خصوصیسیاست

ساکشی مہاراج کے پاپ گھڑا کب بھرے گا؟

ڈاکٹر سلیم خان

ساکشی مہاراج  کو بی جے پی نے دوبارہ  اناؤ سے لوک سبھا کاامیدوار  بنایا ہے۔ ایک انتخابی خطاب میں انہوں  نے اعلان کیا  کہ ’’ سنیاسی آپ کے دروازے پر ووٹ مانگنے  آیا  ہے‘‘۔ یہ بڑا دلچسپ بیان ہے اس لیے سنیاسی آخر ووٹ مانگنے کی ضرورت کیوں پیش آگئی ؟ اس کا مطلب ہے کہ ساکشی مہاراج  ایک ڈھونگی سنیاسی ہے۔ ویسے سیاست کے دنگل میں کون ہے جو ڈھونگ نہیں کررہا (الاماشاء اللہ) اس لیے یہ کوئی خاص  بات نہیں ہے۔ انہوں  نے آگے دھمکی دی ’’ اگر ناراض کروگے تو سنیاسی گرہستی کےنیکیاں (پنیہ) لے جائے گا  اور اپنے گناہ( پاپ)  دے جائے گا۔’‘ یہاں پر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ سنیاسی خود پونیہ کیوں نہیں کرتا ؟ دوسروں کی نیکیوں  پر بری نظر کیوں رکھتا ہے؟ لیکن اس سے بھی اہم سوال یہ ہے کہ اس پاکھنڈی  کے پاس لوگوں کو دینے کے لیے پاپ کہاں سے آئیں گے؟

یہ سوال انہیں لوگوں کے ذہن میں آسکتا ہے جو ساکشی مہاراج کو نہیں جانتے۔  ان کے واقف کاروں کو پتہ ہے کہ اس رکن پارلیمان کے اوپر۳۴  خطرناک جرائم کے مقدمات درج ہیں۔   اس لیے مہاراج کے پاس پاپ کا بہت بڑا بھنڈار موجود ہے۔ اس پاپ گٹھری میں تازہ اضافہ ساکشی کا اس بیان سے مکر جانا ہے۔  بعید نہیں کہ ساکشی کے نزدیک  جھوٹ بولنا پاپ کے بجائے پونیہ ہو؟  سچدانند ہری عرف  ساکشی مہاراج کے اس انکار سے رائے دہندگان تو دور سٹی مجسٹریٹ راکیش کمار گپتا بھی اتفاق نہیں کرتے۔ انہوں نے  ساکشی کے خلاف آئی پی سی کی دفع۱۷۱ سی (الیکشن کے دوران ووٹرس کو متاثر کرنے)اور دیگر  متعلقہ دفعات کے تحت سوہرامئو تھانے میں مقدمہ کو سنجیدگی سے لیا  ہے۔ ساکشی مہاراج کے دامن پر پہلے ہی اتنے سارے داغ ہیں کہ اس نئے الزام سے انہیں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ انہوں نے نامزدگی کا پرچہ داخل کرتے ہوئےاپنے  حلف نامہ میں تسلیم کیا ہے کہ ان پر قتل،  چوری،  ڈکیتی،  مجرمانہ دھونس دھمکی  دھوکہ دہی،  فریب  اور بدعہدی کے مقدمات زیر سماعت ہیں۔

یہ ایک حقیقت ہے  کہ ان کو ابھی تک سزا نہیں ہوئی لیکن ۸ مقدمات  ایسے جن میں عدالت  نے ان کو ملزم تسلیم کیا ہے۔      ۲۰۰۰ ؁ میں ایک کالج کی پرنسپل نے ان پر  اجتماعی آبروریزی کا الزام لگایا۔  اس جرم کی پاداش میں وہ تہاڑ جیل کی سیر کرچکے ہیں۔   ساکشی مہاراج کا نام ۱۹۹۷ ؁ کے  اندر بی جے پی رکن پارلیمان برہم دت دویدی کے قتل معاملہ میں بھی آیا   تھالیکن اس موقع پرست  پارٹی نے انہیں سزا دلانے کے بعد اپنی پارٹی کا ٹکٹ تھما دیا۔  ۲۰۱۳ ؁ میں ان کے بھائی پر اترپردیش  وومن(خواتین) کمیشن کی رکن سجاتا ورما کے قتل کا الزام لگا۔    بدقسمت  سجاتا کو ساکشی نے اپنی بیٹی بنایا تھا لیکن جب اس نے آشرم کے ایک خطہ زمین پر اپنا دعویٰ پیش کیا تو دو ماہ بعد اس کا قتل ہوگیا۔

  ساکشی مہاراج کو ان الزامات کا خوف اس لیے نہیں ہے کہ فی الحال اترپردیش میں ایک  اور پاکھنڈی یوگی ادیتیہ ناتھ برسرِ اقتدار ہیں۔  پچھلے سال ۹ مارچ کو  یوگی نے واجپئی حکومت میں سابق   ریاستی وزیر داخلہ چنمیانند کو بچانے کے لیے  شاہجہاں پور کے ضلع مجسٹریٹ کے نام  اے ڈی ایم (انتظامیہ) کے دستخط سے خط لکھوا کر عصمت دری اور دھمکی کا کیس واپس لینے کا حکم دیا۔ ساکشی کویقین ہے سوامی چنمیانند کی  طرح ان کو بھی بچا لیا جائے گا لیکن وہ نہیں جانتے عدالت اس درخواست ٹھکرا کر وارنٹ جاری کردیا۔  یہ حیرت کی بات ہے کہ ۹۰ سال سے برہما چریہ کا پالن کرنے والے سنگھ پریوار کو انتخاب جیتنے کے لیے ان   زانی سوامیوں کی مدد لینی پڑتی ہے!

ساکشی مہاراج   ۱۹۹۰ ؁  اور ۱۹۹۵ ؁ میں  بی جے پی کے ٹکٹ پر دومرتبہ رکن پارلیمان منتخب ہوچکے ہیں۔  اس کے بعد جب بی جے پی نے ٹکٹ نہیں دیا تو   سماجوادی پارٹی میں  چلے گئے اور پھر کلیان سنگھ کے راشٹریہ کرانتی پارٹی سے ہوتے ہوئے ان کی گھر واپسی ہوگئی۔ اس مرتبہ جب یہ خبر آئی کہ شاہ جی بہت سارے لوگوں کا ٹکٹ کاٹنے والے ہیں تو انہوں نے اپنی پارٹی کو خطرناک انجام کی دھمکی دے ڈالی جس کا ایک مطلب تو یہ تھا جو انجام ان کے مخالفین کا ہوا ہے وہی ٹکٹ نہیں دینے والوں کا ہوگا یا وہ  بی جے پی کے خلاف کسی اور جماعت کے ٹکٹ پر  کھڑے ہوجائیں گے۔ شاہ جی کو ڈرانے کے لیے یہ دھمکی کافی تھی۔  ٹکٹ ملنے کے بعد خوش ہوکر ساکشی مہاراج نے اعلان فرما دیا کہ مودی جی جیت گئے تو یہ آخری انتخاب ہوگا یعنی اگر وہ کامیاب ہوگئے تو تاحیات رکن پارلیمان رہیں گے۔

 ساکشی مہاراج نے شاستروں کا حوالہ دے کر کہا کہ میں  کوئی دولت مانگنےکے لیے نہیں آیا ہوں۔زمین جائیداد مانگنے کےلیے نہیں آیا ہوں۔ آپ اپنی کنیا کا دان کرتے ہیں تو بہت سوچ سمجھ کر کرتے ہیں کیونکہ اس سے کنیا کا مستقبل جڑا رہتا ہے۔ اسی طرح آپ کے ووٹ سے بھی سوا کروڑ دیش واسیوں کا مستقبل جڑا ہوا ہے اس لیے بہت سوچ سمجھ کر فیصلہ لینا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ملک کے عوام سوچ سمجھ ایک زنا اور قتل کے ملزم  کو اپنا نمائندہ بناتے ہیں یا مہاراج کے اگلے مشورے پر عمل کرتے ہیں جس میں اس نے کہا ہے کہ   ’’میں سنیاسی ہوں۔ آپ جیتاوگے تو کام کروں گا،نہیں تو مندر میں جاکر بھجن کیرتن کروں گا‘‘۔  ساکشی مہاراج نے اپنی زندگی میں چوری،  ڈکیتی، قتل و غارتگری اور عصمت دری جیسے بہت  پاپ بٹور چکے ہیں اس لیے بہت ممکن ہے رائے دہندگان عمر کے آخری حصے میں   ان پر رحم کھا کر  انہیں بھجن کیرتن  اور آرام کا  موقع فراہم کردیں  گے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

سلیم خان

ڈاکٹر سلیم خان معروف کالم نگار اور صحافی ہیں۔

متعلقہ

Back to top button
Close