خصوصی

دینی مدارس وجامعات پراعتراضات، کتنی حقیقت کتنافسانہ؟

مولانا محمد جہان یعقوب

ہمارے معاشرے کا ایک بہت بڑا المیہ عدم برداشت ہے، مجموعی طور پر ہماری سوسائٹی سے برداشت و تحمل مزاجی رفتہ رفتہ ختم ہوتی جارہی ہے۔ ہمارا دوسرا المیہ یہ ہے کہ ہم کسی بھی چیزکا جائزہ ایک مخصوص عینک سے لیتے ہیں اور رائے پہلے قائم کرچکے ہوتے ہیں جس میں کسی قسم کی تبدیلی کے لیے بھی تیار نہیں ہوتے، اگرچہ زمینی حقائق کی روشنی میں ہماری وہ رائے غلط اور قابل اصلاح ہو، مگر ہم اپنی ہی رائے پر بے جا اصرار کرتے ہیں۔ ہمارا تیسرا المیہ یہ ہے کہ ہم کسی بھی چیز کا منفی پہلو دیکھنے کے عادی ہوچکے ہیں، جس کی وجہ سے ہم اکثر عدل و انصاف کے دامن کو ہاتھ سے چھوڑ بیٹھتے ہیں۔ اس میں رائے عامہ پر اثرانداز ہونے والے اداروں بالخصوص میڈیا کا بہت بڑا کردار ہے۔ لیکن سارا نزلہ میڈیا پر بھی نہیں گرایا جاسکتا، کیونکہ اﷲتعالیٰ نے ہر انسان کو عقل و شعور کی نعمت عطا فرمائی ہے۔ جس سے کام لے کر درست نتیجے تک پہنچا جاسکتا ہے۔ اسلام نے ہمیں انتہاپسندی نہیں ،حقیقت پسندی کا درس دیا ہے۔
ہمارایہ دعویٰ نہیں کہ دینی مدارس ،جن میں ناظرہ قرآن مجید سے لے کر حفظ تک اور ابتدائی دینی تعلیم سے لے کر عالم ومفتی سطح کی تعلیم دینے والے تمام مدارس شامل ہیں،ہر قسم کی کمی و کوتاہی سے پاک ہیں ،نہ ہمارایہ دعویٰ ہے کہ مدارس میں اصلاح طلب کوئی بات نہیں ، لیکن یہ ضرور ہے کہ مدارس پر کیے جانے والے اکثر اعتراضات ایسے ہیں ،جنھیں عدل و انصاف کی میزان پر تولا جائے اور غیرجانب داری کی کسوٹی پر پرکھا جائے تو ان کی کوئی منطقی وواقعی حیثیت و حقیقت نظر نہیں آتی۔اس تحریرمیں ہماری کوشش ہوگی کہ مدارس پر ہونے والے بڑے بڑے اعتراضات کوسامنے رکھتے ہوئے حقیقت واقعہ سامنے لائی جائے۔
مدارس ملک کے طول و عرض میں پھیلے ہوئے ادارے ہیں، ان کا نظم و نسق ملکی قوانین کو سامنے رکھ کر بنایا جاتا ہے،ارباب مدارس حکومت کی جانب سے دی جانے والی ہدایات پر عمل کرتے ہیں۔جس کے نظائر توبے شمار ہیں ،ان میں سے چند کے ذکر کوکافی سمجھتے ہوئے ہم زیادہ تفصیل میں جانے کی ضرورت محسوس نہیں کرتے ۔پرویز مشرف کے دور میں غیر ملکی طلبہ کاپاکستانی مدارس میں داخلہ این اوسی کے ساتھ مشروط کیا گیا،اس پر عمل کرتے ہوئے مدارس نے اپنے داخلہ فارم کے ساتھ دیگر دستاویزات کے ساتھ این اوسی لازمی کردی،بعد ازاں مزید قدغنیں لگائی گئیں تومدارس میں ان طلبہ کے داخلے کے دروازے سرے سے بند کردیے گئے،اب سوائے معدودے چند مدارس کے،کسی مدارسے میں غیر ملکی طلبہ نہیں اور جن مدارس میں ہیں،ان کی انتظامیہ کے پاس باقاعدہ وزارت خارجہ وداخلہ کے اجازت نامے موجود ہیں۔آرمی پبلک اسکول پر سفاکانہ حملے کے بعدجب ملک کی سیاسی و عسکری قیادت نے متفقہ طور پر دہشت گردوں کے خلاف نیشنل ایکشن پلان ترتیب دیا،تواہل مدارس نے اس کا خیرمقدم کیا،دہشت گردوں کے خلاف جب آپریشن ضرب عضب شروع ہوا، مدارس نے اس کی حمایت کی۔ مدارس کی رجسٹریشن سے لے کر جیوٹیکنگ تک، ہر قانون کومدارس نے بسر وچشم تسلیم کیا اورکسی قسم کی مزاحمت نہیں کی۔ آئے روز ایجنسیاں معلومات لینے کے لیے مدارس میں آتی ہیں،کسی مدرسے نے کبھی کسی ایجنسی کو نہیں روکا اور فوج وپولیس ہویاسول ایجنسیاں،سب کوخوش آمدیدکہا، کہ آپ ملک کی سرحدوں کے محافظ ہیں، آپ کو اس سلسلے میں ہماری طرف سے جو تعاون چاہیے ہم اس کے لیے تیار ہیں۔
مدارس نے دورجدید کے تقاضوں کو سامنے رکھتے ہوئے اپنے نصاب تعلیم میں اصلاح و ترمیم سے کبھی انکار نہیں کیا۔ الحمدﷲ!تمام وفاق ہائے مدارس کی باقاعدہ نصاب کمیٹیاں ہیں، جو ضرورت کے تحت نصاب میں تبدیلی کرتی رہتی ہیں۔ مدارس کے نصاب میںسائنس وریاضی، معاشرتی علوم و مطالعہ پاکستان اور اردو و انگریزی نصاب کا لازمی حصہ ہیں۔مدارس میں باقاعدہ اسکول وکالج سسٹم قائم ہے،جس کا متعلقہ بورڈزسے الحاق ہے۔حال ہی میں انٹر میڈیٹ کے امتحانات میں پنجاب بورڈ سے تینوں امتیازی پوزیشنیں لینے والے مدارس کے طلبہ تھے۔ مدارس کمپیوٹر ٹیکنالوجی کی تعلیم بھی دے رہے ہیں۔ بڑے بڑے مدارس میں باقاعدہ آئی ٹی ڈیپارٹمنٹس قائم ہیں، جو ٹیکنیکل بورڈ زسے منظورشدہ ہیں اور کورس کی تکمیل پر بورڈ زان طلبہ وطالبات کاامتحان لے کرباقاعدہ سرٹیفکیٹ جاری کرتے ہیں۔ مدارس اپنے محدود وسائل میں رہتے ہوئے اپنے طلبہ و طالبات کو جدید تعلیم سے بھی روشناس کرارہے ہیں،مدارس نے اپنے طلبہ و طالبات پر جدید تعلیم کے دروازے کبھی بند نہیں کیے،یونیورسٹیز میں جاکر دیکھا جاسکتاہے مدارس کے سیکڑوں طلبہ و طالبات M.A، ایم فل اور PH.D کررہے ہیں۔ مدارس میں ماس کمیونیکیشن کی تعلیم بھی دی جاتی ہے،میڈیاورکشاپس کے ساتھ ساتھ کئی مدارس میں اس کے باقاعدہ شعبے قائم ہیں۔مدارس کے سیکڑوں فضلااس وقت الیکٹرانک وسوشل میڈیامیں سرگرم خدمت ہیں ،پرنٹ میڈیامیں ان کی تعدادہزاروں سے متجاوز ہے،تقریباًہر مدرسے کا ہفت روزہ،ماہانہ یا سہ ماہی آرگن،علماوطلباکے اخبارات میں شایع ہونے والے کالم ومضامین اورتصنیفی وتالیفی خدمات اس پر شاہد عدل ہیں۔یہ ایک ناقابل تردیدحقیقت ہے کہ اردوزبان کی خدمت میں مدارس عصری درس گاہوں سے کہیں آگے ہیں۔
مدارس پرایک اورالزام بھی بہت عرصے سے لگایا جارہا ہے،وہ ہے دہشت گردی کا الزام،حالاں کہ آج تک کسی مدرسے میں جہادی ٹریننگ ثابت نہیں کی جاسکی۔ کسی مدرسے سے کسی قسم کاکوئی اسلحہ برآمد نہیں ہوا۔ کسی مدرسے نے کسی بھی عسکریت پسند گروہ کی حمایت نہیں کی۔ ہاں!یہ ضرورہے کہ ملک کے عظیم تر مفاد میں اہل مدارس نے ہمیشہ ریاست کا تعاون کیا ہے۔یہ نوے کے عشرے کی بات ہے،جب ریاست نے افغان جہاد اورروس کے سرخ ریچھ کوشکست دینے کے لیے مدارس سے نفری مانگی تھی، مدارس نے یہ نفری فراہم کردی،ان لوگوں کوجہادی ٹریننگ دی گئی،انھوں نے افغانستان میں اپنی کارروائیوں سے روس کوٹکڑے ٹکڑے کردیا، تب یہ لوگ مجاہد کہلاتے تھے۔ اب نائن الیون کے بعد، اگر ریاست کی پالیسی بدل گئی ہے اورنئی پالیسی کے مطابق یہ لوگ مجاہد سے دہشت گردکی سطح پر آچکے ہیں، تو ان لوگوں کے ہاتھ روکنا ریاست کا کام ہے نہ کہ مدارس کا۔ اس کا الزام مدارس کو دینا انصاف کے تقاضوں کے یک سر خلاف ہے۔اس کے باوجود مدارس سے پڑھے ہوئے کسی بھی فرد نے ریاست کی رٹ کو چیلنج کرنے کی انفرادی یااجتماعی طور پر کوشش کی ہے، تو ہمیشہ مدارس نے اس کے مقابلے میں ملکی قانون کوترجیح دی ہے۔ ۔ یہ بات بھی اب کوئی سربستہ راز نہیں رہی ہے کہ عسکریت پسند جماعتوں میں مدارس سے زیادہ کالجوں، یونیورسٹیوں کے لوگ ہوتے ہیں، آپ لشکر جھنگوی اورٹی ٹی پی سے جماعت الدعوہ ،حر کت المجاہدین اورجیش محمد تک،سپاہ محمد سے مجلس وحدت المسلین تک ،خود تجزیہ کرکے دیکھ لیجیے،آ پ ہم سے اتفاق ہی کریں گے،لیکن یہ انوکھی منطق ہے کہ اس بنیاد پر کالجز اور یونیورسٹیز پر دہشت گردی کا الزام نہیں لگایا جاتا۔بایں ہمہ، ملک کے تمام مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے مدارس کی مشترکہ تنظیم اتحاد تنظیمات مدارس دینیہ نے ہمیشہ حکومت اور اداروں کو یہ پیشکش کی ہے کہ آپ کو کسی بھی مدرسے میں کوئی مشتبہ دہشت گرد کے بارے میں علم ہے تو ہمیں بتلائیں، ہم اسے آپ کے حوالے کریں گے۔ آپ کو کسی بھی مدرسے کے حوالے سے یہ تحقیق ہے کہ وہ مدرسہ قابل اعتراض سرگرمیوں میں ملوث ہے، تو ہمیں بتائیں ہم اس مدرسے سے لاتعلقی کا اعلان کردیں گے۔ انصاف سے بتلائیے! مدارس اس سے بڑھ کر کیا کرسکتے ہیں؟
حکمراں طبقے کی طرف سے بڑے زوروشور سے یہ بات کی جاتی ہے کہ ہم مدارس کو ’’مین اسٹریم لائن ‘‘او’’ر قومی دھارے ‘‘میں لانا چاہتے ہیں۔ مدارس اس بات کا خیرمقدم کرتے ہیں، لیکن اس کے لیے اب تک کیا اقدامات کیے گئے ہیں؟ سرکاری ملازمتوں میں ہمارے طلبہ و طالبات کے لیے کوئی کوٹہ مختص نہیں،حکومت نے ہمارے اداروں سے پڑھے ہوئے ٹیلنٹڈافراد کو استعمال کرنے کے لیے کون سا موقع فراہم کیا ہے؟ اہل مدارس اوران طلبہ وطالبات کے سرپرست،سبھی یہ چاہتے ہیں کہ یہ لوگ، جن کی تعداد لاکھوں سے متجاوز ہے، مدارس سے تعلیم و تربیت حاصل کرنے کے بعد’’ مین اسٹریم لائن‘‘ میں جائیں اور ملک و قوم کی خدمت کریں، لیکن جب وہاں خود ہی دروازے بند کردیے گئے ہیں، تو اس میں قصور کس کا ہے؟ کسی بھی کالج/یونیورسٹی میں جاکر معلوم کیجیے ہمارا کتنا بڑا طبقہ عصری تعلیم حاصل کررہا ہے،لیکن فرسٹ ڈویژن میں کامیاب ہونے کے باوجود وہ ملازمتوں سے محروم رہتے ہیں۔ آخر کیوں؟ اس ناانصافی کے خلاف آواز اٹھانا کس کا کام ہے؟ کیا مدارس سے وابستہ ہونا اتنا بڑا جرم ہے کہ انہیں جائز اور قانونی حقوق سے بھی محروم کردیا جائے؟
مدارس پر ایک اعتراض یہ ہے کہ یہ اپنے ہاں پڑھنے والوں کی ایسی وضع قطع بناتے ہیں کہ وہ اپنے اس گیٹ اپ میں معاشرے کے لیے اجنبی نظرآتے ہیں۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ داڑھی پردہ اور کرتہ شلوار، مدارس کا مخصوص گیٹ اپ نہیں، یہ ہمارے نبی ﷺ کا عطاکردہ گیٹ اپ ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ آپ مغربی لباس پہنیں مولوی کو برداشت ہے، وہ اس پر کوئی اعتراض نہیں کرتا،کیونکہ وہ سمجھتا ہے کہ یہ آپ کا انسانی حق ہے، جو آپ سے سلب نہیں کیا جاسکتا، پھر اگر مولوی اور طالب علم داڑھی اور کرتے شلوار کا استعمال کرتا ہے تو آپ اسے یہ انسانی حق دینے کے لیے آمادہ کیوں نہیں ہیں؟ پردہ مسلمان عورت کا پیدائشی حق اور دینی فریضہ ہے، آپ مسلمان عورت کو یہ حق دینے کے لیے تیار کیوں نہیں ہیں؟ کیایہ تنگ نظری نہیں کہ مولوی ومدرسہ تو آپ کی وضع قطع پر کوئی قدغن نہیں لگاتا اور آپ کو ان کی وضع قطع تک برداشت نہیں۔
جہاں تک مدارس کے نظام میں خامیوں کا تعلق ہے تو اس سے انکار نہیں۔ ہزاروں طلبہ و طالبات کو چوبیس گھنٹے قیام و طعام اور صحت و تعلیم کی سہولیات فراہم کرنے والے اداروں میں اگرخال خال کسی انتظامی خامی اور کمی کانظر آناکوئی انوکھی بات نہیں۔اخلاقی کمزوریاں بھی ہوسکتی ہیں،کیایہ سب کچھ ہاسٹلز میں نہیں؟ جہاں بھی اتنا بڑا مجمع ایک ساتھ رہے گا،وہاں اکّا دکّا کمزوریاں ہونالازمی امرہے، لیکن مدارس میں اس کا تناسب نہ ہونے کے برابر ہے۔اس کے باوجود اس سلسلے میں مدارس میں بہتر سے بہتر انتظامات بھی کیے جاتے ہیں۔
ہاں!ارباب مدارس پر ایک اعتراض،جوپورے زور وشور سے کیاجاناچاہیے،وہ یہ ہے کہ مدارس اپنے فضلاکومعاشی استحکام فراہم کرنے میں ناکا م ہیں،مدارس میں انتظامیہ اور عملے کے درمیان ایک بہت بڑی خلیج حائل ہے۔اہل اہتمام کاشاہانہ کروفراوروہاں خدمات انجام دینے والوں کی ناگفتہ بہ مالی حالت،یہ ایک بہت بڑاسوالیہ نشان ہے۔مدارس کواس پر سنجیدگی سے غور کرناچاہیے کہ وہ آٹھ سے دس سال تمام علوم وفنون پڑھنے کے باوجوداپنے فاضل کو،جوان کے ہاں خدمات انجام دیتاہے،ایک چپراسی کے برابربھی مشاہرہ نہیں دیتے۔اس کے برعکس یہ بھی دیکھنے میں آتاہے کہ جولوگ عصری درس گاہوں کے پڑھے ہوئے ہیں اوران اداروں میں کوئی خدمت انجام دیتے ہیں،ان کامشاہرہ بھی معقول ہے ۔المیہ ہے کہ عربی وفارسی کی دقیق ترین کتابیں پڑھانے والوں ،جنھوں نے اس مقصد کے لیے اپنی عمریں وقف کی ہوتی ہیں،کی خدمات کی یہ قدرہے کہ ان کوایک مزدورکے برابربھی مشاہرہ نہیں ملتا،دوسری طرف مہتمم حضرات اوران کے چمچوں کے بیرونی دورے،پرتعیش زندگی،شاہانہ لائف اسٹائل ،بلاشبہ یہاں بھی امیرشہر اورغریب شہر والی وہ تفریق نظر آتی ہے،جوعارف شفیق نے اس شعر میں بیان کی ہے
غریب شہر توفاقے سے مرگیا،عارف
امیر شہر نے ہیرے سے خودکشی کرلی
اسی طرح مدارس کوایک قدم اور بھی اٹھاناچاہیے،وہ یہ کہ ان کی حب الوطنی کسی شک وشبہ سے بالاترہے،تاہم اگر وہ مشاہیر کے ایام پرتعطیل کرلیاکریں،توان کی حب الوطنی کوچارچاند لگ جائیں گے۔
یاد رکھیے! ان مدارس اور علمائے کرام کے دم سے اﷲ تعالیٰ کا دین زندہ ہے، مدارس علوم دینیہ کے مراکز ہیں، انہیں قائم رہنے دیجیے، یہ دین اورقرآن وسنت کی نرسریاں ہیں،ان کی آبیاری کیجیے،حکیم الامت شاعر مشرق علامہ ڈاکٹر محمد اقبال ؒکے اس خطبے میں موجودپیغام کوسمجھنے کی کوشش کیجیے،انھوں نے کہاتھا:
’’ان مکتبوں کے اس طرح رہنے دو، غریب مسلمانوں کے بچوں کو اس میں پڑھنے دو، اگر یہ مُلّا اور درویش نہ رہے تو پتا ہے کیا ہوگا؟ جو ہوگا میں اسے اپنی آنکھوں سے دیکھ آیا ہوں۔ اگرہندوستانی مسلمان ان دینی مدارس کے اثر سے محروم ہوگئے، تو بالکل ایسا ہوگا جس طرح اندلس میں مسلمانوں کی 800برس کی حکومت کے باوجود آج غرناطہ اور قرطبہ کے کھنڈرات اور الحمراء کے نشانات کے سوا ،اسلام کے ماننے والوں اور اسلامی تہذیب کے آثار کا کوئی نقش نہیں ملتا‘‘۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

محمد جہان یعقوب

مولانا محمد جہان یعقوب ڈپٹی ایڈیٹر ہفت روز ہ اخبارالمدارس ہیں نیز جامعہ بنوریہ عالمیہ،کراچی کے ریسرچ اسکالر ہیں۔

متعلقہ

Back to top button
Close