خصوصیشخصیات

حافظ ڈاکٹر محمدمرسی شہید

جس نے خلافت ِراشدہ کی یاد تازہ کردی

مولانا سید احمد ومیض ندوی

          گذشتہ دنوں مصر کے سابق اولین منتخب جمہوری صدر ڈاکٹر محمد مرسی کی شہادت کا جو سانحہ پیش آیا اس نے امت ِمسلمہ کی چولیں ہلا دیں، دنیا بھر میں غلبۂ اسلام اور سربلندی دین متین کی دیرینہ آرزو رکھنے والے فرزندان توحید پر سکتہ طاری ہوگیا، ایک طرف اگر امریکہ اور مغرب کے پٹھو عرب حکمراں حلقوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی تو دوسری جانب پوری دنیا میں بسنے والی امت ِمسلمہ کے اربوں افراد پر غم واندوہ کے بادل چھاگئے، امت ِمسلمہ کا ہر طبقہ سوگوار ہوگیا، ہر طرف سے یہی کہا جارہا ہے کہ مرسی کو طبعی موت نہیں آئی بلکہ انہیں شہید کردیا گیا۔

          اخوان المسلمین کے قائد مرد مجاہد شہید مرسی کا سانحہ عام سانحوں سے بالکل مختلف ہے، اس کا سرا صہیونی وصلیبی سازشوں سے جا ملتا ہے، اسلام دشمن مغرب کسی قیمت پر نہیں چاہتا کہ عالم اسلام میں ایک کامیاب انقلاب آفریں اور مؤثر قیادت پھلے پھولے، ایسی قیادت جو مسلم ممالک کو خوشحالی کی جانب گامزن کرنے کی آرزو رکھتی ہو جو اقامت ِدین اور غلبۂ اسلام کے دیرینہ خواب کو شرمندۂ تعبیر کرنا چاہتی ہو، جو متحدہ اسلامی بلاک تشکیل کرکے خلافت ِاسلامیہ کی نشأۃ ثانیہ کی خواہش مند ہو، ماضی قریب کی تاریخ شاہد ہے کہ جب کبھی عالم ِ اسلام میں ایسے کسی باکمال مرد مجاہد کے ابھرنے کے آثار پیدا ہوئے مغرب فوراً حرکت میں آگیا اور صلیب و صہیون کے فرزندوں نے سازشوں کے ایسے جال بنے کہ ایسا قائد مطلوبہ کردار ادا کرنے سے پہلے ہی موت کے گھاٹ اتار دیا گیا، شاہ فیصل اور جنرل ضیاء الحق کے سانحوں کو زیادہ عرصہ نہیں گزرا ہے، ان دونوں عظیم شخصیات کی شہادت کے پس پردہ مغربی سازشوں کا کلیدی کردار رہا ہے، ملت ِاسلامیہ کو صحیح اور مؤثر قیادت سے محروم رکھنا مغرب کا بہت بڑا ایجنڈا ہے، اخوان المسلمین اور مرسی کی قیادت روز اول سے مغرب کی نگاہوں میں کھٹک رہی تھی، مصری عوام ایک طویل عرصہ تک آمریت کی چکی میں پسی جارہی تھی، جمال عبد الناصر اور انور سادات سے لے کر حسنی مبارک تک آمر حکمرانوں کے ظلم وجور سے تنگ مصری مسلمانوں نے ایک ایسی قیادت کو چنا تھا جو نہ صرف مصر کے لیے بلکہ پورے عالم اسلام کے لیے فال نیک تھی،۱۷؍ جون ۲۰۱۲ء کا دن اہل مصر اور پوری ملت ِاسلامیہ کے لیے ایک یاد گار تاریخی دن تھا، جب مصر کی پوری تاریخ میں پہلی مرتبہ صاف وشفاف انتخابات کے بعد محمد مرسی کا ملک کے پہلے منتخب صدر کے طور پر انتخاب عمل میں آیا، مرسی نے صدارت کا حلف اٹھانے سے قبل لاکھوں لوگوں کے سامنے اعلان کیا کہ وہ مصری عوام کی خوشحالی شریعت کے نفاذ اور قضیہ فلسطین سمیت تمام اسلامی ایشوز پر کمپرمائز نہیں کریں گے، اس مرد مجاہد نے کہا کہ شریعت کے نفاذکے لیے ان کی جان بھی جاتی ہے تو وہ اس کے لیے تیار ہیں، اقتدار سنبھالنے کے بعد انہوں نے سب سے پہلا دورہ سرزمین حجاز کاکیا،جہاں انہوں نے اس وقت کے سعودی سربراہ شاہ عبد اللہ سے ملاقات کی، اور ان سے ایک طاقتور اسلامی بلاک قائم کرنے کے عزائم کا اظہار کیا، پھر اگست میں ایران کا دورہ کیا، اور تہران میں منعقدہ ناوابستہ ممالک کی چوٹی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے خلفائے راشدین کا ذکر کیا، ایران کی سرزمین اورحکومتی اسٹیج پر خلفائے راشدین کا ذکر کوئی معمولی بات نہ تھی، اتنا ہی نہیں انہوں نے ببانگ دہل شامی حکومت کی بربریت کی پرزور الفاظ میں مذمت کی، جس پر شام کے وفد نے کانفرنس سے واک آؤٹ کیا۔

          محمد مرسی کا انتخاب در اصل پوری دنیا کے اسلام پسندوں کے لیے نوید مسرت تھی، مر سی کا اقتدار عالم اسلام کے لیے مژ دۂ رحمت تھا، چنانچہ مرسی نے بلا کسی تاخیر ایسے اقدامات کا آغاز کردیا جس سے عالم اسلام کے مغرب نواز حکمراں تلملا اٹھے، اقتدار سنبھالتے ہی مرسی نے اسرائیل کے ساتھ کئے گئے تمام معاہدات منسوخ کردئے، صحرائے سینا میں تیل کے کنویں موجود تھے جن کی ساری آمدنی اسرائیل کو جاتی تھی، مرسی نے اس شرمناک معاہدے کو منسوخ کردیا، اسی طرح صحرائے سینا کی جو سرحد غزہ پٹی سے ملتی تھی وہ برسوں سے بند تھی جس سے غزہ کے مکینوں کو بڑی مشکلات کا سامنا تھا، مصری فوج کے مورچوں کا رخ مصر کی طرف ہوتا تھا تاکہ کوئی غزہ میں داخل نہ ہوسکے، مرسی کے اقتدار کے بعد نہ صرف اس راہ داری کو کھول دیا گیا بلکہ غزہ میں ایک بڑے جشن کا اہتمام کیا گیا، حماس کے جلاوطن رہنما خالد مشعل نے ۳۵ سال بعد وطن لوٹ کر جشن کی قیادت کی تھی جس سے فلسطینیوں کے حوصلے بلند ہوئے، مرسی شہید غیرت ِایمانی، حمیت ِدینی اور جرأت ِاسلامی کے عظیم پیکر تھے، مرسی کو صرف اہل مصر کا صدر کہنا ان کے ساتھ بڑی نا انصافی ہوگی، وہ صرف مصریوں کے صدر نہیں تھے بلکہ وہ پوری مسلم امہ کے لیڈر تھے، انہیں روز اول سے فلسطینی مسلمانوں کی مشکلات کا اندازہ تھا، محمد مرسی کی ۲۰۱۲ء کی ایک تقریر صہیونیوں میں نفرت کی آگ بھڑکا دی، لیکن دوسری طرف اس تقریر نے فلسطینیوں کے حقوق کے لیے آواز بلند کرنے والوں کو ایسا حوصلہ بخشا کہ رہتی دنیا تک فلسطینی مسلمان ان کی جرأت کو خراج عقیدت پیش کرتے رہیں گے، مرسی کا سب سے بڑا کارنامہ یہ ہے کہ انہوں نے ۲۰۱۲ء میں غزہ پر مسلط کی گئی اسرائیل کی جنگ کے دوران جرأت کے ساتھ غاصب صہیونیوں کو للکارا،جس کی مصر کی تاریخ میں نظیر ملنی مشکل ہے، قابض صہیونی فوج نے ۱۴؍ نومبر ۲۰۱۲ء کو القسام کمانڈر احمد الجعبری کو ایک فضائی حملہ میں شہید کیا، اسرائیل کی اس مجرمانہ واردات پر مرسی پہلے مصری صدر تھے، جنہوں نے صہیونی ریاست سے اپنا سفیر واپس بلالیااور صرف اسی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ عرب وزراء خارجہ کا اجلاس طلب کیا اور سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا، ایسی مشکل گھڑی میں مرسی نے غزہ کے مسلمانوں کے ساتھ یکجہتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا کہ مصری قوم حکومت اور قیادت غزہ کے عوام کو تنہا نہیں چھوڑیں گے، مرسی نے غزہ پر اسرائیلی جارحیت کے دوران اپنی ایک تقریر میں کہا تھا کہ غزہ پر جارحیت قاہرہ پر جارحیت کے مترادف ہے، مرسی نے اہل غزہ کے لیے بہت کچھ عملی ا قدامات کئے، غزہ کی واحد بین الاقوامی گزرگاہ رفح کو غیر مشروط طور پر دوطرفہ آمدو رفت کے لیے کھول دیا، اور محصورین غزہ کو غذائی وطبی سامان سپلائی کرنے والے قافلوں کو مکمل اجازت دی، نیز غزہ کے زخمیوں اور بیماروں کو مصری اسپتالوں میں علاج کے لیے لے جایا گیا۔ ۲۰۱۲ء میں غزہ پر اسرائیلی جارحیت کو روکنے کے لیے مرسی نے سفارتی سطح پر بھی بہت کچھ اقدامات کئے۔

          مرسی کا منصوبہ تھا کہ سعودی عرب اور ترکی کے اشتراک سے ایک ایسی قوت تشکیل دی جائے جو مسلمانوں کی عظمت رفتہ کو پھر سے بحال کرے، بالخصوص بہار عرب کے نیتجہ میں پیدا صورت ِحال سے فائدہ اٹھاتے ہوئے عالم اسلام کو مغرب کے آہنی شکنجے سے آزاد کرایا جائے، مرسی امت ِمسلمہ کی نشأۃ ثانیہ کے لیے بہت کچھ کرنا چاہتے تھے؛ لیکن ان کے اقتدار کو ابھی ایک سال بھی مکمل نہ ہوپایا تھا کہ خلیجی ملکوں کے مغرب نواز حکمراں نے ان کے خلاف ایک بہت بڑی سازش رچ کر مصری فوج کو بغاوت پر آمادہ کیا، مصری فوج کے یہودنژاد جرنیل سیسی نے -جسے خود مرسی نے فوج کی سربراہی سونپی تھی- مرسی اقتدار کے خلاف علم بغاوت بلند کیا، اس بغاوت کے خلاف ہزاروں مصری باشندے رابعہ میدان میں چالیس دن تک پر امن احتجاج کرتے رہے؛ لیکن عالمی ضمیر کو ذرہ برابر جنبش نہ ہوئی، آخر ظالم سیسی نے ۱۴؍ اگست ۲۰۱۳ء میں نہتے پر امن احتجاجیوں کے خلاف فوجی کاروائی کردی، جس میں ہزاروں بے قصور مسلمان شہید ہوئے اور ہزاروں کو پس دیوار زنداں کردیا گیا،مرسی کے ساتھ سیکڑوں علماء اور اخوانی قائدین کو جیلوں میں ٹھونس دیا گیا، اور اذیت ناک سزائیں دی گئیں، مرسی طبعی موت نہیں مرے، انہیں مسلسل طبی سہولیات سے محروم رکھا گیا، اور دردناک اذیتیں دی جاتی رہیں، بالآخر وہ مرد مجاہد کمرۂ عدالت میں جج کے روبرو بیان دیتے ہوئے گر پڑا اور اپنی جان، جان آفریں کے سپرد کردی، مرسی کو قسط وار موت کے گھاٹ اتارا گیا، یہی وجہ ہے کہ آج پوری دنیا ان کی موت کو شہادت قرار دے رہی ہے،بلا شبہ مرسی اب ہمارے درمیان نہیں رہے، لیکن ان کا خون رائیگاں نہیں جائے گا، وہ جام شہادت نوش کرکے زندۂ جاوید ہوگئے، ان کے مفادپرست اور مغرب نواز مخالفین تاریخ کے کوڑے دان کا حصہ بن گئے، وہ ہمیشہ غدار اور منافق کے طور پر جانے جائیں گے،مرسی عدل کے خوگر اور انصاف کے علمبردار تھے، وہ حسن البنا شہید کے سچے وارث تھے، مرسی کا قصور بس یہ تھا کہ وہ اسلام اور مسلمانوں کی سربلندی چاہتے تھے اور عالم اسلام کو مغرب کی کاسہ لیسی سے نکال کر طاقت وعظمت کی بلند چوٹیوں پر پہونچانا چاہتے تھے، وہ اہل مصر کو موجودہ دور کے فراعنہ کے مظالم سے نجات دلانے کے متمنی تھے، وہ سرزمین مصر پر خدا کی شریعت کا نفاذ چاہتے تھے، وہ مصر اور عالم اسلام سے یہود ونصاریٰ کی بالا دستی ختم کرنا چاہتے تھے۔

          مرسی عالم اسلام میں کس قدر مقبول تھے اور لوگوں کے دلوں میں ان کے لیے کس قدر احترام تھا اسے جاننے کے لیے اتنی سی بات کافی ہے کہ ان کی شہادت پر ترکی سے لے کر قطر تک اور ہندوستان سے لے کر مراکش تک پوری دنیا میں ان کی غائبانہ نماز جنازہ پڑھی گئی، مرسی کا دور ِاقتدار اگرچہ مختصر تھا لیکن انہوں نے اس مختصر سے عرصہ میں خلافت ِراشدہ کی یاد تازہ کردی، چنانچہ ان کی سادگی کا یہ عالم تھا کہ صدر بننے کے بعد انہوں نے قصر صدارت میں قیام کو ناپسند کیا، جب کہ قاہرہ میں مصری صدر کے لیے کئی ایکڑوں پر محیط آسائش زندگی سے بھر پور ایک سے زائد محل ہیں، ان میں قیام کرکے داد عیش دینے کے بجائے قاہرہ میں ایک معمولی فلیٹ کرایہ پر لیا اور اہل خانہ سمیت وہاں رہائش پذیر ہوئے، اسی طرح جس وقت مرسی صدر تھے ان کی بہنشدید بیمار ہوئیں جب وہ عیادت کے لیے اسپتال پہونچے تو ڈاکٹروں نے بتایا کہ اگر آپ چاہیں تو بہن کا علاج امریکی یا یورپی اسپتال میں ہوسکتا ہے، بس آپ کے حکم کی دیر ہے، ہیلی کاپٹر انہیں لیکر روانہ ہوجائے گا، مرسی نے کہا میرے خاندان والے کبھی نہیں چاہیں گے کہ میری بلند مرتبہ حیثیت سے ناجائز فائدہ اٹھایا جائے، آخران کی بہن عام مصری اسپتال میں انتقال کرگئیں، مگر مرسی نے بہن کی خاطر اپنے اصولوں کو توڑنا گوارا نہیں کیا، صدر مرسی کو اپنی عوام کی فکر اسی طرح دامن گیر رہتی تھی جس طرح خلفائے راشدین اور حضرت عمر بن عبد العزیز کو اپنی رعایا کا غم ستایا کرتا تھا، ایک مرتبہ صدر مرسی صبح سویرے سرکاری گاڑی میں قصر صدارت جارہے تھے، انہیں راستے میں فٹ پاتھ پر ایک عورت بیٹھی نظر آئی، انہوں نے اس کے سامنے گاڑ ی رکوادی اور گاڑی سے اترے اور عورت سے پوچھا: تم فٹ پاتھ پر کیوں رہتی ہو؟ عورت بولی میرا خاوند فوت ہوگیا، میں تنہافلیٹ کا کرایہ ادا نہیں کرسکتی تھی؛ اس لیے فٹ پاتھ پر آپڑی ہوں، صدر مرسی نے اس خاتون سے کہا جب تک میں مصر کا حاکم ہوں کسی خاتون کو ایسی تکالیف برداشت نہیں کرنا پڑے گی، پھر انہوں نے اپنے اسٹاف کو حکم دیا کہ وہ اس عورت کے لیے فلیٹ کا بندوبست کریں اور اتنی رقم دیں کہ وہ باعزت زندگی بسر کرسکے۔

          ۲۰۰۴ء میں جب انڈونیشی علاقہ بندہ آچے سنامی سے تباہ ہوا تو محمد مرسی مصری وفد کے ساتھ وہاں پہونچے اور سیکڑوں بے گھر افراد کو مالی امداد دی، مرسی کا ایک تاریخی اقدام جو سنہرے حروف سے لکھا جائے گا یہ تھا کہ جب وہ صدر منتخب ہوئے تو شام کے سفاک بشار الاسد نے انہیں مبارکباد کا پیغام بھیجوایا، صدر مرسی نے یوں جواب دیا: میں آپ کو شامی عوام کا جائز نمائندہ نہیں سمجھتا، صدر مرسی کے تعلق سے یہ انکشاف بھی چونکا دینے والا ہے کہ وہ دنیا میں سب سے کم تنخواہ لینے والے صدر تھے، ان کی سالانہ تنخواہ صرف ۱۰ ہزار ڈالر تھی،حیرت انگیز بات یہ ہے کہ جب فوجیوں نے انہیں گرفتار کیا تو یہ راز بھی کھلا کہ انہوں نے اب تک کوئی تنخواہ نہیں لی تھی، دیگر ممالک کی طرح مصر میں بھی سرکاری عمارتوں میں صدر کی تصاویر آویزاں کی جاتی ہیں، جب مرسی صدر بنے تو انہوں نے حکم دیا تھا کہ سرکاری عمارتوں میں ان کی تصویر نہ لگائی جائے، جب کہ اس کے لیے ۵۰۰ ملین کا بجٹ روایتی طور پر موجود تھا، اسی طرح مرسی کے حکم پر پچھلے تمام حکمرانوں کی تصاویر ہٹا کر اللہ کے نام کی تختیاں لگادی گئیں، پھر جوں ہی مرسی کو بے دخل کیا گیا فوجی جرنیلوں کی تصویریں پھر سے آویزاں کردی گئیں، صدر مرسی کی طرح ان کی اہلیہ بھی نہایت سادگی پسند خاتون ہیں، شوہر کے صدر منتخب ہونے پر جب لوگ انہیں مصر کی خاتون اول کہنے لگے تو انہوں نے صاف کہا میں خاتون اول نہیں ہوں بلکہ مجھے ملازم اول سمجھیں۔

سوانحی خاکہ

          محمد مرسی ۸؍ اگست ۱۹۵۱ء کو شمالی مصر کے العدوہ گاؤں میں پیدا ہوئے، والد کاشت کار تھے اور والدہ ماجدہ معمولی پڑھی لکھی گھریلو خاتون تھیں، مرسی پانچ بھائیوں میں سب سے چھوٹے تھے، ۱۹۷۵ء سے ۱۹۷۶ء تک مرسی نے مصری فوج کے کیمیائی ہتھیاروں والے دستے میں عسکری خدمات انجام دیں، پھر اپنی تعلیمی سلسلہ کو جاری رکھا، جامعہ قاہرہ سے انجینئرنگ میں ایم فل کی سند حاصل کرلی، حکومت مصر نے ان کی اعلیٰ تعلیم کارکردگی کی وجہ سے انہیں امریکہ میں ڈاکٹری کی تعلیم کے لیے منتخب کیا، چنانچہ ۱۹۸۲ء میں یونیورسٹی آف ساؤدرن کیلیفورنیا سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی، پھر فراغت تعلیم کے بعد مرسی امریکہ ہی میں کیلیفورنیا اسٹیٹ یونیورسٹی میں ۱۹۸۲ء سے ۱۹۸۵ء تک تدریسی خدمات انجام دیتے رہے، اس دوران وہ اپنی اعلیٰ ترین پیشہ وارانہ خدمات کی وجہ سے عالمی شہرت یافتہ خلائی ادارے ناسا میں بھی کام کرتے رہے، تین سالہ خدمات کے بعد مرسی مصر لوٹ آئے اور جامعہ الزقازیق میں بحیثیت لکچرار خدمات انجام دینے لگے اور یہ سلسلہ ۲۰۱۰ء تک جاری رہا، مرسی کو مصری تاریخ کا یہ اعزاز حاصل ہے کہ وہ ۲۰۰۰ء سے ۲۰۰۵ء تک مصری پارلیمان میں آزاد منتخب رکن کی حیثیت سے شامل رہے۔ ۲۰۱۲ء میں جب مصرمیں صدارتی انتخابات ہوئے تو اخوان المسلمین نے محمد خیرت سعد الشاطر کو اپنا صدارتی امیدوار نامزد کیاتھا، لیکن مصر کی سپریم کونسل آف آرمڈ فورسز نے ان کو انتخاب کے لیے نا اہل قرار دیا، جس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ وہ اسلامی ذہن کے رہنما تھے، اخوان المسلین نے ایک متبادل امیدوار کی حیثیت سے محمد مرسی کا نام دیا ہوا تھا، بالآخر عوامی حمایت کے نتیجہ میں ۱۴؍ جون ۲۰۱۲ء کو محمد مرسی کی صدارت کا باضابطہ اعلان کردیا گیا۔

مزید دکھائیں

سید احمد ومیض ندوی

مولانا سید احمد ومیض ندوی استاذ حدیث و صدر شعبہ دعوۃ جامعہ اسلامیہ دار العلوم حیدرآباد ہیں۔

متعلقہ

Back to top button
Close