خصوصیہندوستان

شہادتِ بابری مسجد: جمہوریت کے قتل کا دن 

ذوالقرنین احمد

آج بابری مسجد کی شہادت کی ۲۶ ویں برسی ہے آج ہی کے دن بابری مسجد کو آر ایس ایس کے  سنگھی دہشت گردوں نے منصوبہ بند طریقے سے شہید کر دیا ،  ۲۵ ستمبر ۱۹۹۰ کو ایل کے ایڈوانی نے گجرات کے سومناتھ سے اتر پردیش کے ایودھیا تک ایک رتھ یاترا نکالی ۱۹۹۱ میں فرقہ وارانہ ماحول پیدا کرکے بی جے پی اقتدار میں آئی دسمبر ۱۹۹۲ میں بی جے پی، وی ایچ پی، اور آر ایس ایس نے کارسیوا کا فیصلہ کیا اس کار سوا کیلئے ملک بھر سے ۳ لاکھ افراد و رضا کاران جمع ہوئے۔

 ۶ دسمبر ۱۹۹۲ کو سنگھ پریوار کی قیادت میں کارسیواکو نے تاریخی بابری مسجد کو شہید کر دیا یہ انہدامی کارروائی پولس اور حکومتی اہلکاروں کی موجودگی میں انجام دی گئی۔ ۱۹۸۶ میں مسجد کا تالہ کھول دیا گیا اور مسجد کی اندر پوجا کرنے کی اجازت دے دی گئی، راتوں رات‌مسجد میں مورتیاں رکھ دی گئی، اس واردات کو پورے منصوبہ بند طریقے سے انجام دیا گیا جس کے اہم مجرمین سنگھی ذہنیت کے حامل ایل کے اڈوانی، نرسمہا راؤ، مرلی منوہر جوش، اس سے قبل بھی  ۲ نومبر ۱۹۹۰ کو بھی بابری مسجد کو شہید کرنے کی کوشش کی گئی، یہ بات کسی سے پوشیدہ نہیں ہے کہ سنگھی دہشت گردوں نے ہر دور میں اپنی دہشت گردی‌کا مسلم دشمنی کا مظاہرہ کیا ہے یہ وہ افراد ہے جب ۱۸۵۷ میں ہندو مسلم ‌مل کر آزادی کیلئے جد و جہد کر رہے تھے‌ تو انگریزوں نے اس محاذ کو کمزور کرنے کیلئے ہندو مسلم میں انتشار پیدا کرنے کیلئے ان لوگوں کا‌استعمال کیا، یہ باغی گروہ ہے جنہیں ملک‌ سے کوئی محبت نہیں نہیں ہے اور اس کا ثبوت یہ ہے کہ ملک کی موجودہ حکومت نے جو انتخابی منشور جاری کیا تھا اس‌میں بابری مسجد کی جگہ رام مندر کی تعمیر کو لیکر ہندؤ کو متحد کیا گیا تھا اور آج بی جے پی حکومت کے اقتدار میں آئے ہوئے ۴۔۵ سال گزر گئے پر حکومت اپنی کیے گئے واعدوں میں پوری طرح ناکام ثابت ہوئی وکاس کے نام پر امیروں اور سرمایہ داراوں کو براہ راست فایدہ پہنچایا گیا اور غیرب کسانوں مزدور طبقے کو اور پستی میں ڈھکیل دیا گیا، اب سنگھی عناصر اور سادھو سنت بابری مسجد کی جگہ رام مندر کی تعمیر کو لیکر سرگرم ہوچکے ہے جس کا مقصد سیاسی فائدہ حاصل کرنا ہے کیونکہ بی جے پی یہ آر ایس ایس کا ہی سیاسی ونگ ہے۔

 حال ہی میں شیوسینا نے ایودھیا میں رام مندر کیلئے دھرم سبھا منعقد کی تھی جو پوری طرح سے ناکام ثابت ہوئی، اور اب وی ایچ پی، آر ایس ایس دلی میں بابری مسجد کی جگہ رام مندر کی تعمیر کرنے کو لیکر دھرم سبھا کا انعقاد کر رہی ہے ، حال ہی میں سنگی عناصر کے حامل سیاسی لیڈران نے متنازعہ بیانات دیے جس میں سپریم کورٹ کو نشانہ بنایا گیا ایک دھکہ اور دو سپریم کورٹ کو توڑ دو جیسے نعرے بازی کی گئی، ایک طرف شدت پسند عناصر رام مندر کی تعمیر کیلئے آرڈیننس پاس کرنے کی مانگ کر رہے ہیں، اس سے بات سامنے آتی ہے کہ ملک کی جمہوریت کو تار تار کیا‌جارہا ہے سپریم کورٹ کے ججز ملک کے حالات پر افسوس ظاہر کر رہے ہیں، اس‌ سنگھی دہشت گردوں کیلئے ملک کا قانون جمہوریت کوئی معنی نہیں رکھتی، بابری مسجد کی شہادت ملک کی جمہوریت کے قتل کے مترادف ہے آج حالات کی سنگینی کو ذہن میں رکھتے ہوئے مسلمانوں کو سپریم کورٹ کے فیصلے کا انتظار کرنا‌چاہئیے کیونکہ تمام ثبوت روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ بابری مسجد کی جگہ کوئی مندر نہیں تھا سپریم کورٹ کا یہ موقف ہے کہ یہ کوئی آستھا کا معاملہ نہیں ہے یہ ملکیت کا معاملہ ہے مسلم پرسنل لاء بورڈ اپنے فیصلے پر اٹل ہے کہ جہاں ایک مرتبہ مسجد تعمیر ہوجائے وہاں ہمیشہ مسجد ہی رہےگی اور ہم سپریم کورٹ کا جو فیصلہ آیگا اسے قبول کریں گے۔

 اس مسلے کو ہوا دینا کا اصل مقصد ۲۰۱۹ کے انتخابات کیلۓ ہندوں کو متحد کر کے سیاسی فائدہ حاصل کرنا ہے مسلم قیادت کو چاہیے کہ سیکولر پارٹیوں سے رابطہ قائم کرکے ان سے اپنے مسائل و مطالبات کو سامنے  رکھ کر سیکولر سیاسی جماعتوں کا‌ساتھ‌دینا کیلے اور اسے اقتدار میں لانے کیلے حکمت عملی تیار کریں اور ملی قیادت کو مظبوط کرنے کیلے عوام میں سیاسی شعور پیدا کرنے کی کوشش کریں ورنہ حالات حد سے تجاوز کر سکتے ہیں۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

ذوالقرنین احمد

Freelance journalist Article writer Social Activitist مہاراشٹر۔انڈیا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close