خصوصی

دسویں محرم الحرام کی رسومات کا شرعی حکم

مقبول احمد سلفی

یکم محرم الحرام کی ابتداء ہی سے بدعات وخرافات کی رسمیں شروع ہوجاتی ہیں ۔ کچھ رسمیں کھانے پکانے سے متعلق ہیں تو کچھ رسمیں ماتم وعزاسے متعلق ۔ اور کچھ رسمیں شرک وبدعات سے متعلق۔

جیساکہ ہمیں معلوم ہے یہ مہینہ اشہرحرم میں سے ہے ۔اس لئے جہاں ایک طرف اس  مہینے کی حرمت کو بچانا ہے وہیں اس مہینے کے افضل اعمال میں سے روزہ رکھنا ہے اس وجہ سے جس قدر ہوسکے روزہ رکھنا ہے ۔ کم از کم عاشوراء کا روزہ ۔ مگر افسوس صد افسوس  بدعتی لوگوں نے شیعہ کی تقلید میں اس مہینے کو ایک طرف غم کا مہینہ قرار دے کر بدعات وخرافات کا ارتکاب کیا تو دوسری طرف سبیل حسین اور نذرنیاز کے نام پہ نوع بنوع کھانے کا اہتمام کیا۔ کجا حرمت محرم ،کجا صوم عاشوراء ؟  ایسے حالات میں ہمیں ان رسم ورواج کا جائزہ لینا ہے تاکہ اپنا ایمان وعمل سلامت رکھ سکیں۔

(1)مجالس عزا ومرثیہ : ایک سے دسویں محرم تک مجالس عزاداری قائم ہوتی ہیں جن میں ماتم کیا جاتا ہے خصوصا کربلاسے متعلق جھوٹی اور فرضی کہانیاں بیان کی جاتی ہیں ۔ اس پس منظر میں امیرمعاویہ رضی اللہ عنہ پر درپردہ حملے کئے جاتے ہیں ۔جیسے شیعہ کھلم کھلا صحابہ کرام کو گالیاں دیتے ہیں اسی طرح یہ چاہتے ہیں کہ ہماری طرح مسلمان بھی صحابی کو گالی دے کر اپنا ایمان ضائع کریں۔ بغیر ثبوت کے یزید کو سب وشتم کیا جاتاہے ۔یاد رہے ہم مسلمانوں کو اسلام نے ماتم سے منع کیا ہے جو ماتم کرے یا ماتم کی مجلس قائم کرے وہ مسلمانوں میں سے نہیں ہے ۔

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا:

ليس مِنَّا من ضربَ الخدودَ ، وشَقَّ الجيوبَ ، ودعا بدَعْوَى الجاهليَّةِ .(صحيح البخاري:1297)

ترجمہ: جس نے منہ پیٹا ،گریبان چاک کیا اور دور جاہیلت کی پکار لگائی وہ ہم میں سے نہیں ہے۔

اسی طرح شہادت حسین اور ماتم کے پس منظر میں جس طرح صحابی رسو ل امیرمعاویہ رضی اللہ عنہ پر طعن کا جو دروازہ کھولاجاتا ہے ایسے لوگ  نبی ﷺ کا یہ فرمان سن لیں ۔

عن أبي سعيد الخدري رضي الله عنه قال : قال النبي صلى الله عليه و سلم :لا تسبوا أصحابي فلو أن أحدكم أنفق مثل أحد ذهبا ما بلغ مد أحدهم ولا نصيفه۔(صحيح البخاري:3673،صحيح مسلم:2541)

ترجمہ : حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میرے صحابہ کو برا بھلا نہ کہو ، کیونکہ اگر تم میں کا کوئی شخص احد پہاڑ کے برابر بھی سونا خرچ کرے تو ان کے ایک مد یا آدھے مد کے برابر بھی نہیں ہوسکتا ۔

یہاں تک کہ بغیر کسی قطعی ثبوت کے  یزید کو گالی دینا بھی فسق وفجور ہے ۔ یزید ایک طرف صحابی رسول کا بیٹا ہے تو دوسری طرف ان کے لئے جنت کی بشارت ہے ۔ حدیث رسول ﷺ کی  حدیث کی روشنی میں بھی اگر دیکھا جائے تو  پتہ چلتا ہے کہ یزید نواسہ رسول کو قتل کرہی نہیں سکتا کیونکہ نبی ﷺ ایسے شخص کو مغفور کہہ ہی نہیں سکتے جو قاتل ہو۔ اس پر میرا ایمان کامل  ویقین  واثق ہے ۔

ہمیں تو ایک  عام مسلمان کی توہین سے بھی بچنا ہے ۔ نبی ﷺ کا حکم ہے ۔

كَسرُ عَظمِ الميِّتِ كَكَسرِهِ حيًّا(صحيح أبي داود: 3207(

ترجمہ : میت کی ہڈی توڑنا ایسے ہی ہے جیسے زندہ آدمی کی ہڈی توڑنا۔

یہاں ہڈی توڑنے سے مراد میت کی توہین کرناہے جیساکہ طیبی نے کہا ہے ۔

یہ الگ مسئلہ ہے کہ کسی کی وفات پہ تین دن سوگ مناسکتے ہیں ۔ سوگ منانا تین دن جائز ہے مگر ماتم کرنا یعنی رونا، پیٹنا، گریبان چاک کرنا ، نوحہ کرنا کبھی بھی جائز نہیں ہے ۔

(2) ماتمی ہیئت وکیفیت: سیاہ لباس پہنا، غسل چھوڑدینا، زیورات اتاردینا،چولہے اوندھے کردینا،نوبیاہی عورتوں کا میکہ میں قیام کرنا وغیرہ سارے  ماتمی اعمال ہیں ۔ اور میں نے اوپر بیان کیا ہے کہ سوگ صرف تین دن جائز ، پھرکبھی اس میت كا دوسرے یا تیسرے سال سوگ نہیں منانا ہے۔اور ماتم کسی بھی قسم کی جائز نہیں ہے ۔ اور پھر سالہا سال ماتم منانا اسے سنت کا قائم مقام بناناہے ۔ ایسے لوگوں کو نبی ﷺکا یہ فرمان سناتاہوں ۔

من سنَّ في الإسلامِ سُنَّةً حسنةً ، فعُمِل بها بعده ، كُتِبَ له مثلُ أجرِ مَن عمل بها . ولا ينقصُ من أجورِهم شيءٌ . ومن سنَّ في الإسلامِ سُنَّةً سيئةً ، فعُمِل بها بعدَه ، كُتب عليه مثلُ وِزرِ من عمل بها ، ولا ينقصُ من أوزارِهم شيءٌ(صحيح مسلم:1017(

ترجمہ : جس کسی نے اسلام میں کوئی اچھا طریقہ جاری کیا اور اس پر بعد میں عمل ہونے لگا تو اس کے لئے بھی اس پر عمل کرنے والے کے برابر اجر لکھا جائے گااور کسی کے اجروثواب میں کوئی  کمی نہیں کی جائے گی ۔ اور جس کسی نے اسلام میں برا طریقہ جاری کیا اور بعد میں اس پر عمل کیا جانے لگا تواس کے لئے اس پر عمل کرنے والے کے برابر گناہ لکھا جائے گا اس میں کوئی کمی نہیں کی جائے گی ۔

آپ کو معلوم ہونا چاہئے کہ ماتم کی ساری رسمیں شیعہ کی ایجاد ہیں ۔ 352 ہجری میں غالی شیعہ  ابن بویہ نے دوکانیں بند کرنے ، ماتمی لباس لگانے ، چہرہ نوچنے، گریبان چاک کرنے ، عورتوں کو سیاہ لباس لگانے ، ماتم کرتے سڑکوں اور بازاروں میں مرثیہ پڑھتی چھاتیاں پیٹتے نکلنے کا حکم دیا۔  شیعہ نے یہ حکم سنیوں پر بھی بالجبر نافذ کیا جو آج تک چلتا آرہاہے  یہاں تک کہ ہندوستان میں بھی شیعہ حکمرانوں کے دور میں رواج پاگیا۔

(3) قبروقبرستان کی رونق  : محرم کی ابتداء ہی سے قبروں کی صفائی ، لپائی پتائی اور قبرستان کو بارونق بنانے کا عمل شروع ہوجاتا ہے یہاں تک کہ دس محرم کو قبریں منور اور قبرستان بارونق ہوجاتا ہے ۔ پھر مردوعورت ، جوان بوڑھے ، چھوٹے بڑے تمام ہجوم کے ساتھ قبروستان پہنچتے ہیں جہاں میلہ لگاہوتا ہے ۔ پھول ، مالا، اگربتی ، موم بتی  کاروبار ایک طرف اور عورت ومرد کا اختلاط دوسری طرف ۔ پھر قبروں پہ نذرونیاز، پھول مالے اور اگربتی وموم بتی کی رسمیں انجام دینا ،قل وفاتحہ سے مردوں کو ثواب بخشنا، اور ان سے استغاثہ کرنا ۔

قبروں کی زیارت مسنون عمل ہے مگر قبروں کو میلہ ٹھیلہ کی جگہ بنانا، اس کو سجدہ کرنا، اس سے مراد مانگنا، اس کے لئے نذرونیازکرنا، وہاں نماز پڑھنا یہ سب شرکیہ وبدعیہ  اعمال ہیں ۔ ان چیزوں سے نبی ﷺ نے منع فرمایاہے :

اللهم لا تَجْعَلْ قبري وثنًا يُعْبَدُ، اشتد غضبُ اللهِ على قومٍ اتخذوا قبورَ أنبيائِهم مساجدَ(تخريج مشكاة المصابيح للالبانی : 715، اسنادہ صحیح)

ترجمہ: یا اللہ!میری قبر کو بت نہ بنانا جسے لوگ پوجنا شروع کر دیں۔ ان لوگوں پر اللہ کا سخت غضب اور قہر نازل ہوا جنہوں نے انبیاء کی قبروں کو سجدہ گاہیں بنالیا۔

عورتوں کا وہاں اختلاط حرام ہے، قل وفاتحہ ، اگربتی وموم بتی کی رسم بدعت ہے  اورقبروں کو لیپنا پوتنا،قبرستان کو بارونق بنانا اس بات کی علامت ہے کہ ایسا آدمی قبر کا پجاری اور آخرت سے مغفل ہے ورنہ جس سے عبرت لینی ہے اسے چمکانا نہیں ہے وہاں آنسو بہانا ہے اور آخرت کی یاد تازہ کرنی ہے۔

 (4)  امام حسین کے نام کی نذرونیاز اورسبیل : یہ مہینہ مکمل  نذرونیاز کا ہی ہے ۔شروع دن سے خواتین گھروں میں نذرونیاز کا خوب اہتمام کرتی ہیں ۔کھچڑا، حلیم،بریانی ، مٹرپلاؤ،زردہ اور فرنی وغیرہ پکائے جاتے ہیں ۔اسے لوگوں میں بھی تقسیم کیا جاتا ہے اور قبروں ودرگاہوں پر بطور نذر پیش کیا جاتا ہے خصوصاعلی ہجویری المعروف داتا گنج بخش،حضرت میاں میر،حضرت پیر مکی،حضرت مادھو لال حسین،حضرت خواجہ طاہر بندگی،حضرت عنایت حسین قادری،حضرت موج دریا اور دیگر درگاہوں پر۔ امام حسین کی نذرونیاز بھی بطور خاص پیش کی جاتی ہے ۔

غیراللہ کے نام کے چڑھاوے ، نذر، قربانی، ذبیحہ سب شرک کے قبیل سے ہیں ۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے :

إِنَّمَا حَرَّ‌مَ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةَ وَالدَّمَ وَلَحْمَ الْخِنزِيرِ‌ وَمَا أُهِلَّ بِهِ لِغَيْرِ‌ اللَّهِ (البقرة: 173)

ترجمہ : تم پر مردہ اور (بہاہوا) خون اور سور کا گوشت اور ہروہ چیز جس پراللہ کے سوا دوسروں کا نام پکاراگیاہوحرام ہے ۔

اسی طرح امام حسین رضی اللہ عنہ کے نام کی سبیلیں لگائی جاتی ہے ۔ دلیل میں کبھی کہتے ہیں کہ ان پر پانی بند کیا گیاتھا تو کبھی کہتے ہیں :” جس شخص نے عاشوراء کے روز اپنے اہل و عیال (کے رزق کے معاملہ) پر فراخی وکشادگی کی، اللہ تعالیٰ سال بھر اس پر کشادگی فرماتے رہیں گے۔”

 اولا پانی بند کرنے والی بات ہی غلط ہے ۔ اگرمان بھی لیا جائے تو دس محرم جو کہ عاشوراء کا دن ہے آج پانی کی سبیل نہیں لگنی چاہئے ۔ آل بیت اور محمد ﷺ سے محبت کرنے والو ں کو عاشوراء کا روزہ رکھنا چاہئے ۔ صحابہ سمیت نبی ﷺ کو شعب ابی طالب میں تین سال تک محصور کرکے دانا پانی بند کیا گیا کیا ہم صحابہ اور نبی ﷺ کی یاد میں اپنے اوپر تین سال تک دانہ پانی بند کرتے ہیں ؟۔ پیٹ کے پجاری کبھی ایسا نہیں کرسکتے انہیں بہانہ بنابناکر اچھا اچھا کھانے کی لت پڑی ہے ۔ اس کام کے لئے جو حدیث پیش کی جاتی ہے موضوع ومن گھڑت ہے ۔ اس لئے اس کام سے ہمیں کلیۃ باز رہنا ہے ۔

(5) دوپر والے گھوڑوں کا جلوس: یہ گھوڑا جس کا نام ذوالجناحین ہوتا ہے شکلا ہندؤں کی مورتی سے ملتا ہے ۔ اسے جلوس کی شکل میں سڑکوں پر نکالاجاتا ہے اور اس میں شرکت باعث ثواب سمجھاجاتاہے ۔ یہ منظر دیکھ کر ہندوقوم اور مسلم قوم کا فرق مٹ سا جاتاہے ۔اسلام میں مورتی کا تصور ہی نہیں ہے ، اس پر مستزاد اس کے جلوس میں شرکت باعث اجر سمجھنا یہ اللہ کی عبادت میں شامل کرنا ہے۔ اسی طرح سے غیراللہ کی عبادت کا دروازہ کھلتا ہے ۔ بے جان شئ کسی نفع ونقصان کا مالک نہیں مگر اسے اس قدر درجہ دینا اپنی دیگر عبادتوں کو ضائع کرنا ہے ۔ الحفظ والامان

(6) رسم تعزیہ : تعزیہ کی وہی ایجاد ہے جو اوپر ماتم کی ایجاد میں دو نمبر شق کے تحت مذکور ہے ۔ یعنی یہ شیعہ کی ایجاد ہے ۔ پھرواقعہ کربلا کو کافی رنگ وروغن دے کر بیان کیاگیا تاکہ اس کی ایک عجیب وغریب تاریخ شہادت بن سکے ۔ اس کے لئے مبالغہ آمیز جھوٹے قصے کہانیاں وضع کئے گئے ۔ آپ کو معلوم ہونا چاہئے کربلا سے متعلق یہ سب عجیب وغریب قصے، جھوٹے افسانے، بناوٹی کہانیاں شیعہ حضرات کے توسط سے پھیلائے گئے ہیں جن میں ابومخنف لوط بن یحی،محمد بن سائب کلبی اور ہشام بن سائب کلبی وغیرہ  شامل ہیں۔

تعزیہ جو کہ امام حسین کی قبر کی نقل ہے جسے کاغذوں ، بانس اور کمچیوں سے تیار کیا گیاہوتا ہے ۔ یہ ماتم  کی حد وانتہاہے ۔ اس میں انسانی جسم کو نقصان پہنچنے کے ساتھ ایسے اعمال وعقائد پائے جاتے ہیں جن سے ایمان دل سے نکل جاتا ہے ۔

٭ تعزیہ میں موجودقبر امام کو زندہ تصور کیا جاتا ہے اور انہیں عالم الغیب سمجھاجاتاہے ، ان کی تعظیم بجالائی جاتی ہے یہاں تک کہ انہیں مدد کے لئے بھی پکارا جاتا ہے ۔

٭ جب تعزیہ اٹھایا جاتا ہے تو چھوٹے بچے اس کے نیچے سے گذارے جاتے ہیں اس عقیدے سے کہ امام صاحب کی پناہ میں آجائیں گے۔

٭ جس طرح مزار پہ قبرپرست سجدہ کرتاہے ،قیام کرتاہے ، نذرمانتاہے، استغاثہ کرتاہےہوبہو وہی عقیدہ اور وہی عمل یہاں بھی انجام دیا جاتا ہے ۔

٭  تعزیہ کے جلوس میں شرکیہ مرثیہ ڈھول وطبلے کی آواز پر گائے جاتے ہیں ۔ اور اسلام کے نام پر شرمناک کرتب وکھیل کا مظاہرہ ہوتاہے ۔ بدن کو آگ وتلوار سے نقصان پہنچایاجاتاہے ۔

٭ اس جلوس میں مسلمان عورتوں کا ہجوم مردوں کے شانہ بشانہ ہوتا ہے بلکہ حد تو یہ ہے کہ نوجوان لڑکیاں نیم برہنہ ، بال کھولے دھمال ڈال رہی ہوتی ہیں ۔

٭ بڑے چھوٹے سب مل کر ایک ساتھ ناچتے گاتے اور حیاسوز حرکتیں کرتے ہیں ۔

ان کے علاوہ نہ جانے کیا کیا کام انجام دئے جاتے ہیں ؟ ، بھلا ان کاموں کا کربلا سے، شہادت سے اور امام حسین  رضی اللہ عنہ سے کیا واسطہ ؟

ان کاموں کا واقعہ کربلا سے تو کیا اسلام سے کوئی واسطہ نہیں بلکہ اکثر شرک میں داخل ہیں اور شرک کا ٹھکانہ جہنم ہے ۔

اللہ کا فرمان ہے :

إِنَّ اللَّهَ لَا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَٰلِكَ لِمَنْ يَشَاءُ ۚ وَمَنْ يُشْرِكْ بِاللَّهِ فَقَدْ ضَلَّ ضَلَالًا بَعِيدًا(النساء : 116)

ترجمہ : بے شک اللہ یہ گناہ ہرگز نہیں بخشتا کہ اس کے ساتھ شرک کیا جائے اور وہ اس کے سوا جسے چاہے معاف کر دیتا ہے۔ اور جو شخص اللہ کے ساتھ شرک کرتا ہے، تو وہ یقینا بہت دور کی گمراہی میں جا پڑا ہے۔

یہ حقیقت ہے کہ شہادت حسین رضی اللہ عنہ تاریخ اسلامی کا ایک دلخراش واقعہ ہے اس سے کسی کو انکار نہیں مگر لوگوں نے اس واقعہ کی وجہ سے اسلامی تاریخ کی ساری شہادتوں کے واقعات بھلادئے ۔ خلفاء اربعہ میں سے تین کی شہادت ہوئی کسی کا ماتم، تعزیہ اور غم نہیں منایا جاتا، نہ ہی تذکرہ کیا جاتا ہے صرف واقعہ کربلا کی کیوں اس قدر تشہیر کی جاتی ہے ؟  جب اس کی حقیقت جانیں گے تو پتہ چلے یہ سب شیعہ کی کارستانی ہے وہ کربلا کی آڑ میں اسلام کا چہرہ مسخ کررہا ہے ، اس بہانے مسلمانوں میں شرک وبدعات پھیلاتاجارہاہے ، صحابی کی شان میں گستاخی کی جاتی ہے ، ایک مسلمان کو دوسرے کے خلاف ورغلایاجاتا ہے تاکہ مسلمان کی طاقت کبھی مجتمع نہ ہوسکے ۔ ان چیزوں کے بارے میں ہمیں سوچنے سمجھنے کا موقع ہی کب ملا ؟

اللہ کے واسطے حرمت مہینے کا احترام کریں اور اس میں زیادہ سے زیادہ روزہ رکھنے کی کوشش کریں  ۔ اللہ تعالی ہمیں صحیح بات سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق بخشے ۔ آمین

ا

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

مقبول احمد سلفی

مرکزالدعوۃ والارشاد، طائف، سعودی عرب

متعلقہ

Close