خصوصیسیاست

جیٹ ایر ویز کی حالت زار اور مودی سرکار

ڈاکٹر سلیم خان

مودی جی نے  ملک کے عوام کو ورغلانے کے لیے ’میک ان انڈیا ‘ اور اسٹارٹ اپ انڈیا ‘ جیسے دلنشین نعرے لگائے  جن کا تعلق معاشی خوشحالی  سے تھا، لیکن اس کے برعکس انہوں نے  میک ان انڈیا کے  بجائے سیاسی فائدے کے لیے ’بریک ان انڈیا‘ کا گھناونا کھیل جاری رکھا ۔  اقتصادی  تعمیر   وترقی کے نام پر عام لوگوں  کو بیوقوف بنایا گیا اور’ اسٹارٹ  اپ‘ کی جگہ’ شٹ ڈاون ‘انڈیا نے لے لی  ۔ معاشی محاذ پر اگر حکومت کامیاب ہوئی ہوتی تو جیٹ ایر ویز جیسی سودیشی کمپنی کا یہ حشر نہیں ہوتا۔ اس کمپنی میں کام کرنے والے ۲۲ ہزار لوگوں کی ملازمت خطرے میں نہیں پڑتی۔ یہ نہایت شرمناک بات ہے پچھلے چار ماہ سے اس میں کام کرنے والے ملازمین تنخواہ سے محروم ہیں۔ پہلے انجنیئرنگ یونین اورپھر پائلٹس یونین نےصدائے احتجاج  بلند کرتے ہوئے حکومت سے مسائل حل کرنے کی اپیل کی ہے۔جیٹ ایرویز کے ایک  پائلٹ نے اپنی حالت زار بیان کرتے ہوئےیہاں تک  کہا  کہ  اب گھر چلانے کیلئے ماں کے  زیورات گروی رکھنے پڑرہے ہیں۔ بعض نے اپنی شادی کی تاریخ  مؤخر کردی ہے۔

جیٹ ایر ویز پرفی الحال  ایک ارب ڈالر سے زیادہ کا قرض ہے اور یہ پچھلے کافی عرصے سے مالی مشکلات سے دوچار ہے۔ اس پر ۲۶ بینکوں کا آٹھ ہزار کروڑ روپیہ واجب الادا ہے۔ ان بینکوں میں اسٹیٹ بینک آف انڈیا‘ الہ آباد بینک‘ انڈین اوورسیز بینک‘ بینک آف انڈیا اور کینرا بینک شامل ہیں۔ سرمایہ دارانہ جمہوریت کا کمال یہ ہے کہ اس گمبھیر صورتحال کے باوجود ایس بی آئی اور پنجاب نیشنل بینک جیٹ ایر ویز کو بحران سے نکالنے کے لئے مالی مدد دینے پر رضامند ہو گئے ہیں۔  یہی کیفیت مودی بھکتوں کی  ہے کہ جو جانتے ہیں مودی جی نے اپنے احمقانہ فیصلوں مثلاً نوٹ بندی اور جی ایس ٹی وغیرہ سے  ملک کی معیشت کو تباہ و تاراج کردیا ہے اس کے باوجود پھر سے انہیں  کو اپنا قیمتی ووٹ دے کر کامیاب کرنا چاہتے ہیں۔ جیٹ ایرویز کو بچانے کے لیے ان بینکوں پر سرکاری دباو ہے اس لیے کہ انتخاب کے موقع پر ہزاروں لوگوں کا بیروزگار ہوجانا الیکشن پر منفی اثر ڈال سکتا ہے لیکن سوال یہ ہے کہ دوماہ بعد کیا ہوگا ؟ جو انتظامیہ پچھلے ۲۶ سالوں میں کمپنی کو  اپنے پیروں پر کھڑا نہیں کر سکا  وہ آگے کیا کرلے گا۔ ایک ایسی سرکار جو  اپنی پہلی مدت کار کے اندر بیروزگار ی کو دور کرنے میں بری طرح ناکام     ہوگئی وہ  آئندہ اس آسیب  کو کیسے قابو میں کرے گی؟

مودی سرکار کے لیے یہ شرم کا مقام ہے کہ بینکوں سے ۹ہزار کروڑ روپے لے کر بھاگنے والا وجے مالیا  بھی  جیٹ ایر ویز کے معالے میں  حکومت پرطنزیہ  ٹویٹ کررہا ہے۔ اپنے ٹویٹ میں مالیا نے لکھا کہ ’میں نے کنگ فشر ایئر لائنس میں ۴ ہزار کروڑ روپے کی سرمایہ کاری اور اس کے عملے کو بچانے کے لئے میری اس کوشش کو پہچانا نہیں گیا اور ہر ممکن طریقے سےمجھے تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ سرکاری  بینکوں نے ہندوستان کی بہترین ایئر لائنز کو برباد کر دیا۔ اس کے پاس بہترین عملہ اور رابطہ تھا۔این ڈی اے کے دور میں یہ دوہرا معیار ہے‘۔ یعنی جیٹ کو بچانے کے لیے جو سعی کی جارہی وہ  معاملہ اس کے ساتھ نہیں کیا گیا۔  مالیا نے بی جے پی حکومت پر حملہ کرتے ہوئے ایک اور  ٹویٹ میں لکھا کہ  بی جے پی ترجمان نے سابق وزیراعظم  منموہن سنگھ کو لکھے گئے میرے خطوط پڑھ کر سنا نے کے بعد  الزام لگایا تھا کہ یو پی اے حکومت کےدباو میں  بینکوں نے کنگ فشر ایئر لائنس کی غلط طریقے سے مدد کی۔ موجودہ وزیر اعظم نے ان  خطوط  پر میڈیا نے میری تنقید کی تھی، مجھے حیرت ہے کہ این ڈی اے حکومت کے تحت اب کیا بدل گیا ہے؟

وجئے مالیا  نےبینکوں کے ذریعہ  جیٹ ایئر ویز کی مدد پر خوشی کا اظہار کیا  اور کہا کہ اس سے کام، رابطے اور ملازم  تینوں ہی  محفوظ رہیں گے، کاش! ایسا ہی  معاملہ کنگ فشر کے ساتھ کیا جاتا۔ وجئے ملیا کا سب سے حیرت انگیز انکشاف یہ ہے کہ اس نے بنک  اور دیگر تمام قرض دہندگان کو ادا کرنے کے لئے کرناٹک ہائی کورٹ کے سامنے ادائیگی کی پیشکش کی ہے، بینک میرے پیسے کیوں نہیں لیتے؟ یہ بات سمجھ میں نہیں آتی کہ کوئی شخص قرض ادا کرنا چاہتا ہے اور بنک اس سے اپنی رقم واپس نہیں لیتا اور وہ بھاگتا بھی پھرتا ہے؟ آگے بڑھ کر ملیا لکھتا ہے میری ادائیگی کی رقم سے جیٹ ایئر ویز کو بچائیں  اوران کی مدد کریں۔ یہ سرکاری کی بے حسی پر ایک بہت ہی تیکھا طنز ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ عوام کی مشکلات کے معاملہ میں ایک فراری ملزم بھی سرکار کی بہ نسبت زیادہ فکرمند ہے۔ یہ بات درست ہے کیونکہ اس سرکار کو انتخاب میں کامیابی کے علاوہ کسی چیز کی فکر نہیں ہے۔

مودی سرکارکی ساری توجہ  مسائل حل کرنے کے بجائے اپنی  تشہیر کرنے اورتصویر   شائع کرنےپر  مرکوز رہتی  ہے۔ جیٹ ایرویز کا جہاز اڑے نہ اڑے اس کے بورڈنگ پاس  پر  مسافروں کو  مودی جی کی  تصویر دکھانا اہم سمجھاجاتا ہے۔ یہ  جنون ضابطہ اخلاق نافذ ہونے کے بعدبھی  جاری ہے، نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ الیکشن کمیشن نے ریل اور وزارت شہری ہوابازی کو نوٹس جاری کرکے مودی کی تصویر نہیں ہٹانے پر  جواب طلب کرلی ہے۔ کمیشن اس کو پہلی نظر میں ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی تسلیم  کرتا ہے۔ ضابطہ اخلاق کے ساتویں شق کے تحت حکومت کے ذریعہ عوام کے پیسے سے کسی بھی میڈیم میں اپنی حصولیابی کا ذکر کرنے والے اشتہار جاری کرنے پر پابندی ہے۔ وزارت ریل نےعوامی  شکایت پر کارروائی کرتے ہوئے ریل ٹکٹ سے مودی کی تصویر ہٹانے کی ہدایت جاری کی تھی  لیکن اس پر عملدرآمد  نہیں  ہونے کے سبب  کمیشن کو یہ قدم اٹھانا پڑا۔بڑے میاں تو بڑے میاں چھوٹے میاں سبحان اللہ کی مصداق  گجرات کے وزیر اعلیٰ اجئے روپانی کی تصویر بھی بورڈنگ کارڈ پر ہنوز نظر آرہی ہے۔ مودی اور ان کے بھکتوں کے دماغ سے یہ ہوا کب نکلے  گی کوئی نہیں جانتا!

سفید ہاتھی دیکھنے کے خواہشمند حضرات ایر انڈیا کو دیکھ کر اپنی آنکھوں کو ٹھنڈا کرسکتے ہیں۔ گزشتہ سال اس کا خسارہ ۵ہزار کروڈ سے زیادہ تھا یعنی ہر روز وہ تقریباً ۵کروڈ کا نقصان کررہی تھی۔ سرجیکل اسٹرائیک کے بعد پاکستان نے اپنے علاقہ کے اوپر سے ہندوستانی پروازوں کی اجازت منسوخ کردی جس سے ۳ کروڈ یومیہ کا گھاٹا  بڑھ گیا۔ یہ خسارہ ملک کی وزارت  صحت کے بجٹ سے زیادہ ہے یعنی ۱۳۰ کروڈ لوگوں کو صحت مند رکھنے کے لیے سرکاری خزانے سے جو کچھ خرچ کیا جاتا ہے اس سے زیادہ بیمار ایر انڈیا کی دوا دارو (بشمول شراب، کباب)  کی نذر ہوجاتاہے۔ پچھلے سال حکومت نے اس نقصان سے اپنے آپ کو بچانے کے لیے اس کے ۷۶ فیصد حصص بیچنے کا فیصلہ کیا لیکن ایک بھی گاہک نہیں آیا  کیونکہ اس پر کل ۵۳ ہزار کروڈ سے زیادہ کا خسارہ  ہے۔ پچھلے بارہ سال میں ایک مرتبہ بھی  اس کمپنی نے منافع نہیں کمایا۔ ہوائی کمپنیوں کی نجکاری بھی اس مسئلہ کا حل نہیں ہے۔ حال میں جیٹ دیوالیہ ہوگئی لیکن اس سے قبل  کنگ فشر، سہارا، ایسٹ ویسٹ، مودی لفت اور دمانیہ جیسی نہ جانے کتنی ہوائی کمپنیوں کا نام و نشان مٹ گیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہندوستانی تاجر سائیکل یا ہاتھی پر تو ٹھیک ٹھاک   چلتا   رہتا ہے مگر جب  ہوا میں اڑان بھرنے کی کوشش کرتا ہے تو زیادہ دن ٹک نہیں پاتا۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

سلیم خان

ڈاکٹر سلیم خان معروف کالم نگار اور صحافی ہیں۔

متعلقہ

Close