خصوصیہندوستان

طہاری، بریانی، حلیم وسیخ کباب: یہ چار عناصر پر بن گیا ہے مسلمان

مدثراحمد

علامہ اقبال نے ایک شعر کہا تھاکہ

قہاری و غفاری و قدوسی و جبروت
یہ چار عناصر ہوں تو بنتا ہے مسلمان

اس شعر میں علامہ اقبال نے مسلمانوں میں چار ایسی صفات کو لازم قراردیا ہے جس سے خالص مسلمان بن سکتا ہے، اس میں قہاری کے معنی ہیں سنجیدگی یا پیچیدہ مزاج، غفاری جس کے معنی ہیں معاف کرنے والا، قدوسی کے معنی ہیں سب سے زیادہ مقدس جبکہ جبروت کے معنی ہیں بزرگی وعظمت والے۔ اگر یہ چا رصفات کسی شخص میں آجائیں تو وہ مسلمان بن جاتا ہے۔ علامہ اقبالؒ کی کتنی خوبصورت سوچ ہے کہ انہوں نے مسلمانوں کوایک سچا مسلمان بننے کیلئے اس کی صلاحیتوں کو چار حصوں میں تقسیم کرتے ہوئے ایک بہترین پیغام دیا ہے۔ یقیناًعلامہ اقبال کی شاعری دوراندریشی کا پیغام دینے والی شاعری ہے۔ آج کل ہم ملک کے حالات دیکھ رہے ہیں ان حالات کے تنا ظرمیں دیکھا جائے تو ان چاروں صفات پر عمل کرنے والے یا یہ چار صفات رکھنے والے مسلمانوں کی بہت بڑی کمی دیکھی جاسکتی ہے۔ ان چارصفات کی عدم موجودگی کی وجہ سے ہی آج مسلمان سچا مسلمان نہیں رہا۔

ہماری سوچ، ہماری فکر، ہمارا عمل اور ہمارے قول وفعل میں بہت بڑا تضاد پایا جارہا ہے، جو ایک مسلمان کی شناخت بالکل بھی نہیں ہوسکتی۔ ہم بات کررہے ہیں ملک کے موجودہ مسلمانوں کی جن کا بڑا وجود سب سے اقلیتی ہونے کے باوجود وہ سب سے زیادہ مظلوم ہیں، حالانکہ ان مظلوم مسلمانوں کی قیادت و رہنمائی کیلئے ہمارے پاس کئی سارے ادارے وتنظیمیں موجود ہیں، ہر تنظیم کا اپنا اپنا مقصد اور مفاد ہے اور کوئی بھی تنظیم بغیر کسی مفاد کے خالص خدمت کاجذبہ نہیں رکھتی۔ اخلاص کا مادّہ ان تنظیموں کے پاس بالکل بھی نہیں رہا، جس کی وجہ سے ان کا کام بے اثراور ناکام ثابت ہورہا ہے۔ ملک میں مسلمانوں کی قیادت کیلئے ادارے و تنظیمیں قائم کئے گئے ہیں، اگر ان تنظیموں و اداروں کے پاس اخلاص آجائے تو یقیناملک میں تشدد کی جو وارداتیں رونما ہورہے ہیں، ماب لنچنگ کے جوواقعات پیش آرہے ہیں، اُن واقعات سے بے گناہ مسلمانوں کا خون نہیں بہے گا۔ آپ میڈیا میں دیکھ رہیں ہوں گے کہ ہمارے کچھ ادارے تنظیمیں مظلوم مسلمانوں کی مددکیلئے بھاگے بھاگے پھر رہے ہیں۔ خصوصاً گروہی تصاد م کا شکار ہونے والے اہل خانہ سے اپنی ہمدری کا مظاہرہ کرنے کیلئے ان کی کوششیں چل رہی ہیں، جیلوں میں بند قیدیوں کی رہائی کیلئے تحریک کی شکل میں کام کیا جارہا ہے۔

افسوس اس بات کا ہے کہ ہمارے ادارے وتنظیمیں قبل ازوقت ایسے حالات کو روکنے کیلئے اقدامات کیونکر نہیں اٹھا رہے ہیں؟کیا حکومتوں سے سوال کرنے کیلئے کسی کا مرنا ضروری ہے؟کیا حکومت پر دباؤ ڈالنے کیلئے کسی عورت کا بیوہ ہونا ضروری ہے؟کیادہلی کا مسلمان کرناٹک کے مسلمانوں کیلئے مسلمان نہیں ہے؟کیا کلکتہ کے مسلمان پر حملہ کیا جائے تو کیا گجرات کے مسلمانوں کو اس سلسلے میںآوازاٹھانے کاحق نہیں ہے؟ہم یہ بھی دیکھ رہے ہیں کہ ہر مسلمان خاموشی اختیار کررہا ہے کہ یہ واقع فلاں مقام کاہے اور وہاں فلاں تنظیم کام کررہی ہے۔ کچھ لوگ سیدھے سیدھے یہ بات بھی کہنے لگے ہیں کہ یہ تو یوپی میں ہونے والے معاملات ہیں، ہم کیرل میں رہنے والے کیونکر آوازاٹھائیں۔

یقیناًکیرل اور یوپی میں بہت بڑا فاصلہ ہے، لیکن ظلم تشد د اور حراسانی کرنے والوں کیلئے یہ فاصلے بڑے نہیں ہیں، ذرا سوچیں کہ اس ملک میں نفرت کی آگ لگانے کیلئے نہ تو پٹرول کا استعمال کیا جارہا ہے نہ ہی کیروسین، بلکہ ایسی زہریلی سوچ استعمال کی جارہی ہے جس سے لوگ کوجل جائیں یا مرجائیں۔ آج ہندوستان میں نہ زبان کامسئلہ ہے نہ ہی علاقے کا مسئلہ ہے۔ بس سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ہم سے کچھ ہندوستانیوں نے پورے ملک کو ہندو مسلمان کے مذہب پر بانٹ دیا ہے۔ 1947 سے قبل ہندو پاک کوالگ الگ کرنے کیلئے دو بڑی طاقتیں سرگرم تھی، آج اُسی طرز پر ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان نفرت کی آگ بھڑکائی جارہی ہے۔ ان سب حالات کے درمیان ہم مسلمانوں کے پاس محدود مدعے باقی رہیں گے کہ شادی میں کیا پکایا گیا تھا، بریانی پکی تھی یا حلیم پکایا گیا تھا، یا پھر روٹی کے ساتھ سیق کباب تھے یا نہیں؟

ہم مسلک مسلک کا کھیل کھیل رہے ہیں، ہم ایک دوسرے کو جنتی و دوذخی بنانے لگے ہیں، ہمارے نامہ اعمال کی تحریر کراماً کاتبین سے زیادہ ہم خود لکھنے لگے ہیں۔ ہم مسلمان ہو کر یہ بھول گئے ہیں کہ ہمارا وجود ’’طہاری۔ بریانی، حلیم وسیخ کباب‘‘ پر نہیں ہے بلکہ ’’قہاری و غفاری و قدوسی و جبروت‘‘ پر منحصر ہے۔ اگر یہ صفات ہم میں آجائینگے تویقیناًہم مظلوم نہیں رہیں گے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

مدثر احمد

ایڈیٹر، روزنامہ آج کا انقلاب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close