خصوصیہندوستان

سیاست کی آگ، عدالت کی جھاگ

ڈاکٹر سلیم خان

حکومت کی مثال ایک دومنزلہ بس کی سی ہے کہ اس میں دوکنڈکٹر ایک ڈرائیور اور کئی مسافر ہوتے ہیں۔ ایک کنڈکٹر تو عدالت ہوتی ہے دوسرا کنڈکٹر انتظامیہ۔ ان دونوں سے آگے ڈرائیور کی نشست پربراجمان مقننہ اور آس پاس  بے شمار مسافر یعنی عوام۔  مقننہ اگر نااہل ہو اور اپنی ذمہ داریاں ادا نہ کرے تو  انتظامیہ کاکوئی  شاطر کنڈکٹر اپنے گلے سےجھولا نکال کر ڈرائیور کے گلے میں  لٹکا دیتا ہے اور خود اسٹیرنگ سنبھال لیتا ہے۔ عام طور پر ایسی جرأت کا مظاہرہ چونکہ فوجی سربراہ کرتے ہیں اس لیے ایسی تبدیلی کو فوجی انقلاب کا نام دیا جاتا ہے۔ انتظامیہ کے اندر دم خم نہ ہوتو مسافر عدالت سے رجوع کرکرکے اسےعملاًڈرائیور کی نشست سے بیٹھادیتے ہیں۔ آج کل یہی صورتحال ہے۔ روزمرہ کے عوامی مسائل کی لگام فی زمانہ  عدالت کے ہاتھوں میں چلی گئی  ہے اس لیے آئے دن  سیاستدانوں کے بجائے جج حضرات اخبارات کی شاہ سرخی میں نظر آتے ہیں۔ حکومت کیا کررہی ہے؟  یہ نہ کوئی جانتا ہے جاننا چاہتا ہے لیکن عدالت  میں جو کچھ ہورہا ہے یہ سب جانتے ہیں۔عدالت عالیہ کی اہمیت اس قدر  بڑھ گئی ہے کہ بدعنوانی  کے گندے تالاب میں غرق انتظامیہ  سیاستدانوں کے بجائے عدلیہ سے احکامات لینے پر مجبور ہوگیا ہے۔

تین  طلاق کے سہ رخی بدنام زمانہ فیصلے میں جسٹس جگدیپ سنگھقہر نے پرسنل لاء کی حمایت اپنا سارا زور صرف کردیا اور اسے عدالت کی دسترس سے پرے قرار دے کر عدلیہ کو اس کے احترام کی نصیحت  کرڈالی۔ اس کے بعد حق راز داری پرسرکار کو  زبردست  مکاّ جڑ کر چیف جسٹس قہرنے اپنے قہرناک  قانونی سفر کو  الوداع کہا۔ ان کی سربراہی میں  آئینی بینچ نے حکومت کی  ہر دلیل کی دھجیاں اڑا کر عدلیہ کے وقار کو بحال کیا۔جدید غیر اعلانیہ ایمرجنسی کے دوران ۹ ججوں کی بنچ نے اتفاق رائے سے قدیم ایمرجنسی کے دوران کیے جانے والےاے ڈی ایم جبل پور بمقابلہ شیوکانت شکلا کے فیصلہ منسوخ کر دیا۔  اس فیصلے کی خاص بات یہ بھی ہے کہ اسے لکھنے والے جسٹس ڈی وائی چندر چوڑ نے  خود اپنے والد جسٹس  وائی وی چندر چوڑ کے فیصلے کو مسترد کیا ہے۔1975 میں سنائے گئے  عدالتی فیصلے میں کہا گیا تھا کہ ’’ حق کیا  ہے ؟ وہ جو دستور نے دیا ہے  یا اس کے وضع کرنے سے پہلے سے ہے۔ نجی آزادی  کا کوئی امتیازی نشان نہیں ہے۔ اس لیے کب سے اسے نافذ کیا جائے اس کا پتہ لگانا ناممکن ہے‘‘۔ آگے چل کر انہوں نے اور بھی خطرناک بات لکھ دی ’’اس (بنیادی) حق کا  مصدر یا دائرہ کار جو بھی ہو  نجی آزادی کے حق کو  جوہری و مادی شکل میں ایمرجنسی کے دوران معطل کیا جاسکتا ہے‘‘۔

یہ ایک ایسی خطرناک عدالتی نظیر تھی کہ اس کی آڑ میں کوئی بھی فسطائی حکومت اپنے شہریوں کو بنیادی حقوق سے قانوناً  سلب کرسکتی تھی لیکن والد نے جو عظیم غلطی کی تھی 42 سال بعد بیٹے  نےاس کی اصلاح کردی۔ ڈی وائی چندچوڑ نے لکھا ’’ زندگی اور نجی آزادی انسانی وجود کے ناقابلِ تقسیم  اجزاء ہیں۔ کیسوانند بھارتی  کے کیرالہ حکومت کے خلاف مقدمہ میں اس کا اعتراف کیا گیا ہے۔ یہ قانونِ فطرت  کے تحت ملنے والا حق ہے۔ ایک فرد کی زندگی میں انسانیت  کا عنصر زندگی کے تقدس کا جزو لاینفک ہے۔ (انسانی زندگی کا) وقار  حریت اور آزادی سے منسلک ہے‘‘۔  اس وضاحت کے بعد عدالت نے سرکار کو  ببانگِ دہل تلقین کی کہ ’’کوئی مہذب حکومت  قانونی اختیار کے بغیر زندگی اور نجی آزادی  میں مداخلت کا تصور بھی نہیں کرسکتی۔ زندگی  اور  آزادی  حکومت کا کوئی احسان نہیں  ہے اور نہ دستور ان حقوق کی تخلیق کرتا ہے۔ زندہ رہنے کا حق  دستور کے وجود سے پہلے بھی موجود تھا ‘‘۔ ایک ایسے دور میں جب انسانی حقوق کو دیش بھکتی کے نام پر سرِعام  پامال کیا  جارہا ہے سپریم کورٹ نے یہ نادرِ روزگار فیصلہ سنا کر عوام کے بنیادی حقوق کی بحالی میں قابلِ ستائش کردار ادا کیا ہے۔ اس دستوری بنچ نے اتفاق رائے  ایم پی  شرما اور کھڑک سنگھ معاملات میں عدالت عالیہ کے فیصلوں رد  کر کے ان لوگوں کی زبان بند کردی جو عدالتِ عالیہ کی تنقید کو اس کی توہین کا مترادف سمجھتے ہیں۔ انسانی فیصلے وقت کے ساتھ بدل دیئے جاتے ہیں۔

سردارجی (جسٹس  جے ایس قہر) کے بعد پنڈت جی (چیف جسٹس دیپک  مشرا )  آئے۔ انہوں نے گجرات ہائی کورٹ کا مذہبی مقامات کی مرمت کا فیصلہ مسترد کرکے اول تو مایوسی کی لہر دوڑا دی لیکن بعد میں گئورکشا کے نام ہونے والے مظالم میں کسی حدتک عدلیہ کاوقار بحال کیا۔ گجرات کے مسلمانوں کی ایک تنظیم اسلامک ریلیف کمیٹی نے 2003 میں احمدآبادکی عدالت میں معاوضے کے لیے درخواست داخل کی تھی۔ اسلامک کمیٹی کے مطابق فسادات کے دوران پانچ سو سے زیادہ مساجد اور درگاہوں کو تباہ وتاراج  کیا گیا۔ گجرات ہائی کورٹ نے 8 فروری 2012 کو اپنا فیصلہ سناتے گجرات سرکار  کی سخت سرزنش کی۔ ہائی کورٹ نے کہا ’فسادات روکنے میں حکومت کی طرف سے مناسب اقدامات کی کمی، بے عملی اور غفلت کے سبب ریاست میں بڑے پیمانے پر مذہبی عبادت گاہوں کو نشانہ بنایاگیا۔ منہدم عبادت گاہوں کی تعمیر کا معاوضہ دینے کا حکم دیتے ہوئے عدالت نے کہا ’حکومت نے جب فسادات میں تباہ ہونے والے مکانوں اور دوکانو ں کے لیے معاوضہ ادا کیا ہے تو اسے مذہبی عمارتوں کے لیے بھی معاوضہ دینا چاہیے۔ ان منہدم عبادت گاہوں کی اگر پہلے ہی تعمیر نو ہو چکی ہے تو جوبھی اخراجات آئیں ہوں حکومت ان کی  ادائیگی  کرے۔‘گجرات ہائی کورٹ نے ریاست کے تمام اضلاع کے پرنسپل ججوں کو ہدایت کی تھی کہ وہ اپنے اپنےعلاقہ میں منہدم عبادت گاہوں کی تفصیل حاصل کریں اور ان کے معاوضے طےکریں۔‘ اس کام  کے لیے 6 ماہ کا وقت دیا گیا تھا۔ ہائی کورٹ کے فیصلے نے منور رانا کے شعر کی یاد دلا دی ؎

حکومت کی توجہ چاہتی ہے یہ جلی بستی 

 عدالت پوچھنا چاہے تو ملبہ بول سکتا ہے

گجرات کی صوبائی  حکومت نے ہائی کورٹ کے اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا۔ ریاستی حکومت نے ہائی کورٹ کے فیصلے  کو  ناقص  قرار دیا۔ اس کے خیال میں  آئین ہند کے سیکولر اصولوں کے تحت کوئی حکومت مذہبی اداروں کو رقم فراہم نہيں کر سکتی۔بی جے پی  کی ہندوتووادی سرکار کا مسلمانوں کو ان کے حق سے محروم کرنے کے لیے سیکولرزم کا سہارا لینا حیرت انگیز اور دستور کی دہائی تعجب خیز تھا۔ حکومت  اگر صحیح معنوں میں سیکولر ہوتیتو نہ فسادات رونما ہوتے اورنہ  عبادتگاہیں مسمار ہوتیں۔ اس صورت میں واجپائی جی کو علی الاعلان مودی جی کی خاطر  راج دھرم پالن کرنے کا اپدیش  بھی نہیں دینا پڑتا۔ 2012 میں  مشرا جی کی قیادت والی سپریم کورٹ نے صوبائی حکومت کی  ہائی کورٹ کے فیصلے پر حکم امتناعی کی درخواست کو  تسلیم نہیں کیا اور مودی جی کی سرکار کو حکم دیا کہ وہ فسادات میں تباہ ہونے والی عبادت گاہوں اور مساجد کی صحیح تعداد اور ان کی تعمیر نو پر آنے والے اخراجات کے تخمینے کی تفصیلات عدالت  عالیہ کے سامنے پیش کرے۔حکومت سے عدالت جاننا چاہتی تھی کہ کیا حکومت نے فسادات کے دوران عبادت گاہوں کے حقیقی نقصانات کا کوئی جائزہ لیا ہے؟‘۔ اس کے بعد وقت بدل گیا۔ ایک ایسا وقت آگیا کہ منموہن سنگھ کے زیر سایہ  مشرا جی جس وزیراعلیٰ کو آنکھیں دکھا رہے تھے  اسی کی نظر کرم سے چیف جسٹس بن گئے اور اسی کے ساتھ منظرنامہ بھی  تبدیل ہوگیا۔

27 اگست کو  سپریم کورٹ نے گجرات ہائی کورٹ کے مذکورہ  فیصلے کو مسترد کردیا اور ریاستی حکومت کی معاوضہ تجویز کو منظوری دے دی۔ یعنی اب گجرات حکومت تباہ شدہ مذہبی ڈھانچے کو عمارت مان کر معاوضہ دے گی۔ گجرات حکومت کی تجویز کے مطابق  تباہ شدہ عمارتوں کو زیادہ سے زیادہ 50 ہزار روپئے نقصان بھرپائی کے طور پردیئے جائیں گے۔ اب عبادتگاہوں  یا مساجد کو مذہب کے نام پر نہیں بلکہ عمارت کے طور پر معاوضہ دیا جائے گا۔ سپریم کورٹ کی دلیل یہ ہے کہ حکومت کسی بھی مذہبی مقام کی تعمیر یا مرمت کے لئے ٹیکس دہندہ کے پیسے خرچ نہیں کر سکتی۔ اگر حکومت معاوضہ دینا چاہتی ہے تو اسے مندر، مسجد، گروروا، چرچ وغیرہ کو ایک عمارت مان کر نقصان کی تلافی  ہوسکتی ہے۔

اس فیصلے نے کئی سوالات کو جنم دے دیا ہے مثلاًدستور کی دفعہ ۲۵۸ میں مندر کی تعمیر کے لیے خرچ کا جواز موجود ہے یا نہیں ؟ گجرات کے فسادیوں  میں  ٹیکس دہندہ شامل تھے یا نہیں ؟ ٹیکس کی رقم پر جن لوگوں کا حق ہے کیا وہ اس فساد میں ملوث نہیں تھے؟ اگرتھے تو کیا انہیں بلاواسطہ  صحیح کیا اس نقصان کی بھرپائی نہیں کرنی چاہیے؟ کیا صوبائی حکومت کو اس  کی کوتاہی کی سزا نہیں ملنی چاہیے  اور اس کا کیا طریقہ ہے؟ ہائی کورٹ فیصلے میں حکومت کی کوتاہی کا اعتراف ہائی کورٹ موجود ہے اور سپریم کورٹ نے چونکہ مسترد نہیں کیا اس لیے گویا تسلیم کیا ہے؟ جسٹس دیپک مشرا نے یہ بھی کہا ہے کہ ’’دستور کی دفع  27 یہ نہیں کہتی کہ مرکزی یا ریاستی حکومتیں مذہبی مقامات کی مدد کے لئے قانون نہیں بنا سکتے اگر گجرات حکومت نے مذہبی مقامات کی مدد کے لئے قانون بنایا ہوتا اور پھر بھی وہ معاوضہ نہیں دیتی تو دیگر بات ہوتی‘‘۔ سپریم کورٹ گجرات  کی نام نہاد سیکولر حکومت سے پوچھ سکتا تھا ایسا قانون کیوں نہیں بنایا گیا اور قانون بنانے کا حکم دے سکتا تھا  لیکن یہ نہیں کیا گیا۔ اس مہنگائی کے دور میں  ۵۰ ہزار روپئے سے کوئی معقول  مرمت ہوسکتی ہے؟ کس کی مدد دی جائے اور کس کی نہیںاس  کا تعین  صوبائی حکومت کی صوابدید پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ ایک ایسی ریاستی حکومت پر جو تباہ شدہ عبادتگاہوں کی  مذکورہ تعداد کو تسلیم نہیں  کرتی اور اس کی نیتامداد کرنے کی  ہے ہی نہیں۔  اس پس منظر میں  اے پی سی آر نےلیے بجا طور پر مذکورہ فیصلے پر  سپریم کورٹ میں نظر ثانی کی درخواست  کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ کاش کہ عدالت کا فیصلہ نہیں ہوتا بقول شاعر ؎

آپ ہی اپنے ذرا جورو ستم کو دیکھیں 

 ہم اگر عرض کریں گے تو شکایت ہو گی

 اس فیصلے کے بعد طرح طرح کی چہ میگوئیاں  ابھی چل  ہی رہی تھیں کہ  میامنار کے مہاجروں کو لے کر سپریم کورٹ کا ایک ملا جلا فیصلہ آگیا۔ اس میں عدالت نے یہ تسلیم کیا کہ ملک میں  کسی کو رکھنے یا نکالنے کا فیصلہ مقننہ کے  دائرۂ کار میں آتا  ہے اس لیے وہ روہنگیا کے مسلمانوں کی بابت حکومت کے فیصلے پر روک نہیں لگانے سے قاصر ہے  پھر بھی  اس نےحکومت سے ملک کے اندر موجود مہاجرین کی تفصیل طلب کرکے نادانستہ مسائل پیدا کردئیے  اس لیے کہ پتہ چلا بنگلادیش، تبت اور سری لنکا کے مہاجرین کی تعداد برمی مسلمانوں سے کہیں زیادہ ہے۔ نیپال کے لوگ تو اپنے آپ کو غیر ملکی ہی نہیں سمجھتے۔ اس کے بعد  حکومت کو یہ صفائی پیش کرنی پڑی کہ اس کا موقف تمام  غیر قانونی مہاجرین کے ساتھ یکساں ہے۔ ابھی حکومت اس جھٹکے سے سنبھل بھی  نہ پائی تھی کہ گئورکشک دہشت گردوں پر مشرا جی نے نیا زلزلہ برپا کردیا۔

عدالت عالیہ نے گزشتہ سال اکتوبر میں  گئو رکشا کے نام تشدد کے مقدمہ کی  سماعت کرتے ہوئے جن چھ ریاستوں سے تشدد کی معلومات طلب کی تھی ان  میں سے پانچ صوبوں مہاراشٹر، گجرات، جھارکھنڈ، ہریانہ، مدھیہ پردیش اور اترپردیش میں بی جےپی کی حکومت ہے۔ مفاد عامہ کی تین عرضیوں پر سماعت کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت سے وکیل مقرر کرنے کا حکم دیا۔ تحسین پوناوالا کی درخواست میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ ان ریاستوں میں گئو رکشا کے نام پرجاری  تشدد کی آزادانہ اور منصفانہ جانچ ہونی چاہئے۔ 7 اپریل 2017 کو سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت کے علاوہ 6 ریاستوں کو نوٹس جاری کرتے ہوئے غضبناک ہو پوچھا کہ کیوں نہ گئو رکشا کے نام پر تشدد کرنے والی جماعتوں پر پابندی لگا دی جائے؟ حکومت کی کاہلی پر ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے تین ہفتے کے اندر جواب داخل کرنے کی ہدایت جاری کی۔

چیف جسٹس دیپک مشرا کی سربراہی والی بنچ نے اس سنگین معاملے میں 6 ستمبر 2017 کو اپنا آخری  فیصلہ صادر کیا  تو اس میں پابندی کی بات گدھے کے سر سے سینگ کی مانند غائب تھی۔ خیرغنیمت کہ  ہر ضلع میں نوڈل افسرمقرر کرنے کا حکمموجود تھا۔ ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں سے ٹاسک فورس تشکیل دینے اور ان میں سینئر پولیس افسران کو نوڈل افسر مقرر کرنے کی تاکید کی۔ عدالت عالیہ  نے تشدد کے واقعات کی روک تھام کے لیے ہر ریاست کے چیف سکریٹری سے کہا ہے کہ وہ متعلقہ ڈائریکٹر جنرل آف پولیس کی مدد سے قومی شاہراہوں کو گئورکشکوں سے محفوظ رکھیں۔ اس بابت  سینئر وکیل اندرا جے سنگھ اور کولن گونزالوس نے دلیل دی  تھی کہ تشدد کا سہارا لینے والے گئو رکشکوں  کے خلاف مرکزی حکومت کے موقف کے باوجود قتل کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔

اس معاملے میں سرکاری وکیل  تشار مہتا کا دفاع نہایت کمزور تھا۔ ان کےمطابق یہ واقعات نظم ونسق سے متعلق ہیں جو ریاستی حکومت کے دائرہ اختیار میں آتاہے اس کے خلاف جے سنگھ کی دلیل تھی کہ مرکزی حکومت ان سانحات کو صرف نظم ونسق کا مسئلہ کہہ کر دامن نہیں بچا سکتی۔ مرکزی حکومت کو آئین کی دفعہ ۲۵۶کے تحت ریاستی حکومتوں کو ایسے واقعات کی روک تھام کے لئے ہدایت دینے کا اختیار حاصل ہے۔ مہتا نے جب یہ  کہا کہ  "کسی بھی ناخوشگوار واقعہ کی روک تھام کے لئے قانون موجود ہے۔” تو  چیف جسٹس نے  پھٹکار لگائی  "ہم جانتے ہیں کہ اس کے لئے قانون موجود ہے، لیکن آپ نے (حکومت نے) کیا کیا؟ آپ منصوبہ بند طریقہ سے قدم اٹھا سکتے تھے، تاکہ گئو رکشا کے نام پر تشدد کے واقعات میں اضافہ نہ ہو۔ ” عدالت نے کہا کہ مرکز اور ریاستی حکومتوں کو  گئورکشا کے نام پر تشدد پھیلانے والوں کو روکنے کے لئے ٹھوس قدم اٹھانے چاہئیں۔

گئو بھکتی  آہستہ آہستہ اس حکومت کے گلے کی ہڈی بنتی جارہی ہے۔ عدالت  سےپریشان گئوبھکت سرکار کو خود اس کے نو منتخب  مرکزی وزیر نے جھٹکا  دیا۔ پہلے یہ معاملہ آسام کے وزیر اعلیٰ تک محدود تھا لیکن اب گوہای دلی آگیا ہے۔ سرکاری افسر سے سیاستداں بننے والے مرکزی وزیر سیاحت الفونس کننتھانم نے اپنا عہدہ سنبھالنے کے پہلے ہی دن بیف کے مسئلہ پر اظہارخیال کرتے ہوئے کہاکہ کیرالا میں بیف بدستور کھایا جاتا رہے گا۔ وہ بولے بی جے پی نے کبھی بھی یہ نہیں کہا کہ بیف نہیں کھایا جاسکتا۔ کننتھانم نے کہاکہ ‘گوا کے چیف منسٹر کی حیثیت سے منوہر پاریکر نے کہا تھا کہ اُن کی ریاست میں بیف کا استعمال ہوتا رہے گا۔ بالکل اسی طرح کیرالا میں بھی  یہ سلسلہ جاری رہے گا ”۔ ہم کسی بھی مقام پر غذائی عادات و اطوار پر اپنی مرضی مسلط نہیں کرتے۔ یہ عوام پر منحصر ہے کہ اپنی پسند کے مطابق فیصلہ کریں”۔ کننتھانم نے کہاکہ ”گوا جیسی بی جے پی کے زیراقتدار ریاست میں بیف کھایا جاسکتا ہے تو کیرالا میں بھی اس بات پر کوئی مسئلہ نہیں ہونا چاہئے ”۔ کیرالہ کے علاوہ دیگر آٹھ ریاستوں میں بیف کی اجازت  ہے۔ سوال یہ کہ اگر ان ریاستوں میں لوگ اپنی مرضی کے مطابق کھا پی سکتے ہیں تو دیگر صوبوں میں یہ بیجا پابندی کیوں ہے؟ عدالت کی نظر میں تو  رازداری کا حق زندہ رہنے اور کھانے پینے کی  مانند بنیادی حقوق میں سے ایک ہے۔حکومت کو اسے سلب کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ گئو بھکت سرکار میں  کننتھانم جیسے فرد کو وزیر سیاحت کی کرسی پر براجمان دیکھ کر جنھیں  تعجب ہوتا انہیں چاہیے کہ نظر برنی کی  مندرجہ ذیل پیروڈی دیکھیں  ؎

عروج احمقاں کو دیکھ کر ہم یہ سمجھتے ہیں 

سیاست اک حماقت ہے نہ کام آتی ہیں تدبیریں

اگرکچھ مرتبہ چاہو چلم بھرنے کے گر سیکھو 

اسی فن کی بدولت تو بدل جاتی ہیں تقدیریں

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

سلیم خان

ڈاکٹر سلیم خان معروف کالم نگار اور صحافی ہیں۔

متعلقہ

Close