خصوصیسیاست

دیویندر فڈنویس: عمر دراز مانگ کے لائے تھے پانچ سال

دیویندر فڈنویس کو مہاراشٹر میں یہ سہولت نہیں تھی اس کے باوجود انہوں  نےبی جے پی کی ایک اور روایت کا استعمال کرکے اپنے پانچ سال پورے کرلیے۔

ڈاکٹر سلیم خان

وزیر اعلیٰ دیویندر فڈنویس نےجیسے تیسے اپنی مدت کار مکمل کرلی ہے۔ وزیراعظم نے ان کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا  ’’مہاراشٹر میں آنجہانی وسنت دادا پاٹل اور دیویندر فڈنویس کے علاوہ کسی نے بھی پوری مدت مکمل نہیں کی ہے‘‘۔ 1974 میں وی پی نائک کے بعد جو 11سال تک وزیراعلیٰ تھے اور تین مرتبہ  انتخابات میں کامیابی حاصل کی فڈنویس اپنی مدت کار پوری کرنے والےدوسرے  وزیر اعلیٰ ہیں۔ جہاں تک مودی جی کا سوال ہے ان کی وسنت دادا والی  غلطی کوئی نئی بات نہیں  ہے۔ اس طرح کی بھول چوک ان سے  آئے دن  سرزد ہوتی  رہتی ہے  لیکن  چونکہ اندھ بھکت آنکھیں موند کراپنے آقا کی  ہر بات نہ صرف تسلیم کرلیتے ہیں بلکہ اس کی اوٹ پٹانگ توجیہ بھی کردیتے ہیں اس لیے وزیر اعظم بے فکری کے ساتھ  ایسے بیانات دیتے رہتے ہیں۔ میڈیا ان حماقتوں کا پردہ فاش کرسکتا ہے لیکن اس کے دامن کو  نوٹ کی قینچی سے تار تار کردیا گیا اس لیے وہ ایسی جرأت نہیں کرتا۔

بھارتیہ جنتا پارٹی میں مدت کار کا پورا کرنا  کوئی بڑی بات نہیں ہے اس لیے کہ وہاں  وزرائے اعلیٰ  کوشاذو ناد ر ہی تبدیل کیا جاتا  ہے ۔ گجرات فسادات  کے بعد بھی وزیراعلیٰ نریندر مودی کا استعفیٰ مسترد کرکے انہیں کی قیادت میں انتخاب لڑا گیا۔ مدھیہ پردیش میں شیوراج سنگھ چوہان کے خلاف ویاپم گھوٹالا کے شواہد کو مٹانے کی خاطر قتل و خون کا بازار گرم کیا گیا۔ نہ جانے کتنے صحافی اور آرٹی آئی کارکن موت کے گھاٹ اتار دیئے گئے لیکن پارٹی نے ان کو بدلنے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔ چھتیس گڈھ میں ڈاکٹر رمن سنگھ پر چاول بدعنوانی کے الزامات لگتے رہے۔ بھکمری کے  واقعات رونما ہوتے رہے  لیکن بی جے پی ہائی کمان کے کان پر جوں نہیں رینگی۔ وہ آخری وقت تک وزیر اعلیٰ بنے رہے۔ راجستھان کی وسندھرا راجے سندھیا پر بدعنوان  للت مودی کے تعاون کا الزام لگا۔ ریاست میں ہجومی تشدد کے یکے بعد دیگرے واقعات ہوتے رہے بلکہ انہوں نے  ہائی کمان سے پنگا  بھی لے لیا۔ اس کے باوجود شاہ جی ان کو ہٹانے کی جرأت نہیں کرسکے۔ بالآخر عوام نے تنگ آکران سے  چھٹکارہ حاصل کرلیا۔

 بی جے پی کی اس پرمپرا کے چلتے وزیر اعلیٰ فڈنویس کا  پانچ سال مکمل کرلینا کوئی بڑا کارنامہ نہیں ہے۔ اب دیکھنا  یہ ہے کہ انتخاب میں  عوام ان کے ساتھ کیا سلوک کرتی ہے؟اس معاملے میں صرف گجرات کی سابق وزیر اعلیٰ آنندی بین پٹیل کو استثناء حاصل ہے۔ ان کو درمیان ہی میں ہٹا کر وجئے روپانی کو وزیراعلیٰ بنادیا گیا۔   اس کی وجہ یہ تھی کہ آنندی بین کی   پٹیل برادری  ان کے خلاف ہوگئی تھی۔ اس کا فائدہ اٹھا کر امیت شاہ نے اپنی برادری کے جین رہنما وجئے روپانی کو ان کی جگہ بٹھا دیا۔ راجستھان، مدھیہ پردیش اور چھتیس گڈھ کے راجپوت اپنے وزیراعلیٰ کے ساتھ تھے اس لیے ہائی کمان ان کا بال بیکا نہیں کرسکا۔ کرناٹک اس کی سب سے بڑی مثال ہے۔ وہاں پر  یدورپاّ نے بی جے پی کی ساری اقدار کو ایک ایک کرکے پامال کیا۔ پارٹی سے بغاوت کے بعد بھی وزیر اعلیٰ کے امیدوار بنائے گئے۔ بدعنوان شبیہ  کے باوجود اپنا دعویٰ پیش کیا۔ مودی جی کے ذریعہ 75سال کی پابندی کو ٹھکراکر 74سال میں حلف برداری کی۔ اس لیے کہ ان کی لنگایت برادری  پارٹی کے نہیں اپنے رہنما کے ساتھ ہے۔ وہ پارٹی میں ہیں تو ووٹ کمل کو ملے گا ورنہ نہیں ملے گا۔ اس حقیقت کا ادراک کرنے کے بعد شاہ جی اور مودی جی میں ہمت نہیں ہوئی کہ یدورپاّ کو اقتدار سنبھالنے سے روکتے۔

دیویندر فڈنویس کو مہاراشٹر میں یہ سہولت نہیں تھی اس کے باوجود انہوں  نےبی جے پی کی ایک اور روایت کا استعمال کرکے اپنے پانچ سال پورے کرلیے۔ مہابھارت اور رامائن گواہ ہے کہ ان دونوں رزمیہ داستانوں میں بیرونی دشمنوں سے زیادہ نقصان خود اپنے خاندان کے لوگ پہنچاتے ہیں۔ رامائن میں کیکئی کا رام کو بن باس پر بھجوا کر اپنے بیٹے بھرت کو مسندِ اقتدار  پر فائز کردینا یا کورووں کا اپنے عم زاد بھائیوں کو جوئے میں ہرا کر جنگل روانہ کردینا نیز کوروکشیتر میں ایک دوسرے سے برسرِ پیکار ہوجانا اس کی مشہور مثالیں ہیں۔ بی جے پی کی  بلکہ جمہوریت میں ساری ہی سیاسی جماعتوں کی حکمت عملی یہ ہوتی  ہے کہ جس وقت وہ اقتدار سے محروم ہوتے ہیں متحد ہوکر مقابلہ کرتے ہیں لیکن جب ان کو کامیابی مل جاتی ہے اور ان میں سے کوئی وزیراعلیٰ بن جاتا ہے تو وہ اپنی توجہ بیرون کے بجائے داخلی محاذ پر مرکوز کردیتا ہے۔ اس کا کام پارٹی کے اندر اپنے حریفوں کو ٹھکانے لگانا ہوجاتا ہے۔ کانگریس کے اندر وزیراعلیٰ کے مخالفین ہائی کمان سے گہار لگاتے ہیں اور کئی بار ان کی پکار پر وزیراعلیٰ کو درمیان میں بدل دیا جاتا ہے لیکن بی جے پی میں ایسا نہیں ہوتا اس لیے جو کرسی پالیتا ہے وہی جما رہتا ہے۔

اس کی سب بڑی مثال خود نریندر مودی کی ذاتِ والا صفات ہے۔ ان کو جس وقت گجرات کا وزیراعلیٰ بنایا گیا وہ اسمبلی کے رکن بھی نہیں تھے بلکہ کیشو بھائی پٹیل نے صوبے میں  مودی جی کا داخلہ بند کررکھا تھا۔ وزیر اعلیٰ بن جانے کے بعد انہوں نے اپنے سارے مخالفین کو ایک ایک کرکے ٹھکانے لگا دیا۔ کیشو بھائی تو خیر عمر دراز  تھے اس لیے ان کو کنارے کرنے میں کوئی خاص دقت پیش نہیں آئی لیکن نریندر مودی کے ہمعصرسنجے جوشی بھی گجرات بدر کر دیئے گئے اور سنگھ کی حمایت کے باوجود پارٹی کے اندران  کو بے یارومددگار کردیا گیا۔ آج کل وہ دہلی میں رہتے تو ہیں لیکن کیا کرتے ہیں کوئی نہیں جانتا۔ ان سے ملنے جلنے والوں  کو تک  پارٹی میں معتوب کیا جاتا ہے۔ ہرین پنڈیا وزیرداخلہ تھے۔ ان کا پراسرار حالت میں قتل ہوگیا۔ اس الزام گرفتار سارے ملزم  صوبائی و مرکزی اقتدار کے باوجود رہا ہوگئے۔ اس طرح گجرات کے اندر مودی جی کا کوئی حریف باقی نہیں بچا۔

وزیر اعظم بننے کے بعد انہوں نے سب سے پہلے اپنے سارے معمر رہنماوں کو مارگ درشک منڈل کا راستہ دکھا کر سبکدوش کردیا۔ آگے چل کر ان سب کو  منصوبہ بند طریقہ پر ایوان پارلیمان کےٹکٹ سے محروم کیا گیا۔     وزیر خزانہ جیٹلی تو خیر  بیمار  ہوگئے مگر سابق وزیر دفاع کو  گوا جیسے ننھے سے صوبے کا وزیر اعلیٰ بناکر دہلی لوٹا دیا گیا۔ سشما کے لیے ایسے حالات پیدا کیے گئے کہ انہوں نے ازخود انتخاب لڑنے سے معذرت چاہ لی۔ اترپردیش میں راجناتھ سنگھ  کے اثرات کو زائل کرنے کے لیے انہیں کی راجپوت  برادری کے یوگی ادیتیہ ناتھ کو خوب بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا۔ راجناتھ پھر بھی ڈٹے رہے تو ان کو وزارت داخلہ کے اہم عہدے سے محروم کرکے وزارت دفاع کا قلمدان سونپ دیا گیا۔ اس طرح مودی جی نے اپنے شاگردِ خاص کو وزیرداخلہ بنا کر سارے خطرات سے نمٹ لیا۔ امیت شاہ تقریباً ۵ ماہ سے وزیرداخلہ بننے کے باوجود پارٹی کی صدارت چھوڑ نہیں رہے ہیں۔ جئے پرکاش نڈاّ اب بھی کارکزار صدر کے طور پر شاہ جی  کے ہاتھوں کی کٹھ پتلی بنے ہوئے ہیں۔ ہریانہ اور مہاراشٹر کے امیدواروں کا انتخاب مودی اور شاہ مل کر کرتے ہیں جبکہ  جے پی نڈاّ کسی روبوٹ کی مانندفہرست  جاری کرنے کی ذمہ داری  ادا کرتے ہیں۔دیویندر فڈنویس نے اس معاملے میں نریندر مودی کی خوب اتباع کی۔

اس مدت کار میں مراٹھا آندولن سے نمٹنے کا سہرہ فڈنویس کے سر منڈھا جارہا ہے۔ مراٹھا احتجاج نہات کامیاب تھا لیکن اس کا پہلا مطالبہ کہ  دوشیزہ کی عصمت دری اور قتل کرنے والے کو پھانسی کی سزا دی جائے جائز تھا ۔ یہ  مذموم حرکت  کسی درندہ صفت انسان نے کی تھی یا کہ معاملہ  آنر کلنگ (عزت کے نام پرقتل) کا  تھا اس طرح کے سوالات کھڑے ہوگئے۔    مراٹھا احتجاج کے باقی دو مطالبات مضر  تھے۔ دلتوں کے تحفظ کی خاطر بنایا جانے والا ظلم مخالف قانون ختم کرنا نہ تو ممکن ہے اور نہ مناسب ہے۔ اس پر سپریم کورٹ فیصلہ کیا تو مرکزی حکومت نے اس کے خلاف قانون سازی کی اور پھر عدالت عظمیٰ نے اپنا فیصلہ بدل دیا۔ اس  مطالبے سے  فائدہ تو نہیں ہوا مگر دلت سماج عدم تحفظ کا شکار ہوکربدک ہوگیا۔ مہاراشٹر کی سیاست ، دیہی معیشت اور تعلیمی ادارے مراٹھوں کے زیر تسلط ہے اس کے باوجود ریزرویشن کا مطالبہ نامعقول تھا۔ اس سے او بی سی سماج مراٹھو ں اور کانگریس و این سی پی سے اور دور ہوگیا  لیکن حکومت نے ریزرویشن کا بل منظور  کرکے مراٹھوں کا دل جیت لیا۔ سماجی سطح پر بھیما کورے گاوں میں مراٹھوں کے ذریعہ دلتوں پر حملہ کرواکے بے قصور  مظلوموں پر شہری  نکسلی ہونے  کا الزام لگانا  فڈنویس  سرکار کی  ناقابلِ معافی غلطی ہے۔ ان ہنگاموں کے سبب مراٹھا مہا سنگھ کے تحت  مہاراشٹر کے اندر براہمنی  فسطائیت کے خلاف قائم ہونے والا عظیم اتحاد پارہ پارہ ہوگیا۔

آخر میں ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ  کیا کسی فرد کا پانچ سالوں تک  اقتدار میں رہنا ہی بذاتِ خود کوئی بڑا کارنامہ ہے ؟ اگر کوئی جماعت انتخاب سے قبل اپنے منشور میں صرف  یہ لکھ  دے کہ ہم آپ کو ایک ایسا وزیر اعلیٰ دیں گے جو پورے پانچ سال حکومت کرے   گا تو کیا اس کو لوگ ووٹ دے کر کامیاب کریں گے ؟ ایسا نہیں ہوگا۔ عوام سے تو کہا جاتا ہے کہ اگر ہماری جماعت اقتدار میں آجائے تو صنعتی ترقی ہوگی۔ نوجوانوں کو روزگار ملے گا۔ کسانوں میں خوشحالی آئے گی۔ ان کی خودکشی کا سلسلہ رک جائے گا۔ عوام کی فلاح بہبود کے کام ہوں گے۔ تعلیم اور صحت عامہ کی سہولیات میں اضافہ ہوگا۔ معاشرے کے اندر جرائم کم ہوں گے اور بدعنوانی میں کمی واقع ہوگی۔ سماج میں بھائی چارہ ، رواداری اور  امن و امان  کی فضا رہے گی وغیرہ وغیرہ۔ اس کسوٹی پر حکومت کی کا جائزہ لیا جانا چاہیے نہ اس پر کہ کتنے سالوں تک لگاتار حکومت کرکے اس نے کتنے سالوں کا ریکارڈ توڑ ا۔ ان تمام محاذ پر فڈنویس  بری طرح ناکام رہی اس لیے بی  جے پی اب کشمیر اور دفع 370 پر عوام کو ورغلا کر انتخاب جیتنے کا خواب دیکھ رہی ہے۔ عوام کی سادہ لوحی کے پیش نظر بعید نہیں کہ اس بار پھر اس  کا سپنا ساکار ہوجائے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

سلیم خان

ڈاکٹر سلیم خان معروف کالم نگار اور صحافی ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Back to top button
Close