خصوصیمعاشرہ اور ثقافت

خاندان اور اسلامی تعلیمات

عبدالرشیدطلحہ نعمانیؔ

اﷲ تعالیٰ نے تخلیق انسان ِاوّل کے بعد پیدائش کے سلسلے کو خاندانی نظام میں تبدیل فرمایا اور یہ لامتناہی سلسلہ قیا مت تک کے لئے رائج کر دیا،زوجین کوخاندانی نظام کی اِکائی؛بل کہ بنیاد قراردیا تاکہ اِنسان دنیا میں وہ مقاصد بروئےکارلائے؛ جس کے لئے اس کی تخلیق ہوئی ہے۔

  خاندان؛ کسی بھی قوم کی تعمیر میں خشتِ اول کی حیثیت رکھتا ہے،خاندان، وہ گہوارہ ہے جہاں آنے والے کل کے معمار اور پاسبان پرورش پاتے ہیں ،خاندان، وہ تربیت گاہ ہے جہاں اخلاق وکردار کی قدریں افراد کے دِل ودِماغ پر نقش ہوتی ہیں اوریہی نقوش دیر تک مرتسم رہتےہیں ؛یہی وجہ ہے اسلام سمیت تمام مذاہب میں گھرا ور خاندان کو بہت اہمیت دی گئی ہے،اسلام میں گھر اور خاندان کے ماحول کو خوش گوار بنانے کے لئے مجمل نصیحتوں پر اکتفا نہیں کیا گیا ؛بلکہ اس کے واضح قواعد و ضوابط کا بھی احاطہ کیا گیا ہے۔

آج ہمارا اصل المیہ یہ ہے کہ قرآن کریم کی تعلیمات سے ہم خود بھی آگاہ نہیں ہیں اور دنیا کو بھی ان سے آگاہ کرنے کی ضرورت ہمیں صحیح طور پر محسوس نہیں ہو رہی، ورنہ خاندانی حقوق کا جو جامع اور متوازن تصور دین اسلام نے پیش کیاہے دنیا کے کسی نظام میں اس کا کوئی متبادل موجود نہیں ۔

اسلام ہماری زندگی کو صرف نماز، روزہ ، حج ،زکوٰۃ،جہاد،اور دعوت و تبلیغ تک ہی محدود نہیں رکھتا؛ بلکہ یہ ہمیں اُس راستے پر گامزن ہونے کی ہدایت دیتا ہے جس پر انسانیت کے سب سے عظیم محسن حضرت محمدﷺ تھے؛ جن کی مبارک زندگی ساری انسانیت کے لئے نمونہ اور اسوہ ہے۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ کا روشن اور مثالی پہلویہی ہے کہ انہوں نے صرف نماز و روزہ کی تلقین نہیں کی بلکہ شخصی ،خانگی ،خاندانی اور انسانی حقوق کے متعلق سب سے بڑھ کرپیغام دیا، کام کیا اور اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم کو اس کی تلقین فرمائی۔غورکیاجائے تو اسلام نے نیکی کا جو جامع تصور دیا ہے؛ اس میں بھی خدمت خلق ، حقوق انسانیت ،اقرباءپروری ،رہن سہن اور معاشرت ، ایک لازمی حصہ ہے۔

 اللہ تعالی فرماتے ہیں :’’نیکی صرف یہی نہیں کہ آپ لوگ اپنے منہ مشرق اور مغرب کی طرف پھیر لیں بلکہ اصل نیکی تو یہ ہے کہ کوئی شخص اللہ پر اور قیامت کے دن پر اور فرشتوں پر اور (اللہ کی) کتاب پر اور پیغمبروں پر ایمان لائے، اللہ کی محبت میں (اپنا) مال قرابت داروں ،یتیموں ،محتاجوں ، مسافروں ، سوال کرنے والوں اور غلاموں کی آزادی پر خرچ کرے،یہ وہ لوگ ہیں جو نماز قائم کرتے ہیں ، زکوۃ دیتے ہیں اور جب کوئی وعدہ کریں تو اسے پورا کرتے ہیں ۔ سختی، مصیبت  اور جہاد کے وقت صبر کرتے ہیں ۔ یہی لوگ سچے ہیں اور یہی متقی ہیں ‘‘۔(البقرۃ 2:177)

عظیم مفسر قرآن مولانا حمید الدین فراھیؒ کے مطابق لفظ ‘‘بر’’کے اصل معنی’’ادائیگی حقوق‘‘کے ہیں ،یعنی انسان ہر وہ حق ادا کرے جو اس پر قدرتی طور پر اس کے ضمیر کی طرف سے عاید ہوتا ہے۔گویا ہر انسان کو اپنے پروردگار کا حق بھی ادا کرنا ہے اور اپنے سے متعلق ہر دوسرے فرد کاحق بھی اداکرنا ہے۔

ماہرین عمرانیات کےمطابق ،خاندان، درج ذیل افراد سے تشکیل پاتاہے: (1) شوہر(2) بیوی(3) اولاد(4) والدین(5) دیگر رشتہ دار۔

 اسلام نے ان تمام کے حقوق بالتفصیل بیان کیے ہیں ، ان کی ادائی کی تاکید کی ہے اور ان کی پامالی سے ڈرایا ہے۔

آئیے اختصار کے ساتھ اسلام کے خاندانی حقوق پر طائرانہ ہی سہی ایک نظر ڈالی جائے !!

شوہر کے حقوق: اللہ پاک کا ارشادہے’’ پس جو صالح عورتیں ہیں وہ اطاعت شعار ہوتی ہیں اور مردوں کے پیچھے اللہ کی حفاظت و نگرانی میں ان کے حقوق کی حفاظت کرتی ہیں ۔(النساء)

حضور ﷺ نےارشاد فرمایا:اگر میں کسی کو غیر اللہ کےسامنےسجدہ کرنے کا حکم دیتا تو بیوی کو شوہر کے آگے سجدہ کرنے کا کہتا لیکن سجدہ اللہ ہی کے لیے ہے۔ عورت اللہ تعالیٰ کاحق اس وقت تک پورا پوراادا نہیں کر سکتی جب تک شوہر کاحق پورا پورا نہ کرے۔ (مسند احمد)۔

ام المومنین حضرت ام سلمہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’جس عورت کا انتقال اس حال میں ہوکہ اس کا شوہر اس سے خوش ہو وہ جنت میں جائے گی۔‘‘(ترمذی)

رفیقہ ٔحیات کے حقوق: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:  ’’ان کے ساتھ بھلے طریقے سے زندگی بسرکرو‘‘(النساء)

ایک اور مقام پر فرمان الہی ہے: ’’اے ایمان والو! تمہیں یہ حلال نہیں کہ زبردستی عورتوں کو میراث میں لے لو، اور نہ ان کو اس واسطے روکے رکھو کہ ان سے کچھ اپنا دیا ہوا مال واپس لے سکو مگر (تب لے سکتے ہو) اگر وہ کسی صریح بد چلنی کا ارتکاب کریں ، اور عورتوں کے ساتھ اچھی طرح سے زندگی بسر کرو، اگر وہ تمہیں نا پسند ہوں تو ممکن ہے کہ تمہیں ایک چیز پسند نہ آئے مگر اللہ نے اس میں بہت کچھ بھلائی رکھی ہو۔‘‘(النساء)

حضور ﷺ نےارشاد فرمایا:تم میں سے بہترین شخص وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے حق میں بہترین ہو۔ (سنن ترمذی ،صحیح ابن حبان)

والدین کا حق: حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا : کون سا عمل افضل ہے؟ آپ نے فرمایا: نمازوں کو اپنی مقررہ اوقات پر پڑھنا ۔میں نے کہا اس کے بعد کون سا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: والدین کے ساتھ حسنِ سلوک۔ (ترمذی) حضور ﷺ نےارشاد فرمایا: جو ہمارے چھوٹوں پر شفقت، بڑوں کی عزت اور علماء کے ساتھ وفا نہ کرے وہ ہم میں سے نہیں ہے۔ (مسند بزار)  حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے ایک مجلس میں ارشاد فرمایا: اس شخص کی ناک غبار آلود ہوئی، یعنی وہ ناکام و نامراد ہو، حاضرین نے دریافت کیا: کون؟ اے اللہ کے رسول ﷺ ۔ آپؐ نے جواب دیا:جس نے اپنے ماں باپ یا ان میں سے کسی ایک کو بڑھاپے کی حالت میں پایا، پھر بھی جنت میں داخل نہ ہوسکا۔(مسلم:2551)

اولادکا حق:حضرت ابو سعیدؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’جس کے یہاں کوئی اولاد ہو تو اس کو چاہیے کہ اس کا اچھا سا نام رکھے، اسے ادب سکھائے پھر جب وہ بالغ ہوجائے تو اس کا نکاح کردے۔‘‘ (بیہقی فی شعب الایمان)

زمانۂ جاہلیت میں لڑکیوں کی کوئی حیثیت نہیں تھی،وہ اپنے بیش تر حقوق سے محروم رہتی تھیں ؛ اس لیے اللہ کے رسول ﷺ نے خاص طور سے ان کی پرورش و پرداخت اور خبرگیری پر اجر عظیم کا وعدہ فرمایا ہے۔ ام المومنین حضرت عائشہؓ بیان کرتی ہیں کہ آپؐ نے ارشاد فرمایا: ’’جو شخص ان بیٹیوں کی وجہ سے کسی آزمائش میں ڈالا گیا اور اس نے ان کے ساتھ اچھا سلوک کیا تو وہ اس کے لیے آگ سے آڑ ہوں گی۔‘‘ (بخاری: 1418، مسلم:2629)

 حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’جس شخص نے دو لڑکیوں کی ان کے بالغ ہونے تک پرورش کی، وہ اور میں قیامت کے روز اس طرح ہوں گے۔ ‘‘یہ کہتے ہوئے آپؐ نے اپنی دو انگلیوں کو ملایا۔ (مسلم:2631)

دیگر رشتہ داروں کاحق:سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب اللہ تعالیٰ تمام مخلوق کو پیدا کرنے سے فارغ ہوا تو رحم (رشتہ ناتا مجسم ہو کر) کھڑا ہو، اللہ نے فرمایا: ”رک جا“۔ وہ عرض کرنے لگا کہ میں تیری پناہ چاہتا ہوں ، ایسا نہ ہو کہ کوئی مجھ کو کاٹ دے (ناتا توڑے)۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ”کیا تو اس بات پر راضی نہیں کہ جو تجھے جوڑے، میں اسے جوڑوں اور تجھے توڑے، میں اس کو توڑوں ؟ اس نے کہا ”جی ہاں “ (مجھ سے ایسا ہی کیجئیے) اللہ نے فرمایا: ”(تجھ سے) ایسا ہی کیا۔“ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اگر تم چاہو تو اس کی تائید میں یہ آیت پڑھو: ”اور تم سے یہ بھی بعید نہیں کر اگر تم کو حکومت مل جائے تو تم زمین میں فساد برپا کر دو اور رشتے ناتے توڑ ڈالو۔“(صحیح بخاری)

کسی نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا: اےاللہ کے رسول (ﷺ) !میرے کچھ رشتہ دار ہیں ،میں ان سے صلہ رحمی کرتا ہوں لیکن وہ قطع تعلق کرتے ہیں ،میں ان سے بہتر سلوک کرتا ہوں لیکن وہ مجھ سے برا سلوک کرتے ہیں ،میں ان کی باتیں برداشت کرتا ہوں لیکن وہ مجھ سے جہالت کی باتیں کرتے ہیں ،نبی ﷺ  نے یہ سن کر فرمایا:بات ایسی ہے جیسی تو نے کہی ہے تو گویا تو نے ان کے چہروں کو خاک آلود کر دیا اور جب تک تو اس حالت پر برقرار رہے گا،ان کے خلاف اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہمیشہ تیرا ایک مددگار رہے گا(صحیح مسلم)

حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قطع رحمی کرنے والا جنت میں داخل نہ ہوسکے گا۔(بخاری و مسلم)

عائلی نظام اور خاندانی زندگی میں بارہا یہ بات پیش آتی ہے ایک آدمی اپنے رشتہ دار اور اہل قرابت کے حقوق کی ادائیگی کے بجائے حقوق کی پامالی کرتا ہے اس کے ساتھ نرمی کے بجائےترش روئی  سے پیش آتا ہے اور ان کے ساتھ براسلوک کرنے لگتا ہے اس کے باوجوددوسرے آدمی کو اپنی طرف سے حقوق کی ادائیگی، نرمی، صلہ رحمی اور اچھا سلوک کرنا چاہئے۔ اس بات کو ملحوظ رکھنا ضروری ہے کہ اسوۂ رسول اکرﷺ خاندان و رشتہ داروں کے حقوق وسلوک کے معاملے میں انسان کو اس نقطۂ نظر سے دیکھنے کی تعلیم دیتا ہے کہ ہر شخص اپنی طرف سے صلہ رحمی، حسن سلوک کرتا رہے اور رشتہ داروں اور خاندان کے لوگوں کے حقوق ادا کرتا رہے، رشتہ دار اورراہل خاندان و قرابت اس کے حقوق ادا کررہے ہیں یا نہیں ؟ وہ صلہ رحمی کرتے ہیں یا نہیں ؟اور اس کے ساتھ نیک سلوک و نرمی کا برتاؤ کرتے ہیں یا نہیں ؟اس کو دیکھنے کی ضرورت نہیں ۔

حاصل کلام:خاندانی حقوق وفرائض کےحوالےسےاگرہم اسلام کے روشن خطوط ونقوش پرعمل پیراہوں تو حق تلفیوں و بے انصافیوں کا چلن کم ہوجائےگا کیونکہ ایک شخص کا فریضہ دوسرے کا حق ہوتا ہے اور جب پہلا شخص اپنی ذمہ داری اور فریضہ ادا کرلے گا تو دوسرے کا حق خود بخود اس کو پہنچ جائے گا اگر شوہر اپنے فرائض ادا کرے تو بیوی کے حقوق ادا ہوں گے، بیوی اپنے فرائض و ذمہ داری ادا کرے تو شوہر کے حقوق ادا ہوں گے اگر حاکم اپنے حقوق ادا کرے تو رعایا کو اس کے حقوق ملیں گے اور رعایا اپنے فرائض کو پورا کرے تو حاکم کو اس کے حقوق پہنچیں گے اسی طرح والدین اپنی اولاد کے حقوق (یعنی ان کی صحیح تعلیم و تربیت کا بندوبست کرے) ادا کرے تو اولاد کے حقوق پورے ہوں گے اور اولاد اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرے تو والدین کے حقوق میں کوئی کسر نہیں رہے گی، غرض ہر شخص اپنے ذمہ عائد ہونے والے حقوق و فرائض کو پورا پورا ادا کرے تو ہر شخص تک اس کے حقوق اپنے آپ پہنچتے رہیں گے۔

 دو طرفہ تعلقات کی خوشگواری و پسندیدگی کا اصل وحقیقی راز یہی ہے کہ ہر فریق اپنی ذمہ داری محسوس کرکے اپنے اوپر عائد ہونے والی ذمہ داریوں کو کما حقہ ادا کرے تو دونوں میں کسی شخص کو بھی حق تلفی کے شکوہ وگلہ کا کوئی موقع نہیں مل سکتا۔

ہر سال15مئی کو پوری دنیا میں عالمی یومِ خاندان کی حیثیت سے منایا جاتا ہے ۔اس دِن کومنانے کا مقصد خاندان کی اہمیت کو معاشرے کی بنیادی اکائی کے طور پراُجاگر کرناہے۔

فی زماننامشرق ومغرب کے مابین جو تہذیبی جنگ چھڑی ہوئی ہے ، اس میں اہل مشرق کے غالب اورباشندگانِ یورپ کے مغلوب ہونے کی وجہ یہی ہے کہ ایک نے اسلام کی آفاقی وابدی ہدایات واحکام کو سینے سے لگائے رکھا ہے۔جب کہ دوسرے نے انسانیت کا جامہ اتارکر حیوانیت کا لبادہ اوڑھ لیاہے، مغربی تہذیب رشتوں کے تقدس کو کب سے خیر باد کہہ چکی ہے، وہاں انسانیت تو درکنار ماں باپ ،بہن بھائی، چچا ماموں ،خالہ پھوپھی کا تصورتک عنقاہے۔مغرب اپنی خاندانی قدروں اور معاشرتی اکائیوں کو پامال کرنے کے بعد ،اب یہ چاہتاہے کہ پوری دنیا میں اس کی دجالی تہذیب کا ڈنکا بجے ،اس طاغوتی مقصد اورمشن کو پورا کرنے کے لیے قدیم وجدید ذرائع ابلاغ کا بھرپور استعمال کیا جارہاہے۔ نتیجہ یہ نکل رہاہے کہ ہماری نئی نسل بڑی تیزی سے اس دلدل میں دھنستی چلی جارہی ہے،مگر اس حقیقت سے کوئی ہوش مندانکار نہیں کرسکتا کہ ہمارے آج کے اسلامی معاشرے میں رشتوں کا ادب واحترام ،عظمت ومحبت اوروارفتگی وفریفتگی بری طرح پامال ہورہی ہے۔ اولاد ماں باپ کی نافرمان بن چکی ہے، بہن بھائی باہمی حسد وبغض میں مبتلاہیں ۔ رشتہ دار ایک دوسرے کوکاٹ کھانے کے لیے دوڑ رہے ہیں ۔ اس میں شک نہیں کہ یہ سب کچھ احکام دین سے دوری کا نتیجہ ہے، اگر ہم ابھی اور اسی وقت یہ عزم وارادہ کرلیں کہ شریعت مطہرہ کے ہرہر حکم کی پابندی   عمل کریں گے،اللہ رب العالمین کاڈر وخوف پیدا کرکے اس کے بتائے ہوئے احکام پر عمل پیراہوں گے تو کوئی وجہ نہیں کہ ہمارے ذہنی اضطراب اورنفسیاتی ہیجان میں کمی واقع نہ ہو،اور ہم طاغوتی کھائی میں گرنے سے بچ جائیں ۔ ضرورت ہے صرف پختہ نیت اور حوصلے کی ۔

تنگ آجائے گی خود اپنی چلن سے دنیا

تجھ سے سیکھے گا زمانہ ترے انداز کبھی

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

عبدالرشیدطلحہ

مولانا عبد الرشید طلحہ نعمانی معروف عالم دین ہیں۔

متعلقہ

Close