خصوصیسیاست

راجستھانی کمل: اک ہجومِ غم و کلفت ہے خدا خیر کرے

ڈاکٹر سلیم خان

راجستھان کے رکن پارلیمان ہریش چندر مینا کا استعفیٰ محض ایک فرد کی کمی نہیں بلکہ بی جے پی  کی  گرتی ہوئی دیوار میں بڑا شگاف ہے۔ ۲۰۱۴ ؁ میں بی جے پی نے بڑے طمطراق  سے ۲۸۲ نشستوں پر کامیابی درج کرکے اپنے بل بوتے پرحکومت سازی  کا دعویٰ کیا تھا لیکن مودی جی  کی مایوس کن  کارکردگی  کےسبب یہ تعداد  ۲۶۸ پر آگئی ہے۔ان میں سے ایک کیرتی آزاد معطل ہے اور دوسرا شترو گھن سنہا کھلے عام باغیانہ تیور دکھاتا پھرتا ہے۔ مودی اور شاہ کے اندر ان پر ہاتھ ڈالنے کی ہمت نہیں  ہے۔ شترو کے ہاتھوں گھنا گھن رسوائی کو ہنستے ہوئے سہنے کی وجہ ایوان کے اندر   اقلیتی جماعت   بی جے پی   کو لاحق خطرہ بڑھانے کی جسار ت کا فقدان  ہے؟ امیت شاہ  اگر حقیقی معنی ٰمیں کل یگ کے چانکیہ ہوتے تو  ساڑھے چار سال میں اپنے ارکان پارلیمان  کی تعداد بڑھا کر۳۰۰ تک لے جاتے لیکن سڑک چھاپ بیانات دے کر عوام کے جذبات کو بھڑکانے اور ٹھوس کام کر کےلوگوں  کا دل جیتنے میں بڑا فرق  ہے۔  بھارتیہ جنتا پارٹی پر مسائل  ومشکلات  کے یلغار کی   بنیادی وجہ نااہلی و  عدم کارکردگی ہےبقول شاعر؎

اک    ہجوم    غم و کلفت  ہے   خدا   خیر  کرے

جان پر  نت نئی   آفت    ہے    خدا   خیر کرے

 بھارتیہ جنتا پارٹی کے رکن پارلیمان ہریش چندر مینا  گھر واپسی کرکے  کانگریس  میں لوٹ آئے۔   بی جے پی کے نزدیک راجستھان کے پسماندہ قبائل میں مینا ذات کو خاص اہمیت حاصل ہے۔  مغربی راجستھان  میں دوسا کےاطراف  ان لوگوں  کی آبادی تقریباً ۲۵ فیصد ہے۔  نمو نارائن مینا کا شمار کانگریس کے معمر رہنماوں میں ہوتا ہے۔ وہ ماضی میں  ٹونک سے پارلیمانی انتخاب جیت چکے ہیں۔  سابق ڈی جی پی ہریش چندر  نے ۲۰۱۴؁  کے لوک سبھا انتخابات میں اپنے بڑے بھائی نمو نارائن  کے خلاف بی جے پی کا ٹکٹ براہ راست دہلی جاکر  حاصل کیا تھا  اور انہیں تیسرے نمبر پر ڈھکیل دیا۔  مودی لہر میں ہریش  نے راجپ نامی علاقائی پارٹی کے امیدوار ڈاکٹر کروڈی مل مینا کو ۵۲ ہزار سے زیادہ ووٹ سے شکست دی تھی۔ آگے چل کر  بی جے پی نے اپنےخلاف الیکشن لڑنے والے کروڈی مل کو راجیہ سبھا کا رکن نامزد کرکے اپنا  لیا۔  اب ہریش اور نمو نارائن کی کانگریس میں موجودگی یقیناً انتخابی بساط پر اثر انداز ہوگی۔

ہریش چندر کا یہ ردعمل  ٹکٹ نہ  ملنے  کی وجہ سےناراضگی کے باعث   نہیں ہے بلکہ  اس کی وجہ دوسا حلقۂ انتخاب کے صوبائی ارکان  اسمبلی سے  سے ان بن  ہے۔   اس کے ڈانڈے  وزیراعلیٰ  وسندھرا راجے سندھیااور پارٹی کے صدر امیت شاہ کے درمیان  چپقلش  سے ملے ہوئے ہیں۔  اس سال فروری میں  راجستھان کے اندر دو لوک سبھا اور ایک اسمبلی حلقہ میں  ضمنی انتخاب کے اندر بی جے پی کوکراری  ہار‌سے دوچار ہونا پڑا۔ اس شکست کی ذمہ داری   وسندھرا کے دست راست صوبائی صدراشوک پرنامی کے سر ڈال کر ان  کی چھٹی کردی گئی اور ہائی کمان نےمرکز ی وزیر گجیندر سنگھ شیخاوت کوصدر بنانے کی کوشش کی لیکن وسندھرا راجے نے مودی اور شاہ کی تجویز کو مسترد کرکے مدن لال سینی ریاستی صدر بنادیا۔ اب سینی بھی پالا بدل کر شاہ کے ساتھ ہوگئے ہیں اس لیےدیگر ابن الوقت سیاسی لومڑیاں  بھی وفاداری بدلنے لگی ہیں مگر سندھیا ہار ماننے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ امیت شاہ  نے صوبائی انتخاب کے ٹکٹ بٹوارے میں سندھیا سے انتقام لینے کے لیے کمر کس لی  ہیں۔  اس صورتحال میں   اپنے آپ کو چانکیہ کا وارث سمجھنے والے بی جے پی  کے مقامی رہنما گم گشتہ راہ ہیں اور ان کے رائے دہندگان پریشان ہیں کہ کیا کیا جائے؟   بقول شاعر؎

رہنماؤں کو نہیں خود بھی پتا رستے کا 

 راہ رو پیکر حیرت ہے خدا خیر کرے

ہریش چندر  کامسئلہ یہ  تھا کہ امیت شاہ  وفاداری کے سبب  وزیر اعلیٰ کے باجگذار  ارکان اسمبلی    سے ان کی  ٹھنی  ہوئی تھی۔  ہریش چندر مینا دراصل راجے اور شاہ  کی  سرد جنگ  کا ایک شکار ہے۔ ان کے علاوہ درجنوں ارکان اسمبلی  بغاوت پر آمادہ  ہیں اور  یہ گھمسان  جاری ہے۔   سندھیا نے اپنی پسند کے ۱۹۰ امیدواروں کی جو فہرست تیار کی تھی اس کو امیت شاہ نے رد کردیا  اور اپنے وفادار اوم پرکاش ماتھر،   اویناش رائے کھنہ، وی ستیش، چندرشیکھر، مدن لال سینی، پرکاش جاویڈیکر اور گجیندر سنگھ شیخاوت  پر مشتمل انتخابات کی انتظامی کمیٹی کے چکرویو میں  وسندھرا کچھ ایسے جکڑ  لیا کہ وہ  بے دست و پا  ہوگئیں۔امیت شاہ کی نامزد کردہ  ۱۵ رکنی  کمیٹی نے۶ وزراء سمیت جملہ ۶۰ ارکان اسمبلی کے خلاف رائے دے دی۔  امیت شاہ نے اس کو نافذ کرکے کئی  ارکان اسمبلی کو  کمل کے نشان سے محروم  کردیا۔   اب کوئی نہیں جانتا کہ  ان میں سے کتنے کانگریس کی جانب نکل جائیں گے اور کتنے باغی امیدوار بن کر انتخابی میدان میں کود پڑیں گے۔

  راجستھان  کے اندر بی جے پی کی پہلی فہرست کے بعد   ۵ بار انتخاب جیتنے والے  بی جے پی کےوزیر  سریندر گویل  نے ٹکٹ سے محرومی کے سبب  استعفیٰ دے دیا۔  دوسری لسٹ  کے جاری ہونے پر بغاوت کی لہر مزید تیز ہو گئی۔ شری ڈونگر گڑ ھ کے رکن اسمبلی کسنا رام نائی اور سورت گڑھ کے رکن اسمبلی اشوک ناگپال نے پارٹی کی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا۔ کسنا رام نائی نے تو’بھارت واہنی پارٹی‘ کے ٹکٹ پرانتخاب لڑنے کا اعلان بھی  کردیانیز اشوک  ناگپال نےآزاد امیدوار  کی حیثیت سےشری گنگا نگرجاکر انتخاب لڑنے کا فیصلہ کیا۔   ان  موقع پرستوں کی صف میں   بی جے پی کے مسلم رکن اسمبلی حبیب الرحمن  بھی جلوہ افروز  ہوگئے  بلکہ انہوں نے آگے بڑھ   کانگریس میں گھر واپسی کا اعلان کردیا۔

  حبیب الرحمٰن کو  بی جے پی کے ذریعہ  دھتکارے جانے پر یاد آیا کہ ان کے والد محمد عثمان دو مرتبہ کانگریس کے رکن اسمبلی چنے گئے تھے۔  ۲۰۰۸ ؁ میں جب حبیب الرحمٰن کو کانگریس  نے اسمبلی کا ٹکٹ نہیں دیاتو انہوں نے کمل تھام کر کانگریس کے ساتھ  پنجہ آزمائی کا فیصلہ کیا۔ اس وقت بی جے پی  کی شکست کے باوجود وہ کامیاب ہوئے اور ۲۰۱۳ ؁میں بھی جیتے ۔   اس سے قبل تین بار وہ کانگریس کے  ٹکٹ پر منڈوا اسمبلی حلقہ سے رکن اسمبلی منتخب ہوئے تھے۔ کانگریس نے اپنا وعدہ نبھاتے ہوئے پھر سے حبیب الرحمٰن کو ناگورسےٹکٹ سےدے  دیا  بہت ممکن ہے وہ  کامیاب  بھی ہوجائیں لیکن بی جے پی نے ان کے ساتھ جو ٹیشو پیپر کا سا سلوک کیا ہے اس میں ابن الوقت سیاستدانوں کے لیے عبرت کا پیغام ہے۔

 ۲۰۰۸ ؁ میں بی جے پی کی  ہار کے باوجود کامیابی درج کروا کر حبیب الرحمٰن  نے ثابت کردیا تھا  کہ وہ بی جے پی کی حمایت سے بے نیاز  ہیں۔ ۲۰۱۳ ؁ کی  کامیابی کے باوجود  وزارت سے محرومی کی وجہ  وسندھرا راجے کا  یونس خان پر  اعتماد تھا۔  اس باریونس کا بھی  ٹکٹ کٹ گیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ  وسندھرا  راجےاپنے پسندیدہ  مسلم وزیر کو بھی  ٹکٹ دلوانے میں کیوں ناکام رہیں ؟ بی جے پی کو اندازہ ہوگیا ہے کہ  جن مسلم رائے دہندگان  نے حبیب یا یونس کو  ان کی ذاتی ساکھ پر ووٹ دینے کی غلطی کی تھی اب اس کے  دوہرائے جانے کا امکان ندارد ہے۔ یونس  دوسری فہرست  کے آنے تک امید لگائے بیٹھے رہے ۔  وہ اگر بروقت  کانگریس میں آجاتے تو ممکن ہے انہیں بھی ٹکٹ مل جاتا۔ کانگریس اپنی پہلی لسٹ میں ۹ مسلمانوں کو ٹکٹ دے چکی ہے ممکن ہے دوسری میں چند ایک کا اضافہ ہوجائے۔ ویسے کانگریس نے بھی گہلوت کی اسمبلی کے سابقہ ۷۹ ارکان اسمبلی کو ٹکٹ سے محروم کردیا ہے۔ نئی فہرست  میں سے ۲۹ پسماندہ ذاتوں اور ۲۴ پسماندہ قبائل کے  افراد ہیں۔  اسی کے ساتھ ۲۳ جاٹ اور ۱۳ راجپوت بھی امیدوار بنائے گئے ہیں۔

 ہجومی قتل کے سب سے مشہور واقعات راجستھان میں وقوع پذیر ہوئے۔ الور میں پہلو خان  اور راکبر  کی شہادت کے بعد بی جے پی رہنماوں نے ہندو رائے دہندگان کی خوشنودی کے لیے انتظامیہ کی مدد سے قاتلوں   کو گرفتار کروانے  کے بجائےمقتول کے ساتھیوں کومقدمہ میں پھنسا دیا۔   اس  رویہ نے مسلمانوں کے اندر بی جے پی اور اس کے رہنماوں سے  سخت نفرت کا روپ دھار لیا۔  اس کا نتیجہ الور کے ضمنی انتخاب میں نظر آیا جہاں بی جے پی کو  ایک لاکھ ۹۶ ہزار ووٹ کے فرق سے ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ اس  جھٹکے سے بی جے پی کا دماغ کسی حدتک درست ہوا ہے۔  اس نے  اس بار ’ گائے کی اسمگلنگ کرو یا ذبح کرو تمہیں قتل کردیا جائے گا ‘ کہنے والے رام گڈھ کے گئو بھکت گیان دیو اہوجا کی چھٹی کرکے اس کی  جگہ سکھونت سنگھ کو میدان میں اتارا ہے۔  آہوجا نے جے این یو پر اپنے اوٹ پٹانگ بیان میں  کہاتھا کہ  وہاں روزآنہ ۵۰ ہزار ہڈیاں، ۱۰ ہزار سگریٹ،   ۳ ہزار کنڈوم اور ۵۰۰ اسقاط حمل کے انجکشن ملتے ہیں نیز لڑکے لڑکیاں عریاں رقص کرتے ہیں۔

اسی علاقہ کےصوبائی وزیر دھن سنگھ راوت کا ٹکٹ بھی کٹ گیا  کیونکہ ان کے خلاف حال میں یہ کہنے پر پولس شکایت درج ہوئی کہ اگر مسلمان متحد ہوکر کانگریس کو ووٹ دیتے ہیں تو ہندو بھی  یکمشت بی جے پی کو ووٹ دیں۔ الور شہر کے بنواری لال سنگھل کی جگہ اس بار  سنجے شرما کو کمل تھمایا گیا کیونکہ  اس نے اعلان کیا تھا مسلمانوں کی  ساری دلچسپی صرف ملک کو اپنے قبضے    میں لینے کی ہے۔ اس لیے ہر جوڑا ۸ تا ۱۴ بچے پیدا کرتا ہے۔  راکبر قتل کے بعد سنگھل نے کہا تھا کہ اس کی موت زہر کھانے کے وجہ سے ہوئی ہے۔الورکے حالیہ  پارلیمانی انتخاب میں بی جے پی نے جس  صوبائی وزیر جسونت سنگھ کو میدان میں اتارا تھا اس کی بھی چھٹی کردی گئی۔  اس نے  ببانگ دہل  ہندووں سے  بی جے پی کو اور مسلمانوں سے کانگریس کو ووٹ دینے کی تلقین کی تھی۔   بی جے پی کے اس سلوک میں نفرت پھیلانے والے سیاستدانوں کے لیے یہ سبق ہے اس شر انگیزی  سے  جب مقبولیت میں کمی آتی ہے توخود ان کی اپنی پارٹی بھی انہیں دھتکار دیتی ہے۔  اس لیے نفرت پھیلانے کے بجائے فلاح وبہبود کے کام کرنے میں بھلائی ہے۔

وسندھرا راجے سندھیا کے دورِ اقتدار میں سب سے زیادہ دہشتناک واقعہ   راجسمند  میں پیش آیا۔  وہاں پر شمبھو ناتھ نامی ایک درندے نے  اپنی ہی ہم مذہب  خاتون کو بہن بناکر اس پر دست درازی کی۔  بنک سے قرض حاصل کرنے کی خاطر اسے بنک منیجر کے پاس بھیج دیا۔  اپنے گناہوں کی پردہ پوشی کے لیے  اس نےافرازلاسلام  نامی ایک بنگالی مزدور کو نذرِ آتش کرکے ایک معصوم بچے سے اس کی ویڈیو بنائی۔  اپنی اس گھناونی حرکت کو اس نے ہندو دھرم کی رکشا اور لو جہاد قراردیا۔ وزیراعلیٰ نے اس کی مذمت کی  اور گرفتاری بھی عمل میں آئی لیکن پھر شمبھو ناتھ  کی حمایت میں  عدالت کے سامنے مظاہرے ہونے لگے اور اس کی خاطر زور و شور سے چندہ جمع کیا جانے لگا مگر بی جے پی خاموش تماشائی بنی رہی۔   ان حرکتوں سے اس  بدمعاش   کا حوصلہ اس قدر بلند ہوا کہ جیل  کے اندر سے شمبھو نے  دو ویڈیو جاری کر کے زہر افشانی جاری رکھی۔   اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ سلاخوں کے پیچھے بھی  وہ درندہ  کس طرح عیش و آرام کی زندگی گزاررہا ہے؟

 شمبھو ناتھ کے خلاف قانونی چارہ جوئی کس مرحلے میں ہے کوئی نہیں جانتا لیکن ایک سال کا وقفہ ہونے والا ہےمگر اس وحشی کو ہنوز پھانسی کی سزا نہیں ہوئی۔  رام نومی کے جلوس میں اس کی پذیرائی ہوچکی ہے اور اترپردیش نونرمان سینا نے اس کو آگرہ سے لوک سبھا کا امیدوار بنانے کا اعلان کررکھا ہے۔ اس تناظر میں راجستھان ہائی کورٹ کا سابق وزیر بابولال ناگر کے خلاف وارنٹ جاری کرنا خوش آئند تبدیلیوں کا غماز ہے۔ بابولال ناگر کے خلاف عصمت دری کا الزام ہے  اور سی بی آئی اس کی تفتیش کررہی ہے۔  ناگر کے خلاف طبی اور دیگر  ثبوت  کے علاوہ  متاثرہ  خاتون کا بیان بھی ہے اس کے باوجود ضلعی عدالت نے اسے شک کے سہارے بری کردیا۔  اس فیصلے کے خلاف مدعی اور سی بی آئی  نے عدالت عالیہ سے رجوع کیا۔   اس پر بابو لال نے پیشگی ضمانت کی درخواست کی اور عدالت نے ضمانتی وارنٹ جاری کرتے ہوئے  مقدمہ کی سماعت شروع کردی۔  اس سے محسوس ہوتا ہے کہ انتخاب سے پہلے ہی  کمل دھاریوں کے برے دن شروع ہوگئے ہیں۔

  بی جے پی کو تین محاذ پر مقابلہ کرنا ہے۔ ایک تو اس کی کارکردگی سے عوام کا عدم اطمینان اور مایوسی،  دوسرے نفرت و عناد کی آگ جسے خوب بھڑکایا گیا مگر اب وہ خود اس کو نگل جانا چاہتی ہے اور تیسری آپسی  مہا بھارت  جس کی بھاری   قیمت اسے  چکانی پڑ سکتی ہے۔ بدقسمتی سے  یہ جنگ ایک ایسے وقت میں چھڑی ہوئی ہے جب چہار جانب سے کمل کے مرجھانے نوید آرہی ہے۔ انتخابی عمل شروع ہونے سے قبل تین ایجنسیوں کے سروے شائع ہوچکے ہیں۔ ان میں سے دو ٹائمز ناو اورسی این ایکس ( وار روم) نے کانگریس کے ۱۱۵ اور بی جے پی کو ۷۵ پرر کھا ہے۔  سی ووٹرس نے تو ۱۴۲ اور سی فور ۱۳۱   نشستوں پر  کانگریس کی کامیابی کا امکان ظاہر کیا ہے۔   الیکشن سروے کئی مرتبہ منہ کے بل گرجاتے  ہیں اور بہار کے وقت تو این ڈی ٹی وی  کے پرنو ئےرائے کو معذرت بھی طلب کرنی پڑی  تھی لیکن یہ کبھی کبھار درست بھی ہوتے ہیں۔

 اس بار اگر  سروے  کا اندازہ درست  نکل گیا تو قومی انتخاب کا یہ  سیمی فائنل آئندہ سال کے لوک سبھاالیکشن  پر زبردست اثرات  ڈالے گا۔ ان جائزوں میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ عوام مسائل کی بہ نسبت افراد کوزیادہ  اہمیت دیتے ہیں۔  اس لیے مودی جی کے  مقابلے راہل گاندھی کی دعویداری مضبوط ہوجائےگی اور وہ طاقتور حریف بن کر  ابھریں گے۔ مودی جی کے ناقابلِ تسخیر ہونے کا خیال پاش پاش ہوکر بکھرجائے گا۔  شاہ جی کی ’کانگریس مکت‘ والی ڈینگ بے اثر ہو جائے گی نیز  مہاگٹھ بندھن کے امکانات روشن ہوجائیں گے۔ اس صورتحال میں  بھاگوت جی کا  رام مندر اور ہندوتوا کسی کام نہیں آئے گا۔ شاید آر ایس ایس کو اندازہ ہوچکا ہے کہ یہ بی جے پی کے چل چلاو  کا زمانہ  ہے۔  اس لیے وہ رام مندر کا شور مچا کر   اگلی حکومت کی راہوں ممکنہ  کانٹے بچھا رہی  تاکہ  پانچ سال بعدپھر سے کمل کاپھول  کھلانے کی سعی کی  ممکن ہولیکن شاید  ہندوستانی عوام اپنی غلطی کو اتنی  جلدی نہ دوہرائیں۔  ویسے بھارت دیس کے بھولے بھالےعوام کی  غلام بھیک نیرنگ کےاس شعر میں  عکاسی  دیکھ کر یقین کے ساتھ کچھ کہنا مشکل  ہی ہے ؎

آ چلا اس بت عیار کی باتوں کا یقیں

 سادگی اپنی قیامت ہے خدا خیر کرے

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

سلیم خان

ڈاکٹر سلیم خان معروف کالم نگار اور صحافی ہیں۔

متعلقہ

Back to top button
Close