خصوصیگوشہ خواتین

خواتین کاحق وراثت!

امتیازعلی شاکر

(8مارچ:اقوام متحدہ کے عالمی یوم نسواںکے موقع پر خصوصی تحریر)

 سال میں ایک دن خواتین کے عالمی دن کے موقع پرصنف نازک کے بہت سارے مسائل پرروشنی ڈالی جاتی ہے،خواتین کودرپیش ایک ایسامسئلہ بھی ہے جوبہت کم زیربحث لایاجاتاہے،وہ ہے خواتین کاحق وراثت، اللہ سبحان تعالی نے قرآن کریم کے اندر ارشادفرمایا،مفہوم‘‘ اے لوگو اپنے رب سے ڈرو جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا اور اسی جان سے اس کا جوڑا بنایا اور پھر ان دونوں سے بہت سے مرد اور عورتیں پھیلادیں ‘‘ (النساء: 1)انسانیت کے شرف اور اکرام میں مرد اور عورت کے درمیان کوئی تخصیص نہیں رکھی گئی’’لوگو ! ہم نے تم کو ایک مرد اور عورت سے پیدا کیا اور تمہاری قومیں اور قبیلے بنائے تاکہ تم ایک دوسرے کو شناخت کرو، اللہ کے نزدیک تم میں زیادہ عزت والا وہ ہے جو زیادہ پرہیزگار ہے(سور الحجرات : 31)

دنیا اور آخرت میں کامیابی کے لیے بھی جنس کی کوئی بنیاد نہیں رکھی گئی،’’جوشخص بھی نیک عمل کرے گا خواہ وہ مرد ہو یا عورت بشرطیکہ ہو وہ مومن اسے ہم دنیا میں پاکیزہ زندگی بسر کرائیں گے اور آخرت میں ایسے لوگوں کو ان کا اجر ان کے بہترین اعمال کے مطابق بخشیں گے‘‘(النحل :97)اللہ تعالیٰ کے احکامات کی روشنی میں معلوم ہوتاہے کہ بنیادی طورپرمردوعورت برابرہیں ،اللہ تعالیٰ کے نزدیک وہی بہترہے جواچھے اعمال اختیارکرے،دنیاوی زندگی میں کچھ مقامات پرعورت اٖفضل ہے توکچھ پرمرد،کچھ ایسے کام ہیں جومردکے بس کی بات نہیں توکچھ عورت کے دائرہ اختیارسے باہر ہیں ،یعنی حسن معاشرت مردو عورت کے پیارومحبت اورعدل وانصاف کے ذریعے ہی ممکن ہے،موجودہ معاشرہ مردوں کاہے اس لئے اکثرعورت ظلم و ستم کاشکارہے۔

8/ مارچ دینا بھر میں خواتین کے عالمی دن کے طورپر منایاجاتاہے،اس دن لوگ خواتین کے حقوق ومسائل پرتقریریں کرتے ہیں ،مضامین لکھے جاتے ہیں ،ہم جس معاشرے کاحصہ ہیں الحمدللہ یہاں نہ توخواتین مظلوم ہیں اورنہ مردجابرو ظالم ہیں ،ہرگھر کی الگ کہانی ہے کہیں عورت ماں یابیوی کے رشتے میں مردسے زیادہ بااختیارہے توکہیں مردباپ یاخاوند کے رشتے میں زیادہ اختیاررکھتاہے،دنیابھرکی خواتین کے مسائل نہ توراقم جاتناہے اورنہ ہی جان سکتاہے،امریکہ،بھارت ،چین یاافریقہ میں خواتین پرکس قدرظلم ہوتاہے یاوہاں عورت کتنی باختیارہے ہمیں اس بات کی کوئی خبرنہیں ،راقم کے نزدیک ایک ایسااہم اورحقیقی معاملہ ہے جس میں ہمارے معاشرے میں خواتین کے ساتھ انتہائی زیادتی ہورہی ہے،ایک ایساحق جوعورت کوقرآن و احادیث اورملکی آئین میں بھی حاصل ہے ،صد افسوس کے وہ ہم عورت کونہیں دیتے۔

جی ہاں آپ سمجھ گئے ہوں گے کہ راقم خواتین کے حق وراثت کی بات کررہاہے،اسلامی جمہوریہ پاکستان کاسرکاری مذہب اسلام ہے جس کے مطابق عورت کو ماں ، بیوی ، بہن ، بیٹی ، نانی ، نواسی ، دادی ، پوتی کی حیثیت میں وراثت کا حق عطا کیا گیا ہے جواداکرنالازم ہے جبکہ رائج آئین میں بھی لازم ہے، دوسال قبل لاہور ہائی کورٹ میں ایک کیس کے دوران یہ انکشاف ہوا کہ پاکستان میں ہندو خواتین کو وارثت میں حصہ نہ دینے کا 85 برس پرانا قانون رائج ہے جو کے ہندوستان میں بھی متروک ہو چکا ہے۔یہ انکشاف لاہور ہائی کورٹ میں ایک ہندو خاتون کی درخواست پر سماعت کے دوران ہوا،جسٹس سید منصور علی شاہ نے درخواست پر سماعت کے بعد وفاقی حکومت کو نوٹس جاری کردیا۔ وکیل کے مطابق ہندو خواتین کو وارثت میں حصہ نہ دینے کا قانون ہندوستان میں 1956 میں ختم کر دیا گیا تھا،جسٹس منصور علی شاہ نے وکیل سے استفسار کیا کہ کیا عدالت کسی ایکٹ کو کالعدم قرار دے سکتی ہے؟درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ ہندو خواتین کو وارثت میں حصہ دینے کا 1929 کا ایکٹ ریاستی آئین کے منافی ہے اس لیے عدالت اس کی منسوخی کے احکامات دے سکتی ہے۔عدالتی استفسار پر وکیل نے وضاحت کی کہ ہندوئوں کی پارلیمان میں مناسب نمائندگی نہیں اس لئے ہندو برداری اس معاملے پر پارلیمان سے رجوع نہیں کرسکتی۔

جسٹس منصور علی شاہ نے نوٹس جاری کرتے ہوئے کہا کہ ضرورت پڑنے پر اس معاملے میں عدالتی معاون مقرر کئے جائیں گے اور ہندو رہنمائوں سے بھی رائے لی جائے گی،راقم کاسوال یہ کہ ہندوخواتین کے حق وراثت کیلئے آئین میں ترمیم ہوجانے کہ بعد اُن کو وراثت میں حصہ ملاکرے گا؟جواب یہ ہے کہ موجودہ معاشرے میں ممکن نہیں ،اس معاملہ پریہاں الحاج،روزہ دار،عمرپھرکے نمازی،تہجدگزار،واعظ و تبلیغ کرنے والے مسلمان اللہ تعالیٰ کے احکامات سے نظرچوراجاتے ہیں ،بہن ،بیٹی وارثت سے حصہ طلب کرے تومختلف طریقوں سے اُسے دبادیاجاتاہے ،بھائی کہتے ہیں لے لوحصہ پھرزندگی بھرہمیں منہ مت دیکھانا،توہمارے لئے مرگئی،نوبت یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ بیوہ ،غریب ومسقین بہن اپنے امیرترین بھائیوں سے کہتی ہے کہ مجھے وارثت نہیں بھائیوں کی ضرورت ہے،لاکھوں میں سے کوئی عورت اپناحق طلب کربھی لے تواُسے عدالتوں اورپٹوارخانوں میں رسواہوکرخالی ہاتھ لوٹناپڑتاہے، ایک مسلمان کیلئے اللہ تعالیٰ کے احکامات،رسول اللہ ﷺ کی احدیث سے بڑھ کراورکوئی آئین و قانون نہیں۔

آقاکریم ﷺ کی آمد سے قبل عربوں میں بھی صنف نازک کوکوئی انسانی حق حاصل نہ تھا،حقیقت میں تونبی کریم ﷺکے احسانات نہ صرف پوری نوع انسانی پر ہیں بلکہ آپ ﷺ کے رحمتیں تمام جہانوں کی تمام مخلوقات پربرستی ہیں ،صنف نازک اس احسان کی خصوصی طو ر پر مرہونِ منت ہے جس کو معاشرے میں حقیقی مقام عطافرماکر آپﷺ نے گویا ایک نئی زندگی سے نوازاہے،راقم توآج تک یہی سمجھ سکاہے دنیاکی کوئی حکومت ،قانون یاعدالت مرد وخوتین کوحقوق کی فراہمی یقینی بنانے کے قابل نہیں سوائے اللہ تعالیٰ کے دین حق کے، شریعت محمدی ﷺ کے احکام مرد و عورت دونوں کیلئے باعث رحمت ہیں۔

رب رحمٰن نے ہمارے فائدے کیلئے اسے نازل کیا، شریعت اسلامی ہمارے لئے اللہ کا احسان عظیم ہے، اس سے انحراف اللہ کے غضب کو دعوت دینے کا باعث بنتا ہے جس کاہم شکاربھی ہیں ،راقم کا آج کے دن تمام مسلمانوں کے نام یہی پیغام ہے کہ خواتین کووہ تمام حقوق اداکیاکریں جواللہ تعالیٰ اوررسول اللہ ﷺ نے اُن کو عنایت فرمائے ہیں ،خاص الخاص وراثت کاحق پورایازیادہ اداکیاکریں تاکہ معاشرے کاتوازن قائم رہے اورہم اللہ تعالیٰ کے غضب سے محفوظ رہیں ،اللہ تعالیٰ ہمیں صراط مستقیم عطافرمائے(آمین)

مزید دکھائیں

متعلقہ

Close