنایا جائے۔ بابری مسجد جب موجود گی میں بھی اور اب شہادت کے بعد بھی بلکہ اس سے سے جڑا ہر ہر معاملہ چاہے وہ اسکی ملکیت کا معاملہ ہو، اس کی مسماری کے مقدمہ کا معاملہ ہو یا اس کی جگہ رام مندر کی تعمیر کا معاملہ ہو یا اس کے لئے مذاکرات کا معاملہ ہو ان سب کو مذہب اور عقیدے سے زیادہ سیاسی بنادیا گیا ہے، اس کے بغیر ملکی سیاست نہیں چلتی ہی نہیں چاہے وہ کسی بھی پارٹی کی سیاست ہو۔ کوئی پارٹی اس میں متحرک و مثبت سیاست کرتی ہے کوئی غیر متحرک اورمنفی اور کوئی دور کھڑے رہ کر ہی اس کی گرمی سے فوائد بٹورتی ہے۔

 بابری مسجد تنازعہ دراصل ایک تنور ہے کہ ہر سیاسی پارٹی حزب ضرورت اس میں اپنی روٹی سینکتی ہے، اور اسی حساب سے تفتیشی ایجنسیوں کا استعمال بھی اس معاملہ میں ہوتا رہا ہے۔ سی بی آئی مرکزی حکومت کی کتنی پابند ہے یہ تو اب بالکل صاف ہو گیا ہے توایسے میں سوال یہ اٹھتا ہے کہ مودی جی کی سی بی آئی اس معاملہ میں خود انہی کی پارٹی کے سینئر لیڈران کے خلاف عدالت کیوں گئی؟ اس معاملہ میں بی جے پی کے سینئر لیڈران پر مقدمہ چلانے کا جو مذکورہ واقعہ ہوا ہے اس میں بھی دراصل سیاست ہی کار فرما لگتی ہے کہ بی جے پی کے جو لیڈران اس میں ماخوز ہیں وہ دراصل مودی جی کے ذریعہ حاشیہ پر لگائے ہوئے ہیں مودی جی کے تئیں کچھ نہ کچھ کدورت ان کے دلوں میں بھی اسی طرح موجود ہے جس طرح اڈوانی جی کے دل میں ہے شاید ان لوگوں کو سیاسی حاشیہ سے بھی نکال پھینکنے کے لئے ہی مودی جی نے ان کے خلاف سی بی آئی کا استعمال کیا ہے، کہ ایک تو یہ مقدمہ ایسے وقت میں قائم کیا گیا جب ملک میں صدارتی انتخاب ہونا تھا اور اڈوانی جی اس کے مضبوط دعویدار سمجھے جارہے تھے سو اس مقدمے کے ذریعہ ان کی دعویداری آپ سے آپ ختم ہوگئی، دوسرے یہ کہ لوک سبھا انتخابات بھی قریب تر ہیں اب جب بھی اس مقد مہ میں بی جے پی و سنگھ کے لیڈران کے خلاف کوئی خاص بات ہو گی، ہندوتواسیاست کو جلا ملے گی یعنی اگلے لوک سبھا الیکشنس تک مودی جی کی ترقیاتی سیاست کو’ ہندوتوا ‘ کا تڑ کا برابرملتا رہے گا جو مذہب کے نام ہندوؤں کو نہ صرف متحد کرے گا بلکہ بی جے پی کی طرف پولرائز بھی کردے گا۔ یہی نہیں بلکہ ا گر اس دوران بی جے پی کے لیڈران پر بابری مسجد مسماری کی مجرمانہ سازش رچنے کا الزام ثابت ہو گیا تو ان کا تو کچھ نہیں ہو گا کہ ان کے سامنے اعلیٰ عدلیہ میں اپیل کا آپشن موجود ہے، ان کی زندگی میں جس کا نتیجہ آنے کی امید نہیں۔

لیکن یہ بی جے پی کے لئے بہت فائدہ مند ہو سکتا ہے کہ وہ اپنے لیڈران کے مجرم ثابت ہو نے کو ہندو دھرم، ہندو پرائیڈ اورہندو عوام کیلئے قربانی قرار دے کر ہندوؤں کو اپنے حق میں مزید پولرائز کر نے کی کامیاب کوشش کرے گی اور اگر واقعی ایسا ہے تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ ملک کا نظام عدل اور وہ بھی معزز عدالت عظمیٰ ایک بار پھر سیاست کے ہاتھوں بے وقوف بن گیا، یہی دراصل نظام عدل کی شرمناک ناکامی ہے، ایسا لگتا ہے کہ کبھی کبھی قانون و انصاف کے طئے شدہ اور صاف و شفاف اصولوں اور قانونی طریقہء کار کے ساتھ ساتھ سیاسی نوعیت کے معاملات کا پیش و پس منظر نہیں دیکھا جاتا اور اس طرح نظام عدل سیاسی قوتوں کا جھنجھنا بن جا تا ہے جسے وہ جب چاہے بجا لیتے ہیں اوراپنا کام نکال لیتے ہیں، بابری مسجد کے معاملہ میں تو ایسا زیادہ ہی دیکھنے میں آیا ہے، اس معاملہ میں سیاسی لوگوں نے جب چاہا جیسا چاہا نظام عدل کا جھنجھنا بجایا اور اپنی سیاست چمکائی، شروعات سے یہی ہوتاآ رہا ہے اور لگتا ہے آگے بھی یہی ہوتا رہے گا۔جبکہ ہونا تو یہ چاہئے تھاکہ ملک کا نظام عدل بابری مسجد کے مجرموں کو نہ صرف مسجد مسماری کی سزا دیتا بلکہ انہیں ملکی سیاست میں مذہب آلود پراگندگی گھسیڑنے، ملک کے سیکولر تانے بانے کو ناقابل تلافی نقصان پہنچانے، جمہوریت کو اکثریتی طبقہ کی تانا شاہی کی طرف دھکیلنے اور عقائد کے نام سماجی و سیاسی انارکی پھیلانے کے لئے بھی ماخوز کرتا۔ لیکن افسوس اس نے جھنجھنا بن کر گویاان کے جرم میں مدد کی !

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

عابد الرحمن

ڈاکٹر عابدالرحمان مشہور کالم نگار ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close