خصوصیگوشہ خواتین

خواتین کے استحصال پر بے حسی کا عالم

سیاست اور انٹرٹینمنٹ کی دنیا​​ میں کام کرنے کے لئے سیکس کا مطالبہ اور پیشکش کی جاتی ہے

عمیر کوٹی ندوی

سیاست میں بھی ترقی اور مواقع کی فراہمی کے نام پر خواتین کے جنسی استحصال کی بات کو بڑی بے باکی کے ساتھ معروف سیاسی لیڈر رینوکا چودھری کے  ذریعہ تسلیم کئے جانے کی بات اسی برس  ماہ اپریل کی ہے۔ فلمی دنیا سے وابستہ معروف کوریو گرافر سروج خاں کے ذریعہ فلمی دنیا میں خواتین کے جنسی استحصال کی بات کہی گئی تھی۔ اس مسئلہ کو آگے بڑھاتے ہوئے رینوکا چودھری نے  کہا تھا کہ "کاسٹنگ کاؤچ کا  مسئلہ صرف فلم انڈسٹری میں  ہی نہیں ہے، ہر شعبہ میں ایسا ہو رہا ہے اور یہ تلخ حقیقت ہے۔ ایسا مت سمجھئے کہ پارلیمنٹ اس سے اچھوتی ہے یا دیگر کام کی جگہیں  اس سے بچی ہوئی ہیں”۔ حکمراں جماعت کے ممبر پارلیمنٹ شترگھن سنہا نے بھی  کہا تھا کہ "سیاست اور انٹرٹینمنٹ کی دنیا​​ میں کام کرنے کے لئے سیکس کا مطالبہ اور پیشکش کی جاتی ہے……سروج خان اور رینوکا چودھری  سچ بول رہی ہیں……لیڈروں کی خواہشات سے مغلوب نوجوان نسل جنسی تعلقات کی پیشکش کرنے کے لئے جانی جاتی ہے اور سینئر لیڈروں کا اسے قبول کرنا بھی سب پر واضح  ہے”۔ خاص طور پرحالیہ برسوں میں اہل سیاست کی جنسی بے راہ رویوں اور جنسی استحصال کے ایک نہیں بے شمار معاملات سامنے آئے ہیں۔ اس کے ذریعہ پھنسانے و پھنسنے کی باتیں آئے دن سامنے آتی رہتی ہیں۔ انتخابی مہمات کے دوران تو یہ سلسلہ زوروں پر ہوتا ہے۔ جب سیاست کا یہ کردار ہوتو اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ وہ خواتین کے جنسی استحصال کے معاملہ میں کتنی سنجیدہ ہوگی۔

 حال ہی میں منظر عام پر آنے والے بہار کے مظفرپور گرلس شیلٹر ہوم میں 10 تا18 سال کی یتیم وبے سہارا بچیوں کے تسلسل کے ساتھ جنسی استحصال کے معاملہ کو دیکھ لیں۔ اس معاملہ میں سیاست کی سرپرستی نہیں بلکہ راست طور پر شمولیت کسی سے چھپی نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سیاست نے آغازسے ہی معاملہ  کو چھپانے، ملزموں کو بچانے اور ثبوت کو ختم کرنے کی کوشش کی۔ اس  کی طرف سے غیر سنجیدگی، غیر ذمہ داری کا مظاہرہ علی الاعلان کیا گیا۔ معاملہ  کو ہنسی میں اڑانے کی کوشش کی گئی۔ اس ریاست کے وزیر اعلیٰ  پریس کانفرنس کے دوران اس معاملہ  کو ہنسی میں اڑاتے، زور زور سے ہنستےاور یہ کہتے ہوئے نظر آئے کہ” ہم تو انویسٹی گیٹر نہیں ہیں اور نہ انویسٹی گیشن کے سپر وائزر ہیں”۔ ریاست کے نائب وزیر اعلیٰ  نےمیڈیا سے کہا کہ”اس میں کسی کو بھی استعفیٰ دینے کی ضرورت نہیں ہے”۔ اس انداز گفتگو میں ریاست کے اہل اقتدار پر ملزموں کو بچانے اور ثبوت کو ختم کرنے کے الزامات کو بے بنیاد کیسے قرار دیا جاسکتا ہے۔ پارلیمنٹ میں بھی اس معاملہ میں سیاست کے اندر جو سنجیدگی نظر آنی چاہئے تھی وہ نظر نہیں آئی بلکہ معاملہ سے جلد از جلد گزرجانے کی کوشش صاف محسوس کی گئی۔ میڈیا بھی اس معاملہ میں اہل سیاست کے ہم قدم ہی رہا اس کی طرف سے بھی وہ رد عمل، غیظ وغضب اور جوش وخروش نظر نہیں آیا جو ‘نربھیا’ معاملہ میں تھا۔

اس بار تو اس نے آواز بلند کرنے والوں کو ہی منفی انداز سے پیش کرنے کی کوشش  کی۔ میڈیا نے پارلیمنٹ میں بلند کی جانے والی آواز کے تعلق سے کہا کہ "بہار کے مظفرپور آبروریزی معاملہ میں ملزموں کو بچانے اور ثبوت کو ختم کرنے کا الزام لگاتے ہوئے آج کانگریس اور راشٹریہ جنتا دل کے ممبران نے وقفہ صفر کے دوران لوک سبھا میں ہنگامہ کیا اور حکومت کی طرف سے غیر جانبدارانہ جانچ کا یقین دلائے جانے کے باوجود پارلیمنٹ سے واک آؤٹ کرگئے”۔ میڈیا اور سیاست کے درمیان اس وقت جو رشتے قائم ہوئے ہیں  اور مزید اس کے دائرہ کو بڑھانے کی  جس انداز سے کوششیں ہورہی ہیں اس طرح کی کوریج پر ان کا اثر صاف نظر آرہا ہے۔ بہت ممکن ہے کہ اس طرح کی کوریج پر بہار کے وزیر اعلیٰ کی اس بات کا بھی اثر ہو جو انہوں نے مذکورہ معاملہ کے سلسلہ میں دہلی میں کئے گئے کینڈل مارچ کے تعلق سے کہی تھی۔ انہوں نے کہا تھا کہ”کینڈل جو ہورہا تھا اسے دیکھ کر تعجب ہورہا تھا کہ کون کون لوگ اس کینڈل میں تھے”۔ وہ آواز بلند کرنے والوں پر ‘ناٹک’ کرنے کا الزام بھی عائد کرتے ہیں۔ یہی سیاست  ہے جو ریاست کے وزیر اعلیٰ کی زبان سے یہ کہہ لا رہی ہے کہ "یہ غلطی دراصل پورے سسٹم کی غلطی ہے” گویا یہ جو ہوا اس میں ان کی، ان کی حکومت، ان کے کسی وزیر یا ان سے وابستہ کسی سیاست داں  کی غلطی نہیں ہے۔

جب سماجی دباؤ کی وجہ سے ان سے استعفیٰ لیا گیا تو بھی  اس انداز سے کہ منجو ورما کہہ رہی ہیں کہ انہوں نے اپنی مرضی سے استعفیٰ دیا ہے۔ اسی کے ساتھ انہوں نے یہ بھی کہہ دیا کہ”میں پہلے بھی کہہ چکی ہوں کہ میں بہار کا سیاسی چہرہ ہوں”۔ گویا’ بہار کا سیاسی چہرہ’ کچھ بھی کرے اور کسی بھی معاملہ میں ملوث پایا جائے، کسی بھی تادیبی کارروائی کے ذریعہ اسے رنجیدہ نہیں کیا جانا چاہئے۔ مظفرپور گرلس شیلٹر ہوم کی بے سہارا بچیوں کے جنسی استحصال کے معاملہ پر جاری سیاست کے درمیان ہی اترپردیش کے دیوریا میں ایک گرلس شیلٹر میں بچیوں کے ساتھ اسی طرح  کی مذموم حرکت سامنے آگئی۔ اس معاملہ کی بہت سی بچیاں اب تک غائب ہیں۔ ان  کے علاوہ بھی ہر روز خواتین اور بچیوں کے استحصال کے جو معاملات سامنے آرہے ہیں انہوں نے ملک کےسنجیدہ شہریوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے لیکن اقتدار کے نشے میں چور سیاست  ہوش میں آنے کو تیار نہیں ہے۔ سپریم کورٹ کی یہ بات کہ "ملک بھر میں یہ کیا ہورہا ہے۔ لیفٹ، رائٹ اور سینٹر سب جگہ ریپ ہورہا ہے”، اسی طرح بہار کے مذکورہ معاملہ میں اس کا یہ کہنا کہ "ایسا لگتا ہے کہ یہ سرگرمیاں ریاست کے زیر سایہ چل رہی ہیں، یہ غور وفکر کا موضوع ہے”۔

یقیناً یہ موضوع غور وفکر کا ہے خاص طور پر اس وقت جب سیاست اس پر قہقہے لگا رہی ہے۔ غالبا اس قہقہے کے پس پردہ جو حقیقت ہے وہ یہ کہ دور حاضر میں اقتدار کو اولیت حاصل ہوگئی ہے اور انتظامیہ سمیت تمام وہ اکائیاں جو قانون، جمہوریت، سیکولرزم اور انسانوں اور انسانی حقوق کے تحفظ کے لئے سرگرم تھیں انہیں رفتہ رفتہ مفلوج وبے اثر بنایا جارہا ہے۔ ملک کے عوام کے لئے  یہ ‘موضوع غور وفکر’ کا ہے۔

مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close