خصوصیسیاست

رام جنم بھومی کے بجائے رام کتھا پارک

جو بیچارہ اپنا گورکھپور نہیں بچا سکا وہ بھلا چھتیس گڑھ کیسے جیت پائے گا؟

ڈاکٹر سلیم خان

سنگھ پریوار  کے پاس اب بی جے پی کی نیاّ پار لگانے کے لیے رام مندر کا آخری سہارا ہے۔ اس لیےسر سنگھ چالک   (صدر) موہن بھاگوت جی نے ناگپور سے مندر کا  راگ چھیڑا تو  کاریہ واہک (سکریٹری جنرل )  بھیاجی جوشی نے ممبئی میں تان توڑی۔ وی ایچ پی کے سادھو سنت  تال ٹھونک کر کٹورہ بجاتے ہوئے دہلی کے تال کٹورہ اسٹیڈیم میں جمع ہو  گئے۔ سادھو سنتوں نے سپریم کورٹ کے فیصلے کی پرواہ نہ کرتے ہوئے رام مندر کی تعمیر کا عزم کیا اور بھیاجی نے دیوالی کے موقع پر رام مندر کی آشا کا دیا روشن کیا۔    کل یگ کی اس سیاسی اس  رام لیلا میں  کمان عدلیہ ہے۔ انتہا پسند رام بھکت تیر  ہیں  جن کا نشانہ بظاہر مسلمانوں کی طرف لیکن درحقیقت  خفیہ ایجنڈاہندو رائے دہندگان   کے ووٹ  بنک پر چھاپہ مارنا ہے۔ تیر  چلانے والے سادھو سنت ہیں۔  مرکزی حکومت مون برت رکھے ہوئے ہے۔ عدلیہ نے لمبی تاریخ دے کر اپنادامن بچا لیا ہے۔ مسلمان بھی اس کے ساتھ ایک طرف ہوگئے ہیں  اور درمیان میں جو  سنگھ پریوار رہ  گیا اس کے لیے بی جے پی پر نشانہ سادھنے کے علاوہ کوئی چارۂ کار نہیں بچا ہے۔

رام مندر کے سلسلے میں ابھی تک مودی جی نے ایک پراسرار خاموشی اختیار کررکھی ہے۔ ان کے رویہ سے پتہ ہی نہیں چلتا کہ اس مسئلہ پر ملک بھر میں ایک ہنگامہ بپا ہے۔ وہ بھی مسلمانوں کی طرح اس کو نظر انداز کررہے ہیں۔ فی الحال رام  جنم بھومی  جیسے مسئلہ پر  پردھان سیوک اور مسلمانوں کا یکساں رویہ ایک  منفرد اورنادر اتفاق ہے۔ یہ کیفیت کب تک رہے گی کوئی نہیں جانتا۔ مودی جی کے برعکس شعلہ دہن  یوگی جی  سے دیوالی کے موقع  پر رام مندر کی بابت  بڑے اعلان کی  امید اس لیے باندھی گئی  تھی بظاہر ان سے بڑا رام بھکت فی الحال  کوئی اور نہیں ہے۔ وہ بہت کچھ کر سکتے ہیں اس لیے کہ اترپردیش کی زمامِ کار ان  کے ہاتھوں  میں ہے  لیکن  یوگی جی نے بھی  سادھو سنتوں سمیت پورے سنگھ پریوار کو مایوس کردیا۔ ستاّ کی موہ مایا  (اقتدار کی حرص و طمع) ان پر غالب آگئی اور وہ رام مندر کے بجائے رام کتھا پارک میں ہنومان چالیسا سنانے بیٹھ  گئے۔

ایودھیا میں رام کتھا پارک دراصل رام بھکتوں کے لیے افیون کی نئی پڑیا ہے۔   اس  کا سنگ بنیاد رکھنے کے لیے حکومت  کو ہندوستان بھر کا کوئی رشی منی یا سادھوی نہیں ملی اس لیے مجبوراً  جنوبی کوریا کے صدر کی عیسائی  بیوی کم جنگ سوک سے شیلا نیاس کرایا گیا۔  یہ حرکت اگر کانگریس والے کرتے اور سونیا گاندھی اٹلی سے کسی بلاتیں  تو سنگھ پریوار آسمان سر پر اٹھا لیتا۔ بعید نہیں کہ  بنیاد کا پتھر اکھاڑ کر سریو ندی میں بہا دیاجاتا لیکن  بھگوا دھاری یوگی جی کے ہاتھوں  پورے ہندو سماج  نے اس توہین  کو برضا و رغبت برداشت کرلیا۔  گمان غالب تو یہ ہے کہ جنوبی کوریا کے صدر کواس تقریب میں شرکت کی   دعوت دی گئی ہوگی  لیکن صدر مون جائی اون بھلا اس  فضول کام کیوں  وقت لگاتے اس لیے انہوں نے ڈونالڈ ٹرمپ کی طرح مصروفیت کی دہائی دے کر معذرت چاہ لی ہونیز بہت زیادہ اصرار کےچلتے  اپنی اہلیہ  کم جنگ سوک کو روانہ کردیا ہو۔

یہ حقیقت اب جگ ظاہر ہے کہ مودی جی کو اپنوں کی بہ نسبت پرائے زیادہ اچھے لگتے ہیں۔ غیر ملکی دوروں پر وہ زیادہ خوش و خرم نظر آتے ہیں۔  وہ دنیا بھر میں گھوم کر پردیسی میزبانوں سے (بشمول پاکستان)   بہت گرمجوشی سے ملتے ہیں۔  اس لیے رام کتھا پارک کے سنگ بنیاد کی تقریب میں  کسی غیر ملکی کی موجودگی کے  فوائد کا خیال انہیں کو آیا ہوگا  جب جولائی میں   مون جائی اور کم جنگ   دہلی آئے تھے۔ یوگی جی تو اپنے آبائی وطن اتراکھنڈ بھی کم ہی جاتے ہیں ہاں شاہ جی کے احکامات کی تعمیل میں   ہندوستان کے جن شہروں میں پرچار کے لیے بھیجا جاتا وہاں  بصد شوق  چلےجاتے ہیں۔ یوگی جی خود کسی غیر ملکی  مہمان کو آنے کی دعوت  دیں اس  کی توقع بہت کم ہے۔ ویسے وہ  آمنترن(دعوت) دے بھی دیں تو ان کے بلانے پر کوئی آجائے اس کو امکان  بالکل نہیں ہے۔

اس تقریب میں کسی غیر ملکی  مہمان  کی شرکت ایسی  ناگزیر تھی  تو مودی جی کو چاہیے تھا کہ  پڑوسی نیپال یا بھوٹان سے کسی  ہندو حکمراں کو بلا لیتے۔وہ بڑی شردھا (عقیدت)سے خود بھی آتا اور اپنی دھرم پتنی (زوجہ ) کو بھی ساتھ لاتا۔ سچ تو یہ ہے کہ  انگریزوں کے چلے جانے کے بعد  بھی سفید جلد کی غلامی نہیں گئی۔ گورا یوروپ سے آئے یا کوریا سے وہ گورا ہی ہوتا ہے۔ ہندو مت یا بودھ مت کے حامل گورے  کی اہمیت کم ہے لیکن اگر وہ  عیسائی ہوتو سر آنکھوں پراور پھر کم جنگ سوک  کی طرح گوری ہو تو کیا  کہنے !کم خاتون اول تو ہے لیکن ان کی کوئی آئینی حیثیت نہیں ہے۔ ان سے زیادہ اہمیت کی حامل تو پاکستانی ایوانِ بالا کی رکن کرشنا کماری ہیں۔ کرشنا کی اگر عزت افزائی کی جاتی سادھو سنتوں کو زیادہ خوشی ہوتی۔ دلت سماج سے تعلق رکھنے کے باوجود کرشنا کماری کا ایوان بالا میں منتخب  ہوجانا بہت اہمیت  رکھتاہےورنہ  ہندوستان کی ۲۹ خاتون ارکان ِ راجیہ سبھا  میں شایدہی کوئی دلت ہو۔

ان قیاس آرائیوں سے قطع نظر اندر ہی اندر جو بھی  کھچڑی پکی وہ   کوئی نہیں جانتا ہاں  یہ سبھی جانتے ہیں کہ  رام  کے نام پر  وزارتِ سیاحت نے  ایک غیر متنازع زمین پر پارک  کی تعمیر کا کام شروع کردیا ۔ اسی طرح  کےخطۂ اراضی   پر جہاں  کوئی تنازع  نہ ہو   اگرسنگھ پریوار رام مندر بنادے تو کسی  کو اعتراض نہیں ہوگا؟   لیکن ایسا کرنے  پر  ووٹ نہیں  ملیں گے؟  سنگھ پریوار کے نزدیک  اقتدار کو پانا اصل نشانہ ہے، مندر تو   فقط ایک بہانہ ہے۔ موجودہ صورتحال میں جبکہ معاملہ عدالت عظمیٰ میں ہے سنگھ اس پر بول بھی نہیں سکتا اور انتخاب کی قدرت کے سبب اس کو چھوڑ بھی نہیں سکتا۔ اس دھرم سنکٹ  کو مراٹھی میں’پکڑو تو کاٹتاہے چھوڑو تو بھاگتا ہے‘کہتے ہیں۔  اسی کے چلتے دیوالی کے دن    یوگی جی نے فیض آباد ضلع کا نام بدل کر سری ایودھیا رکھ دیا۔ یہ عجیب مصیبت ہے کہ لوگ ان  سےکام بدلنے کا مطالبہ کرتے ہیں تو یہ نام بدل کر رہ جاتے ہیں۔

ضلع کا نام بدلنے کے بعد انہوں نے راجہ دشرتھ کے نام پر میڈیکل کالج  بنانے کا اعلان کیا۔    یہ اچھا اقدام ہے اور اگر رام جنم بھومی کی یقینی نشاندہی  ہوجائے جو ناممکن ہے تو  اس پر راجہ دشرتھ اسپتال بناکر شعبہ اطفال  کو مریادہ پرشوتم  رام سے منسوب کرنا چاہیے۔ طبی کالج  کے علاوہ یوگی جی نے   ایودھیا میں شری رام بھگوان ہوائی اڈہ تعمیر کرنے  کا اعلان کیا۔ سوال یہ ہے اس ہوائی اڈے پر کون آئے گا؟ کیا  ایودھیا آنے جانے والوں کے پاس ہوائی جہاز کا کرایہ ادا کرنے کی سکت ہے۔ وہاں جانے والے سادھو تو ریل گاڑی کا کرایہ بھی کم ہی اداکرتے ہیں۔ کم  جنگ سوک واپسی میں تاج محل دیکھنے کے لیے آگرہ تشریف لے گئیں۔ انہیں یہ جان کر تعجب ہوا ہوگا کہ آگرہ میں  جہاں دنیا بھر سے لاکھوں سیلانی آتے ہیں ابھی تک  بین الاقوامی ہوائی اڈہ سے محروم ہے۔ متھرا  کے ورنداون دیکھنے کا خیال تک انہیں نہیں آیا کیونکہ وہاں  تو ڈومیسٹک ائیر پورٹ بھی نہیں ہے۔

 سنگھ پریوار کے رام بھکت وزیراعلیٰ یوگی  سے کالج یا ہوائی اڈے کی نہیں بلکہ  رام مندر کی خوشخبری  سننے کے لیے بیتاب  تھے لیکن  یوگی جی کو  سانپ سونگھ گیا۔ ایودھیا سے نکل کر یوگی جی جب انتخابی دورے پر چھتیس گڈھ پہنچے تو انہیں  رام چندرجی کی یاد آئی۔  انہوں نے کہا ۲۰ تاریخ یعنی پولنگ کی تاریخ منگل ہے اور منگل ہنومان کا دن ہے جو رام کے بھکت تھے۔ ۶ نومبر کو جب یوگی ایودھیا میں تھے تو وہ بھی منگل تھا لیکن اس وقت ان کو ہنومان جی کی یاد نہیں آئی۔ یوگی نے  کہا جو نہیں رام کا وہ نہیں ہمارے کسی کام کا۔ سوال یہ ہے کہ سنگھ پریوار  رام کا  کام کررہا ہے یا رام کا نام جپ کر اپنا کام نکال رہا ہے؟ زعفرانی پریوار کی  ان  حرکتوں کو دیکھ کر ہرے راما ہرے کرشنا کا وہ نغمہ یاد آ جاتا ہے ’دیکھو اے دیوانو تم یہ کام نہ کرو، رام کا نام بدنام نہ کرو‘۔ سچ تو یہ ہے کہ   ہپی ّ لوگوںّ نے رام کا نام اتنا بدنام نہیں کیا جتنا کہ سنگھ پریوار نے کیا ہے۔ یوگی جی نمائشی رام بان (تیر) چلا کر زعفرانی  کیچڑ میں کمل  کھلانے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن اب اس کا امکان بہت کم ہے۔ جو بیچارہ اپنا گورکھپور نہیں بچا سکا وہ بھلا چھتیس گڑھ کیسے جیت پائے گا؟

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

سلیم خان

ڈاکٹر سلیم خان معروف کالم نگار اور صحافی ہیں۔

ایک تبصرہ

متعلقہ

Back to top button
Close