خصوصی

خرکاریاں

سید شجاعت حسینی

مصری طالب علم محمود کی جرءت تو دیکھئیے زو کے "زیبرا ” کی تصویر کھینچ دی اور سوشل میڈیا پر پوسٹ کردی، وہاں سے دی ٹیلی گراف نے اٹھالیا اور خبروں کی خبر بنادیا کہ کیسے مصر میں” گدھوں” کو "زیبرا "بنایا جاتا ہے اور عوام کالانعام یقین ہی نہیں کرتے ایمان لے آتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق مصری زو میں گدھوں کے زیبرانہ جلووں کا مکر جال عرصہ سے جاری ہے۔

دنیا اس مصری کاریگری پر ششدر ہے۔ فراعنہ مصر کی ممیوں کے ہزار وں سال بعد یہ وہ  تازہ ترین  محیر العقل دستکاری ہے جس نےایک عالم فن کو بحر حیرت میں غرق کردیا۔ یہ بات ابھی تحقیق طلب ہے کہ  یہ مصر کی گھریلو ٹیکنالوجی ہے  یا کسی پڑوسی رجواڑے کی قیمتی تحقیق کاحسب معمول دوستانہ ایکسپورٹ۔

مزید چرچا اس بات پر بھی چل رہی ہے کہ آخر یہ کاریگری مصری زو کی حد تٓک سمٹی ہے یا اس کے جلوے کہیں اور بھی جھلکتے  ہیں۔ جانکاروں کے مطابق یہ ہنر مندی زو سے ایوان سلطنت تک ہر جا عام ہے۔ کسی بھی جگہ گدھوں کو پینٹ کرکے حسب حال شکل وصورت و  حسب توفیق مراتب عطا کرنے کا اذن عام ہے۔ یہ اس لئیے کہ زو اتھاریٹیز کے مطابق ملک میں حقیقی زیبروں اور شیروں کا قحط بپا ہے۔ سوال یہ ہے کہ وہ کہاں گئے، یا کہاں بھیج دئیے گئے کہ گدھوں کو پینٹ کرنے کی نوبت آپہنچی۔

اسی رپورٹ کے مطابق ابتداء زو اتھاریٹیز یہ بات ماننے کے لئیے قطعا تیار نہ تھے کہ گدھے کو زیبرا بنایا جاسکتا ہے۔ اور مسلسل اپنی ہی کاریگری کو جھٹلانے پر تلے تھے۔ جب زیبرا کی پھڑپھڑاتی چونچ اور تھوتھنی کے اندرون تک گھس پیٹھ کرتے سیہ کرتوت ( بلیک اینڈ وھائیٹ اسٹرپس) کے حوالے سے اسکے گدھے پن کو واضح کرنے کی کوشش کی گئی تو پیروان ڈارون نے یہ کہہ کر پلا جھاڑنے کی کوشش کی کہ تم کیا جانو نئے زمانے کے زیبرا کی طبعی ترقیات کے جلوے اور اور انکے جسمانی چال چلن۔ قریب تھا کہ وہ  سوال پوچھنے والوں کے چال چلن ناپنا شرو ع کردیتے،

بھلا ہو نئے زمانے کے زیبرا کا، کہ عین اسی وقت صوت الحمیر بلند فرماکر اپنے اندرونی راز کا فلک شگاف  اعلان فرمایا۔ تھوتھنی کی لیپاتوپی ہی ابھی ڈھنگ سے  ہضم نہیں ہوپائی تھی کہ اس کان پھاڑ اعلان نے جملہ کاریگری  پر گھڑوں پانی پھیر دیا اور زو اتھاریٹیز نے اپنا گدھا پن چھپانے کی خاطر مان لیا کہ ہاں ہم گدھوں کو حسب حال پینٹ کرکے انکے مراتب بلند کرتے ہیں۔

محمود کا شکریہ کہ چلئیےآپ کی جرءت سے ایک زو کا راز کھل گیا۔ لیکن سنا ہے کے مصر کے طول و عرض میں ایسے بے شمار "زو” ہیں۔ جہاں ہزاروں گدھوں کی خرمستیاں،  تھوتھنی سے جھانکتے کرتوت اور گراں گوش ڈھینچوں مسلسل چغلی کھاتی ہیں۔ لیکن کسی محمود کا کہیں پتہ نہیں۔ اللہ خیر کرے۔

ماہرین  اس بات پر اختلاف کا شکار ہیں کہ دنیا میں 26نسلوں کے گدھے پائے جاتے ہیں یا 27۔ ان کا تردد وہ جانیں، ہمیں  تو ماہرین کی گدھا شماری پر ہی شک ہے۔  کہیں آپ بھی  مصری  کاریگری سے دھوکہ تو نہیں کھاگئے۔ ہماری حس تو یہ کہتی ہے  یہ تعداد کہیں زیادہ ہے۔ ذرا آپ زو تا ایوان  ٹٹولئیے۔

مکرمی آدرش کشمش والا  کی  روایات تو یہ بھی ہیں کہ بڑھتی بے روزگاری کے چلتے اس کارخیر کے لئے صرف گدھوں پر تکیہ کرنے کے بجائے بلائے روزگارکے شکار  سیانوں  کو بھی جوتنا طئے کیا گیا (دروغ برگردن راوی)۔ اس کے دو فائدے ہیں ایک تو یہ کہ "کاروبار زو” بلا ردو خلل چلتا رہے اور دوسرے یہ کہ عوامی بے روزگاری کی نامعقول شکایتوں کا منہ ایسا بند ہو کہ منہ کھولنے پر ناظرین زو خود منبع شکایت (و سرچشمہ تماشا) کی خبر لیں۔

ادھر غم روزگار کا مارا ایک بے روزگار، فریب روزگار کا شکار ہوکر زو میں چمپانزی کے بھیس میں جوت دیا گیا۔ ۔ لیجئے اب بیچارے کا  دن کیا کٹتا  بقول میر؎

پھر گیا ہے زمانہ کیا  کہ  مجھے

ہوتے خوار، ایک روزگار ہوا

دوسری مصیبت خونخوار ہمسایوں کی نظر ستم جو اس معصوم کے  پسینہ کے سوتوں کو ہردم فعال، حساس و تازہ رکھتیں۔ پڑوسی پنجرے کا شیر جب آدم خورانہ نظر سے اسے گھورتا تو چمپانزی کی کھال ٍاندروں سے تر ہوئ جاتی۔

حادثے کہاں خبر سنا کر آتے ہیں۔ ایک دن موقعہ تاک کر شیر نے چمپانزی کی لائین آف کنٹرول پھلانگی۔ چمپانزی کے ہوش ہوا ہوگئے۔ تادم حادثہ گونگے پن کا ڈھونگ رچائے  چمپانزی نے بچاؤ، بچاؤ کے انسانی شور کے ساتھ بمشکل دوڑ لگائ اور قریب تھا کہ لوگ ڈارونزم کا کھلا جلوہ  اور علانیہ ثبوت منٹوں میں دیکھ لیتے، شیر نے بڑھ کر دبوچ لیا۔ اور جھٹ سے کان میں کہا، "ظالم اپنی نہ سہی میری  نوکری  کی تو فکر کر۔ ۔ !”

خدا جانے یہ خرمستی  کب تک چلے لیکن ایک بات طئے ہے کہ جب عوام الناس کا ناس مارکے”زو” کے پنجروں میں جوت دیا جائے اور اہل خلوص و دانش کو زنداں کے پنجروں کے سپرد کیا جائے تو گدھا راج کے بوجھ سے نجات محمود کی جرءت ہی نہیں ایاز کی دانشمندی بھی چاہتی ہے۔

اس داستان خر-کاری کو پڑھ کر مکرمی آدرش کشمش والا معترض  ہیں۔ کہتے ہیں  وہ مصری مخلوق جنھیں بالعموم گدھوں سے ممتاز  مانا جاتا ہے   ان کا   اس داستان سے کیا تعلق۔ آپ گستاخی کہیں، بے باکی یا سمجھداری  لیکن ہمیں تو تعلق ہی نہیں  بلکہ حالیہ تاریخ کے حوالے سے بڑی والہانہ ترتیب بھی نظر آتی ہے۔ میر سے معذرت کے ساتھ عرض کروں،

گلہ اپنی جفا  کا  سن  کے  مت  آزردہ  ہو  ظالم

نہیں تہمت ہے یہ تجھ پر جو خر کاری کو کیا جانے

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

سید شجاعت حسینی

مضمون نگار سافٹ ویئر انجینئر اور معروف قلم کار ہیں۔ آپ مختلف تخلیقی فورم پر فعال کردار ادا کررہے ہیں۔ جدید ٹکنالوجی اور سماجی و تعلیمی مسائل آپ کے خاص موضوعات ہیں۔ ان دنوں موصوف حیدرآباد میں مقیم ہیں۔

متعلقہ

Close