خصوصیسیاست

رام رتھ کے پہیہ کی ہوا نکل گئی

ڈاکٹر سلیم خان

راجستھان کا ضلع الور مودی راج میں   دل دہلا دینے والی خبروں کا مرکز رہا ہے۔ پہلو خان اور راکبر کا بہیمانہ  ہجومی قتل اسی علاقہ میں رونما ہوا۔ نیرج جاٹو  نامی دلت نوجوان کو اس سال ہولی کھیلتے ہوئے قتل کردیا گیا۔ الیکشن کا زمانہ آیا تو لوگ  سب بھول بھال کر  انتخاب میں جٹ  گئے مگر مہم کے دوران الور سے ایک اجتماعی خودکشی کی  خبر آگئی۔ یہ پدماوت کی خیالی  خودکشی نہیں تھی اورنہ  کسی علاوالدین خلجی کے حملے کے بعد کی گئی تھی بلکہ وہ چار نوجوان تھے جو بیروزگاری سے دل برداشتہ ہوکر ریلوے پٹری پر کود گئے تھے۔عینی شاہدین کے مطابق ۱۷ سے ۲۴ سال کی عمر کے یہ طالبعلم نوکری نہ ملنے اندیشے اور جلد ہونے والے امتحانات کے حوالے سے پریشان تھے۔ ان میں سے تین موقع  واردات پر ہلاک ہو گئے جبکہ ایک نے اسپتال جاتے ہوئے دم توڑ دیا۔ راجستھان کے اندر بیروزگاری کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ پچھلے دنوں  ۵ معمولی سرکاری نوکریوں کے لیے ۲۳ ہزار سے زائد درخواستیں موصول ہوئیں۔ یہ ایک شرمناک حقیقت ہے کہ  دنیا کی تیسری بڑی معیشت کا اعزاز حاصل کرنے کے باوجود  بھارت میں خودکشی کی شرح سب سے زیادہ ہے۔ ۲۰۱۵ ؁میں جبکہ چہار جانب ’سب کا ساتھ سب کا وکاس ‘ کا نعرہ گونج رہا تھا  تقریباً ۹ ہزار طلبا نے اپنی زندگیوں کا خاتمہ کر لیا۔

 الور میں تازہ خودکشی کی واردات کے تین دن بعد  وزیراعظم نریندر مودی  انتخابی مہم کے سلسلے میں الورپہنچے۔ عوام کو ان سے توقع تھی کہ وہ بیروزگاری کے آسیب پر لگام لگانے کی کوئی ترکیب سجھائیں گے لیکن وہاں پر انہیں رام مندر یاد آگیا۔ انہوں نے  رام مندر کی تعمیر میں تاخیر کا الزام کانگریس  پر ڈالتے ہوئے کہا کہ وہ راجیہ سبھا میں اکثریت کی بنیاد پر ملک کو یرغمال بنانے کا کام کررہی ہے۔ مودی جی شاید نہیں جانتے کہ فی ا لحال ایوان بالہ کے اندر ان کی اپنی پارٹی کے ۷۳  ارکان ہیں اور کانگریس کے صرف ۵۰ ہیں۔ اس طرح راجیہ سبھا کی سب سے بڑی جماعت بی جے پی ہے۔ یہ بات درست ہے کہ بی جے پی کو اکثریت حاصل نہیں ہے لیکن   کسی مسئلہ پر دیگرجماعتوں کو اپنے ساتھ لینے میں ناکامی کے لیے کانگریس کو موردِ الزام ٹھہرا دینا سراسر زیادتی ہے۔ ویسے بعید نہیں کہ رائے دہندگان کو ورغلانے کے لیے انہوں نے جانتے بوجھتے یہ  جھوٹ گھڑا ہو۔ مودی جی کو اس سے کو ئی فرق نہیں پڑتا  اس لیے کہ سارا دیش جان گیا ہے’ چوکیدار چور ہی نہیں جھوٹا ‘بھی ہے۔

 رام مندر کے نام پر سنگھ پریوار نےمل بھر میں  ہنگامہ کے باوجودتادیر پردھان سیوک پراسرار خاموشی  بنائے رہے۔ اس کے بعد بولے بھی تو انتخابی جلسے میں اور اس طرح کہ اپنے سیاسی مخالفین کے ساتھ ساتھ عدالت عظمیٰ کو بھی توہین کردی  جو انتہا درجہ کی غیر ذمہ داری ہے۔  وزیراعظم کےیہ اوٹ پٹانگ الزامات ان کے عہدے کو زیب نہیں دیتے۔ انہوں نے فرمایا کانگریس نے راجیہ سبھا میں تعداد کی طاقت سے مواخذے کی دھمکی دے کر ججوں کو ڈرانے دھمکانے کا نیا کھیل شروع کیا ہےاور اس وجہ سے عدالت کا کام تعطل کا شکار ہورہا ہے۔ اس بیان میں جہاں عدلیہ پر دھمکی سے  ڈرجانے کی تہمت ہے وہیں  بی جے پی کا اعتراف شکست ہے۔ ایک طرف تو وزیرداخلہ اعلان کرتے ہیں کہ بھارت کانگریس مکت ہوگیا اور دوسری جانب اسی کانگریس سے عدلیہ خوفزدہ ہونے کا شوشہ چھوڑاجاتا ہے۔ اس کے معنیٰ یہ ہیں کہ ان متضاد باتوں  میں سے کم ازکم  ایک یا دونوں غلط ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ عدلیہ نہیں بلکہ بی جے پی اور وزیراعظم  کانگریس سے زیادہ عوام سے خوفزدہ ہیں اس لیے اول فول بک رہے ہیں۔

وزیراعظم کی ملک کے  دانشورں سے کہاکہ   کہ کانگریس پارٹی سپریم کورٹ کے بڑے وکیلوں کو راجیہ سبھا میں پہنچاتی ہے اور ان کے ذریعہ سے ملک کے حساس معاملوں کو موخرکرانے کا کام کرتی ہے۔ وزیراعظم بھول گئے کہ ان کے وزیرخزانہ ارون جیٹلی اوروزیر قانون و انصاف  روی شنکر پرشاد  بھی  وکیل  اور راجیہ سبھا کے رکن ہیں۔ اب اگر کوئی کہے کہ بی جے پی بڑے وکیلوں کو راجیہ سبھا میں بھیج کر  وزارتوں سے نوازتی ہے اور اپنے مقاصد حاصل کرتی ہے تو یہ کس قدر احمقانہ منطق ہوگی۔ امیت شاہ  پر  سی بی آئی نے قتل کے الزامات لگائے اور معمر تفتیشی افسر نے ابھی حال میں  عدالت کے اندر اس   کی تصدیق کردی۔ شاہ  جیسے خطرناک آدمی کے زیر صدارت عدلیہ کا کانگریس سے ڈر جانے پر وہی یقین کر سکتا ہے جو سیاست کی ابجد سے ناواقف ہو۔ مودی جی کو انتخابی نتائج کے بعد اس بات کا علم ہوجائے گا کہ ہندوستانی رائے دہندگان کی بابت وہ بڑی غلط فہمی کا شکار ہیں۔ قوی امید ہے کہ  راجستھان کےعوام  ان کو اس گمراہ  کن بیان کا کرارہ جواب دیں گے۔

رام مندر کے معاملے میں  ہندوتواوادیوں کی یکے بعد ناکامیوں سے مودی جی عبرت پکڑ کر کوئی نیا راگ الاپنا چاہیے۔ پہلے تو ادھو ٹھاکرے ایودھیا سے ناکا ہوکر لوٹے اور پھر وی ایچ پی کی دھرم سبھا ناکام رہی۔ دہلی کے اندر مستقبل قریب میں ہونے والی دھرم سبھا کو کامیاب کرنے کےلیے راشٹریہ سویم سیوک سنگھ نے عوامی حمایت حاصل کرنے کی خاطر رتھ یاترا نکالنے کا فیصلہ کیا۔ جاگرن منچ کے تحت یکم دسمبر سے۹ دسمبر تک پوری دہلی میں نکالی جانے والی  اس رتھ یاترا کو ’سنکلپ رتھ یاترا‘ کا نام دیا گیا ہے۔ یاتراکو زعفرانی جھنڈی دکھانے کے لیےسنگھ رہنما بھوشن آہوجا جھنڈے والان مندرنما دفتر کے اندر اس امید میں تشریف لائے کہ لاکھوں رام بھکت ان کا استقبال کریں گے  لیکن جب وہ وہاں پہنچے تو مشکل سے۱۰۰لوگ بھی موجود نہیں تھے۔ اس  خبر کو پڑھ کر مسلمانوں سے زیادہ خوشی ادھو ٹھاکرے کو ہوئی اس لیے سنگھ نے ان ناکامی پر خوب بغلیں بجائی  تھی۔

اس سنکلپ  یاترا کا اصل مقصد دہلی کے اندر وی ایچ پی کی دھرم سبھا کوکامیاب کرنا ہےلیکن ابتدائی فلاپ شو کے بعد سنگھ پریوار کی بھلائی اس میں ہے کہ یا تو مذکورہ سبھا منسوخ کردی جائے یا کرائے کے لوگوں کو جمع کرکے عوام کا جھانسا دیا جائے۔ بی جے پی کو یاد رکھنا چاہیے کہ آج کل لوگ پیسہ لے کر جلسہ میں تو آتے ہیں لیکن ووٹ نہیں دیتے۔ دہلی کی رتھ  یاترا چیخ چیخ کرکہہ رہی ہے کہ  آئندہ قومی انتخاب اگر زعفرانیوں نے صرف رام مندر پر الیکشن  لڑا تو بعید نہیں کہ ان کا حال کانگریس سے  بھی بدتر ہوجائےلیکن افسوس کہ پردھان سیوک نے اپنے کانوں میں انگلیاں ٹھونس رکھی ہیں اور سر سنگھ چالک  نے اپنا دماغ بند رکھا ہے۔ اب اس قفل کی چابی ای وی ایم مشین کھولے گی اور ان لوگوں کو سیدھے جیل  پہنچا دے گی۔

بی جے پی جنرل سکریٹری وجئے ورگیہ کے تازہ بیان سے ایسا لگتا ہے کہ ان ناکامیوں کے سبب اس کی عقل ٹھکانے آئی ہے۔ انہوں نے صاف کہا ہے کہ بی جے پی رام مندر پر کوئی آرڈیننس نہیں لائے گی بلکہ عدالت کے فیصلے کا انتظار کرے گی۔ اس  کی وجہ انہوں نے یہ بتائی کہ ایسا کرنے پر فائدہ کم اور نقصان زیادہ ہوگا۔ کانگریس  پارٹی اس کا فائدہ اٹھا کر اقلیتوں کو بھڑکائے  گی اور پولرائزیشن بھی ہوگا۔ اس طرح کی سمجھداری کے موقف پر یہ جماعت کب تک قائم رہتی ہے کچھ کہا نہیں جاسکتا۔ ویسےبھی انسان کا دماغ خراب ہوتے دیر نہیں لگتی اور جس کی عقل میں  پہلے ہی فتور ہو اس کے بارے میں بھلا کیا کہا جاسکتا ہے؟بس عقل سلیم کی دعا کی جاسکتی ہے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

سلیم خان

ڈاکٹر سلیم خان معروف کالم نگار اور صحافی ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close