خصوصیشخصیات

سانحۂ مصر: مری عافیت کے دشمن مجھے چین آچلا ہے

عمیر کوٹی ندوی

عالم اسلام کے لئے یہ خبر کہ محمد مرسی جو مصر کے پہلے جمہوری طور پر منتخب صدر تھے 17؍جون2019کو کمرۂ عدالت میں انتقال فرماگئے انتہائی تکلیف دہ ہے۔مصر کے سرکاری پراسیکیوٹر کےمطابق ان کی موت کا اعلان مقامی وقت کے مطابق 4:50 پر کیا گیا۔مصر ی حکومت کے مطابق محمد مرسی کی موت دل کا دورہ پڑنے سے ہوئی جس کی تفصیل یہ بتائی گئی کہ محمد مرسی نے عدالت میں ایک ساؤنڈ پروف پنجرے سے پانچ منٹ تک بات کی، اس کے بعد وہ بے ہوش ہوکر گر گئےاور اسی وقت ان کا انتقال ہوگیا۔ اس طرح مصر پر فوجی بغاوت کے ذریعہ تسلط حاصل کرنے والا طبقہ یہ بتانا چاہتا ہے کہ گویا محمد مرسی کی موت فطری اور طبعی طور پر ہوئی اور ان پر ظلم وجور کے پہاڑ توڑنے والوں کا کوئی ہاتھ نہیں ہے۔ لیکن ان باتوں اور حربوں کو یہ جملہ غلط ثابت کر رہا ہے کہ ” میں برادرم شہید مرسی  کی مغفرت کےلئے دعا گو ہوں”۔ یہ کسی عام زبان سے نکلا ہوا جملہ نہیں ہے بلکہ  عالم اسلام کے لئے امید کی کرن ،  حق گو وحق پسند، امت مسلمہ کے ایک جسم ہونے کے تصور کو زندہ کرنے والی اور عملی طور پر پے در پے اس کا نمونہ پیش کرنے والی   شخصیت  کی زبان سے ادا ہوا ہے۔ ترکی کے صدر رجب طیب اردگان  نے محمد مرسی کی وفات کی خبر کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہو ئے اس سانحہ پر مصری عوام سے  اظہارِ تعزیت کیا۔ترکی میڈیا کے مطابق "انہوں نے اس بات کی یاد دہانی بھی کرائی کہ مرحوم محمد مرسی کو  مصر میں بغاوت کے ذریعے بر سرِ اقتدار آنے والے ظالم عبدالفتاح الاسیسی  نے  ان کے ہزار ہا ساتھیوں کے ہمراہ سالہا سال سے جیل میں قید کر رکھا تھا”۔

مصری صدر محمد مرسی سن 2012 میں ملک کے پانچویں انتخابات کے ذریعے  برسرِ اقتدار آنے والے پہلے صدر مملکت بنے تھے۔ محمد مرسی نے انتخاب میں کامیابی کے بعد تمام مصریوں کا صدر بننے کے عزم کا اظہار کیاتھا۔ لیکن ان کی اسلام پسندی ، اسلامی تعلیمات پر عمل پیرا ہونا اور زندگی کے تمام شعبوں میں اسلام کو جاری وساری کرنے کی فکر کا حامل ہونا جسے مغرب نےPracticing Muslim کا لقب دے رکھا ہے یہ مغرب کی ہی اصطلاح میں Non Practicing Muslimکو ایک آنکھ نہ بھایا۔اس لئے انہوں نے مغرب کے ہی اشاروں پر منتخب حکومت پر ” اسلام پسندوں کو سیاسی منظر نامے پر چھا جانے کے مواقعے فراہم کرنے”کے بنیادی الزام کے تحت تختہ پلٹ دیا۔ مصر کی فوج نے30 ؍جون 2013 کو محمد مرسی کو برطرف کر کے انھیں جیل میں بند کر دیا تھا۔ اس کام میں اقتدار اپنے ہاتھوں میں لئے ہوئے Non Practicing Muslim ہی نہیں بلکہ عمل سے اسلام بیزار طبقہ نے دامے، درمے، قدمے ،سخنے ہر طرح سے مدد کی۔ مصری فوج نے بغاوت کے ذریعہ اقتدار پر قابض ہونے کے بعد سے پرامن اور جمہوری راہ پر چل کر اقتدار تک پہنچنے والوں پر ظلم کے پہاڑ توڑنے کا جو سلسلہ شروع کیا وہ اب تک چل رہا ہےاور شہید مرسی  کا سانحۂ انتقال اسی کا حصہ ہے۔ حد تو یہ ہے کہ حسن البناء شہید کی طرح ان کے جسد خاکی کو بھی خاندان کی جانب  سےآبائی گاؤں میں تدفین کی درخواست  کو” سیکورٹی خدشات کی بنا پر "مسترد کرتے ہوئے  برسر اقتدار طبقہ کی طرف سے18؍جون کو علی الصبح دارالحکومت قاہرہ میں سپرد خاک کر دیا گیا۔

خبر کے مطابق جنازے میں ڈاکٹرمحمد مرسی کے دوبیٹوں کے علاوہ صرف وکیل ہی جاسکے۔ فوجی بغاوت کے ذریعہ اقتدار پر قابض ہونے والے طبقہ نے ان پر ” اسلام پسندوں کو سیاسی منظر نامے پر چھا جانے کے مواقعے فراہم کرنے”کے بنیادی الزام کے ساتھ ساتھ جو الزامات عائد کئے ان میں ‘ اپنے وعدوں پر عمل کرنے میں ناکام رہنا’،’ ملکی معیشت کو اچھی طرح چلانے میں ناکام رہنا’،’قطر کو دستاویزات فراہم کرنا’، ‘ ایک غیر قانونی تنظیم(الاخوان المسلمین) کی سربراہی کرنا،’ فلسطینی جماعت حماس کے ساتھ رابطوں کے حوالے سے جاسوسی’ جیسے بہت سے الزامات شامل تھے۔مؤخر الذکر معاملہ کی سماعت کے دوران ہی ان کی وفات کی خبر برسر اقتدار طبقہ کی طرف سےدی گئی۔ان الزامات میں سے کسی میں انہیں پھانسی کی سزا سنائی گئی تھی تو کسی میں عمر قید کی۔ غیر قانونی تنظیم(الاخوان المسلمین) کی سربراہی جس کا عدالت نے انہیں مجرم قرار دیا تھا وہ انتخابات سے پہلے اور بعد میں سب پر عیاں تھی۔ اس بات کے ساتھ ہی انتخابات کا پورا عمل ہوا، حکومت سازی ہوئی، حکومت نے السیسی سمیت بہت سوں کے متعدد ذمہ داریاں سپردکیں۔ فوج اس حکومت سے مسلسل رابطہ میں رہی، گفت وشنید کے دور پر دور چلتے رہےلیکن پھر ایک وقت میں تختہ پلٹ ہوگیا اور یک لخت رات ودن کے معیار بدل گئے۔حکومت کی ہر سرگرمی جرم قرار پائی اور ہر ذمہ دار مجرم۔ اسی کے بعد ظلم وجور کا ایک لامتناہی سلسلہ شروع ہوا۔اخوان کے سیکڑوں کارکنان کو تشدد آمیز کارروائیوں میں ہلاک کردیا گیا،نہ جانے کتنے غائب ہوگئے، ایک بڑی تعداد میں لوگوں کو گرفتار کرلیا گیا۔

محمد مرسی اور الاخوان المسلمین کے 14 دیگر سرکردہ رہنماؤں پر  متعدد الزامات کے تحت مقدامات کی سماعت نومبر سنہ 2013 میں شروع ہوئی۔مقدمہ کی پہلی سماعت پر کٹہرے میں کھڑے محمد مرسی نے چیخ چیخ کر کہا تھا کہ انھیں’فوجی بغاوت’ کا شکار بنایا گیا ہے ۔ انھوں نے اس عدالت کو ماننے سے بھی انکار کر دیا تھا۔انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ ‘ملک کے آئین کے مطابق میں جمہوریہ کا صدر ہوں اور مجھے زبردستی قید کیا گیا ہے’۔ 67 سالہ محمد مرسی اپنی معزولی کے بعد سے  تادم آخرقید میں ہی تھے۔اس  عرصہ میں انہیں ہائی بلڈ پریشر اور شوگر جیسے امراض کا علاج کروانے کے لیے مناسب طبی سہولیات مہیا نہیں کی گئیں اور انھیں مسلسل قیدِ تنہائی میں رکھا گیا جہاں انہیں نت نئی صعوبتوں سے دوچار کیا جاتا رہا جو رفتہ رفتہ انہیں کمزور اور موت کے منہ سے قریب کرتی رہیں۔ ان صعوبتوں کے علاوہ سانحۂ وفات بذات خود ایک معمہ اور مشکوک عمل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ الاخوان المسلمین نے محمد مرسی کی موت کو’قتل’ قرار دیاہے ۔” سیکورٹی خدشات کی بنا پر "عام لوگوں  کومحمد مرسی کے جنازے میں شریک ہونے کے مواقع کا فراہم نہ ہونا حتی کہ  اہل خانہ کو بھی اس سے عمومی طور پر نہ صرف دور رکھنا بلکہ ان کے تدفین کے حق کو بھی تلف کردینا زبان حال سے بہت کچھ کہتا ہے۔ انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے بھی اس پر سوالات اٹھا رہے ہیں اور حقیقت جاننا چاہتے ہیں۔ بہر کیف مصرکے قانونی سابق صدر شہید محمد مرسی کے سانحہ نے بہ بانگ دہل یہ اعلان کردیا ہے کہ دور حاضر میں گرچہ لوگ آسان سمجھتے ہیں مسلماں ہونا لیکن حقیقت میں Practicing Muslimباعمل مسلم ہونا شہادت گہہ الفت میں قدم رکھنا ہے۔ اور سانحۂ وفات ان کے لئے جائے امن کی طرف کوچ کرنا ہے۔ بقول  شاعر

مری عافیت کے دشمن مجھے چین آچلا ہے

  کوئی اور زخم تازہ اور کوئی اور ضرب کاری

مزید دکھائیں

متعلقہ

Close