خصوصیہندوستان

حصار جبر میں زندہ بدن جلائے گئے

ڈاکٹر سلیم خان

وطن عزیز میں پہلے سڑکوں اور پلوں کے نام بدلے جاتے تھے۔ اس کے بعد اسٹیشنوں اور ہوائی اڈوں کے نام بدلنے لگے۔ بات آگے بڑھی تو شہروں اور ضلعوں کے نام بدلے یہاں تک کے اڑیسہ جیسے صوبوں تک کے نام بدل دیا گیا لیکن اب وقت آگیا ہے اس ملک کا نام ہندوستان سے  بدل کر درندستان  رکھ دیا جائے۔ راجستھان کے  ضلع راجسمند میں  شمبھولال ریگر نامی درندے کے ذریعہ ۴۸ سالہ  بے قصور  بنگالی مزدور محمد افرازل  کی شہادت اور قاتل کے ذریعہ اس کی تشہیر  کے بعد اب  یہ سرزمین مہذب انسانوں کی بستی کہلانے کی حقدار نہیں رہی۔ یہاں  سے  رام بھکتوں نے عدل و انصاف کو بن باس پر روانہ کردیا   ہے اور چہار جانب جنگل  کا قانون نافذ ہوگیا ہے  بلکہ جنگل راج  میں بھی ایسی درندگی کا مظاہرہ نہیں  ہوتا۔

محمد افرازل ۱۲سال قبل روزی کمانے کے لیے  بنگال سےراجسمند آیا اور مزدوری کرنے لگا۔ آگے چل  اپنی محنت و مشقت  اور اخلاق و ایمانداری سے وہ    ٹھیکےدار  بن گیا اور چھوٹے موٹے کانٹریکٹ لینے لگا۔ اس دوران اس نے  اپنی دو بیٹیوں کا نکاح کردیا اور دوماہ قبل اپنی تیسری بیٹی کی شادی طے کرکے گاوں سے لوٹا۔ اس ماہ کے اواخر میں اسے بیٹی کی نکاح میں آبائی وطن سیاد پور ضلع مالدہ  جانا تھا لیکن اس سے قبل   شمبھولال ریگر نے اس کو اپنی نفرت کی آگ میں جلا کر مارڈالا۔افرازل کوقتل کی نیت سے فریب دے کر شمبھو   ایک ویران مقام پر لے گیا اور کلہاڑی سے زخمی کرنے کے بعد اسے زندہ جلا دیا۔ جس وقت شمبھو یہ بہیمانہ حرکت کررہا تھا اس کی ۱۴سالہ بھانجی بڑے مزے سے فلمبندی  کررہی تھی۔ قتل کا ارتکاب کرنےکے بعد وہ درندہ اپنی بھانجی اور۱۲سال کی بیٹی کے ساتھ کیلوا گاوں میں رشتہ دار کے گھر  جاکر روپوش ہوگیا اور ازخود اپنی سفاکی کے شواہدکی  تشہیر کردی۔

اس سانحہ کے دو پہلو ہیں ایک تو شمبھو کا ارتکاب ِ قتل اور دوسرے ڈھٹائی کے ساتھ اس کی تشہیر۔  ایک  اس کی انفرادی نفسیات کا عکاس  ہے اور دوسرا سماجی صورتحال کا آئینہ دار ہے۔ سنگھ پریوار نے اقتدار کے حصول کی  خاطر نفرت و عناد کو جو بازار گرم کیا اس نے انسان کو احسن تقویم کے بلند مقام سے گرا کر اسفل السافلین کے درجہ پر پہنچا دیا۔  شمبھولال کی بہیمیت نے ۹۰ کی دہائی کے داراسنگھ کی یاد تازہ کردی جس نے عیسائی راہب  گراہم اسٹینس اور  اس کے دو بچوں کو زندہ جلانے کے بعد ببانگ دہل اپنے جرم کا  اعتراف کیا تھا۔ اسٹینس سے قبل داراسنگھ نے شیخ امام کے ٹرک سے گائے لوٹ کر انہیں شہید کردیا تھا۔ اسٹینس  کا قتل کرنے کے باوجود وہ آزاد گھومتا رہا اور اس نے ایک مسلم تاجر شیخ رحمٰن کو زندہ جلادیا اور ایک پادری  ارول داس کو مار ڈالا۔ داراسنگھ جب گرفتار ہوا تو بجرنگ دل نے اس سے پلہّ جھاڑ لیا اور عدالت نے بھی بجرنگ دل کو پرامن تنظیم تسلیم کرکے داراسنگھ کو عمر قید کی سزا دے دی۔ سی بی آئی نے سپریم کورٹ میں پھانسی کی سزا کا مطالبہ کیا لیکن عدالتِ عظمیٰ ہمت نہ کرسکا ۔ سپریم کورٹ اگر داراسنگھ کو سزا ئے موت دے  کر بجرنگ دل پر پابندی لگا دیتا تو افرازل کا قتل نہ ہوتا۔ ہندوتواوادی دہشت گرد جانتے ہیں کہ انتظامیہ اور عدلیہ ان کی پشت پناہ ہے۔ اسی لیے سیاست کے سائے میں پھلنے پھولنے والی یہ دہشت گردی بڑھتی ہی جاتی ہے۔

ہمارے معاشرے میں انسانی اقدار کے انحطاط  کا یہ عالم ہے کہ اپنے شوہر کے ذریعہ یہ سفاکیت مشاہدہ کرنےکے باوجود شمبھو کی بیوی سیتا ریگر کو افرازل کی بیوہ کا درد محسوس نہیں ہوتا ہےاور نہ افرازل کے یتیم بچوں سے ہمدردی ہوتی  ہے۔ اس لیے سیتا اپنے رام کو بچانے کے لیے طرح طرح کے جھوٹ گھڑ تی ہے۔ کبھی کہتی ہے  ’’ مجھے نہیں معلوم میرے شوہر نے یہ کام کیو ں کیا ‘‘ حالانکہ شمبھو اس ویڈیو میں اور اس کے آگے پیچھے کی فیتوں  میں مسلمانوں کے خلاف زہر اگلتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ وہ چیلنج کرتا ہے کہ جہاد اور لوجہاد کرنے والوں کا یہی انجام ہوگا۔ ہندو بہنوں کو ان سے بچنے کی تلقین کرتا نظر آتا ہے۔ سیتا کے اس دعویٰ کی بھی پولس نے تردید کی ہے کہ  اس کے پاس نوکری نہیں ہے۔ وہ گانجہ پیکر سڑکوں پر گھومتا رہتا ہے اور اس  کادماغی توازن درست نہیں ہے نیز کسی بنگالی کے ذریعہ مقامی لڑکی کے اغواء کی کہانی  اور دھمکی کا الزام  بھی بے بنیاد  ہے۔ جس شخص کا دماغ خراب ہو وہ ایسا منصوبہ بند قتل کرکے  نہ اس کی ویڈیو بنواسکتا ہے اور نہ اسے سوشیل میڈیا میں پھیلا سکتا ہے۔

انسان جب ابلیس بن جاتا ہے تو اس کو شیطینیت کو روکنے والی ایک چیز عدالت اور حکومت کا خوف  ہوتی ہے۔ راجستھا ن میں جب سے بی جے پی نے اقتدار سنبھالا ہے ہندو دہشت گردوں کے دل سے  یہ ڈر پوری طرح نکل چکا ہے۔ اس کی وجہ انتظامیہ کی پشت پناہی اور حکومت کی سرپرستی ہے۔ راجستھان میں پہلو خان کو دن دہاڑے قتل کردیا جاتا ہے لیکن مقدمہ مقتول کے ساتھیوں پر بنتا ہے۔ ان کی گایوں کو چھین کر  گئو شالہ میں بھیج دیا جاتا ہے۔ پہلو خان کے موت کے قبل دیئے گئے بیان کو نظر انداز کرکے قاتلوں کو رہا کردیا جاتا ہے۔  اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ عمر خان کو الور میں ہلاک کردیا جاتا ہے۔ پہلے تو قاتلوں کو بچانے کی کوشش کی جاتی ہے لیکن پھر دو گئورکشک رامویر گجر اور بھگوان سنگھ قتل کا اعتراف کرلیتے ہیں۔ یہ تو خیر ہجوم کا قتل تھے لیکن اسی صوبے کے   پرتاپ گڑھ میں پانچ میونسپل کونسل کے ارکان اور کمشنر مل کرظفر حسین نامی  سماجی کارکن کو محض اس لیے قتل کردیتے ہیں کہ وہ انہیں خواتین کی رفع حاجت کرتے ہوئے تصویر کشی سے روک رہا تھا۔ اس کے علاوہ جس روز افرازل کا قتل ایک غنڈہ کرتا ہے اسی دن الور ضلع میں تعلیم حسین کو گائے کا اسمگلر قرار دے کر  پولس انکاونٹر کردیتی ہے۔

 ایسے میں انصاف کی توقع  کس سے کی جائے۔ ایک طرف تو انتظامیہ دہشت گردوں کا حامی بنا ہوا ہے اور دوسری طرف حکو مت سرکاری افسران کے تحفظ کی خاطر ذرائع ابلاغ کا گلا گھونٹھنے پر تلی ہوئی ہے۔ ابھی حال میں راجستھان کی حکومت نے ایک آرڈیننس کے ذریعے حکومتی اجازت کے بغیر ججوں، عدالتی عملے، نوکر شاہی یا دیگر سرکاری ملازمین کے خلاف عوامی شکایت سے مقدمہ درج کرنے پر پابندی لگا دی ہے۔۔ اس آرڈیننس کے تحت بدعنوانی یا اس طرح کے کسی بھی معاملے میں میڈیا اس وقت تک کسی سرکاری ملازم کا نام نہیں لے سکتا، جب تک کہ تفتیش مکمل نہ ہوجائے یا پھر حکومت سے اس کی منظوری نہ مل جائے۔

اس طرح گویا سرکاری افسران کے خلاف لکھنے سے پہلے حکومت سے اجازت لینا ضروری کردیا گیا  اور ایسا نہ کرنا قانوناﹰًًًًجرمقراردے دیا گیا ہے۔ اس دستور زباں بندی کے خلاف احتجاج کرتےہوئے صوبے کے سب سے بڑے اخبار راجستھان پتریکا نے ۷نومبر کو یوم  آزادیٔ صحافت کے دن اداریہ کا کالم  خالی چھوڑ دیا تھا کچھ لوگ عدالت میں بھی  گہار لگا رہے ہیں لیکن سرکار ٹس سے مس نہیں ہورہی ہے۔ جس حکومت کو بے قصور لوگوں کی موت کا غم نہیں  ہوتا وہ بھلا تقریر و تحریر کی آزادی کو کیا اہمیت دے گی؟  اس میں شک نہیں کہ راجسمند کے جلاد  شمبھولال نے داعش کے سفاک دہشت گردوں کو بھی شرمندہ کردیا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے پہلی بار کسی ناحق قتل   کی مذمت کرنے والی وجئے راجہ سندھیا اس کو تختۂ دار تک پہنچاتی ہیں یا نہیں ؟ کہیں ایسا نہ ہو کہ  افرازل کے حق میں راجستھان کے (پولس)  ڈائرکٹر جنرل اوم پرکاش گلہوترا  تو موت کی سزا کا مطالبہ کریں اور وزیراعلیٰ  حفیظ میرٹھی کے اس شعر کی تصویر  بن جائیں ؎

چمن میں سب کی زباں پر تھی میری مظلومی 

  مرے خلاف جو بولا تو باغباں بولا

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

سلیم خان

ڈاکٹر سلیم خان معروف کالم نگار اور صحافی ہیں۔

متعلقہ

Back to top button
Close