خصوصیملی مسائلہندوستان

ریزرویشن: معاشی اور سیاسی مساوات موثر ذریعہ

۱۱ستمبر ۲۰۱۸ کو ممبئی میں منعقد ہونے والے مسلم او بی سی کنونشن کے تناظر میں

ڈاکٹر سلیم خان

وطن عزیز میں ریزرویشن  کی ابتداء ایک عارضی  احسان کے طور پر ہوئی تھی جس کو دس سال بعد ختم ہوجانا تھا لیکن آگے چل کر یہ ایک سیاسی اسلحہ بن گیا اس لیے متعینہ مدت کی تکمیل کے بعد بھی کوئی حکومت اس کی جانب نظر بد ڈالنے کی جرأت نہیں کر سکی۔ اس کے بعد وہ ایک معاشی ہتھیار بن گیا اورجب اس کےاقتصادی فائدے نظر آنے لگے تو مختلف  طبقات  نے ازخود اپنے آپ کو پسماندہ کہنا شروع کردیا۔ اس طرح گویا پسماندگی کا دائرہ سکڑنے کے بجائے وسیع ہوگیا۔ یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے مہاراشٹر میں مراٹھا، گجرات میں پٹیل اور شمال میں جاٹوں کی تحریک اس کا ثبوت ہے کہ جولوگ کل تک اقتدار پر قابض تھے آج پسماندگی کا سہارا لینے  پر مجبورہوگئے ہیں۔  منڈل کمیشن نے اس کو مراعات سے بڑھا کر اقتدار میں حصے داری کاحق بنا دیااس کے باوجود  یہ ناقابلِ تردید  حقیقت ہے کہ ہندوسماج کے اندر سے اونچ نیچ کی ذہنیت  کا خاتمہ اب بھی نہیں ہوا ہے۔

 ہندوستان کے دلت صدر جمہوریہ کی  آج بھی  جگناتھ مندر کے پجاری تذلیل کرتے ہیں اور اتراکھنڈ کی دلت گورنر کا گھر اونچی ذات والوں کے مکانوں کی قطار میں آخری سرے پر ہوتاہے۔ عام دلت کو تو یہ لوگ مندر کے داخلے کی جرأت کرنے پر زندہ نذرِ آتش کرنے سے بھی گریز نہیں کرتے۔ کانگریس کے دور اقتدار میں اتراکھنڈ  کے اندر یہ معاملہ بی جے پی سابق رکن پارلیمان ترون وجئے کے ساتھ پیش آیا اور وہ  بال بال بچ گئے۔ آج بھی دلتوں کے نہ صرف کنوئیں الگ ہیں بلکہ سمشان بھومی تک مختلف ہے۔ اتر پردیش کے اندر اپنی بارات کو ٹھاکروں کے محلے سے گذارنے کے لیے ایک دلت کو کئی ماہ عدالت و حکومت کا دروازہ کھٹکھٹا نا پڑتا ہے۔ روشن خیال سمجھے جانے والے صوبےتمل ناڈوو  میں جہاں ڈی ایم کے جیسی براہمن مخالف تحریک سیاسی سطح پر بے حد کامیاب ہے  کسی دلت کی  ارتھی براہمنوں کے محلے سے گزر جائے تو اس پر پتھراو ہوتا ہے۔

مساوات کی نصیحت سے  ہندوستانی آئین اٹا پڑا ہے اس کی دہائی بھی خوب دی جاتی ہے لیکن اس کی پامالی آئے دن ہوتی رہتی ہے۔  عدل و مساوات کے اقدار پر عملدرآمد کروانے میں کوئی سنجیدہ نہیں ہے اس لیے لوگ اس پر یقین بھی نہیں رکھتے۔ اس کے برخلاف اسلامی معاشرے  میں اس بابت بڑی سختی کا مظاہرہ کیا گیا ہے۔ جلیل القدر صحابی اوراپنے قبیلے کے سردار  حضرت ابوذر غفار یؓ نے ایک مرتبہ  ادنیٰ غلام حضرت بلال حبشی ؓکو غصے میں کہہ دیا ’’اے کالی ماں کے بیٹے‘‘یہ سن کر نبی کریم ؐ غضبناک ہوگئے اور فرمایا تم نے حد کردی،تم حد سے تجاوز کرچکے ہو، گوری ماں کے بیٹے کو کالی ماں کے بیٹے پر سوائے تقوی اور نیک کام کے کوئی برتری حاصل نہیں۔ آپ کی اس تنبیہ کا  حضرت ابوذ ر ؓ پر یہ اثر ہوا کہ انہوں نے اپنا رخسار زمین پر رکھ دیا اور حضرت بلال سے گذارش کی کہ اٹھو اور میرے رخسار پر اپنا پاوں رکھدو۔

تعلیم کے ساتھ اگر تربیت کا فقدان  ہو تو وہ بے اثر ہوجاتی ہے اور ایسا ہی کچھ ہندوستان میں نہ صرف  ہوتا رہا ہے  بلکہ آج  بھی ہورہا ہے۔اسلامی تاریخ کا اور واقعہ قابلِ ذکر ہے۔مصر کے گورنر عمرو بن عاصؓ کے بیتے نے قبطی  (عیسائی)سے مقابلہ کیا  تو وہ نوجوان جیت گیا۔ اس پر عمرو بن عاصؓ کے بیٹے نے تاو میں آکر اس کے پٹائی کردی۔ ہندوستان کے معاشرے میں دلت سماج  کے ساتھ یہ عام سا رویہ ہے مگر ۱۴۰۰ سال قبل اسلامی تعلیم مساوات کا یہ اثر تھا کہ  وہ  مصری نوجوان خلیفہ  المسلمین حضرت عمر ؓ سے کی خدمت میں پہنچ گیا اور شکایت کر ڈالی۔ آپ ؓ نے عمرو بن عاص ؓاور ان کے بیٹے کو مصر سے طلب کیا اور اس نوجوان کو حکم دیا کہ گورنر کے بیٹے کو  باپ کے سامنے مارے اور اپنا بدلہ لے۔ اس کے بعد مسلمانوں کے خلیفہ نے  اپنے گورنرسے  ایک تاریخ ساز جملہ کہا کہ کب سے تم نے لوگوں کو غلام بنالیا ہے جب کہ ان کی ماؤں نے انھیں آزاد پیدا کیا ہے۔

وطن عزیز کا المیہ یہ ہے جو گرو درونا چاریہ ایک قبائلی نوجوان کو تیر اندازی کی تعلیم یہ  کہہ کر نہیں دیتا کہ  اس پر شتریہ ذات کی اجارہ داری ہے۔ اساتذہ کاقومی ایوارڈ اسی سے منسوب  ہے۔ہرسال قبائلی اساتذہ بھی اسے فخر سے حاصل کرتے ہیں۔ اپنی محنت سے تیر اندازی سیکھنے والے ایک  لویہ کوفریب دے کر  اس کے فن سے محروم کردینے والے کو مثالی استاد بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔ ایسے میں چھوت چھات اور تفریق امتیاز کا خاتمہ  کیسے ہوگا؟  سابق سرسنگھ چالک بالا صاحب دیورس یہ اعلان تو کرتے ہیں کہ اگر چھوت چھات گناہ نہیں ہے تو پھر کوئی گناہ نہیں ہے مگر بی جے پی کے دورِ اقتدار میں مرچپور معاملے کا فیصلہ سامنے آتا ہے جس میں  ہریانہ کے اندر ایک ۷۰ سالہ بزرگ اور اس کی معذور بیٹی کو زندہ جلانے پر جاٹوں کو سزا سنائی  جاتی ہے اور ترون وجئے کو کہنا پڑتا ہے اگر چھوت چھات قوم کے خلاف  نہیں ہے تو پھر کچھ  بھی  (قوم کے خلاف )نہیں ہے۔ زعفرانیوں کےیہ سارے الفاظ سیاسی جملہ سے زیادہ نہیں ہیں۔ حقیقت حال پر اس کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔

ارشادِ ربانی ہے ’’ اُس نے انسان کو ایک ذرا سی بوند سے پیدا کیا اور دیکھتے دیکھتے صریحاً وہ ایک جھگڑالو ہستی بن گیا‘‘۔ سورۂ نحل میں اس سے پہلے فرمایا گیا کہ ’’اُس نے آسمان و زمین کو برحق پیدا کیا ہے، وہ بہت بالا و برتر ہے اُس شرک سے جو یہ لوگ کرتے ہیں‘‘۔ یعنی انسان جب اپنے آپ کو اللہ شریک بنالیتا ہے لوگوں سے جھگڑنے لگتا ہے۔ ان لوگوں کو زبردستی اپنے آگے جھکانے کی کوشش کرتا ہے جو ایک خدا کی بندگی کے سبب اس کے آگے سرِ تسلیم خم نہیں  کرتے۔ انسانوں کی خدائی کو تسلیم کرلینے والے اپنے معبودانِ باطل کی وفاداری میں  اہل توحید سے لڑائی جھگڑا کرتے ہیں۔انسانوں کی  خدائی چونکہ فطرت انسانی کے خلاف اس لیے جواز کے طور پر کبھی رنگ و نسل کا حوالہ دیاجاتا ہے۔ تہذیب وتمدن پر فخر جتایا جاتا ہے تو کبھی اپنے آپ کو دیوتاوں کی اولاد ٹھہرایا جاتا ہے یا قوت و اقتدار کی دھونس  سے ڈرایاجاتا ہے۔ اسلام ان تمام امتیازات کا انکار کرکے سارے بندوں کو ایک خدا کی بندگی کرنے کی دعوت دیتا ہے۔ یہی انسانی مساوات کی  سب سے مضبوط بنیادہے۔

نبی کریم ؐ  کا ارشاد ہے ’’ تمام مسلمان ایک فرد کی طرح ہیں اگر اس کی آنکھوںمیں تکلیف ہوجائے تو پورا وجود تکلیف میں مبتلاء ہوجاتا ہے ۰۰۰۰‘‘۔ سےامت مسلمہ کا ایک بڑا طبقہ جو محض اپنے پیشے کے سبب اقتصادی دوڑ میں پچھڑ گیا ہےاس حدیث کی روُ اس کا کرب پوری ملت کو محسوس کرنا چاہیے۔ یہ امت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے  بھائیوں کو ان کا آئینی حق دلانے میں تعاون کریں۔ اس لحاظ سے او بی سی مہم صرف ان پسماندہ طبقات کی نہیں جو اس سے مستفید ہوتے ہیں  بلکہ پوری امت کی تحریک ہے۔ ہماری کوشش سے اگر کسی بھی انسان کا کوئی جائز  فائدہ ہوجائے (بلکہ نہ بھی ہوسکے) تو اس کابہترین اجر رب کائنات کے پاس ہمارے لیے محفوظ ہوجاتا ہے۔ اس لیے امت کے خوشحال طبقات یہ کہہ کر دامن نہیں بچا سکتے کہ اس میں ہمارا کوئی فائدہ  نہیں ہے۔ رسول اکرم ؐ نے فرمایا ’’اہل ایمان کےگروہ  کاایک مومن کے ساتھ ویسا ہی تعلق ہے جیسا سر کے ساتھ جسم کا تعلق ہوتا ہے۔ وہ  (امت) اہل ایمان کی ہر تکلیف کو اسی طرح محسوس کرتا ہے جس طرح سر جسم کے ہر حصے کا درد محسوس کرتا ہے ‘‘۔یہ  حدیث پوری امت کو اس کی ذمہ داری یاد دلاتی ہے۔

اہل ایمان کی بھلائی  سارے مسلمانوں پر لازم ہے۔ حضرت جریر بن عبداللہؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ؐ نے مجھ سے تین باتوں پر بیعت لی تھی۔ ایک یہ کہ نماز قائم کروں گا۔ دوسرے یہ کہ زکوٰۃ دیتا رہوں گا۔ تیسرے یہ کہ ہر مسلمان کا خیر خواہ رہوں گا‘‘۔ ایمانی خیر خواہی کا تقاضہ ہے کہ سارے اہل ایمان اپنے پسماندہ بھائیوں کو آگے بڑھنے میں دست تعاون دراز کریں اورملک کے  آئین میں جو سہولیات انہیں دی گئی ہیں ان کے حصول میں مدد کریں ۔ نبی کریم ؐ  کا فرمان ہے ’’ مسلمان مسلمان کا بھائی ہے، وہ اس پر ظلم نہیں کرتا، اس کا ساتھ نہیں چھوڑتا اور اس کی تذلیل نہیں کرتا۔ ایک آدمی کے لیے یہی شر بہت ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کی تحقیر کرے‘‘۔ اس حدیث کے مطابق اپنے بھائی کی تحقیر و تذلیل نیز اس ظلم تو پوری طرح ممنوع ہے لیکن ساتھ یہ تاکید بھی ہے کہ اگر کوئی اور ظلم کرے تو ہم اس کا ساتھ نہیں چھوڑ سکتے بلکہ اس کےشانہ بشانہ سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کر کھڑے ہونا پڑے گا۔حدیث نبوی ؐ ہے’’مومن ایک دوسرے کے لیے ایک دیوار کی اینٹوں کی طرح ہوتے ہیں کہ ہر ایک دوسرے سے تقویت پاتا ہے‘‘۔ اس میں شک نہیں کہ اگر  ہمارے یہ محروم طبقات ریزرویشن کی سہولت سے مضبوط ہوں گے تو اس سے امت کو تقویت ملے گی۔ اس  لیے ۱۱ ستمبر۲۰۱۸ ؁کو ممبئی کے برلا ماتوشری  ہال میں منعقد ہونے والی   کانفرنس  کو کامیاب بنانا  ایک ملی فریضہ ہے۔ کیونکہ بقول حکیم الامت علامہ اقبال ؎

منفعت ایک ہے اس قوم کی، نقصان بھی ایک

ایک ہی سب کا نبیؐ، دین بھی، ایمان بھی ایک

حرَمِ پاک بھی، اللہ بھی، قُرآن بھی ایک         

کچھ بڑی بات تھی ہوتے جو مسلمان بھی ایک

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

سلیم خان

ڈاکٹر سلیم خان معروف کالم نگار اور صحافی ہیں۔

متعلقہ

Close