خصوصیسیاست

سترھواں پارلیمانی انتخاب: وہ کام کر جو ضمانت ہو زندگی کے لیے

مولانا سیّد آصف ملی ندوی

وطن عزیز بھارت میں سترھویں پارلیمانی انتخابات کا بِگُل بج چکا ہے، اگلے چند ہی دنوں میں ووٹنگ کا عمل شروع ہوجائیگا جس میں کروڑوں ہندوستانی عوام اپنے حق رائے دہی کا استعمال کرتے ہوئے ملک کے سیاسی مستقبل کا فیصلہ کرینگے۔ اگلے پانچ سالوں تک ملک کی باگ ڈور اپنے ہاتھوں میں تھامنے کے لئے موجودہ برسرِ اقتدار فرقہ پرست و دستور دشمن عناصر اور سیکولر و دستور پسند دونوں ہی طرح کی سیاسی جماعتیں اور تنظیمیں میدان میں موجود ہیں۔ اور یوں مجموعی طور پر یہ مقابلہ دستور دشمن فرقہ پرستوں اور سیکولر عوام کے درمیان ہوگا۔ فرقہ پرست اور زعفرانی ذہنیت کے حاملین ہر طرح سے متحد ہیں، جبکہ سیکولر عوام ہمیشہ ہی کی طرح اب بھی تذبذب کا شکار ہے۔

طُرفہ تماشہ یہ کہ ان کے سامنے چند ایسی نام نہاد سیکولر سیاسی جماعتیں بھی ہیں جو اگرچہ بظاہر سیکولر ہونے کا دعویٰ کرتی ہیں لیکن درپردہ وہ تنظیمیں فرقہ پرستوں کے عزائم کی تکمیل کے لئے راستہ ہموار کرنے کا کام انجام دیتی رہی ہیں، مقامی اور کارپوریشن کی سطح تک تو یہ نام نہاد سیکولر پا رٹیاں مسلمانوں کو اپنی پارٹی سے نمائندگی کا موقعہ بھی دے دیتی ہیں لیکن ریاستی اور مرکزی سطح پر اسمبلی اور پارلیمانی انتخابات میں مسلمانوں کو نمائندگی دینا اب ان کے منشور کا حصہ ہی نہیں رہا۔ ایسی نام نہاد سیکولر تنظیموں کے علاوہ جو دیگر سیکولر سیاسی تنطیمیں ہیں ان میں سے زیادہ تر تنظیموں کا آپس میں کوئی اتحاد نہیں ہوپایا ہے، چناچہ تقریباً ہر تنظیم نے اپنے اپنے امیدواروں کوانتخابی میدان میں اتاردیا ہے، جس کی وجہ سے اس بات کا قوی اندیشہ ہے کہ انتخابات کے بعد فرقہ پرستی کا یہ عفریتِ عالم آشوب پہلے سے کئی زیادہ تن ومند ہوکر اٹھ آئے۔

        موجودہ برسرِاقتدار حکمران جماعت (جو محض ایک سیاسی جماعت ہی نہیں ہے بلکہ ملک کی ایک انتہائی منظم اور کیڈر بیس نظریاتی جماعت کا سیاسی ونگ ہے) کی گذشتہ پانچ سالہ کارکردگی پر اگر ہم ایک طائرانہ نظربھی ڈالتے ہیں تو یہ دیکھتے ہیں کہ اس کے کرسئی اقتدار پر بر اجمان ہوتے ہی ملک میں مسلم دشمنی کی گرم ہوائیں اور بادِسموم پوری برق رفتاری کے ساتھ چلنے لگیں، ایک بڑے ہجوم اور جنونی گروپ کا کسی یکاو تنہا مسلمان کے خونِ ناحق سے ہولی کھیل کر اس کو دوسرے جنونیوں کی تفریح خاطر کے لئے سوشل میڈیا پر وائرل کردیناعام سی بات ہوگئی ہے۔ اس حکمراں جماعت نے بڑی ڈھٹائی اوربیباکی کے ساتھ جمہوری قدروں اور سیاسی اخلاقیات کا خون کیا ہے، ملک میں مختلف تبدیلیاں پیدا کرنے کی سعی نامشکورکی ہے،  وطن عزیز کے آئین و دستور میں تبدیلی کے اپنے مکروہ عزائم کو بروئے کار لانے کی شرمناک جسارت انتہائی بے شرمی کے ساتھ کرنے کی کوشش کی ہے، دستور و آئین کی رو سے ہندوستانی عوام کو حاصل شدہ بنیادی حقوق پر ڈاکہ ڈالنے کی مذموم کوشش کی ہے، مسلمانوں کے عائلی قوانین کو دستور ساز اسمبلی (پارلیمنٹ) میں بِل پیش کرکے تبدیل کرنے کی نامراد کوشش کی ہے۔

 دستور میں مکمل آزادی دیئے جانے کے باوجود قانون ساز اسمبلی میں اپنی اکثریت کا فائدہ اٹھاکر گئو ونش کے ذبیحہ پر پابندی عائد کی ہے، آزادیٔ اظہار رائے کے جمہوری حق کو نہ صرف دبانے بلکہ ختم کرنے کی پوری کوشش کی ہے، جمہوری اور حکومتی اداروں (سی بی آئی، عدلیہ، ریزرو بنک) کو کمزورکرنے بلکہ ان اداروں کی اپنے  فکری و نظریاتی اصولوں پر تعمیر ِ نو کی کوشش کی ہے۔ یہ وہ ساری باتیں ہیں جن سے واضح ہوجاتا ہے کہ موجودہ برسرِاقتدار جماعت ملک کے آئین و دستور کا احترام توکجا  وہ اس کو عملاً تسلیم کرنے کیلئے بھی تیار نہیں ہے بلکہ وہ تو اس ملک میں ہندؤوں کا اور ہندو مذہب کا اقتدار قائم کرنا چاہتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس تنظیم نے اپنے سیاسی منشور میں ملک کے اندریکساں سول کوڈ نافذ کرنے، مسلمانوں کے عائلی قوانین(Muslim Personal Laws) کو ختم کرنے اور ملک کے تعلیمی مراکز اور دانشگاہوں میں نظام تعلیم کو ہندو نظریات کے مطابق ڈھالنے کاوعدہ کیا ہے۔ ایک طرف تو موجودہ برسرِاقتدار جماعت کی دستوردشمنی اور اس کے مستقبل کے تخریبی اور جارحانہ عزائم کا یہ حال ہے تو دوسری طرف نام نہاد سیکولر تنظیموں کی منافقت اور مسلم قیادت کو ختم کرنے کی ان کی ناپاک کوششیں ہیں۔ پھر اس پر مستزاد بقیہ سیکولر جماعتوں کا عدم اتحاد۔ یہ سب وہ حالات ہیں جن کے پیش نظر اس ملک کے مسلمان نہ صرف تذبذب کے بلکہ غم اور مایوسی کے بھی شکار ہیں کہ ایسی صورتِ حال میں آخرانہیں کیا کرنا چاہئے ؟

         عاجز مضمون نگار کو اس بات کا پورا اعتراف ہے کہ اس کو کوئی سیاسی بصیرت حاصل نہیں ہے بلکہ سچ تو یہ ہے کہ وہ سیاست کی ابجد سے بھی واقف نہیں ہے۔ تاہم وطنِ عزیز بھارت میں مسلمانوں کی موجودہ صورتِ حال اور ان کی بے بسی کے پیش نظر اپنے احساسات کو حوالۂ قرطاس کرنا اپنا اخلاقی فریضہ سمجھتا ہے۔  پہلی بات تویہ ہے کہ ہمیں انتخابات کے ان ہنگاموں کے دوران اپنے مقام کی صحیح صورتِ حال کا پوری دیانت داری کے ساتھ منصفانہ جائزہ لینا ہوگا کہ ہمارے حلقۂ انتخاب میں کس سیکولر امیدوار کی حالت مضبوط ہے اوروہ اپنی جیت درج کراسکتا ہے، اگر ایسا امیدوار کسی بھی صحیح اور حقیقی سیکولر جماعت یا الائنس کا نمائندہ ہے، یا کوئی ایسا آزاد امیدوار ہے جو قوم و ملت کا مخلص اورباکردارفردہو اور اپنی جیت بھی درج کراسکتا ہو تو ہمیں فرقہ پرستوں یا نام نہاد سیکولرتنظیموں کے امیدوارں کے مقابلہ میں انہیں پہلی ترجیح دینی چاہئے۔ لیکن اگر صورت حال ایسی ہو کہ حقیقی سیکولر جماعتوں یا الائنس کے امیدوار یا آزاد امیدوارکی جیت پوری کوشش کے بعد بھی ممکن نہ ہو تو ایسی صورت میں ہمیں اِن ہی امیدواروں کو ووٹ ڈال کر اپنے بیش قیمت ووٹ کو ضائع نہیں کرنا چاہئے، بلکہ اس بات کی پوری کوشش کرنی چاہئے کہ کوئی بھی فرقہ پرست اور انسانیت دشمن امیدوار یا کسی بھی فرقہ پرست اور آئین و دستور مخالف تنظیم کا نمائندہ کسی بھی صورت جیت حاصل نہ کرپائے۔ اور یہ بات اسی صورت میں ممکن ہوسکتی ہے کہ ہم اپنا حق رائے دہی اپنے قیمتی ووٹ کی شکل میں ضرور استعمال کریں اور اس کو کسی بھی مضبوط اور وسیع حلقۂ اثر والے اور غیر فرقہ پرست اور غیر دستور دشمن امیدوارکے حق میں ڈالیں، خواہ وہ امیدوار کسی وجہ سے ہمیں ناپسند ہی کیوں نہ ہو۔ خیال رہے کہ انتخابات میں کسی بھی امیدوار کو ووٹ نہ دینا دراصل فرقہ پرستوں، اسلام دشمن عناصر اور دستور دشمن ٹولوں کو بالواسطہ تقویت پہنچانا ہوتا ہے۔

اس لئے پوری دیانت داری کے ساتھ غور و خوض کے بعد کسی مستحق و مفید شخص کے حق میں ووٹ ضرور ڈالیں۔ یہ بات ذہن نشین رہے کہ ووٹ ڈالنے کے لئے ہمارے پاس الیکشن کارڈ ہی ہونا ضروری نہیں ہے بلکہ الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کردہ ووٹروں کی فہرست میں نام درج ہونا ضروری ہے، لہذا ہمیں چاہئے کہ اپنا بیش قیمت ووٹ دینے سے قبل اپنے ووٹ کی طاقت و اہمیت اور اس کی دینی وشرعی حیثیت کو خوب اچھی طرح سمجھ کر کسی اچھے اور مضبوط سیکولر امیدوار کو اپنا ووٹ دیں۔ خود غرضی، عارضی مفادات، قرابت و تعلقات، دوستانہ مراسم  یا کسی کی غنڈہ گردی کے ڈر و خوف کی وجہ سے جھوٹی شہادت جیسے حرام اور کبیرہ گناہ کا ارتکاب نہ کریں۔  یہ انتخابی عمل اور اس میں کسی امیدوار کا حصہ لینا محض سیاسی ہارجیت اور دنیاداری کا کھیل نہیں ہے بلکہ جیتنے والے امیدوار کے ہر اچھے برے کاموں کے اجر یا گناہ میں ہم بھی برابر کے شریک ہوں گے۔ اللہ ہمارا حامی و ناصر ہو۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

مولانا سید آصف ندوی

امام و خطیب مسجد قدسیہ ناندیڑ ، صدر جمعیت علماء، شہر ناندیڑ.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close