خصوصیمعاشرہ اور ثقافت

شراب و منشیات: سماجی ناسور! (تیسری قسط)

محمد آصف ا قبال

 آج بین الاقوامی سطح سے لے کر ملکی سطح تک ہر سال ایک خاص دن انسداد منشیات کا منایا جاتا ہے۔ گزشتہ سال منعقدہ اسی طرح کی ایک تقریب سے سابق صدر جمہوریہ ہندمسٹر پرنب مکھرجی نے مخاطب ہوتے ہوئے کہا تھا کہ منشیات کے شکار لوگوں کی شناخت،رہنمائی، کائونسلنگ اور نشے کی لت چھڑانے کے ساتھ ساتھ ان کی دیکھ بھال اور باز آباد کاری کے لیے بھی مکمل خدمات فراہم کی جانی چاہیں ۔ وہیں یہ بات بھی آپ پر واضح ہے کہ شراب نوشی اور منشیات کی لعنت دراصل ذہنی،طبی اور معاشرتی مسئلہ ہے۔ جس سے نمٹنے کے لیے جامع طریقہ کار کی ضرورت ہے۔ جامع علاج اورپروگرام کا مقصد صرف متاثرہ لوگوں کی شراب نوشی اور منشیات چھڑانے تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔ بلکہ اس بات کی بھی ضرورت ہے کہ منشیات کے شکار لوگوں کو منشیات سے آزاداورجرائم سے آزاد ی فراہم کرنے کے بعد روزگار سے وابستہ کیا جائے تاکہ وہ معاشرے کے لیے کار آمد ممبر بن سکیں۔

صدر جمہوریہ نے کہا تھا کہ ملک میں نشہ خوری فروغ پا رہی ہے جس کے سبب خاندانی نظام، سماجی اقدار اور نظم و ضبط تباہی کی جانب گامزن ہیں ۔ لہذا نشہ خوری کی برائی پر قابوپانے کے لیے نہ صرف ایسی چیزوں کی حصولیابی کم کی جائے بلکہ اُن معاشرتی حالات سے بھی نمٹا چاہیے جو اِن کی مانگ میں اضافہ کا سبب بنتے ہیں ۔ نیز انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ ہمارے آئین ساز، شراب اور منشیات کے خطرات سے باخبر تھے۔ اسی لیے انہوں نے راہنما اصولوں میں یہ واضح کیا ہے کہ ریاستوں کو اُن پر پابندی لگانے کی طرف کام کرنا چاہیے۔ صدر جمہوریہ ہند اور دیگر حکومتی ذمہ داران کی تقاریر جو مخصوص مواقع پر ہوتی ہیں اُن سے بظاہر تو یہ احساس ہوتا ہے کہ وہ ملک میں منشیات کی روک تھام کے لیے سنجیدہ ہیں ۔ اس کے باوجود یہ حقیقت ہے کہ ذمہ دار و سرکردہ حضرات اور ان کے اہل خانہ خود اِس کے استعمال سے بچے ہوئے نہیں ہیں ۔ پھر کیونکر یقین کیا جائے کہ وہ شراب و دیگرمنشیات کے خاتمہ کے لیے سنجیدگی کے ساتھ کوشاں ہیں ؟

جو شخص یا اشخاص خو د کسی بھی  برائی میں ملوث ہوں وہ اس کے خاتمہ کے لیے کوئی جامع پروگرام و منصوبہ نہیں بنا سکتے۔ اس کی ایک وجہ تویہ ہے کہ عموماً شراب و منشیات کو معاشی نظام سے وابستہ کرکے دیکھا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ جولوگ اس لت میں مبتلا ہیں وہ معاشی نظام کو کمزور کرنے کا سبب بن رہے ہیں ۔ برخلاف اس کے وہ لوگ جو معاشی سطح پر مضبوط ہیں اس لت میں مبتلا ہونے کے باوجود نہ اسٹیٹ اور نہ ہی خاندان کے مسئلہ ہیں اور چونکہ وہ معاشی نظام کو نقصان پہنچانے کا ذریعہ نہیں بنتے لہذا وہ اگر اس کا استعمال کریں تو کوئی مضائقہ نہیں ہے۔ بس یہی وہ تضاد ہے جس کی بنا پر ایک جانب شراب و منشیات کا کاروبار کرنے والے اور اس کو لائسنس فراہم کرنے والے حکومتی ادارے دولت کے حصول کا ذریعہ سمجھتے ہیں ۔ تو وہیں دوسری جانب وہ افراد جو دراصل شراب و منشیات کو خریدتے ہیں انہیں اپنے اس کاروبار میں معاون و مددگار سمجھتے ہیں ۔ اس پس منظر میں اگر غور کیا جائے تو درحقیقت موجودہ دور میں کسی بھی حکومت کے لیے شراب و منشیات کا استعمال اقتصادیات سے وابستہ ہے نہ کہ معاشرتی، گھریلوو فرد کی اخلاقی وروحانی ترقی و تربیت سیتعلق رکھتاہے۔ لہذا جب تک اس مسئلہ کو معاشرتی، خاندانی اور انفرادی سطح پر اخلاقی و روحانی ترقی کا ذریعہ نہیں سمجھا جائے گا، نہ حکومتیں اور نہ ہی افراداس سے نجات حاصل کر سکتے ہیں۔

انسداد منشیات کے خلاف یہ جو دن منائے جاتے ہیں اُس میں اِس بات کا بھی تذکرہ کیا جاتا ہے کہ منشیات کے استعمال سے خرابی صحت کے مسائل بڑے پیمانہ پر پیداہوتے ہیں ۔ بتایا جاتا ہے کہ ہاضمہ کی خرابی، جگر کی بیماریاں ، ہائی بلڈ پریشر اور لو بلڈ پریشر جیسے مسائل عام ہیں ۔ دل کی بیماریاں ، ہڈیوں کا کمزور ہونا،کینسر اور ایڈز کے امراض، انیمیا، کمزوری ٔیادداشت، خود پر کنڑول رکھنے کی صلاحیت میں کمی، نیند کا متاثر ہونا اورڈیپریشن، وغیرہ بیماریوں میں انسان مبتلا ہو جاتا ہے۔ نیز قوت ِحافظہ کا خراب ہوجانا، رعشہ کا مرض، تمام اعصاب کامتاثر ہونا، تنفس کا عارضہ لاحق ہونا، دماغی امراض(مثلاً نسیان، دوران سر، جنون، نیند نہ آنا، مرگی، قوت فیصلہ سے محرومی وغیرہ) جلدکی بیماریاں وجنسی امراض یہ تمام عوارض طبی تحقیقات کے مطابق منشیات کے استعمال کی وجہ سے بکثرت لاحق ہوتے ہیں ۔ وہیں معاشرتی مسائل میں خاندان متاثر ہوتے ہیں ، رشتوں میں ناچاقیاں بڑھتی ہیں ، صنف نازک پر ظلم و زیادتیوں میں اضافہ ہوتا ہے،بچوں کا استحصال کیا جاتا ہے،معاشی مسائل پیدا ہوتے ہیں ، سڑک حادثات میں اضافہ ہوتا ہے،انسداد قانون کے واقعات میں اضافہ ہوتا ہے،نشہ خوری کی لت میں مبتلا افراد چوری و ڈکیٹی کے واقعات میں مزید داخل ہوجاتے ہیں ، صحیح و غلط اور جائز و ناجائز کی تمیز اِن میں ختم ہوجاتی ہے۔

منشیات کے استعمال سے نہ صرف صحت عامہ کے مسائل بلکہ خاندانی،سماجی، معاشی اور معاشرتی مسائل کے علاوہ متاثرہ افراد میں بولنے،سوچنے وسمجھنے اور عمل و ردّ عمل جیسی صلاحیتیں بھی کمزور پڑ تی ہیں ۔ الکوحل یا منشیات لوگوں کو اِن کی پریشانیوں ، آزمائشوں اور مسائل کو بھلانے کا ذریعہ بنتے ہیں یعنی یہ افراد ملک و معاشرہ میں ایک لاشعور زندگی گزارنے پر مجبور ہوتے ہیں ۔ باالفاذ دیگریہ وہ افراد ہیں جو درحقیقت کسی بھی مثبت سرگرمی میں شریک نہیں ہو سکتے بلکہ یہ زندہ لاشیں ہیں جو ہجوم کی شکل میں خاندان،معاشرہ اورریاست سب پر بوجھ ثابت ہوتے ہیں ۔ یہ تمام مسائل بیان تو خوب کیے جاتے ہیں اس کے باوجود ان متاثرہ افراد کو حکومتیں بھی اور وہ افراد اور گروہ بھی جو شراب و منشیات کا کاروبار کرتی ہیں ، اپنا اثاثہ سمجھتی ہیں کیونکہ ان متاثرہ افراد کے ذریعہ ہی یہ تمام لوگ معاشی ترقی حاصل کرنا چاہتے ہیں۔

  گزشتہ دنوں ایک سروے کے مطابق ہندوستان میں فی الوقت77%فیصد نشہ کرنے والوں کی عمر11سے 18سال ہے۔ اس عمر کے زیادہ تر نوجوانوں منشیات کی لت میں اسی وقت سے متبلا ہوجاتے ہیں جبکہ وہ ملک و ملت کی تعمیر و ترقی کے لیے اور بذات خود حصول ارتقاء کے لیے اسکول، کالجس اور ہاسٹل کا رخ کرتے ہیں ۔ ملک کے صوبہ پنجاب کے چار اضلاع امرتسر،جالندھر،پٹیالا اور بھٹندا میں کیے گئے سروے کی روشنی میں 78.5%فیصد نشہ کرنے کی عادت16سال میں ہی ہوجاتی ہے۔ متاثرہ نوجوان اور بڑی عمر کے مرد و خواتین جو اس تباہ کاری میں ملوث ہیں وہ کن کن خطرات سے دوچار ہوتے ہیں ؟اس کا اندازہ WHOکے حالیہ ٹرینڈس سے لگایا جاسکتاہے جس کے مطابق اگر تمباکو خوری پر گرفت نہ کی گئی توآج ہی 250ملین بچے ہلاکت کا شکار ہوجائیں گے۔ دیگر مسائل کی طرح دنیا میں آج منشیات کا فروغ و استعمال ایک تشویشناک مسئلہ بن چکا ہے۔

واقعہ یہ ہے کہ انیسویں صدی کے اختتام اور بیسویں صدی کے اوائل میں اسمگلروں نے نشہ آور مرکبات پر توجہ دی۔ مارفین،کوکائین، ایتھر اور ہیروئن کے استعمال کے نتیجہ میں اموات ہوئیں تو حکومتیں اس معاشرتی خطرہ کا سدباب کرنے پر مجبور ہوئیں ۔ پہلے ملکی سطح پر، پھر بین الاقوامی سطح پر اس کی روک تھام کے لیے قوانین بنائے گئے اور کئی تنظیمیں وجود میں آئیں تاکہ نشہ خوری اور اس کے سدباب کا مقابلہ کیا جائے۔ عالمی تنظیم، بین الاقوامی تنظیم برائے انسداد افیون و دیگر مضرادویات بنائی گئیں جو بعد میں اقوام متحدہ کے بین الاقوامی ادارہ برائے انسداد منشیات میں تبدیل ہو گئی۔

اسی طرز پر حکومت ہنداور والنٹری آرگنائزیشن بے شمار de-addiction-cum-rehabiliation سینٹرس قائم کیے ہوئے ہیں ۔ جس پر بے تحاشہ دولت صرف ہو تی ہے۔ اس کے باوجود نہ مسائل میں کمی آتی ہے،نہ منشیات کے استعمال پر قابو پایا جاتا ہے،نہ خاندانی مسائل جو اس کے سبب پیدا ہوتے ہیں ان کا حل نکلتا ہے،اور نہ ہی معاشی ومعاشرتی سطح پربہتری آرہی ہے، اس کے باوجود کہ بڑے پیمانہ پر مال و دولت، وقت، صلاحیتیں اور وسائل کا استعمال جاری ہے۔ نتیجہ کے اعتبار سے دیکھا جائے توہر دن اِن آرگنائزیشن اور اداروں کی تعداد میں تو اضافہ ہو ر ہا ہے لیکن شراب و منشیات کے کاروبا میں بھی اسی تیزی سے اضافہ سامنے آرہا ہے! (جاری)

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

آصف اقبال

آصف اقبال دہلی کے معروف کالم نگار ہیں۔ بنیادی طور پر آپ سافٹ ویئر انجینئر ہیں۔ آپ کی نگارشات برصغیر کے مؤقر جریدوں اور روزناموں میں شائع ہوتی ہیں۔

متعلقہ

Close