خصوصیہندوستان

رام مندر کی بلی تھیلے سے باہر

یہ دراصل الیکشن کا بخار ہے جو ڈینگو کی مانندمودی  بھکتوں پر حملہ آور ہوگیا ہے اور ان کے اعصاب کو سلب کررہا ہے۔

ڈاکٹر سلیم خان

ہندو احیاء پرستوں کے بعد اب رام مندر کا شورشرابہ کرنے کے علاوہ کوئی کام نہیں ہے۔ ملک کے عوام حیران ہیں کہ  پچھلے چار سالوں سے یہ لوگ کہاں سورہے تھے اور اب اچانک یہ کیسے جاگ گئے ہیں۔ پہلے ممبئی میں آرایس  ایس کا اجلاس ہوا جس میں مندر کا راگ الاپا گیا اور اس کے فوراً بعد دہلی کے تالکٹورا اسٹیڈیم میں سادھو سنتوں کا دھرمادیش مہا سمیلن  شروع ہوگیا جس میں شرکت کی غرض سے  شری شری روی شنکر پہنچ گئےاور اعلان کیا  کہ وہ ہمیشہ سے مندر تعمیر کے حق میں رہے ہیں۔ وی ایچ پی کے کارگزار صدر آلوک کمار کے مطابق  معاملہ عدالت میں ہونے پر مرکزی حکومت قانون سازی کر کے آسانی سے مندر کی تعمیر کر سکتی ہے لیکن یہ مشورہ پہلے بھی تو دیا جاسکتا تھا  اچانک وہ کون سی مصیبت آن پڑی جواب  ہنگامہ برپا ہوگیا۔یہ دراصل الیکشن کا بخار ہے جو ڈینگو کی مانندمودی  بھکتوں پر حملہ آور ہوگیا ہے اور ان کے اعصاب کو سلب کررہا ہے۔

ملک بھر سے تین ہزار سے زیادہ سادھو سنت دہلی آئے مگر ان میں  ایو دھیا کے مہنت سوامی پرم ہنس نہیں تھے۔ انہوں اپنے تپسوی چھاونی مندر سے ہی  یہ  دھمکی جاری کردی  کہ اگر ایودھیا میں رام مندر تعمیر کی تاریخ کا سرکاری اعلان نہیں کیا گیا تو وہ ۶ دسمبر کو خودسوزی کر لیں گے۔ پرم ہنس کا مطالبہ ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ ۵ دسمبر تک رام مندر تعمیر کرنے کے لئے قانون بنانے کا اعلان کریں۔ یہ سادھو سنت بڑے ذہین لوگ ہوتے ہیں۔ یہ ایسی باتیں کرتے ہیں جسے بڑی آسانی کے ساتھ گھمایا پھرایا جاسکتا ہے۔ یہ بات جگ ظاہر ہے کہ دیوالی کے موقع پر  یوگی جی مندر کی تعمیر کا اعلان کرنے والے ہیں  اس لیے یہ خود سوزی محض گیدڑ بھپکی سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتی۔

سادھو سنتوں کی  اس ہنگامہ آرائی  کو دیکھ کر مرکزی وزیر اوما بھارتی  کو اچانک یاد آگیا کہ وہ بھی بھگوا دھاری سادھوی ہیں۔ انہوں مندر کی تعمیر کے بجائے مسجد کی مخالفت کا راگ چھیڑ تے ہوئے  ایسی ہر تجویز کو مسترد کر دیا ہے جس میں مندر کے قریب مسجد تعمیر کر نے کی بات ہو۔ سابق وزیراعلیٰ اور مرکز میں عرصۂ دراز سے مختلف قلمدان سنبھالنے والی وزیر موصوف کو یہ بھی نہیں معلوم کہ عدالت عظمیٰ تجاویز نہیں پیش کرتی بلکہ احکامات صادر کرتی ہے۔ انہوں نے وزیر کی حیثیت سے آئین کی پاسداری حلف لے رکھا ہے اس لیے وہ انہیں مسترد نہیں کرسکتیں۔ اوما بھارتی نے جب دعویٰ  کیا کہ ہندو دنیا کی سب سے زیادہ برداشت کرنے والی قوم ہےتو غیر سنگھی ہندووں کو بھی تعجب ہوا۔ اور پھر یہ بیان کہ  اگر مندر کے قریب مسجد بنی تو یہ فیصلہ ہندوؤں کو عدم برداشت کی جانب لے جائے گا ایک کھوکھلی دھمکی ہے اس لیےکہ  سنگھ پریوار کے بھکت اپنی عدم برداشت کا مظاہرہ بارہا کرچکے ہیں۔

دہلی کے دھرمادیش سمیلن  میں رام مندر کےنام پر  جمع ہونے والے سنتوں اور مہنتوں کی بلی اس وقت تھیلے سے باہر آگئی جب ان لوگوں نے سپریم کورٹ کو رام کا مخالف  قرار دے دیا۔ اس سے پہلے مرکزی حکومت رام کی دشمن ہوا کرتی تھی لیکن   اس بار مودی جی کووشنو  کا  اوتار کے خطاب سے نواز دیا گیا  نیز اپنے بھکتوں کو گائے،  گنگا، گیتا، گایتری، اور گووندسے عقیدت رکھنے والی حکومت کو ووٹ دینے کی اپیل کرڈالی۔  سوامی ہنس دیواچاریہ کی قیادت میں دھرمادیش سمیلن کے اندر کیے جانے والے دیگر مطالبات بھی  خاصے دلچسپ ہیں مثلاً  اگر زندہ رہنا ہے، مٹھ مندر بچانا ہے، بہن بیٹی بچانی ہے،سنسکرتی اور سنسکار بچانا ہے تو اس سرکار کو دوبارہ لانا ہوگا۔  دہلی کا نام بدل کر اندر پرستھ رکھنے سے کر یکساں سول کوڈ، روہنگیا مسلمانوں کو واپسی،  سارے ملک میں این آر سی کا نفاذ اور آبادی سے متعلق قانون بناے تک کی تجاویز منظور کی گئیں۔

  اس سے ظاہر ہے کہ  دہلی کے بعد ایودھیا، ناگپور، بنگلورو اور پھر ملک بھر میں منعقد ہونے والی یہ ۵۰۰ دھرم سبھائیں دراصل بی جے پی کی انتخابی مہم کا ایک حصہ ہیں۔  اقتدار کے حصول  کی خاطر مذہبی رہنماوں کا جیسا بھونڈا استعمال سنگھ پریوار کررہا ہے اس کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی۔ اس کے اندر سنگھ کا عدم اعتماد اور گھبراہٹ کی علامات  بھی پوشیدہ ہیں۔ دھرمادیش سمیلن میں سوامی   رام بھدرا چاریہ کا بیان کہ  موجودہ حکومت ۲۰۱۹ ؁ سے قبل  اگررام مندر کی تعمیر میں ناکام رہتی ہے تو بھگوان اسے سزا دے گاظاہر کرتا ہے کہ سنت سماج کے سمجھدار لوگ  ابھی سے  آئندہ انتخابی نتائج کی  پیشن گوئی کرکے  اپناپلہّ جھاڑ رہے ہیں تاکہ کل کو اگر بی جے پی ہار جائے تو وہ آسانی سے کہہ سکیں گے  ہم  نے پہلے ہی کہا تھاکمل  کو عوام نے نہیں بھگوان رام نے ہرایا ہےاور اب کانگریس مندر بنائے ورنہ اس پر بھی پرکوپ( عذاب) آئےگا۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

سلیم خان

ڈاکٹر سلیم خان معروف کالم نگار اور صحافی ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close