خصوصی

صحافی اکشے مکل کی جرأت مندی کو سلام

نریندر مودی کے ہاتھ سے انعام لینے سے انکار

عبدالعزیز

انگریزی روزنامہ ’’ٹائمز آف انڈیا‘‘ کے ایک ممتاز صحافی مسٹر اکشے مکل نے نریندر مودی کے ہاتھ سے ’’انڈین ایکسپریس‘‘ کے بانی رام ناتھ گوئنکا کے ’’اعلیٰ صحافتی انعام‘‘ کو یہ کہہ کر لینے سے انکار کردیا کہ نریندر مودی جب سے اقتدار میں آئے ہیں ہندستانی صحافت کے زیر حصار (گھیرے میں) ہے۔
گزشتہ روز ’انڈین ایکسپریس‘ کی جانب سے ’گوئنکا ایوارڈ‘ کی تقریب منعقد کی گئی تھی جس میں وزیر اعظم نریندر مودی مہمان خصوصی کی حیثیت سے مدعو کئے گئے تھے۔ مسٹر اکشے مکل کی ایک کتاب ’’گیتا پریس اور ہندو انڈیا بنانے کی سعی‘‘ کو گائنکا ایوارڈ کمیٹی کے ججوں نے انعام کیلئے منتخب کیا تھا۔
مسٹر اکشے مکل نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ میں گوئنکا ایوارڈ کی دل سے قدر کرتا ہوں مگر ایسے شخص کے ہاتھ سے ایوارڈ لینا جس کے دور حکومت میں صحافت کا حال نہایت برا ہو، میرے لئے ناپسندیدہ ہے‘‘۔
مسٹر مکل نے ایسے تمام صحافیوں، ادیبوں اور مصنفوں کے احساسات و جذبات کی ترجمانی کی ہے جو صحافت میں غیر جانبدارانہ کردار ادا کرنے کے قائل ہیں اور ایسی صحافت کو بیحد ناپسند کرتے ہیں اور مضر سمجھتے ہیں جس کا رول جانبدارانہ ہو اور حکومت کے اشارے اور کنائے کا ہر وقت محتاج رہتا ہو۔ حقیقت میں سرکاری قسم کی صحافت کو صحافت کہنا بھی مشکل ہے کیونکہ صحافت کے بجائے وہ تجارت کے زمرے میں شامل ہوجاتی ہ، جسے معروضیت اور اخلاقیات سے کوئی سروکار نہیں ہوتا صرف مادی فائدہ مقصود ہوتا ہے۔ ایسے صحافیوں اور ایڈیٹروں کے بارے میں دنیائے صحافت کے عظیم قلمکار مولانا ابوالکلام آزادؒ رقمطراز ہیں:
’’ہمارے عقیدے میں اخبار اپنی قیمت کے سوا کسی انسان یا کسی جماعت سے کوئی رقم لینا جائز سمجھتا ہے تو وہ اخبار نہیں بلکہ اس فن کیلئے وعید اور سر تاسر عار ہے۔ ہم اخبار نویس کی سطح کو بہت بلندی پر دیکھتے ہیں اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فرض ادا کرنے والی جماعت سمجھتے ہیں۔ پس اخبار نویس کے قلم کو ہر طرح کے دباؤ سے آزاد ہونا چاہئے۔ چاندی اور سونے کا سایہ بھی اس کیلئے سم قاتل ہے۔ جو اخبار رئیسوں کی فیاضیوں اور امیروں کے عطیوں کو قومی امانت، قوی عطیہ اور اسی طرح کے فرضی ناموں سے قبول کرتے ہیں وہ بہ نسبت اس کے اپنے ضمیر اور ایمان کو بیچیں بہتر ہے۔ وہ دریوزہ گری کی جھولی گلے میں ڈال کر اور قلندروں کی ڈیوڑھیوں پر گشت لگائیں اور گلی کوچے میں ’’کام ایڈیٹر‘‘ کی صدا لگاکر خود اپنے تئیں فروخت رہے ہیں‘‘۔ (الہلال:27 جولائی 1912ء)
آج جبکہ ہندستان کی حالت ہر شعبۂ زندگی میں خراب سے خراب تر ہوتی جارہی ہے کوئی ایسی آواز جو حالات کو سدھارنے کیلئے کسی گوشے یا کونے سے بلند ہوتی ہے تو ہندستان کے تن مردہ میں جان ڈال دیتی ہے۔ مسٹر اکشے مکل آسمان صحافت کے ایسے روشن ستاروں میں اپنا نام درج کرانے میں کامیاب ہیں جو تاریخ کے صفحات میں سنہرے حرفوں سے لکھا جائے گا۔ گوئنکا کا اخبار ’انڈین ایکسپریس‘ نے ہندستان میں ایمرجنسی کے زمانے میں حق گوئی و بیباکی کا زبردست مظاہرہ کیا تھا۔ اندرا گاندھی کی ایمرجنسی کی زور دار مخالفت کی تھی لیکن اس وقت نریندر مودی کے دروازے پر دستک دے کر اپنا وقار مجروح کر رہا ہے۔ جب کوئی اخبار حکمراں جماعت کے قریب ہوجاتا ہے اور اپنی جانبداری کو بالائے طاق رکھ دیتا ہے تو جمہوریت کو خطرہ لاحق ہوجاتا ہے کیونکہ میڈیا حقیقت میں جمہوریت کا چوتھا ستون ہے ۔ مولانا علی میاںؒ نے اخبار نویس برادری کو خطاب کرتے ہوئے 1973ء میں کتنی سچی اور دل لگتی باتیں کہی تھیں:
’’اخبار نویس وہ معلم ہے جس کا مدرسہ پورا ملک ہوتا ہے اور جس کے تلامذمہ میں دہقان و مزدور سے لے کر وزیر اور صدر مملکت تک تمام بڑے اور چھوٹے شریک ہوتے ہیں۔ اخبار نویس وہ مبلغ ہے جس کی دعوت گھر گھر، دکان دکان اور دفتر دفتر گونجتی ہے۔ اخبار نویس دنیائے سیاست کا حریف ہوتا ہے جس کی کسوٹی اصولوں کو پرکھتی ہے اور جس کی ترازو حوادث کو تولتی رہتی ہے۔ اخبار نویس سیاسی اختلافات سے بھری ہوئی دنیا میں عدالت کی کرسی جماکر بیٹھتا ہے اور فریضہ قضا سر انجام دیتا ہے۔ یہ ہے صحافت کی اہمیت اور اس اہمیت کے معنی یہ ہیں کہ اگر صحافت حق، عدل، خیر ور فلاح کیلئے کام کرے تو انسانیت کیلئے اس سے مفید طاقت کوئی نہیں اور اگر صحافت میں بگاڑ آجائے اور وہ کذب، باطل، شر اور فساد کیلئے ہی سر عمل ہوجائے تو پھر نوع انسانی کیلئے اس سے زیادہ مہلک کوئی دوسری قوت نہیں۔
آپ ذرا غور فرمائیے کہ کسی شہر کا ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ خود اسباب مرض پھیلانے کی مہم شروع کردے۔ اگر پولس اور عدالت ہی جرائم کے سرپرست بن جائیں تو پھر نتائج کیا نکلیں گے۔ جو کچھ نتائج ان صورتوں میں نکلیں گے عین وہی نتائج صحافت کے اختلال پزیر ہونے سے نمودار ہوتے ہیں۔ صحافت اگر آلۂ خیر ہو تو نعمت عظمیٰ ہے اور اگر آلۂ شر بن جائے تو لعنت کبریٰ بن جاتی ہے۔ ایک سچا اخبار نویس، خالص سیاسی نقطہ نگاہ سے حکام اور پبلک کے درمیان ایک ذریعہ بنتا ہے۔ عوام میں بگاڑ آجائے تو وہ ان کی اصلاح کرتا ہے اور حکمرانوں کی طرف سے اگر مفسدات ظہور کریں تو ان کی بھی خبر لیتا ہے۔ دونوں کے درمیان ثالث بن کر فیصلہ دیتا ہے اور اگر صلح نہ ہو تو وہ اپنا فرض سمجھتا ہے کہ پورا وزن حق کے پلڑے میں ڈال دے، چاہے حق حکومت کی طرف ہو یا عوام کی طرف اپنے موقف کے لحاظ سے در حقیقت اخبار نویس رائے عامہ کا ’’دماغ‘‘ ہوتا ہے۔ اگر یہ دماغ ہی بگڑ جائے تو چارۂ کار کیا ہے؟فی الواقعہ کوئی راہِ نجات نہیں‘‘۔
مسٹر اکشے مکل صحافت کی دنیا میں قدم رکھتے ہی اپنا ایک اصول اور نظریہ رکھتے ہوں گے۔ وہی اصول اور نظریہ ان کیلئے سب سے بڑی چیز ہوگی۔ وہی ان کی صحافت یا تحریر کا اولین مقصد بن گیا ہوگا۔ وہ مقصد صحافت کو ہر چیز سے بالاتر سمجھتے ہوں گے۔ جن لوگوں کی زندگی یا تحریر و تقریر کا کوئی مقصد نہیں ہوتا وہ تو کسی وزیر یا وزیر اعظم سے ہاتھ ملانا اپنے لئے بڑی چیز سمجھتے ہیں۔ ہاتھ ملاتے ہی ان کو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ انھیں دنیا مل گئی۔ اس کا تذکرہ بھی مزے لے لے کر کرتے ہیں۔ اس کے برعکس ایسے لوگ جو زندگی میں کوئی اعلیٰ مقصد اور اعلیٰ نصب العین رکھتے ہیں وہ اپنے مقصد کو پامال ہونے نہیں دیتے۔ جن سے بھی ان کا مقصد مجروح ہوتا ہے، اس سے ان کی دوستی ہر گز نہیں ہوسکتی ہے کیونکہ اگر دوستی ہوگی تو یہی چیز ان کے مقصد کی موت کے ہم معنی ہوگی۔ آج جو لوگ صحافت کی دنیا میں ہیں، اکثریت بلکہ 90/98 فیصد افراد روزی روٹی کیلئے ہیں۔ ان کا ایک ہی مقصد ہے اپنا اور اپنے خاندان کا پیٹ بھرنا اور زیادہ سے زیادہ دنیا حاصل کرنا۔ اس کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Close