خصوصیہندوستان

دوریاں نزدیکیاں بن گئیں، عجب اتفاق ہے

فلموں کے اندر اتفاقات بڑی آسانی سے رونما ہوجاتے ہیں لیکن سیاست میں تو سب کچھ بہت سوچ سمجھ کر کیا جاتا ہے۔

ڈاکٹر سلیم خان

اورنگ آباد میں منعقد ہونے والے عظیم الشان تبلیغی جماعت کے  اجتماع کے وقت حاجی عرفات نے شیوسینا کی جانب سے باندرہ میں بہت نمایاں  بورڈ لگوایا جس پر تحریرتھا  ’’اجتماع میں جانے والے سبھی بھائیوں سے دعا کی درخواست ہے‘‘۔  شیوسینا کی جانب ان خیر سگالی کے اظہار کا سہرا  حاجی عرفات کے سربندھا۔ وہ  گاڑیوں کی آمدورفت کو ’ٹول فری‘ کروانا چاہتے تھے  جوخاصہ مشکل کام تھا۔ اس کے لیے انہیں   شیوسینا کے سینئر رہنما ایکناتھ شندے کے ساتھ وزیر اعلیٰ دیویندر فڈنویس سے ملنا پڑا۔ ایکناتھ شندے نے نہ صرف مہاراشٹر بلکہ ملک بھر سے آنے والی گاڑیوں کا ٹول  معاف  کردیا۔ بی جے پی  کے وزیر تعلیم ونود تاؤڑے نے اجتماع کے آخری دن  اردو میڈیم کی سرکاری اسکولوں کو چھٹی بھی  دے دی ہیں تاکہ والدین اپنے بچوں کے ساتھ ’دعا‘ میں شریک ہوسکیں۔اس طرح  حاجی عرفات اور بی جے پی کے درمیان تعلقات ایسے استوار ہوئے  کہ  وہ  خود اس میں شامل ہوگئے۔ ایسے میں  ۱۹۶۸؁ کی فلم دنیا کے لیے حسرت جئے پوری کا لکھا ایک نغمہ یاد آتا ہے ؎

ایک ڈگر پہ ملے ہیں، ہم تم دو ہمسائے      

ایسا لگا تم سے مل کر دن بچپن کے آئے

وادیاں امید کی سج گئیں عجب اتفاق ہے    

دوریاں نزدیکیاں بن گئیں عجب اتفاق ہے

مہاراشٹر کی بی جے پی حکومت نے چار سال مکمل کرلیے اور آئندہ ماہ سے اختتامی پانچویں سال میں داخل ہوجائے گی۔  موجودہ حکومت میں ونود تاوڑے تعلیم، مراٹھی زبان، کھیل کود،   نوجوانوں کی فلاح و بہبود اور اقلیتی ترقی کے وزیر ہیں  اس لیے انہیں مسلمانوں کے مختلف ثقافتی تقریبات میں بلایا جاتا ہے۔ وہ جب بھی مسلمانوں سے ان کے مسائل پوچھتے  تھے تو مسلمان تین سوال دوہراتے دیتے تھے۔ اقلیتی کمیشن  کا ذمہ دار کب آئے گا؟مولانا آزاد اقلیتی اقتصادی ترقی کارپوریشن کب تک لاوارث رہے گا؟ اور اردو اکادمی کی تقدیر کب کھلے گی ؟ ان کا ہر بار یہی جواب ہوتا  تھاکہ ناموں کو توثیق کے لیے بھیجا جاچکا ہے بہت جلد اعلان ہوجائے گا۔ اس طرح چار سال گذر گئے لیکن خدا خدا کرکے اول الذکر دو تقررات کا اعلان  ہوگیا۔  بی جے پی سرکار کے لیے یہ  آخری موقع تھا اس لیے کہ  وہ ابھی نہیں تو کبھی نہیں کے مرحلہ  میں داخل ہوگئی ہے۔

 اقلیتی کمیشن کے نائب چیرمین کے طور پر حاجی عرفات کے تقرر پر مسلمانوں کو بالکل تعجب  نہیں ہوا۔ انہوں نے سوچا شیوسینا گزشتہ کئی ماہ سے مسلمانوں کا دل جیتنے کی کوشش کررہی ہے اس لیے اس نے اصرار کرکے یہ عہدہ اپنے تیز طرار رہنما حاجی عرفات کے لیے حاصل کیا ہوگا تاکہ انتخابی سال میں مسلمانوں کو قریب کیا جاسکے لیکن  شیوسینا کے سربراہ  ادھو ٹھاکرے کے لیے یہ حیرت کا جھٹکا تھا۔  عہدوں کی تقسیم میں اقلیتی کمیشن کی چیرمین شپ  بی جے پی کے  حصے میں  تھی اورزی مراٹھی کے مطابق اس نے ناگپور کے جگناتھ ابھینکر کا نام آگے بڑھایا تھا۔ شیوسینا کو اس پر بھلا کیا اعتراض ہوسکتا تھا لیکن جب اعلان ہوا تو حاجی عرفات کا نام سامنے آگیا۔بی جے پی ایسا ہرگز نہیں کرسکتی کہ اپنا حصہ کسی حریف نما حلیف  کے حوالے کر دے۔ اس لیے ادھو ٹھاکرے کو اندازہ ہوگیاہوگا کہ اب کیا ہونے والا ہے؟ جگناتھ ابھینکر کا نام تو شیوسینا کی مخالفت کو روکنے کے لیے استعمال کی جانے والی آڑ تھا۔ اس طرح گویا بی جے پی نے شیوسینا  کی پیٹھ میں  خنجر گھونپ کر حاجی  عرفات کو پہلے عہدے سے نوازہ اور پھر اپنی پارٹی میں شامل کرلیا۔

بی جے پی نے ایسا اقدام دوسری بار کیا ہے۔ ۲۰۱۴؁ میں شیوسینا کے سریش پربھو کو  مودی جی وزیر ریلوے بنانا چاہتے تھے۔ شیوسینا نے اس کی اجازت نہیں دی تو بی جے پی ان کو اپنی پارٹی میں شامل کرکے وزیر ریلوے کا عہدہ دیا اور سینا دیکھتی رہ گئی۔ اس وقت بی جے پی کا حوصلہ  بہت بلند تھا۔ وہ اپنے بل پر مہاراشٹر میں شیوسینا کو شکست دے چکی تھی۔ اس بار بی جے پی اس جرأت کا مظاہرہ نہیں کرسکی۔  حاجی عرفات شیوسینا میں واہتک سنگھٹن (  مال بردار گاڑیوں کی تنظیم  ) کے صدر اور نائب رہنماوں میں سے ایک تھے ۔ اتفاق سے صوبے میں وزارت برائے نقل وحمل شیوسینا کے دیواکر راوتے کے پاس ہے  اس لیے حاجی عرفات کے لیے اپنی تنظیم میں لوگوں  کےمسائل حل کرنے کا نادر موقع تھا لیکن ان دونوں کے تعلقات کشیدہ  رہے اور ادھو ٹھاکرے کا جھکاو بہر حال راوتے کی جانب تھا اس لیے ناراضگی رہی ہوگی۔

فلموں کے اندر اتفاقات بڑی آسانی سے رونما ہوجاتے ہیں لیکن سیاست میں تو سب کچھ بہت سوچ سمجھ کر کیا جاتا ہے۔ انتخابی سیاست میں ابن الوقتی کو فن ا ور موقع پرستی کو خوبی سمجھا جاتا ہے۔ ایک خیال یہ بھی ہے کہ مسلمانوں کو ایسی جماعتوں میں بھی جانا چاہیے جونظریاتی سطح پر اسلام اور عملاً مسلمانوں کے خلاف ہیں تاکہ ان پر اثر انداز ہوا جاسکے اور ان کے ذریعہ ملک و ملت  کی خدمت کا کام کیا جاسکے۔ حاجی عرفات اس کی بہت بڑی مثال ہیں۔ وہ نونرمان سے ہوتے ہوئے شیوسینا میں پہنچے اور اب وہاں سے بی جے پی میں آگئے ہیں۔ یہ حضرات دوسروں پر کس قدر اثر انداز ہوتے ہیں ؟  اور خود کتنےاثرات قبول کرتے ہیں ؟ یہ کسی  تحقیق  کا موضوع نہیں ہے۔ ایک زمانے تک شیوسینا میں صابر شیخ ہوا کرتے تھے۔ بی جے پی سرکار میں  بھی مختار عباس نقوی اور ایم جے اکبر جیسے وزراء موجود ہیں لیکن ان لوگوں نے  امت مسلمہ کو کتنا فائدہ پہنچایا اور ان کی وجہ سے پارٹی کو کتنا فائدہ  ہوا  یہ اظہر من الشمس ہے۔

ویسے انتخابی سیاست کے تالاب میں تیرنے والی مچھلیوں سے بہت زیادہ توقعات وابستہ کرنا خودفریبی  ہے لیکن ڈنکے کی چوٹ پر مسلمانوں کے ووٹ سے بے نیازی کا اظہار کرنے والی بی جے پی کے ذریعہ انتخابی سال میں اپنی حلیف شیوسینا کے اندر سے حاجی  عرفات کو توڑ  اپنی پارٹی میں درآمد کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ مسلمانوں کو پوری طرح حاشیے پر ڈھکیل دینے کا دعویٰ درست نہیں ہے۔ ان کا ووٹ آج بھی اہمیت کا حامل ہے اور  اپنے مفاد کی خاطر سہی سبھی  سیاسی جماعتیں اس  پر دام ڈال رہی ہیں۔     کل تک کانگریس پر مسلمانوں کی خوشنودی کا الزام لگانے والی بی جے پی بھی   خود وہی حربے استعمال کررہی ہے۔ ایک زمانے تک  حاجی عرفات بی جے پی کے ناقد تھے لیکن اب زمانہ بدل گیا ہےبقول حسر ت جے پوری ؎

پہلے کبھی اجنبی تھے، اب تو میری زندگی ہو     

سپنوں میں دیکھا تھا جس کو ساتھی پرانے تم ہی ہو

بستیاں ارمان کی سج گئیں، عجب اتفاق ہے

دوریاں نزدیکیاں بن گئیں عجب اتفاق ہے

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

ایک تبصرہ

  1. نام اور چہرے بدل کر آج بھی موجود ہیں
    قوم میں کچھ میر جعفر آج بھی موجود ہیں
    شعور آشنا صاحب کا یہ شعر بالکل درست ہے ۔یہ لوگ قوم کے لیے نہیں اپنے مفاد کے لیے ہر کام کرتے ہیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close