خصوصیصحتطب

سویا بین کی طبی افادیت

ڈاکٹر فیاض احمد علیگ

سویا بین(Soya Bean)ایک قدیم ترین پودا ہے جو بطور غذاا ور دوا استعمال ہوتا ہے۔ اس کی غذائی و دوائی اہمیت و افادیت کی وجہ سے اس کوــــ ’ ’ Miracle Crop ـــــــ‘‘بھی کہا جاتا ہے۔ اس کا استعمال سب سے پہلے چین میں شروع ہوا لیکن اب کم و بیش ساری دنیا میں اس کا استعمال ہوتا ہے۔ سویا بین کے پودے ۱۵۰ سینٹی میٹر اونچے  ہوتے ہیں، تنے باریک روئیں دار اور آپس میں الجھے ہوئے لیسدار ہوتے ہیں، پتیاں سبز ہوتی ہیں جو کہ شاخوں پر یکے بعد دیگرے (Alternate) لگی ہوتی ہیں۔ اس کی پھلیاں بھوری یا سیاہ گچھے کی شکل میں ہوتی ہیں جن کے اوپر باریک روئیں ہوتے ہیں، ان کے ڈنٹھل بہت چھوٹے ہوتے ہیں۔ ان پھلیوں کے اندر تقریباً گول اور مختلف رنگ کے، عموماً ہرے، پیلے بھورے اور کالے بیج ہوتے ہیں۔ یہی بیج غذا اور دوا کے طور پر مختلف صورتوں میں استعمال ہوتے ہیں۔ سویابین کو غذا و ددوا کے علاوہ دیگر مقاصد کے لئے بھی استعمال کیا جاتا ہے چنانچہ اس سے Paint، وارنش، Linoleum، کاغذ اور بہت سے واٹر پروف سامان وغیرہ بھی بنتے ہیں۔

سویا بین کا استعمال  عام طور سے بطور غذا چین میں ۲۸۵۳ قبل مسیح سے ہوتا رہا ہے چنانچہ۲۸۳۸ قبل مسیح میں چین کے شہنشاہ شنگ ننگ(Sheng-Nung) کی تحریر کردہ کتاب میں بھی اس کا حوالہ ملتا ہے۔ (۲) جس میں اس نے پانچ اناجوں ( Soybeans, Rice, Wheat, Barley and Millet.)کو مقدس قرار دیا ہے۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ کم از کم ۲۸۳۸ قبل مسیح سے ہی چین میں اس کا استعمال عام ہو چکا تھا۔ چین کی قدیم تاریخی دستاویز  ’’Kojiki‘‘ ــ ـ (Records of Ancient Matters)   میں بھی سویا بین کا تذکرہ ملتا ہے جس کی تکمیل 712 AC. میں ہوئی۔ چین کے بعد یہ دنیا کے دیگر ممالک جیسے جاپان، انڈونیشیا، فلیپائن، ویتنام، تھائی لینڈ، ملیشیا، برما، نیپال، ہندوستان، بنگلہ دیش اورپاکستان وغیرہ میں بھی عام ہو گیا۔ اس کی بھرپورغذائیت اور طبی افادیت کے باعث ہی چین، جاپان، یوروپ اور امریکہ کے علاوہ دیگر ممالک جیسے مصر، جنوبی افریقہ، روس، آسٹریلیا، کوریا، منچوریا اور منگولیا وغیرہ میں بھی اس کی کاشت بڑے پیمانے پر کی جاتی ہے۔ اسی طرح حالیہ برسوں میں برازیل، رومانیہ، میکسیکو اور ارجنٹائینا وغیرہ میں بھی اس کی کاشت پر توجہ دی جانے لگی ہے۔

سویا بین کا تاریخی پس منظر بڑا عجیب و غریب ہے۔ تاریخ کے مطابق مغربی چین میں سونا چاندی، ہیرے موتی وغیرہ سے لدا ایک تجارتی قافلہ جا رہا تھا کہ راستے میں قافلے کو ڈاکووـں نے گھیر لیا۔ ان ڈاکووں سے بچنے کے لئے تاجروں نے اپنے نوکروں کے ساتھ ایک ایسے غار میں پناہ لی جو چٹانوں سے گھرا ہوا تھا۔ اس غار میں چھپے ہوئے کئی دن ہو گئے حتی کہ کھانے کا سار اسامان ختم ہو گیا۔ بھوک کی حالت میں ہی ایک نوکر کی نظر ایک عجیب و غریب پودے پر پڑی جو ان لوگوں کے لئے بالکل نیا تھا۔ بحرحال۔ ۔ ۔ بھوک سے نڈھال ان لوگوں نے ان پودوں کے بیج نکال کر آٹا بنایا اور اسے گوندھ کر اس کے کیک تیار کئے جو کھانے میں انتہائی لذیذ ثابت ہوئے اور اسی کے سہارے ان لوگوں نے کافی دن اسی غار میں گذار دئے۔ اس طرح حادثاتی طور پر سویا بین کی دریافت ہوئی اور رفتہ رفتہ پورے چین میں اس کا ستعمال عام ہو گیا۔ (۱)

چین کے بعد جاپان میں اس کا استعمال عام ہوا لیکن یہاں بھی اس کی داستان بڑی عجیب و غریب ہے۔ جاپانی عقیدے کے مطابق جنت سے خالق کائنات نے ’’اجنانی ‘‘ کو جاپان شہر بسانے کے لئے بھیجا۔ اجنانی نے دیوی دیوتاوں میں سے تین کو اپنا معاون بنایا۔ چنانچہ اس نے ایک کو سورج کا دیوتا، دوسرے کو چاند کا دیوتا اور تیسرے کو سمندر کا دیوتا بنایا۔ کچھ دنوں بعد اسے تیسرے یعنی سمندر کے دیوتا جس کا نام  ’’سنانی۔ نیپا یانی (Sunane-Nepayani)بتایا جاتا ہے کا سامراجیہ پسند نہ آیا اور اجنانی نے اس کو اپنی سلطنت سے نکال دیا۔ وہ بے یار و مددگار ادھر ادھر بھٹکنے لگا۔ ایک دن بھوک سے بے حال ہو کر اس نے غذا کی دیوی سے گڑگڑا کر دعا مانگی اور غذا کی دیوی کے پاس جو کچھ تھا وہ اسے دے دیا لیکن وہ اس سے مطمئن نہیں ہوااور غصے میں آکر غذا کی دیوی کی جان لے لی اور اسے زمین میں دفن کر دیا۔ جس جگہ اسے دفن کیا تھا اسی جگہ پانچ غذائی پودے اگ آئے جن میں سر فہرست سویابین تھا جبکہ بقیہ پودے بالترتیب اس طرح تھے۔ ٹری بین، چاول، باجرا اور جو۔ تب سے ہی مذکورہ پانچ انجوں کو بطور غذا جاپان میں خاص اہمیت حاصل ہے۔

چین اور جاپان سے ہی سویابین یوروپ اورامریکہ تک پہنچی۔ امریکہ میں سویابین کا استعمال ۱۸۰۴ ؁ء سے شروع ہوا۔ اس کا پس منظر یہ بتایا جاتا ہے کہ امریکہ کے مال بردار سمندری جہاز چین جایا کرتے تھے۔ ایک بار چین سے واپسی پر جہاز کے کپتان کو اپنے سفر کا صحیح  اندازہ نہیں تھاچنانچہ اس نے زاد سفر کے طور پرسویا بین کی کچھ بوریاں اپنے جہاز میں رکھ لیں اور وہ امریکہ پہنچ گئیں۔ ایک دوسرا خیال یہ بھی ہے کہ یوروپ کے ایک امریکی مشن نے اپنے ایک دوست کو سویا بینن کی ایک بوری بطور تحفہ امریکہ بھیجی تھی۔ اس مشن نے یہ سوچا بھی نہیں تھا کہ ایک دن یہ سویا بین امریکہ میں مقبول ہو کر امریکی معاشیات میں اتنا اہم رول ادا کرے گی۔ بحر حال ابتداء میں تو یہ امریکہ میں بہت زیادہ مقبول نہیں رہی لیکن پہلی جنگ عظیم کے دوران یہ بہت مقبول ہوئی اور اب تک اس کی مقبولیت میں مستقل اضافہ ہورہا ہے۔

۱۹۰۴ ؁ء  میں مشہور امریکی سائنسداں G.W.Carver  کے مطابق سویابین خوردنی تیل اور پروٹین کا سب سے اہم ذریعہ ہے۔ ۱۹۲۹ ؁ء میں امریکی سائنسداں William. J. Bill. Morse نے چین میں رہتے ہوئے سویابین پر اپنی دو سالہ تحقیق کے اس کی دس ہزار سے زائد اقسام دریافت کیں۔ ۱۹۵۶ ؁ء میں امریکن سویا بین ایسو سئیشن (ASA) نے جاپان میں اپنا بین الاقوامی دفتر قائم کیا جو کہ اس وقت دنیا کے ۸۰ سے زائد ممالک میں سویا ایکسپورٹ کرتی تھی۔ ۲۰۰۰ ؁ء میں امریکہ  دنیا میں سب سے زیادہ سویابین پیدا کرنے والا ملک اور اس کا سب سے بڑا ایکسپورٹرتھا لیکن ۲۰۰۴ ؁ء میں برازیل اس کے سب سے بڑے ایکسپورٹر کی صورت میں ابھر کر سامنے آیا۔

یوروپ میں پہلی بار ۱۹۷۲ ؁ء میں جرمن ماہر نباتات اینگلی برٹ فانسکر نے جاپان میں دوسال گذارنے کے بعد سویا بین پر باقاعدہ مضمون شایع کر کے اسے متعارف کرایا۔ اسی طرح ’’ویانا‘‘ کے فریڈ رک ہربل اینڈیف نے ۱۹۷۵ ؁ء میں سویا بین پر ایک کتاب ( The Soya Bean) شایع کر کے اس کی اہمیت و افادیت کو اجاگر کیا۔

بر صغیر ایشیا خصوصاً ہندوپاک میں سویا بین کا استعمال کب سے عام ہو اور کس ذریعہ سے وہ یہاں تک پہنچی اس کاکوئی تاریخی ثبوت تو نہیں ملتا۔ ہاں !  اتنا ضرور ہے کہ مرکزی ایشیا میں آریہ سماج کے لوگ سویا بین کو بھی شہد کی طرح مقدس مانتے تھے اور ان کا خیال تھا کہ یہ بھی آدم کے ساتھ ہی زمین پر اتاری گئی تھی۔ اس لئے ہندوستان کے یوگی اسے انتہائی صحت بخش و مقوی غذا کے طور پر استعمال کرتے تھے۔ چنانچہ پانچ ہزار سال قبل ہندی ادبیات و شاعری میں اس کا تذکرہ ملتا ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ہندوستان میں اس کا استعمال زمانہ قدیم سے رہا ہے۔

سویا بین ہر لحاظ سے مکمل غذا ہے اس لئے کہ اس میں تمام غذائی اجزاء جیسے لحمیات، شحمیات، کاربوہائیڈریٹ، وٹامنز اور منرلس پائے جاتے ہیں۔ چنانچہ چینیوں کا خیال ہے کہ ــ’’یہ جسم کو متناسب بناتی، جسمانی ساخت کو ترقی دیتی اور نشو و نما کو تیز کرتی ہے‘‘۔ شاید اسی وجہ سے آج بھی جاپانیوں میں یہ کہاوت عام ہے کہ ’’جب آپ سویا پیدا کرتے ہیں تو سویا کے ساتھ گوشت، انڈا، دودھ ساری چیزیں پیدا کرتے ہیں ‘‘۔ یہ حقیقت ہے کہ سویا بین میں بیک وقت وہ تمام خصوصیات موجود ہیں جو گوشت، انڈا اور دودھ جیسی الگ الگ مختلف چیزوں میں ملتی ہیں۔ چنانچہ سویابین میں تقریباً۵۰ فیصد پروٹین، ۲۰ فیصد شحم اور ۲۰ فیصد کاربوہائیڈریٹ پایا جاتا ہے۔ سویابین سے حاصل شدہ پروٹین بھی گوشت، مچھلی اور انڈے سے حاصل شدہ پروٹین جیسا ہی ہوتا ہے اور اس میں تمام بنیادی Amino Acidsبھی پائے جاتے ہیں۔ اسی وجہ سے اس کو ’’ غریبوں کا گوشت‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔

اس کے علاوہ اس سے حاصل شدہ کیلوریز بھی دیگر اناجوں سے نسبتاً زیادہ ہوتی ہیں۔ چنانچہ ایک پونڈ گیہوں سے ۱۷۵۰ کیلوریز حاصل ہوتی ہیں جبکہ ایک پونڈ سویا بین میں ۲۱۰۰ کیلوریز ہوتی ہیں۔

اسی طرح اس میں وٹامن A, B, E اور D بھی پایا جاتا ہے جبکہ انکھوے والے سویا بین میں وٹامن C بھی ملتا ہے۔ سو گرام سویا بین میں موجود غذائی اجزاء و معدنیات کا تناسب حسب ذیل ہیں۔

Food Values, Minerals & Vitamins

43.2                  Protein

19.5%               Fat

20.9                  Carbohydrate

37%                 Fiber

4.6%                Minerals

81%                 Moisture

240 mg Calcium

690 mg Phosphorus

11.5 mg            Iron

اس کے علاوہ سویابین میں بہت سارے صحت بخش Phytochemicals جیسے ، Phosphate Isoflavones,  Saponins Polyphenol etc.  ، Phytic Acid ، Lecithin ، Phytates  وغیرہ پائے جاتے ہیں۔

اس کو سب سے زیادہ مقبولیت اس وقت حاصل ہوئی جب امریکہ کے اہم ادارے FDA نے اس بات کی تصدیق کر دی کہ سویابین LDL Chlesterolکوکم کرنے کے ساتھ ہی قلب کو تقویت دینے اور امراض قلب سے تحفظ فراہم کرنے کے لئے سب سے زیادہ مفید ہوتا ہے۔ چنانچہ ۱۹۹۵ ؁ء میں ایک تجزیاتی مطالعہ کے بعد یہ بات کھل کر سامنے آئی کہ سویابین LDL Chlesterol اور Triglycerides  کم ضرور کرتا ہے لیکن اس سے HDL Chlesterole میں کوئی اضافہ نہیں ہوتا۔ مزید برآں ایک حالیہ تحقیق سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ سویا پروٹین  Post Prandial Triglycerides Level کو بھی کم کرتا ہے جس کی وجہ سے Coronary Heart Disease سے تحفظ کے لئے کے اس کا استعمال انتہائی مفید ثابت ہوتا ہے۔ FDAکے مطابق ۲۵ گرام سویا پروٹین بطور غذا روزآنہ استعمال کرنے سے امراض قلب کے امکانات کافی حد تک کم ہو سکتے ہیں۔

سویابین میں موجود Soy Isoflavones خون کی رگوں کی لچک (Flexibility) کو برقرار رکھنے کے ساتھ ہی اس میں موجود Saponins،  خون سے  LDL Cholysterole, LDL lipoproteins, Triglycerides etc. کو کم کرتا اور عروق کے اندر تھکے (Plaque) بننے کے امکانات کو کم کرتا ہے جو عموماً امراض قلب بالخصوص ہارٹ اٹیک اور اسٹروک کا سبب ہوتے ہیں۔ مزید برآں ایک دیگر تحقیق سے یہ بھی پتہ چلا ہے کہ سویا پروٹین Post Prandial Triglycerides Level کو بھی کم کرتا ہے جس کی وجہ سے یہCoronary Heart Diseaes کے امکانات کو کافی حد تک کم کرنے میں معاون ہوتا ہے۔

 اس میں فاسفیٹ کافی مقدار میں پایاجاتا ہے جبکہ کولیسٹرال بالکل نہیں ہوتا۔ مزید برآں اس میں Lecithinکافی مقدار میں پایا جاتاہے جو کہ ایک قدرتی Emulcifier  ہے۔ اس میں موجود Lecithin جسم کے شحمی ذخیرے (Fat Deposits) کومنتشر کرنے کے ساتھ ہی اعضاء رئیسہ سے کولیسٹرال کو بھی کم کرتا ہے۔ اس لئے اس کا تیل دل کے مریضوں خصوصاً شرائین کے امراض میں انتہائی مفید ثابت ہوتا ہے۔

بحیثیت مجموعی سویابین کا تیل دل کے مریضوں کے لئے عطیہ خداوندی ہے۔ اس لئے کہ اس میں پروٹین سب سے زیادہ اور چربی کی مقدار سب سے کم ہوتی ہے۔ مزید برآں اس میں موجود کیمیاوی اجزاء خو ن سے غیر طبعی کولیسٹرال اور شحمیات کو کم کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس وقت پوری دنیا میں سویا بین کا تیل خوردنی طور پر سب سے زیادہ استعمال ہوتا ہے اور ڈاکٹر حضرات باقاعدہ اپنے مریضوں کو اس کے استعمال کا مشورہ دیتے ہیں۔

Lecithin کی وجہ سے ہی سویا بین کا استعمال ایگزیما اور دیگر جلدی امراض میں بھی مفید ثابت ہوتا ہے۔ سویا بین کے وافر استعمال سے کھجلی میں فوری طور پر کمی آتی ہے اور چند دنوں کے استعمال سے ہی مکمل طور پر ختم ہو جاتی ہے۔

Lecithin سویا بین میں اتنی وافر مقدار میں پایا جاتا ہے کہ تجارتی طور پر مستعمل  Lecithin کا بیشتر حصہ اسی سے حاصل ہوتا ہے۔ اس کے اندر وہ مادے بھی کافی مقدار میں ملتے ہیں جو جسم کے اندر زندہ خلیات کو اپنا کام باقاعدگی سے انجام دینے میں میں معاون ہوتے ہیں۔ اسی وجہ سے  Aging Process کی رفتار کو سست کرنے میں بھی مدد دیتا ہے۔

ایک طبی جائزہ کے مطابق ایشیاء عورتوں میں مغربی عورتوں کی بہ نسبت سن یاس میں Estrogen کی کمی کے باعث Menopausal Syndrome  جیسے Night Sweat   اور Hot Flushes وغیرہ زیادہ ہوتے ہیں سویا بین کے استعمال سے ان عوارضات سے بچا جا سکتا ہے اس لئے کہ Soy Isoflavones میں Estrogen جیسی خصوصیات پائی جاتی ہیں۔

مختلف تحقیقات سے یہ بھی پتہ چلا ہے کہ سویا بین کے مستقل استعمال سے مختلف  Hormones Related Cancers جیسے پستان، قولون اور غدہ مذی کے کینسر سے بچا جا سکتا ہے۔ ایک دیگر تحقیق سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ Soy Isoflavones کے مستقل استعمال سے ان عورتوں میں کینسر کے خطرات کم ہو ئے ہیں، جو سن یاس (Menopause)میں بار بار ہونے والے پستان کے کینسر (Recurrent Estrogen & Progesterone Positive Breast Carcinoma  ) میں مبتلاء تھیں اور کینسر کی دواAnastrozoleکااستعمال کر رہی تھیں۔ محققین کے مطابق ایسا اس لئے ہوا کیونکہ سویابین میں موجود Soy Isoflavones  میں Antiangiogenic Activity پائی جاتی ہے جو دموی عروق کی Growthمیں مداخلت کرتی ہے جس کی وجہ سے کینسر سے تحفظ میں مددملتی ہے۔ مزید برآں یہ Estrogen & Progesterone Receptors  پر اثر انداز ہو کر ان کے توازن کو برقرار رکھنے میں معاون ہے۔

سویابین میں کیشیم اور فاسفورس بھی کافی مقدار میں ملتا ہے، اس لئے ان دو اجزاء کی کمی کی صورت میں خصوصاً دوران حمل، دوران رضاعت اور بچوں کی نشو و نما کی عمر میں بہترین غذا اور دوا ثابت ہوتی ہے۔ اسی طرح کیشیم کی کمی کی صورت میں جیسے Rickets اور دانت کی خرابی جیسے Dental Carries، ہڈیوں کی کمزوری اور اعصاب و عضلات کی کمزوری وغیرہ میں اس کا مستقل استعمال و تیل کی مالش مفید ہوتی ہے۔

سویابین کے اند ر کاربوہائیڈریٹ بہت وافر مقدار میں پایا جاتا ہے جس میں اسٹارچ برائے نام یا بالکل نہیں ہوتاہے اس لئے یہ ذیابیطس کے مریض کے لئے ایک مناسب غذا ہوتی ہے، اس لئے کہ اس کے اندر موجود کاربوہائیڈریٹ نہ صرف یہ کہ جسم کے اندر حرارت و توانائی پیدا کرتا ہے بلکہ پیشاب میں شکر کے اضافہ کا موجب بھی نہیں ہوتا نہ ہی خون میں شکر کے اضافے کا باعث ہوتا ہے۔

سویا بین میں کافی مقدار میں Phytic Acidاور Phytates  پائے جاتے ہیں جو Chelating Agent  کے طور پر کام کرتے ہیں۔ اسی وجہ سے یہ کینسر، ذیابیطس اور مختلف اورام کو کم کرنے میں معاون ہوتا ہے۔ مزید برآں یہ Phytic Acidاور Phytates مختلف غذائی اجزاء جیسے آئرن، کیلشیم، زنک اور منرلس سے اپنی Strong Binding Affinity کے باعث آنتوں سے ان کے انجذاب (Absorption) میں معاون ہوتے ہیں جس کی وجہ سے فقرالدم اور سوء تغذیہ کے امکانات کم ہو جاتے ہیں۔

سویابین کے اندر فولاد بھی کافی مقدار میں پایاجاتا ہے۔ اس لئے فقرالدم میں اس کا استعمال مفید ہوتا ہے خاص طور سے اس وقت جبکہ فقرالدم کے ساتھ ہی مریض کا ہاضمہ بھی خراب  یا کمزورہو یا اس کی آنتوں میں فولاد کا انجذاب نہ ہو رہا ہو توایسی صورتوں میں سویا بین کا استعمال بطور غذا و دوا کثرت سے کرنا چاہیئے۔ اس لئے کہ یہ فولاد کی کمی کو دور کرنے کے ساتھ ساتھ آنتوں کی صحت کو برقرار رکھتے ہوئے، فولاد کے انجذاب کوبڑھا دیتی ہے۔ اس کے علاوہ یہ قبض کو دور کر نے کے ساتھ ہی بدہضمی سے پیدا ہونے ہونے والے امراض کو بھی دور کرنے میں مدد دیتی ہے۔

سویابین کا دودھ قبض اور دیگر بہت سی شکایتوں کو دور کرتا ہے۔ تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ سویا بین کے دودھ میں موجود پروٹین کا ۹۰ فیصد حصہ جسم میں منجذب ہو جاتا ہے اور ۹۰ فیصد سے ۱۰۰ فیصد تک دودھ بآسانی ہضم ہو جاتا ہے۔ سویابین کا دودھ معدہ کی صحت کو برقرار رکھنے کے ساتھ ہی بہت سے امراض خصوصاًقبض کو دور کرنے میں مفید ثابت ہوتا ہے۔ یہ دودھ ان بچوں (جو گائے یا بھینس کا دودھ نہیں پی سکتے) کے لئے گائے کے دودھ سے زیادہ مفید ہوتا ہے۔ اس دودھ میں کیلشیم کی مقدار اگر چہ زیادہ نہیں ہوتی ہے لیکن اس میں موجود Isoflavones  ہڈیوں کو تقویت اور تحفظ فراہم کرتا ہے۔ یہ ہڈیوں کے Break downکو کم کرنے کے ساتھ ہی ہڈیوں کے انسجہ کو برقرار رکھنے میں Estrogenجیسے افعال رکھتا ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق Soy Isoflavones ہڈیوں کے اندر Mineral Density (بالخصوص عورتوں میں ) میں اضافہ کرتا ہے۔ Animal Calcium کی جگہ  Soy Calcium کااستعمال زیادہ سود مند ہوتا ہے اس لئے کہAnimal Calciumزیادہ تر پیشاب کے ذریعہ خارج ہو جاتا ہے جبکہ Soy Calcium خارج ہونے کے بجائے جسم میں منجذب ہو جاتا ہے۔ اس لئے یہ جسم سے کیلشیم Lossکو کم کرتا ہے اور کیلشیم کی کمی کی صورت میں انتہائی مفید ہوتا ہے۔ اسی طرح اس کا دہی بھی انتہائی صحت بخش غذا ہے جو دودھ سے زیادہ لذیذ اور بہت حد تک Dairy Curdسے مشابہ ہوتا ہے۔ اس کا مستقل استعما ل آنتوں کی صحت کو برقرار میں معاون ہوتا ہے اور بد ہضمی سے پیدا ہونے والے بہت سے امراض سے تحفظ کے ساتھ  ہی Aging Process کو بھی کم کرتا ہے۔

دودھ بنانے کا طریقہ یہ ہے کہ ایک کلو سویا بین (یا حسب ضرورت)لے کر ۱۲ گھنٹے تک پانی میں بھگویا جاتا ہے، اس کے بعد ہاتھ سے مل  کر اس کا چھلکا نکال لیا جاتا ہے پھر اسے سل بٹے یا Grinder  کی مدد سے پیس کر اس کا Fine Pasteبنا لیا جاتا ہے پھر اس Pasteمیں تین گنا یا حسب ضرورت پانی ملا کر ہلکی آنچ پر پکایا جاتا ہے۔ پکاتے وقت اس کو ہلاتے رہنا چاہیئے تاکہ وہ جم نہ جائے پھر اسے ٹھنڈا کر کے باریک کپڑے سے چھان کر اس میں حسب ضرورت شکر ملا کر استعمال کیا جاتا ہے۔ آج کل مختلف کمپنیوں کے ذریعہ تیارشدہ سویا دودھ (پاوڈر اور محلول دونوں صورتوں میں ) اور سویا پروٹین مختلف ناموں سے بازار میں دستیاب ہیں۔

اسی طرح دہی بنانے کا طریقہ یہ ہے کہ سویا بین کے دودھ میں گائے کے دودھ یا خود سویا بین کے دودھ کی دہی تھوڑی مقدار میں ملا کر ۲۱ گھنٹے کے لئے چھوڑ دیا جاتا ہے اور وہ جم کر تیار ہو جاتا ہے۔

سویابین کے آٹے (Flour) میں گیہوں کے آٹے سے زیادہ غذائیت پائی جاتی ہے۔ چنانچہ گیہوں کی بہ نسبت  اس میں ۱۵ گنا زیادہ کیلشیم، ۷ گنا زیادہ فاسفورس، ۱۰ گنا زیادہ فولاد، ۱۰ گنا زیادہ Thiamine اور ۹گنا زیادہ Riboflavin پایا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مغربی ممالک میں فلور کمپنیاں وسیع پیمانے پر اس کے فلور تیار کر رہی ہیں اور لوگ اس سے بنی ہوئی اشیاء جیسے روٹی، کیک اور بسکٹ وغیرہ شوق سے استعمال کر رہے ہیں۔ گھر کے اندر اس کے فلور بنانے کا آسان طریقہ یہ ہے کہ پہلے اس کے بیج کو روسٹ کیا جاتا ہے پھر اس کا چھلکا نکال کر اس کا سفوف کر لیا جاتا ہے یہی سفوف بطور فلور استعمال کیا جاتا ہے۔

نقصانات:۔ سویا بین کے اس قدر فوائد کے باوجود  یہ سب کے لئے یکساں مفید نہیں ہے۔ اس سے بعض لوگوں میں دیگر  غذائی اشیاء جیسے دودھ، مچھلی، انڈا وغیرہ کی طرح الرجی بھی ہو سکتی ہے یا بعض افراد جن کو بعض غذائوں سے Food Intoleranceکی شکایت ہوتی ہے ان کو سویابین سے بھی ہو سکتی ہے اور فوری طور پر قئے و دست کی شکایت ہو سکتی ہے اور اگر یہ چھوٹے بچوں میں ہو اور والدین کا ذہن الرجی یا Food Intoleranceکی طرف نہ جارہاہو تو یہ صورت حال مزمن شکل اختیار کر سکتی ہے جس کے نتیجہ میں فقرالدم ہو سکتا ہے۔ سویا بین سے الرجی کیصورت میں بھی عام الرجی کی طرح Urticaria,  Anigioedema etc.وغیرہ ہو سکتا ہے جبکہ شاذ ونادر Anaphylaxis بھی ہو سکتا ہے۔ مذکورہ تمام صورتوں میں فوری طور پر سویابین کا استعمال بند دینا چاہیئے۔

تھائیرائیڈ کے مریضوں بالخصوص Hypothyroidism کے مری کے لئے سویابین نقصان دہ ہو سکتی ہے اس لئے کہ یہ دوا کے انجذاب کو متاثر کرتی ہے۔

Goutکے مریض کو بھی سویا بین سے پرہیز کرنا چاہیئے اس لئے کہ سویا بین میں موجود Purineیورک ایسڈ کی مقدار میں اضافہ کر سکتی ہے۔

احتیاطی تدابیر:۔ سویابین کے اندر ایک کڑوا اور رنگین مادہ پایا جاتا ہے جو مضر ہوتا ہے۔ اس کو الگ کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ ۴ کپ پانی میں آدھا چمچ (چائے کے چمچ سے)سوڈیم بائی کاربونیٹ ملا کر سویا بین کو اس میں دس منٹ کے لئے بھگو دیا جائے تو مضر مادے اس الگ ہو جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ اس میں ایک دوسرا مضر جزء بھی ہوتا ہے جو ہاضمہ کے خامرہ Trypsin کے فعل میں رکاوٹ کا سبب ہوتا ہے۔ اس کا یہ جز ء محض اس کو گرم کرنے سے ہی ختم ہو جاتا ہے۔

سویابین اس قدر مقبول ہونے اور اپنے اندر اتنے فوائد رکھنے کے باوجود یونانی ادویہ کے ذخیرہ میں شامل نہیں ہے۔ تلاش بسیار کے باوجود مجھے یونانی کی کسی کتاب میں اس کا ذکر نہیں مل سکا نہ ہی کوئی مستند طبیب اس پر روشنی ڈال سکا۔ ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ طب یونانی میں یہ کسی اور نام سے مذکور و مستعمل ہو، جس کا علم مجھے نہ ہو اور وہاں تک میری رسائی نہ ہو سکی ہو۔ اس لئے اگر کسی کے علم میں ہو اور وہ اس کی نشاندہی کرسکے تو میں اس کا مشکور ہوں گا۔ بصورت دیگر اس کو بھی یونانی ادویہ میں شامل کرنے کے ساتھ ہی اس پر مزید رعسرچ و تحقیق کا کام ہونا چاہیئے اس لئے کہ علم کسی کی میراث نہیں بلکہ ’’الحکمۃ ضالۃ المومن حیث وجدھا  فھواحق بہا‘‘ علم و حکمت مومن کی متاع گمشدہ ہے جہاں کہیں بھی ملے، وہ اس کا سب سے زیادہ مستحق ہے۔ وما علینا الا البلاغ۔

مزید دکھائیں

متعلقہ

Back to top button
Close