خصوصیسیاست

سیاسی بساط پر مسلمانوں کی حیثیت

محمد آصف اقبال

ہندوستان میں لوک سبھا الیکشن کا آغاز بس دو دن بعد ہونے والا ہے۔ 2019کے لوک سبھا الیکشن کے اعلان سے دو روز قبل 9مارچ تک 2293سیاسی پارٹیاں الیکشن کمیشن آف انڈیا کے تحت رجسٹرڈ ہو چکی تھیں۔ جس میں ” بھروسہ پارٹی”،”سب سے بڑی پارٹی” اور” راشٹریہ صاف نیتی پارٹی” وغیرہ شامل تھیں۔ پارٹیوں کی تعداد یہیں نہیں رکی بلکہ یکم اپریل 2019کو ایک اور لسٹ الیکشن کمیشن آف انڈیا نے جاری کی اور بتایا کہ 2293سیاسی پارٹیوں کی تعداد اب بڑھ کے 2354ہوچکی ہے، لسٹ میں نئی پارٹیوں کے نام اور پتے بھی شامل کیے گئے ہیں۔ آپ جانتے ہیں کہ ہندوستان دنیا میں آبادی کے اعتبار سے چین کے بعد دوسرے نمبر پر ہے۔ 2019میں تقریباً1.37بلین آبادی یعنی 137کروڑ افرادہندوستان میں بستے ہیں۔ وہیں آپ یہ بھی جانتے ہیں کہ ہندوستان میں لوک سبھا الیکشن میں کل 552سیٹوں پر انتخاب عمل میں آتا ہے۔ جس میں 530ممبر آف پارلیمنٹ ملک کی ریاستوں سے منتخب ہوتے ہیں، 20ممبر آف پارلیمنٹ یونین ٹیریٹریز سے اور 2کا تقرر صدر جمہوریہ ہند، انگلو انڈین کمیونٹی سے کرتا ہے۔

        ہندوستان میں پہلی مردم شماری 1951میں ہوئی تھی اس وقت ملک کی آبادی 37.63کروڑ تھی لیکن آج یہ آبادی 136کروڑ 87لاکھ سے زائد ہو چکی ہے اور جلد ہی 137کروڑ ہو جائے گی۔ ملک کی آبادی کے تناظر میں اگر مسلمانوں کی آبادی کو دیکھا جائے تو1951میں مسلمانوں کا تناسب 9.8%فیصد تھاجو 2018میں بڑھ کے% 15فیصد یعنی 20کروڑ سے کچھ زائد ہو چکی ہے۔ اس پس منظر میں یعنی آبادی کے تناسب کے اعتبار سے مسلمانوں کی پارلیمنٹ میں نمائندگی کا جائزہ لیا جائے تو آپ کو معلوم ہوگا کہ 1952میں 11مسلمان ممبر آف پارلیمنٹ یعنی کل تعداد کا 2%فیصد منتخب ہوئے تھے۔ اس کے بعد 1957میں 19،1962میں 20،1967میں 25،1971میں 28،1977میں 34،1980میں 49،1984میں 42،1989میں 27،1991میں 25،1996میں 29،1998میں 28،1999میں 31،2004میں 34،2009میں 30اور2014میں 24،مسلم ممبر پارلیمنٹ منتخب ہوئے۔ اس پورے اعداد و شمار کی روشنی میں 1980وہ سال ہے جس میں مسلم ممبر آف پارلیمنٹ کی نمائندگی سب سے زیادہ 49رہی ہے برخلاف اس کے 1962کے بعد حالیہ و جاری پہلی لوک سبھا 2014کے نتائج تھے جس میں سب سے کم مسلمان ممبر آف پارلیمنٹ کی تعداد24ہو گئی ہے۔ ایسا کیوں ہوا؟ یہ ایک بڑا سوال ہے۔ اس کے باوجود کہ مسلم آبادی کے تناسب میں بالترتیب1957سے لے کر 2014تک اضافہ ہی ہوا ہے۔ ہمارے خیال میں اس کی دو بڑی وجوہات ہیں۔ i)سیکولر سیاسی پارٹیاں سمجھی جانے والی جماعتوں کی شکست فاش اورii)کمیونل پارٹیوں کے گٹھ جوڑ میں مسلمانوں کو صفحہ ہستی سے مٹانے،ان کی نمائندگی کو کم کرنے یا ختم کرنے کا جذبہ۔ دوسری طرف اعداد وشمار کی روشنی میں یہ تعداد بھی ہمیں ملتی ہے کہ ہندوستان میں 30سے40فیصدووٹ شیئر جس لوک سبھا امید وار کو حاصل ہوتا ہے وہ عموماً کامیابی درج کراتا ہے۔ برخلاف اس کے یہ بھی حقیقت ہے کہ ملک میں 46لوک سبھا حلقے ایسے ہیں جہاں مسلمانوں کا ووٹ فیصد 30%سے زیادہ ہے۔ یعنی اگر اِن46مقامات پر 10سے 15فیصد مسلم ووٹ کے علاوہ کسی امیدوار کو مل جائے تو اس کی جیت لازمی ہے۔ اس سب کے باوجود 2014کے لوک سبھا الیکشن میں مسلم نمائندگی24تک ہی پہنچ کے رک گئی تھی۔ اس کی وجہ بھی ہمیں جاننے کی ضرورت ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ اِن46 مقامات پر جہاں مسلمانوں کا ووٹ شیئر 30%فیصد سے زیادہ ہے، ان مقامات پر مختلف سیاسی پارٹیوں کے مسلم امیدوارکھڑے کیے جاتے ہیں، ووٹ تقسیم ہوتا ہے،اور نتیجہ میں ناکامی ہاتھ آتی ہے۔

        مسلمانوں کی آبادی کا تناسب،مسلم ووٹوں کی تعداد،سیکولر اور غیر سیکولر سیاسی پارٹیوں سے وابستہ مسلم لوک سبھا ممبر آف پارلیمنٹ کی گھٹتی بڑھتی تعدادکے تناظر میں ہمیں یہ بھی دیکھنے کی ضرورت ہے کہ کیا مسلمانوں کے مسائل آزادی سے لے کر آج تک ہندوستان میں حل ہوتے نظر آرہے ہیں ؟نیز یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ آزادی سے قبل اور اس کے بعد مسلمانوں کے مسائل میں اضافہ ہوا ہے یا کمی آئی ہے؟ اس کے باوجود کہ مسلمانوں کی تعداد اور تناسب میں اضافہ ہی ہوا ہے۔ مسلمانوں کی اپنی شریعت پر عمل درآمد کے سلسلے میں یا ان کی شناخت،تشخص اور سماجی، معاشی،تعلیمی و معاشرتی مسائل میں آبادی کے بڑھتے اعداد و شمار کی روشنی میں اور لوک سبھا میں نمائندگی کی نتیجہ میں کمی آتی نظر آرہی ہے ؟غالباً اکثریت کی رائے یہی ہوگی کہ نہیں، مسائل حل نہیں ہو رہے ہیں بلکہ ان میں لگاتار اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ ہاں یہ الگ بات ہے کہ کل مسائل کی شکل اور شدت کچھ اور تھی اور آج مسائل کی شکل تبدیل شدہ ہے اور شدت میں بھی اضافہ ہی ہوا ہے۔ اگر ایسا ہے تو پھرہندوستانی مسلمانوں کو ضرور سوچنا چاہیے کہ مسئلہ کا حل کیا ہے؟کیونکہ یہ اہم سوال ہے لہذا اسے نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے۔ لیکن اس سے قبل کہ مسائل کا حل تلاش کیا جائے،اس پر غور و فکر کیا جائے،دیکھنا یہ بھی چاہیے کہ اب تک ستر سالہ دور آزادی میں مسلمانوں نے مسائل کے حل کے لیے کیا تدابیر اختیار کی ہیں ؟جن طریقوں کو تدبیر کی شکل دیتے ہوئے مسائل میں کمی کی کوشش کی گئی ہے کیا انہیں میں کچھ رد و بدل کیا جاسکتا ہے؟یا پھر ایک نئے لائحہ عمل کے ساتھ میدان میں عمل میں اترنے کی ضرورت ہے؟جیسا کہ کچھ لوگ کہتے ہیں۔

        جب ہم مسائل کے حل کے طریقوں پر غور و فکر کرتے ہیں، جو اب تک اختیار کیے گئے،تو موٹے طور پر دو طریقہ سامنے آتے ہیں۔ i)مسلمانوں کے ایک بڑے خوشحال طبقہ نے سیاسی جماعتوں سے وابستگی اختیار کی،اور اقتدار کے ذریعہ مسئلہ کو حل کرنے کی کوشش کی۔ دوسری جانبii)جو طریقہ سب سے زیادہ موضوع بحث رہا وہ مسلمانوں کی ابتر تعلیمی صورتحال اور اس میں بہتری کی کوششیں رہی ہیں۔ ان دو طریقوں کے نتائج پر اگر سرسری نظر ڈالی جائے یا تحقیقی نظرتو جو بات موٹے طور پر سامنے آتی ہے وہ یہ ہے کہ سیاسی جماعتوں سے وابستگی، ا ن میں اثر و رسوخ،اقتدار کا حصول،جیسی کوششوں کے باوجود مسلمان سیاستدانوں کی حیثیت مختلف سیاسی پارٹیوں کے کارندوں سے بڑھ کے نہیں رہی۔ اُن کی حیثیت صرف یہی رہی ہے کہ وہ اُن سیاسی پارٹیوں کے حق میں کام کریں، جس سے وہ وابستہ ہیں۔ مسلمان،مسلمانوں کے مسائل،شریعت اور پرسنل لاء کی بحالی نیز معاشی،تعلیمی اور سماجی مسائل کے حل کے لیے غور و فکر نہ کریں، اور اگر کریں بھی تو آزادانہ طور پر کریں، انفرادی حیثیت سے کریں۔

ان کے اس غور و فکر اور عمل درآمد کی راہوں میں سیاسی جماعت جس سے وہ وابستہ ہیں، اس کا کچھ تعلق نہیں ہے،نہ وہ اس میں کسی طرح کے تعاون کی بات کرتی ہے اور نہ ہی مسلمانوں کے مسائل اس کے سامنے کوئی اہمیت کے حامل مسائل ہیں۔ اس کے سیدھے معنی یہ ہوئے کہ گرچہ وہ ملک کا حصہ ہیں لیکن سیاسی پارٹیوں کے لیڈران اور ملک کا بااقتدار طبقہ،جو پارلیمنٹ چلا رہا ہے،ان کے لئے بطور خاص،کوئی منصوبہ نہیں بنائے گا۔ وہیں افسوس کے ساتھ یہ بھی حقیقت ہے کہ سیاسی جماعتوں سے وابستہ خوشحال مسلمانوں کو بھی درحقیقت ان مسائل سے کبھی لگائو نہیں رہا۔ وہ ان مسائل کو اگر کبھی اٹھاتے بھی ہیں تو خصوصاً اس وقت جبکہ انہیں مسلمانوں کے ووٹ تقسیم ہونے یا نہ ملنے کا خدشہ ہوتا ہے۔ برخلاف اس کے وہ پارٹی اور پارٹی کی پالیسی کے وفادار ہیں۔ اور جب کبھی انہوں نے مسائل کے حل میں عمل درآمد کی بات کی یا آواز ہی اٹھانے کی کوشش کی تو انہیں باغی سمجھا گیا،نظر اندازکیا گیا یہاں تک کہ دھتکار ا گیا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ (جاری)

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

آصف اقبال

آصف اقبال دہلی کے معروف کالم نگار ہیں۔ بنیادی طور پر آپ سافٹ ویئر انجینئر ہیں۔ آپ کی نگارشات برصغیر کے مؤقر جریدوں اور روزناموں میں شائع ہوتی ہیں۔

متعلقہ

Back to top button
Close