خصوصی

درویشی بھی عیاری ہے، سلطانی بھی عیاری

اب یہ عجیب وغریب صورتحال ہے کہ بیشتر مسلم جماعتوں کے دلارے سرکردہ مسلم رہنمائوں کے آنکھوں کے تارے، رفیق کے لقب سے سرفراز ،مسلمانوں کے اکلوتے مسیحا مانے جانے والے سماجوادی پارٹی کے سپریمو ملائم سنگھ سےنہ جانے کیوں اچانک ناراضگی یاروٹھنے کااظہارکیاجارہاہے۔ ساڑھے چار سال سے نیتاجی کے سیاسی فیوض وبرکات سے جھولیاں بھرنے والے قبلہ وکعبہ بدلنے کی دھمکیاں دینے لگے ہیں۔ اٹھتے بیٹھتے ان کا وظیفہ پڑھنے ،درازی عمر اور ترقیوں کے درجات عطا کرنے کی دعائیں دینے والوں کے منھ سے جھاگ نکل رہے ہیں ۔ اسی طرح اخبارات جو رات دن ملائم کی سچائی، فراخدلی ،مسلم نوازی اور اقلیتوں کی اشک شوئی کے قصیدے پڑھتے نہیں تھکتے تھے، صفحات کے صفحات سیاہ کر ڈالتے تھے۔ ان کی نظر کرم کےلئے ہمہ وقت سربسجود رہتے ۔ ان کے آئینہ دل سے بھی نیتاجی کی تصویر اتر گئی۔ اب ان کے تجزیوں میں مسلمانوں کے دشمن بی جے پی سے پینگیں بڑھانے اور درپردہ تعلقات کا الزام عائد کرنے میں کسی تکلف کوروانہیں رکھاگیا ہے۔ مظفرنگرفساد کے دوران چارٹرڈ طیارے سے بلائے گئے علمائے کرام کے اکھلیش سرکار کی حمایت میں جاری کئے گئے بیانات پرابھی گردبھی نہیں پڑی ہے وہ بھی روٹھے ہوئے ہیں۔ ریاستی حکومت کے ساڑھے چار سالہ دور میں کم وبیش ہر ماہ ملائم یا اکھلیش کے دربار میں حاضری دینے والوں کا مزاج برہم ہے۔ اور اگلے الیکشن میں سبق سکھانے کاعزم بالجزم کیاجارہا ہے حالانکہ اپنی ناکامیوں اورمسلمانوں کے تئیں وعدہ خلافی نے ویسے ہی اکھلیش سرکار کاانجام لکھ دیا ہے۔ کتنی پیوند کاری کرلیں،ریزرویشن کا جھانسہ دیں،تھانوں میں مسلم سپاہیوں کی تعیناتی کے احکامات جاری کریں، رائے دہندگان نے ایک ذہن بنالیاہےلیکن موجودہ ناراضگی کی جو وجہ سامنے آئی ہے۔ اس نے ہمارے ذہنی رویہ کی سطح اور اڑان کا پتہ ضرور دے دیا ہے۔

کہاجاتا ہے کہ حالیہ دنوں میں راجیہ سبھا اور ایم ایل سی کی سیٹوں کی تقسیم کے وقت مسلمانوں کو نظرانداز کردیا کم از کم ایک حق تو بنتا ہے۔اس تعلق سے اخبارات میں بیانوں کی باڑھ آگئی ہے اس سے لگتا ہے کہ اگر ایک سیٹ کسی مسلمان کو مل جاتی تو یہ غبار باہر نہ آتا۔ ممکن ہے کہ سارے مسائل حل ہوجاتے۔ ریزرویشن کا وعدہ پایہ تکمیل کو پہنچ جاتا ۔ جیلوں میں سڑرہے بے گناہ دہشت گردوں کی رہائی ہوجاتی۔ ان پر عائد مقدمات واپس لےلئے جاتے نیز اکھلیش سرکار سے عام مسلمانوں کی جوشکایتیں ہیں وہ ختم ہوجاتیں۔ گویا راجیہ سبھا یاایم ایل سی کی سیٹ زندگی وموت کا سوال ہے۔ یعنی ایک بات جو زمانہ قدیم سے اقتدار کی گردشوں میں افواہ بن کر گھوم رہی ہے کہ مسلم سیاست کانقطہ معراج قانون سازادارہ کی سیٹ ہے۔ اس پر سب کچھ دائو پر لگایاجاسکتا ہے۔ اس کی تصدیق کی جارہی ہے۔

ماضی میں اس کی متعدد مثالیں ہیں۔ تاریخ کی کڑوی سچائیاں برہنہ ہوکر سامنے آجائیں گی اس لئے پردہ پڑا رہنابہتر ہے۔ اب یہ سوال فطری طورپر پیدا ہوجاتا ہے کہ ملائم سنگھ نے اس سے قبل بھی کئی حضرات کو مسلم کوٹہ سے راجیہ سبھا بھیجاتھا کیا۔ انہوںنے کبھی نمائندگی کا حق اداکیا ۔ سماجوادی پارٹی کی پازیب کے گھنگرو بن چکے یہ نمائندے خواہ اسمبلی میں ہوں یا پارلیمنٹ میں کبھی اپنی حکومت کے ان اقدامات وفیصلوں کے خلاف لب کشا ہوئے جنہوں نے مسلمانوں کی زندگی عذاب کردی۔ ہاشم پورہ کے متاثرین کے ساتھ ناانصافی، مظفرنگر کے خاناں برباد اقلیتی فرقہ کےساتھ زیادتیوں پر صدائے احتجاج بلند کی۔ کیا ان کا نرم ونازک دل ان شہدا کی بیوائوں اور گندی گلیوں میں کھیلتے ان کے یتیم بچوں کےلئے دھڑکا جو آج بھی پناہ گزیں کیمپوں میں زندگی کی سانسیں پوری کررہے ہیں۔ یوپی اسمبلی میں سماجوادی پارٹی کے ٹکٹ سے درجنوں ممبران ہیں،متعدد وزیر ہیں اور درجہ حاصل وزیروں کی فوج،مگران کے پاس کلیجہ نہیں ہے ،کبھی ان کی آواز سنی گئی،نقار خانے میں طوطی بھی خاموش ہے۔ کیاہم ان کے نام بھی جانتے ہیں ۔ ان کی غیرت وحمیت اگر ہے تو کبھی انگڑائی نہیں لیتی۔ اسے مصلحتوں اور وفاداریوں کی نشہ آور خوراک دے کر سلادیا ہے۔ اس بھیڑ میں ایک عدد اور اضافہ ہوجاتا تو کیا مقدر بدل جاتا، تقدیر سنور جاتی۔ درد قرار پاجاتا۔ گزشتہ ساڑھےچار سال سے دی جانے والی دھیمی رفتارکی اذیتیں کم ہوجاتیں۔ ضیا الحق سے لے کر محمد اخلاق تک بہیمانہ قتل کی رونگٹے کھڑے کردینے والی یادیں محوہوجاتیں ۔ کبھی کسی نے یہ سوال اٹھایا کہ غازی آباد میں ہندئووں کو دی جانے والی اسلحہ ٹریننگ پر کیا قانونی کارروائی کی گئی۔ اس وقت زبانوں کولقوہ مار گیاتھا؟ اور اب اجودھیا میں مسلمانوں سے تحفظ کےلئے اسلحہ کی ٹریننگ کی تصاویر وتفصیلات سامنے آئی ہیں کسی وزیر باتدبر یامعزز رکن راجیہ سبھا جو مسلم کو ٹہ سے ہیں اس بابت اپنی سرکارسے مطالبہ کرنے کی جرأت دکھائیں گے۔ ان کالموں میں بار ہا اس وقت جب ہرطرف سناٹا تھا اکھلیش سرکار کے طرزعمل کے خلاف بولنا بھی مسلم مخالف عمل سمجھا جاتاتھا بوقت ضرورت گرفت کی گئی ۔ سوال اٹھائے گئے ناراضگیاں مول لیں اس کا خمیازہ بھی بھگتناپڑالیکن موقف میں لچک نہیںآئی۔ اس وقت سرکار کے حامیوں کی پیشانیوں پر سلوٹیں آجاتی تھیں ۔کم درجہ کی برائی کو قبول کرنے اور حمایت کی تلقین کی جاتی تھی۔ اب اچانک کیاکچھ بدل گیا اس لئے کہ سرکار چل چلائو ہے۔ اچانک یہ منکشف ہواکہ یہ سرکار تو مسلم مخالف ہے کسی اور پارٹی کی ڈال پر امیدوں کا گھونسلہ بنانا ہے۔ یہ کونسا انصاف ہے کہ اپنی سہولت اور ضرورت پر ملائم سنگھ کی دھوتی کے نیچے آر ایس ایس کا خاکی نیکر پہنادیا جائے اورجب گل بہیاں ہوں تو وہی نیکر سیکولرزم کا بنا دیا جائے، حمایت ومعیار راجیہ سبھا یا ایم ایل سی کی ایک سیٹ ہوجائے تو اس پر کچھ نہیں کہنا ہے۔ سوچ کے اس دائرے  کورائے قائم کرنے کے اس معیار کو حمایت و مخالفت کے اس میزان کو ناراضگی اور خوشی کے اس ترازو کو دنیا کے کس خطہ میں سندتصدیق نہیں مل سکتی ۔ اقلیتوں اور جماعتوںکارویہ ایک سیٹ کے ملنے یانہ ملنے پر طے کیاجانے لگے تو ہم سمجھ سکتے ہیں کہ سیاسی پارٹیوں کی نظر میں کتنی توقیر ہوگی۔ معاہداتی سیاست کا دم بھرنے،اقتدار میں حصہ داری کامطالبہ کرنے اور تناسب نمائندگی مانگنے کےلئے دونوں پلڑوںکاباوزن ہوناضروری ہے۔

جبہ و دستاراورپگڑیوں کوسلام کرنے کی سعادت کے حصول میں ہمہ وقت سرگرم ،وقتی فوائد کی بیڑیوں میں قید ذہنی افلاس کے مارے کرگسوں میں پلے فریب خوردہ شاہین فرصت ملنے پر نہاں خانہ دل میں جھانک کر سیاسی دنیا میں بے توقیری  وبے وزنی کی وجوہات تلاش کریں تو آسانی سے اپناپتہ دے دیں گی۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

قاسم سید

معروف صحافی اور روز نامہ خبریں کے چیف ایڈیٹر

متعلقہ

Close