خاص ہے ترکیب میں قوم رسول ہاشمی

ڈاکٹر ساجد خاکوانی

(9نومبر، یوم اقبال کے موقع پرخصوصی تحریر)

 گزشتہ انسانی تاریخ کی بتیس بڑی بڑی تہذیبیں کتابوں میں دفن ہوگئیں، ان گم شدہ تہذیبوں کے صرف آثارہی آج باقی ہیں یاپھر تاریخ کی کتب میں ان گم گشتہ اقوام کے بھولے بسرے قصے کہیں کہیں سننے یا پڑھنے کو مل جاتے ہیں۔  ماضی کی اندھیری بھول بھلیوں میں ان عظیم تہذیب وثقافت کی وارث انسانی بستیوں کے گم ہوجانے کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں لیکن ان میں سے سب سے بڑی وجہ یہی ہے کہ عدیم الشان اقوام پہلے اخلاقی بے راہ روہی کے نتیجے میں غلامی کے کنویں میں جاگریں اور پھر قیادت کے فقدان نے انہیں صفحہ ہستی سے حرف غلط کی طرح اس انداز سے مٹا دیاکہ صدیوں نے اپنے ظالم ہاتھوں سے ان پر قرنوں کی خاک ڈال دی۔ جبکہ امت مسلمہ اس لحاظ سے ایک خوش قسمت ملت ہے کہ دورغلامی جیساکڑاوقت بھی اس امت کی کوکھ کو بنجرنہ کرسکااوراغیارکے دوراستبدادمیں بھی یہاں ایسی قیادت نے جنم لیاکہ جس کی اقتدامیں چلتی ہوئی یہ قوم بلآخرگلستان آزادی کی منزل سے بہارآشناہوئی۔

مشرق تامغرب کل امت میں کم و بیش ایک ہی وقت پر غلامی کاآسیب حملہ آورہوااور پھرکل امت میں ٓزادی کی تحریکیں چلیں اور کہیں کم اور کہیں زیادہ قربانیوں کے نتیجے میں امت کی قیادت نے بے سروسامانی کی حالت میں اس بچے کھچے سرمایہ ایمان کے سفینے کو ڈوبنے سے بچاتے ہوئے کنارے تک لے ہی آئے۔ کہیں تویہ قیادت میدان سیاست میں نمودار ہوئی تو کہیں مکتب و مدرسہ میں اس قیادت کی رونمائی ہوئی اور کہیں ممبرومحراب اورجبہ قبہ و دستارنے اس قیادت کی فراہمی کافریضہ اداکیااور کتنی حیرانی کی بات ہے کہ ایوان ادب کے شاہسواروں نے بھی اپنے قلم کی نوک سے اس میدان کارزارمیں کارہائے نمایاں سرانجام دیے۔

علامہ محمد اقبال، دورغلامی کے لق و دق ریگستان میں لالہ صحرائی کی مانند ایک کھلتاہوا پھول ہے۔ علامہ نے اس وقت امت کی قیادت کا سامان فراہم کیاجب چاروں طرف اندھیراگھپ تھاازشرق تا غرب امید کی کوئی کرن باقی نہ تھی۔ کل امت غلامی کے مہیب غارمیں شب تاریک کے لمحات گزاررہی تھی اورعلامہ محمداقبال اس بدترین دورمیں قندیل راہبانی ثابت ہوئے اور اپنے شعری و خطاباتی کلام سے امت مسلمہ کے تن مردہ میں ایک نئی روح پھونک دی۔ یہ وہ دور تھاجب شعراکے قلم لب و رخسارسے آگے نہیں بڑھتے تھے اور غزل کا دامن زلف گرہ گیرکااسیرمحض تھا۔ علامہ محمداقبال نے جہاں غزل کے دامن وسعت میں کل آفاق کو سمیٹ لیاوہاں اپنے زورکلام سے کل امت کی بیداری کاسبب بھی پیدافرمایا۔ علامہ محمد اقبال کے قلم کے باعث مسلمانوں کے شاندارماضی کو درخشاں مستقبل سے آشنائی نصیب ہوئی، علامہ نے امت مسلمہ پر غلامی کے تسلط کے شعری تجزیے پیش کیے اور مایوسیوں کی جگہ امت کے دامن امیدوں کے چراغ سے بھر بھردیے۔

آپ کے شعری کلام نے کل ہندوستانی مسلمانوں کے جام حصول منزل کی امنگ و تڑپ وجستجوسے لبالب بھردیے۔ تحریک آزادی کا سیل رواں علامہ محمد اقبال کے کلام سے سالوں کاسفر ہفتوں میں طے کرنے لگا۔ جس جگہ بھی علامہ محمد اقبال کاکلام پڑھا جاتاقوم کے جذبات بھڑک اٹھتے اور غلامی کی پژمردہ قوم میں زندگی کے آثارپیداہونے لگ جاتے۔ نوجوانوں کا ایک جم غفیرتھا جس کے جذبات میں اقبال صاف نظرآتاتھااور قیادت کی حق ادائگی میں اگر کچھ کسرباقی تھی تو قائداعظم محمدعلی جناحؒ نے وہ کمی بھی پوری کر دی۔

 علامہ محمد اقبال نے اپنے زمانہ طالب علمی میں یورپ کاسفرکیا، اور عنفوان شباب میں یورپ کی تہذیب کو بہت قریب سے مشاہدہ کیا۔ ان کے تجزیے محض خیالی پلاؤیا سنی سنائی باتوں پر مبنی نہیں تھے اور نہ ہی انہوں نے مسلمان ہونے کے تعصب میں یورپی تہذیب پراپنی قلم کے نشتر چلائے۔ علامہ محمد اقبال کے تجزیے، انکے جائزے اور ان کے تبصرے فی الاصل ان حقائق پر مبنی تھے جو انہوں نے بنظرغائراپنی آنکھوں سے بذات خود محسوس کیے۔ انہوں نے یورپ کی مادی ترقی دیکھی اس کو تسلیم بھی کیا، یورپی اقوام کے محاسن بھی ذکر کیے لیکن ساتھ ساتھ ان کے عیوب سے بھی پردہ کشائی کی اور بعینہ یہی رویہ انہوں نے ملت اسلامیہ کے ساتھ بھی روا رکھا۔

علامہ محمد اقبال کی حقیقت پسندی تھی کہ ان کے پیمانے قوم شعیب کے پیمانے نہ تھے بلکہ انہوں نے جس ترازومیں غیروں کو تولا اسی میں اپنوں کی بھی پیمائش کی اور مسلمانوں کے زوال کے اسباب اور ملل عالم میں ان کے گرے ہوئے مقام و مرتبہ پرمسلمانوں کے بھی لتے لیے۔ لیکن آج بھی ایک بڑاہی تکلیف دہ رویہ ملتاہے کہ اکثرنام نہاد دانشورقرض کھائے بیٹھے ہیں کہ قوم میں مایوسیوں کے جال پھیلائیں اور تصویرکے ہمیشہ تاریک رخ ہی عوام کے سامنے پیش کریں جبکہ علامہ محمد اقبال نے دورغلامی میں امید کے چراغ روشن کیے اور قوم کے سامنے منزل کی طرف درست سمت کی نشاندہی کی۔

علامہ محمد اقبال نے قوم کوباور کرایا کہ اغیارکے رنگ میں رنگ کر ہم دنیامیں کوئی مقام حاصل نہ کرسکیں گے بلکہ اس مکروہ فعل کے نتیجے میں اپنا آپ بھی گنوا بیٹھیں گے۔ علامہ محمد اقبال نے مسلمانوں کے اندر اس طبقے کی شدت سے مخالفت کی جو سیکولرمغربی تہذیب کے پیچھے قوم کو چلاناچاہتاتھااورقوم کو جمہوری آزادیوں کی نیلم پری میں سبزباغ دکھاتاتھا۔ علامہ محمد اقبال نے بڑے سیدھے انداز میں بتادیا کہ اگر کچھ تجربے مغرب میں کامیاب بھی ہوئے ہیں تو ضروری نہیں کہ مسلمانوں میں بھی کامیاب ہوں، اس لیے کہ مسلمان قوم کی ترکیب اساسی دوسری اقوام سے یکسر مختلف ہے۔

علامہ نے یورپی تہذیب، سیکولر ازم، جمہوری تماشااورتعلیم کے نام پر ہونے والی بددیانتیوں کو بہت پہلے پہچان لیاتھااوراپنے شاعرانہ کلام میں انہوں نے ان سب پر بے پناہ تنقید کی ہے اور ان میں سے بعض کوتو مسلمانوں کے لیے زہر قاتل قرار دیاہے۔ علامہ نے مسلمانوں کو شعائر غلامی سکھانے کی بجائے آداب آزادی سے روشناس کرایا ہے اور اپنے کلام میں مشرق و مغرب کی کشمکش میں کھل کر اپنا کل بوجھ مشرق کے پلڑے میں ڈالا ہے اور اہل مغرب سے واشگاف الفاظ میں کہاہے بہت جلد تمہاری تہذیب اپنے ہی خنجرسے اپنا گلا کاٹے گی اور جس قوت سے مغربی تہذیب کی موجیں اچھل اچھل کر کناروں سے باہر آرہی ہیں یہی موجیں ہی اپنی تہذیب کو پابندسلاسل کر دیں گی۔

علامہ محمد اقبال نے مسلمانوں میں فرقہ بندی کو شدید ترین تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ علامہ نے اپنے شاعرانہ کلام میں ایک خاص مذہبی طبقے کے تفوق کو سخت ناپسند کیاہے۔ اگرچہ مسلمانوں کے درمیان انتشارکوایک عرصے سے ہدف تنقید بنایا جا رہاتھالیکن علامہ محمد اقبال کایہ طرہ امتیازہے کہ انہوں نے اپنے خطبات میں وہ عملی تجاویز بھی پیش کر دیں جن سے ایک بارپھر مسلمانوں میں دینی شعور کی تجدید ممکن ہو سکتی ہے جس سے فرقہ بندی کاعفریت یہاں سے دفعان ہو سکتاہے۔ علامہ کی تمام تجاویز سے بہت کم اتفاق کیاگیاہے لیکن اس کے باوجود ان خطبات کو تجدیدواحیائے دین میں ایک سنگ میل کی حیثیت حاصل ہے۔ علامہ محمد اقبال کا شاعرانہ کلام توعوام کے لیے تھالیکن علامہ کے خطبات دراصل اسلامی ریاست کے لیے قانون سازی کی راہیں متعین کرتے ہیں اور اتحادامت کے لیے اولین قدم اٹھانے کی جگہ بھی ایوان ہائے اقتدارہی ہیں۔ اب یہ قانون ساز اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ علامہ محمد اقبال کی فراہم کردہ بصیرت کی روشنی میں ملک و ملت کے لیے قانون سازی کریں اوردین و شریعت کی آفاقی کرنوں سے عوام الناس کی زندگیوں کو روشن کریں۔ علامہ محمد اقبال نے اپنے شاعرانہ اور خطیبانہ، دونوں طرح کے کلاموں میں امت کے اتحادکو کسی بھی منزل کے حصول کاسب سے پہلا سنگ میل قراردیاہے۔ علامہ محمد اقبال نے تاسف کااظہارکیاہے کہ ایک خدا، ایک رسول، ایک کتاب اور ایک ہی حرم میں طواف کرنے والے کیونکر ایک دوسرے سے صدیوں کے فاصلوں پر ہیں۔

  یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ اقوام کی تعمیر سونے چاندی اورہیرے جواہرات سے نہیں ہوتی بلکہ اقوام کاوجودفی الحقیقت نظریات سے مستعارہوتاہے۔ تحریک پاکستان کی قیادت اور تعمیر پاکستان کاجانگسل مرحلہ اور تکمیل پاکستان کی منزل سب کچھ دوقومی نظریہ سے ہی ممکن ہوا اور ممکن ہو سکے گا۔ علامہ محمد اقبال کی ساری شاعری اسی دوقومی نظریے کی معنوی تشریح ہے۔ اگرچہ دوقومی نظریے کی تجدید 1857ء کی جنگ آزادی میں ہی ہو چکی تھی لیکن اس وقت تک بہت کم لوگ اس نظریے کی حقیقت کاادراک کرپائے تھے۔ اس نظریے کی ترویج و تشریح کااصل فریضہ توعلامہ محمد اقبال نے ہی اداکیا۔ صرف ہندوستان کی حد تک ہی نہیں بلکہ کل عالم کی اقوام میں اور ایک ہزار سالہ تاریخ سے بھی زائد مدت میں علامہ محمد اقبال نے مسلمانوں کو جداگانہ شناخت عطاکردی۔ آج بھی یہی دوقومی نظریہ مملکت خداداپاکستان کے وجود کاضامن ہے، جولوگ اس نظریے سے انکارکرتے ہیں وہ دراصل پاکستان کے جواز سے انکار کرتے ہیں۔ صرف پاکستان ہی نہیں پورے جنوبی ایشیاکے مسلمان علامہ محمد اقبال کے نظریاتی مقروض ہیں۔ خاص طورپر ایران کے اندر دینی شعورکی بیداری میں کلام اقبال نے بڑا ہی بنیادی کرداراداکیاہے۔ اہل یورپ آج بھی علامہ کویادکرتے ہیں۔

کیاہی خوب ہوکہ وطن عزیزکی نسل نوکو علامہ کاکلام ذہن نشین کرایاجائے تاکہ تعمیر پاکستان کے بعد تکمیل پاکستان کی منزل بھی بہت قریب لائی جاسکے۔ بدیسی زبان کے غلبے نے نوجوانوں کو اپنی اصل سے کاٹ کے رکھ دیاہے جس کے نتیجے میں ہمارا ملی شعور ماند پڑ گیاہے لیکن ہر سال کا یوم اقبال ہمیں اپنا بھوالا ہوا سبق یاددلاتاہے کہ ہمیں اپنی حقیقت کو اپنی ہی خودی میں تلاش کرنا ہے۔



⋆ ڈاکٹر ساجد خاکوانی

ڈاکٹر ساجد خاکوانی
ڈاکٹر ساجد خاکوانی پاکستان کے نامور کالم نگارہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے