آس پاسخصوصی

دھاندلی کا واویلا: ذمہ دار کون؟

میری خواہش ہے کہ میں انڈیا پاکستان دوستی، انڈیا اور پاکستان کے لوگوں کے درمیان نفرت کو کم کرنے اور لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب لانے کے بارے میں مضامین لکھوں۔

حسنین اشرف راجپوت

پاکستان کی انتخابی تاریخ پر نظر دوڑائیں تو 1970ء کے انتخابات کے علاوہ ہر الیکشن میں جیتنے والی جماعت کے علاوہ سب جماعتیں دھاندلی کا رونا روتی ہیں سوائے چند شخصیات اور اِکا دُکا جماعتوں کے۔ 1970ء کے عام انتخابات کے بعد جب مغربی پاکستان میں ذوالفقار علی بھٹو کی پاکستان پیپلز پارٹی اور مشرقی پاکستان (بنگلہ دیش) میں شیخ مجیب الرحمن کی عوامی لیگ نے بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کی تو اقتدار کی رسہ کشی کے نتیجے میں اور ناعاقبت اندیش حکمرانوں (فوجی/سویلین) کی ذاتی انا اور غلط فیصلوں کے نتیجے میں مشرقی پاکستان ہم سے الگ ہو گیا۔ ہمارے اندرونی جھگڑوں کا بھارت نے بھرپور فائدہ اٹھایا اور عالمی طاقتوں اور ہمارے انتہائی قریبی دوست امریکہ کی مہربانیوں کی وجہ سے ہم اپنے مشرقی بازو سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

1977ء میں عام انتخابات کے بعد مغربی پاکستان میں اپوزیشن جماعتوں کی طرف سے پاکستان قومی اتحاد کے پلیٹ فارم سے دھاندلی کے خلاف، تحریک نظام مصطفیٰ کے عنوان سے ایک ملک گیر تحریک کا آغاز ہوا۔ 1977ء کے انتخابات میں اپوزیشن کی طرف سے انتخابات میں ’’جھرلو‘‘ کی اصلاح استعمال کی گئی جو کہ آج تک بہت مقبول ہے، اس تحریک کے نتیجے میں ملک میں لاء اینڈ آرڈر کی صورتحال پیدا ہو گئی، ملک کی کشیدہ صورتحال کے پیش نظر ملک میں مارشل لاء نافذ کر دیا گیا اور بالآخر پاکستان کے پہلے منتخب وزیراعظم اور قائد عوام، جسے ملک کی تمام جماعتیں اور پاکستان کی اکثریت آج بھی قائداعظم کے بعد سب سے بڑا سیاسی لیڈر سمجھتی ہے کو تختہ دار پر لٹکا دیا گیا۔

1970ء کے عام انتخابات کے بعد ملک کے دولخت ہو جانے اور1977 ء کے عام انتخابات کے بعد ملک کے مقبول عوامی لیڈر کو سولی پر لٹکائے جانے، 11 سال مارشل لاء جیسے عذاب کو برداشت کرنے اور بار بار جمہوریت پر شب جون مارے جانے کے بعد بھی ہم آج تک حقیقی جمہوریت اور نظام مصطفیٰ کے نفاذ جیسی عظیم نعمت سے محروم ہیں، آخر کیوں؟

کیا کبھی ہم نے اس بارے میں سوچا کہ اس کا ذمہ دار کون؟ فوج یا سیاستدان؟

اب حالیہ تاریخ پر نظر ڈالتے ہیں، جب 2013ء کے عام انتخابات کے بعد عمران خان اور دیگر کئی جماعتوں نے دھاندلی کے الزامات لگائے اور شواہد سے ثابت بھی ہوا، بڑے پیمانے پر دھاندلی اور بے ضابطگیاں دیکھنے میں آئیں، عمران خان چار حلقے کھولنے کا مطالبہ لے کر سڑکوں پر آیا اور 126 دن کا تاریخی دھرنہ دیا جس کے بعد مجبوراً چار حلقے کھولے گئے اور بڑے پیمانے پر دھاندلی کے انکشافات کے بعد ان حلقوں میں دوبارہ انتخابات کروائے گئے۔

2018ء کے انتخابات کے بعد دھاندلی کی وہی پرانی اور گِھسی پِٹی کہانی دہرائی جا رہی ہے، تحریک انصاف کے علاوہ تمام جماعتیں دھاندلی کا واویلا کر رہی ہیں، اور اللہ نہ کرے پھر کوئی ایسی تحریک شروع ہوجائے جس سے ملک کے حالات خراب ہو جائیں اور غیرمرئی قوتوں (خلائی مخلوق) یا بیرونی قوتوں کو ملک میں انتشار پھیلانے کا موقع مل جائے اور خدانخواستہ ملک کو کوئی بڑا نقصان نہ پہنچ جائے کیونکہ پاکستان مخالف قوتیں ہمیشہ ایسے موقع کی منتظر رہتی ہیں۔

اب سوال یہ ہے کہ قیام پاکستان کے بعد محترمہ فاطمہ جناح کی ایوب خان کے ہاتھوں شکست سے لے کر آج تک ہر الیکشن کے بعد انتخابی دھاندلی کا واویلا کرنے والوں سے کوئی یہ تو پوچھے کہ انتخابی نظام کی بہتری کیلئے اقدامات کس نے کرنے تھے، فوج نے یا سیاستدانوں نے؟

آج پوری دنیا کے اکثر ممالک میں الیکٹرانک ووٹنگ کا نظام رائج ہے یہاں تک کہ ہمارے ہمسایہ ملک بھارت، جو کہ ہمارے ساتھ آزاد ہوا اور جو رقبے اور آبادی کے لحاظ سے پاکستان سے کئی گنا بڑا ملک ہے اس میں بھی الیکٹرک ووٹنگ کا نظام رائج ہے، لیکن ہم ابھی تک اس کا آغاز بھی نہیں کر سکے، اگر 2013ء کے الیکشن کے بعد ہی سابقہ نواز حکومت اور دیگر سیاسی جماعتیں گزشتہ 5 سالوں میں انتخابی اصلاحات پر توجہ دیتیں تو شاید آج انہیں دھاندلی کی شکایات کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔

اگر ہم نے اب بھی اپنی غلطیوں سے سبق نہ سیکھا اور انتخابی اصلاحات اور اجتماعی دانش کا مظاہرہ نہ کیا تو یہ نظام اپنی موت آپ مر جائے گا، جو کہ اب بہت قریب نظر آ رہا ہے۔ یہ مفاد پرست عناصر جن کو اپنی بقا صرف مروجہ کھوکھلے بلدیاتی اور فرسودہ انتخابی نظام میں نظر آتی ہے وہ کبھی بھی اس نظام کی اصلاح کی کوشش نہیں کریں گے کیوں کہ اس میں ان کی موت ہے۔

یہ عناصر انتخابی نظام میں اصلاح کو اپنی موت سمجھتے ہیں، یہ ملک کی جڑوں کو کھوکھلا کر دیں گے اور ہمارے ادارے اتنے کمزور ہو جائیں گے کہ لوگ خوینں انقلاب کا سوچنے لگیں گے، جو کہ تمام کرپٹ نظا م اور افراد کے ساتھ ساتھ بہت سے بے گناہ افراد کو بھی افراد کو بھی اپنے ساتھ بہا کر لے جائے گا، لہٰذا اب بھی وقت ہے کہ ہم ہر الیکشن کے بعد دھاندلی کا واویلہ کرنے کی بجائے مل بیٹھ کر انتخابی اصلاحات کی طرف توجہ دیں، اداروں کو مضبوط کریں تا کہ کوئی دشمن طاقت ہماری کمزوریوں کا فائدہ اٹھا کر ملک کو نقصان نہ پہنچا سکے۔ اسی میں عوام کی بھلائی اور ملک کی بقا ہے۔

میری خواہش ہے کہ میں انڈیا پاکستان دوستی، انڈیا اور پاکستان کے لوگوں کے درمیان نفرت کو کم کرنے اور لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب لانے کے بارے میں مضامین لکھوں۔

خاص طور پر ایسے مضامین جس سے بھارت اور پاکستان کے مسلمانوں کی ترقی، اور اصلاح کا پہلو ہو۔ شاید اس طرح ہم کسی حد تک اپنا فرض ادا کر سکیں۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

حسنین اشرف

ایڈووکیٹ ہائی کورٹ، اسلام آباد، پاکستان

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close