خصوصیسیاست

زندگی نام ہے مرمر کے جیے جانے کا

یہ عجیب بات ہے کہ مودی جی کو چین کے اشتراکیوں سے کوئی خطرہ نہیں  کہ وہ آئے دن چین چلے جاتے ہیں لیکن اپنے ملک میں نکسلیوں سے خوف کھاتے ہیں۔

ڈاکٹر سلیم خان

مودی جی کی جان کو لاحق شدید خطرے کا انتباہ پڑھ کربے ساختہ مغل اعظم کا نغمہ’جب پیار کیا تو ڈرنا کیا؟‘ یاد آگیا۔ مغل اعظم ایک نہایت سنجیدہ فلم تھی مگر نہ جانے کیوں اس کا یہ کھلنڈراگانا  سب سے مشہور ہوگیا ؟  شاید اس لیے کہ وہ انارکلی کے مزاج سے مطابقت رکھتا۔ ایسا ہی معاملہ مودی جی کے ساتھ ہے۔ ویسے تو وہ سنجیدہ آدمی ہیں لیکن ان کے بچکانہ جملے زیادہ مشہور ہوجاتے ہیں مثلاً ’ وہ مجھے زندہ نہیں چھوڑیں گے ‘۔ شاید اس لیے کہ وہ ان طبیعت کے مطابق ہوتے ہیں۔ خیر اس سے پہلے کہ آزمائش کی گھڑی میں یہ  نغمہ سناکر مودی جی کی دلجوئی کی جاتی شکیل  بدایونی کا اگلا مصرع  روکاوٹ بن  گیا ’پیار کیا کوئی چوری نہیں کی چھپ  چھپ آہیں بھرنا کیا ؟‘ یہاں یہ بات کہی گئی ہے کہ نڈر تو وہی ہوگا جس نے چوری نہ  کی ہو۔ چور کوتو ڈرنا بھی پڑے گا اور چھپ چھپ کے آہیں بھی بھرنا پڑے گا۔

مودی جی کو اس بات کا احساس ہے اسی لیے انہوں نے نوٹ بندی کے بعد گوا میں  رونے اداکاری کرتے ہوئے کہا تھا ’ میں جانتا ہوں کہ  میں نےکس قسم کے اقدامات کیے ہیں۔ مجھے معلوم ہے کہ کون لوگ اب میرے خلاف ہو جائیں گے۔میں وہ لوٹ رہا ہوں جو انہوں نے ۷۰ برسوں میں جمع کئے ہیں۔ وہ مجھے زندہ نہیں چھوڑیں گے۔ وہ مجھے برباد کر دیں گے۔ انہیں جو کرنا ہے، کرنے دیجئے‘۔ مغل اعظم کو اگر جدید ہندوستانی زبان میں پھر سے  بنایا جائے تو اس میں اسی طرح کے مکالمے ہوں گے اور اکبر اعظم کا کردار نبھانے کے لیے مودی جی سے مناسب اداکار نہیں ملے گا۔ مودی جی نے چونکہ اپنی عادت کے مطابق بغیر سوچے سمجھے ۷۰ سال کہہ دیا اس لیے عوام وخواص کا ذہن کانگریس کی طرف چلا گیا ورنہ حقیقت تو یہ ہے کہ نوٹ بندی کے دوران توان کا دست راست امیت شاہ اپنے  لوٹ مار کے کالے دھن پر سفیدی چڑھا رہا تھا۔

ممبئی کے ایک آر ٹی آئی کارکن نے اپنی ایک عرضی کے جواب میں ملی دلچسپ  معلومات کا انکشاف  کیا۔ سرکار کی جانب سے فراہم کردہ جانکاری کے مطابق امیت شاہ  کی نگرانی میں چلنے والے احمد آباد ضلع کوآپریٹیو بینک (اے ڈی سی بی) نے نوٹ بندی کے ابتدائی ۵ دنوں میں ۷۴۵  کروڑ  کے ممنوعہ نوٹ جمع کئے گئے۔ احمد آباد ضلع کوآپریٹیو بینک میں نوٹ بندی کے بعد جمع ہوئی یہ رقم کسی بھی کوآپریٹیو بینک میں جمع ہوئی سب سے زیادہ رقم ہے۔اس کے علاوہ  ڈی سی سی بی  کی ۱۱ شاخوں میں ۳۱۱۸ کروڑ روپے کے پرانے نوٹ جمع کرائے گئے۔ ان سب  سے بی جے پی لیڈران منسلک تھے۔ یوں تو سرکار نے ۱۰۰۰ اور ۵۰۰ کے نوٹوں کو بدلنے کے لیے ۵۰ دن کا وقت دیا تھا مگر کو آپریٹیو بنک میں نوٹ بدلنے کی میعاد  اس کام کے مکمل ہوجانے کے ۵ دن بعد ختم کردی گئی۔

اس  انکشاف سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے  مودی جی اپنی جان کو لاحق جس  خطرے کا اظہار رورو کر کررہے تھے وہ ۷۰ سال سے نہیں بلکہ ۱۷ سال یعنی ؁۲۰۰۲ کے بعد سے  لوٹ مار مچانے والوں سے ہے۔ اس طرح شک کی سوئی گھوم کر  امیت شاہ کی جانب مڑ جاتی ہے مودی جی کی جان کو خطرہ ۷۰ سال سے نہیں بلکہ ۱۷ سال یعنی ؁۲۰۰۲ کے بعد سے  لوٹ مار مچانے والوں سے خطرہ ہے۔ بی جے پی سابق رکن اور امیت شاہ کے سرپرست  یاتن اوجھا  نے مودی جی کو کھلا خط لکھ کر آگاہ کیا تھا کہ امیت شاہ نے نوٹ بندی کی اطلاع اپنے سے قریب سرمایہ داروں کو دے دی تھی نیز نوٹ بندی کے بعد لوگوں نے قطار لگا کر امیت شاہ کے قریبی لوگوں سے اپنا کالا دھن سفید کروایا۔  یہ  بھی  ایک  قابل  توجہ سچائی  ہے  کہ نوٹ بندی سے قبل سنگھ پریوار  کے لوگوں نے بڑے پیمانے پر زمینیں خرید کر اپنا کالادھن سفید کرلیا۔ ان حقائق کی روشنی میں  سابق وزیراعظم  منموہن سنگھ کا نوٹ بندی کی پہلی سالگرہ کے موقع پر دیا گیا بیان کہ یہ ہندوستانی جمہوریت کا سیاہ دن ہےدرست معلوم ہوتا ہے۔ انہوں نے  ایوانِ پارلیمان میں کہا تھا نوٹ بندی ایک منظم لوٹ اور قانونی غارتگری ہے۔ ان گھناونے جرائم کا ارتکاب کرنے والوں کو اگر اقتدار کے چلے جانے سے اپنے انجام بد کا خوف محسوس ہوتو اس میں حیرت کی کون سی بات ہے؟

مودی جی جان کو خطرہ  نیا نہیں ہےاور یہ بھی دلچسپ حقیقت ہے کہ  اس سے ان کا ہمیشہ فائدہ ہوا ہے۔ ایمرجنسی کے دوران پہلی مرتبہ مودی جی کی جان کو خطرہ لاحق ہوا تو وہ زیر زمین چلے گئے اس لیے کہ اس وقت معمولی سنگھ  پرچارک تھے۔ اس روپوشی کے دوران انہوں ماسٹرس کی ڈگری دہلی یونیورسٹی سے  فرسٹ کلاس میں پاس کرلی حالانکہ  ان کے کسی ہم جماعت طالب علم نے انہیں دیکھا تک نہیں۔ ان کی بی اے کی ڈگری تھرڈ کلاس اور ایچ ایس سی کی مارک شیٹ موجود ہی نہیں تھی۔ ایک ایسے دور میں جبکہ عام طلباء کی ڈگری پر نام  ہاتھ سے لکھا جاتا تھا  مودی جی کا نام ایک ایسے فونٹ میں ٹائپ کیا گیا جو مائکروسوفٹ نے عوام کے لیے کئی سال بعد ظاہر  کیا۔ اپنی جان کو خطرے کے اتنے سارے فائدے اٹھا کر مودی جی وزیر اعلیٰ بن گئے۔  اس کے بعد بھی ان کی جان کو خطرہ بنا رہا۔  گودھرا فسادات کی بدنامی جب  بہت بڑھ گئی تو پھر جان کو خطرہ لاحق ہوگیا اور اس کو ٹالنے کے لیے ؁۲۰۰۴ میں  عشرت جہاں کو اغواء کرکے اس کا  جعلی انکاونٹر کردیا گیا۔ یہ بات جسٹس تمنگ نے اپنے فیصلے میں تسلیم کی ہے۔

؁۲۰۰۹ کے انتخابات میں جب اڈوانی جی کانگریس کو اقتدار سے  بے دخل کرنے میں ناکام  رہے تو مودی جی کے من میں وزیراعظم بننے کا خیال انگڑائی لینے لگا   اور اسی کے ساتھ  ان کی جان کو خطرہ پیدا ہوگیا۔ انہیں دھمکیاں موصول ہونے لگیں۔ گجرات پولس کو دوملیالی نوجوانوں کے فون پر مودی جی کے قتل کا منصوبہ بناتے مل گئے۔ اس کے ایک سال بعد کیرالہ میں لشکر طیبہ کے ایک سیل کے ذریعہ مودی جی کے قتل منصوبہ سامنے آیا اور اس ماحول میں مودی جی نے اپنے آپ کو زیراعظم  کا امیدوار بنانے  کی پیش رفت کا آغاز کیا۔ وزارت عظمی کی مہم کے دوران ؁۲۰۱۳ سے ؁۲۰۱۴ تک ۵ مرتبہ مودی جی کو قتل کرنے کے منصوبے ذرائع ابلاغ کی زینت بنے۔ اکتوبر ؁۲۰۱۳ میں بی جے پی وزیر گری راج سنگھ نے الزام لگایا کہ بہار کے وزیراعلیٰ نتیش کمارنے مودی کو قتل کرنے کے لیے مجاہدین سے ساز باز کرلی ہے۔ فی الحال مودی جی کا نام نہاد قاتل نتیش کمار این ڈی اے میں شامل ہے۔ اس سے ان خبروں کی سنجیدگی کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔

مودی جی کے وزیراعظم بن جانے کے بعد بھی یہ سلسلہ جاری رہا۔ مئی ؁۲۰۱۵ میں جب وہ پنڈت دین دیال اپادھیائے کے گاوں میں اپنی حکومت کی پہلی سالگرہ بنانے جارہے تھے تو ان کی جان کو خطرہ لاحق ہوگیا جسے پولس نے کسی سرپھرے نوجوان کا واٹس ایپ قرار دے کر اس کے بھائی کو حراست میں لے لیا۔ اتر پردیش انتخاب سے قبل جب مودی جی مئو میں خطاب کرنے جارہے تھے تو رسول پٹی کے اے ایس پی آر کے سنگھ نے انکشاف کیا  کہ ہرین پنڈیا کے قتل کا ملزم اور اس کے ساتھی نے راکٹ لانچر اور دھماکہ خیز اشیاء سے وزیراعظم پر حملے کا منصوبہ بنایا تھا۔ یہ اور بات ہے کہ ہرین پنڈیا کے والد خود مودی جی کو اپنے بیٹے کا قاتل گردانتےتھے۔ اس کے بعد کیرالہ کے ڈی جی پی سین کمار نے مودی کی جان کو لاحق خطرے کا ذکر کیا۔    گجرات کے حالیہ  صوبائی انتخاب میں جب بی جے پی کی حالت پتلی ہونے لگی تو  منی شنکر ائیر کے گھر پر منموہن سنگھ کی موجودگی میں  سازش رچنے کا الزام لگ گیا۔ ضمنی انتخابات سے قبل  مہاراشٹر کی اے ٹی ایس کو پونہ میں   نام نہادنکسلوادی دانشوروں کے پاس مودی جی کے قتل کا منصوبہ مل گیا۔ ان تاریخوں سے ظاہر ہے کہ  حقیقت  میں  خطرہ جان کو نہیں بلکہ اقتدار کو لاحق ہوتا ہے۔

؁۲۰۱۹ کے قومی انتخاب کا بگل چونکہ بج چکا ہے اس لیے ان خطرات کا وارد ہونا تو متوقع تھا لیکن اس بار کا انتباہ پہلے سے مختلف ہے۔ وزارت داخلہ نے وزیر اعظم نریندر مودی کی جان کو اب تک سے بڑا نامعلوم  خطرہ  ظاہر کیا ہے۔ قومی سلامتی کونسل نے وزیر اعظم کی حفاظت سے متعلق مختلف اداروں کو بتایا ہے کہ ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کی قیادت کرنے والے مودی جی کو سب سے اہم ہدف ہونے کے سبب غیر ضروری نقل وحرکت،  لوگوں میں گھلنے ملنے اورہجوم سے دور رہنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔ مودی جی ویسے بھی مزاجاً  اپنے ہم وطنوں سے گھلنے ملنے کے قائل نہیں ہیں اس لیے یہ ہدایت بے محل معلوم ہوتی ہے۔ یہ مشورہ  کہ وہ روڈ شوز نہ کریں بھی غیر ضروری ہے۔ عوام کی ان کے روڈ شوز میں کوئی دلچسپی نہیں ہے اس لیے کوئی  وہاں پھٹکتا ہی نہیں ہے۔ ہاں اس سے یہ فائدہ ضرور ہوگا کہ روڈ شو زنہیں کرنے کا ایک بہانہ مل جائے گا۔

 نئے ضابطۂ اخلاق کے تحت کسی کو بھی ایس پی جی کی پیشگی اجازت کے بغیر مودی کے قریب آنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ غیر متعلقہ وزیر اور افسران بھی مودی کے انتہائی قریب نہیں آپائیں گے۔ سی پی ٹی میں کہا گیا ہے کہ ضرورت پڑنے پر وزیر اعظم کے قریب آنے والے وزراء اور عہدیداروں کی بھی جامہ تلاشی لی جائے۔ یہ عجیب بات ہے کہ مودی جی کو چین کے اشتراکیوں سے کوئی خطرہ نہیں  کہ وہ آئے دن چین چلے جاتے ہیں لیکن اپنے ملک میں نکسلیوں سے خوف کھاتے ہیں۔ اردن میں جاکر داعش کے خاتمے کی  دھمکی دے آتےہیں لیکن اپنی سرزمین پر نامعلوم خطرات سے گھبراتے ہیں۔ مودی جی کے بارے کہا جاتا ہے ان کے ساتھ کام کرنے والے سارے وزراء  اور افسران کا  انتخاب وہ خود کرتے ہیں۔ یہ بات اگر درست ہے تو سوال یہ ہے کہ وہ ایسے لوگوں کو کیوں منتخب کرتے ہیں جن سے ان کی جان کو خطرہ ہوسکتا ہے یا  یہ سمجھ لیا جائے کہ اب وہ اپنے سائے سے بھی ڈرنے لگے ہیں۔ دشمن سے ڈرنا فطری ہے لیکن جو دوستوں سے خوفزدہ ہوجائے اس سے تو یہی کہنا پڑے گا جو گبر سنگھ نے کہا تھا ’جو ڈر گیا وہ مرگیا‘۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

سلیم خان

ڈاکٹر سلیم خان معروف کالم نگار اور صحافی ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close