خصوصیشخصیات

عالمی یوم عدم تشدّد اور تشدد کے شکار مہاتما گاندھی

ڈاکٹر سیّد احمد قادری

عالمی سطح پر بڑھتے تشدد  میں نہ جانے کتنے لوگ اب تک قتل  کئے گئے ہیں۔ قتل کئے جانے والے عام عوام کو اگر ہم کسے قطار و شمار میں نہ رکھیں اور ابراہم لنکن، مارٹن لوتھر کنگ، جان ایف کینڈی،مہاتما گاندھی، اندرا گاندھی، راجیو گاندھی، لیاقت علی خاں، جنرل ضیاالحق، بے نظیر بھٹو وغیرہ  جیسی بڑی  اور اہم شخصیات کی اگر ہم فہرست مرتب کریں  تو ایک لمبی فہرست تیار ہو جائے گی۔ تشدد سے ہونے والے قتل و غارت گری سے پوری دنیا کے امن پسند لوگوں کا متفکر ہونا فطری عمل تھا۔ مارٹن لوتھر کنگ جونئیر کی تشدد کے متعلق فکر مندی ان الفاظ میں ہمارے سامنے آتی ہے؎

    ” Non violence means avoiding not only external physical violence but also internal violence of sprit . You not only refuse to shoot a man but you refuse to hate him. "

   اسی طرح ہمارے ملک کی شان اور پوری دنیا میں عزت و احترام والی شخصیت مدر ٹریسا کا امن و امان کو انسانیت کے لئے ضروری قرار دیتے ہوء کہا تھا کہ۔؎

” we do not need guns and bombs to bring peace.we need love and campassion”۔

   حقیقت یہ ہے کہ عالمی سطح پر بہت بڑی تعداد میں لوگ تشدد کے شکار ہو چکے تھے، جس کے منفی اثرات  عالمی سطح  پر شدت سے محسوس کئے جا رہے تھے۔ ایسے بڑھتے خونین حالات میں مہاتما گاندھی کے ذریعہ دئے جانے والے عدم تشدد کے پیغام کو پوری عالمی برادری کے لئے ایک انمول پیغام تصور کیا گیا۔ اس لئے بڑھتے تشدد کے خاتمے کے لئے مہاتما گاندھی کے اس پیام کی اہمیت اور افادیت کے پیش نظر اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں  15 جون 2007 ء کو’ عدم تشدد کا عالمی دن‘ منانے کی قرارداد پیش کی گئی، جو کہ 27 ؍جون 2007ء کو منظور کر تے ہوئے یہ اعلان کیا گیا کہ اقوام متحدہ کے فیصلے کے بموجب اب ہر سال بھارت کے سپوت اور عدم تشدد کے پیامبر مہاتما گاندھی کے یوم پیدائیش پر عالمی سطح پر یوم عدم تشدد منا یا جائے گا۔ اس دن پوری دنیا میں ہونے والے تشدد کے خلاف مختلف طریقے سے ذہن سازی کی ضرورت محسوس کی گئی، تاکہ تشددکے بڑھتے واقعات اورسانحات روکاجا سکے۔

  اس لحاظ سے آج کا دن یعنی   2 ؍  اکتوبر وہ اہم دن ہے، جو عالمی سطح پر عدم تشدد کے طور پر منایا جا  رہا ہے۔ ویسے یہ بھی ایک المناک حقیقت ہے کہ جس گاندھی نے عدم تشدد کا پیغام عام کرنے کی کوشش کی تھی، وہ خود تشدد کا شکار ہو کر ہلاک ہوا۔ اس تناظر میں اب ہم مہاتما گاندھی اور ان کے پیغامات کو عہد حاضر میں سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ جس کے ایک پیغام کو بین الاقوامی سطح پر اتنی زیادہ اہمیت دی گئی۔  2 ؍ اکتوبر( 1869ء) ہی وہ اہم تاریخ ہے،  جس دن گجرات کے کاٹھیاواڑ، پوربندر میں موہن داس کرم چند گاندھی نے جنم لیا تھا۔ جو اپنے اخلاق، اپنے کردا ر، اپنی تعلیمات اور اپنے نظریات سے موہن داس کرم چند گاندھی سے ’’ مہاتما ‘‘بنے۔ اپنے  ملک کے لئے ان کی جو خدمات رہی ہیں، وہ روز روشن کی طرح عیاں ہے   جنھیں بیان کرنے کی اس لئے اب ضرورت نہیں ہے کہ ملک کے لئے دی گئی ان کی قربانیاں، نہ صرف اپنے ملک کے لئے، بلکہ بیرون ممالک کی تاریخ کا حصہ ہیں۔ ساتھ ہی ساتھ یہ بھی تاریخ میں درج ہو چکا ہے کہ اپنی ان ہی خصوصیات کی بنأ پر انھیں سینکڑوں لوگوں کے سامنے ملک کی آزادی کے صرف پانچ ماہ بعد یعنی30 ؍ جنوری 1948 کو آر ایس ایس اور ہندو مہا سبھا کا حامی ناتھو رام گوڈسے نے گولی مار کر  انھیں قتل کیا تھا  اور جب اس قاتل پر قتل کا مقدمہ چلا، اس وقت اس نے اپنا جرم قبول کرتے ہوئے عدالت میں کہا تھا کہ گاندھی قیام پاکستان کے لئے ذمّہ دارتھے اور مسلمانوں کی حمایت کیا کرتے تھے۔ اس مقدمہ میں ہندو مہا سبھا کے سابق صدر ونائک ساورکر کو بھی ملزم بنایا گیا تھا۔ لیکن جرم ثابت نہیں ہو سکا تھا۔ اس سلسلے میں مشہور تاریخ داں ایم اے نورانی کا کہنا ہے کہ سردار پٹیل نے وزیر اعظم وقت پندت نہرو کو لکھا تھا کہ قتل کی سازش جن لوگوں نے تیار کی تھی، ان کی براہ راست سربراہی ساورکر نے ہی کی تھی۔ مہاتما گاندھی کے قتل کے بعد اس وقت کے وزیر داخلہ سردار ولبھ بھائی پٹیل نے آر ایس ایس پر عارضی پابندی بھی لگائی تھی او ر گاندھی جی کے قتل کے جرم کی پاداش میں گوڈسے کو پھانسی کی سزا دی گئی تھی۔ مہاتما گاندھی کی یہ قربانی رائگاں نہیں گئی اور ملک کے لوگ ہمیشہ ان کی دی گئی قربانی سے خود کو ان کا مقرو ض سمجھا اور ملک کے کونے کونے میں نہ صرف ان کی یادگار قائم کی گئیں بلکہ ملک کے ایک ایک فرد خواہ وہ امیر ہو، غریب ہو، صنعت کار ہو، مزدور ہو سبھی انھیں کرنسی نوٹوں پر آویزاں تصویر کی شکل میں دل سے لگائے رہتے ہیں۔ اس سے بڑا خراج عقیدت اور ان کی عظمت کا اعتراف کیا ہو سکتا ہے۔

   لیکن ان دنوں ان کے ساتھ جس طرح کا سلوک روا رکھا جا رہا ہے۔ وہ پورے ملک کے لئے خطرناک صورت حال کا پیش خیمہ بن سکتا ہے۔ یوں تو پہلے بھی لیکن چھپ چھپا کر وہ لوگ جن کا آزادیٔ ہند میں کوئی مثبت رول نہیں رہا، وہ لوگ گاندھی کے قاتل ناتھو رام گوڈسے کو  اپنا ہیرو بنا کر پیش کرتے رہے اور صرف یہی نہیں بلکہ گاندھی جی کے یوم شہادت کو ’’شوریہ دیوس‘‘ یعنی یوم افتخار کے طور پر مناتے رہے ہیں۔ لیکن جب سے آر ایس ایس کی سیاسی تنظیم بھارتیہ جنتا پارتی اقتدار میں آئی ہے، ان کے حوصلے کافی بڑھ گئے ہیں اور وہ مہاتما گاندھی کے قاتل گوڈسے کا، ملک کے دارالسلطنت نئی دلی میں نہ صرف مجسمہ بلکہ اس کے نام پر مندر تعمیر کا بھی منصوبہ بنا کر اسے عملی جامہ پہنانے کی کوشش میں لگے ہیں۔ ساتھ ہی ساتھ اب آر ایس ایس کی یہ بھی کوشش ہو رہی ہے کہ مہاتما گاندھی کے قتل کی دوبارہ انکوائری کرا کر کر آر ایس ایس کو اس الزام سے بری کر دیا جائے کہ گاندھی کا قتل اسی تنظیم نے کرائی تھی۔ حالانکہ گاندھی جی کے قتل کی سچائی صاف و شفاف آئینہ کی طرح عیاں ہے ۔ لیکن سبرامنیم سوامی جو ہمیشہ متنازعہ بیان دینے اور منافرت پھیلانے کے لئے مشہور ہیں، وہ گاندھی جی کے قتل کی انکوائری کرانے کا مطالبہ کر رہے ہیں، تاکہ آر ایس ایس کو مہاتما گاندھی کے قتل کے الزام سے بری قرار دیا جا سکے۔ ساتھ ہی ساتھ ان کا مطالبہ یہ بھی ہے کہ ملک کے کرنسی نوٹوں پر سے مہاتما گاندھی کی تصویر ہٹا کر آر ایس ایس اور دوسرے رہنماؤں کی تصویر لگائی جائے۔

 اس تناظر میں اب ہم یہ دیکھیں کہ آخر ان فرقہ پرستوں اور متعصب لوگوں کے دلوں میں، مہاتما گاندھی اب تک کانٹے کی طرح کیوں چبھ رہے ہیں۔ دراصل مہاتما گاندھی نے وطن دوستی، حب الوطنی، انسانی اقدار کی جو تعلیمات دی ہے، وہ ملک کے لوگوں کو اب تک اپنے سحر میں لئے ہوئے ہے۔ جس کے باعث ان کے ’’ہندوتو‘‘ نظریہ کو  نافذ کرنے میں دشواریاں پیش آ رہی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ موہن داس کرم چند گاندھی بلا شبہ ایک عظیم شخصیت کا نام ہے۔ جنھوں نے اپنی زندگی میں سچائی، عدم تشدد،انصاف اور رواداری کے اقدار کو اتار کر جو تعلیمات اور نظریات دئے۔ انھیں آسانی سے فراموش نہیں کیا جا سکتا ہے۔ خاص طور پر عدم تشدد، جو ان کی زندگی کا جزولا ینفک تھا، اورجن پر وہ نہ صرف پوری زندگی خود چلے بلکہ دوسرے لوگوں کو چلنے کی ترغیب دی۔ اس سلسلے میں ان کا خیال تھا کہ ’ عدم تشدد سے پیدا ہونے والی طاقت انسان کے ایجاد کردہ ہتھیاروں سے بدجہا بہتر ہے۔ ‘  مہاتما گاندھی کی شخصیت کی جو سحر انگیزی تھی، وہ ان کے گفتار اور کردار کی ہم آہنگی کی وجہ کرتھی۔ انھیں انسانی، روحانی اور مذہبی افکار ونظریات پر مکمل یقین تھا۔ جس کے باعث وہ محبت، اخوت، مساوات،صداقت، انسانی دوستی اور یکجہتی کے پیکر بنے۔ سماجی نابرابری، ناانصافی اور غیر انسانی عمل و دخل کے خلاف آواز بلند کرتے ہوئے خاردار راستوں سے گزرکر جب سیاست کے میدان میں قدم رکھا، تب بھی انھوں نے سیاست کو مذہب سے الگ نہیں کیا بلکہ سیاست اور مذہب کو ایک دوسرے کے لئے لازم  وملزوم قرار دیا۔ ان کا یہ خیال تھا کہ جہاں بھی، جس جگہ بھی جن کے دلوں میں مساوات اور سچائی کا عنصر ہوگا، وہاں تشددغالب نہیں ہوگا۔ مہاتما گاندھی کی ان ہی بنیادی اصولوں کی علمبرداری اور اوصاف سے متاثر ہو کر رابندر ناتھ ٹیگور جیسی عظیم شخصیت نے ان کی عظمت کا اعتراف کرتے ہوئے انھیں ’’مہاتما‘‘ کا درجہ دیا تھا، جو ہمیشہ کے لئے ان کے نام کا حصہ بن گیا اور اپنی زندگی کے آخری لمحوں تک موہن داس کرم چند گاندھی، اپنے مہاتما ہونے کا ثبوت دیتے رہے۔ ان کی پوری زندگی انسانی رواداری اور اقدار کے لئے وقف رہی۔ ہندو مسلم اتحاد کو بھی مہاتما گاندھی ضروری قرار دیتے تھے۔

 اس سلسلے میں ان کا یہ خیال تھا کہ ’اتحاد ایک طاقت ہے، یہ صرف کتابی کہاوت نہیں بلکہ زندگی کا ایک اصول ہے، جو سب سے واضح طور پر ہندو مسلم اتحاد کے سوال پر صادق آتا ہے۔ اگر ہم میں پھوٹ ہوگی تو ہم تباہ ہو جائینگے۔ اگر ہم  ہندو مسلمان ایک دوسرے کے گلے کاٹنے پر تیار رہینگے تو کوئی تیسری طاقت آسانی سے ہندوستان کو غلام بنا لے گی۔ ہندو مسلمان اتحاد کا مطلب صرف ہندوؤں اور مسلمانوں ہی نہیں بلکہ ان سب جماعتوں کا اتحاد ہے، جو ہندوستان کو اپنا وطن سمجھتی ہیں، چاہے وہ کسی بھی مذہب سے تعلق رکھتی ہوں۔ ‘انسانیت کے لئے جذبۂ ایثار  وقربانی کا عنصر جس طرح سے ہماری زندگی سے غائب ہوتا جا رہا ہے۔ اس ضمن میں مہاتما گاندھی کا خیال تھا کہ  ’جو قوم بے شمار قربانیاں پیش کرنے کا جذبہ اور حوصلہ رکھتی ہے، وہ ترقی کی لا محدود بلندیوں پر پہنچنے کی صلاحیت بھی رکھتی ہے۔ جس قدر قربانی حقیقی ہوگی، اسی قدر کامیابی جلد ہوگی ‘۔ نفرت اور عداوت کے تئیں ان کا نظریہ تھا کہ ’ ہم اپنے دشمنوں کو محبت سے جیت سکتے ہیں، نفرت سے نہیں۔ نفرت اور تشدد میں بہت باریک سا فرق ہے ‘۔

     ہمارے ملک میں جمہوریت جس طرح ان دنوں مجروح اور پامال ہو رہی ہے، اس کے بارے میں مہاتما گاندھی نے کبھی کہا تھا کہ ’ ’ اگر جمہوریت کا صحیح مفہوم پیدا کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں قوتِ برداشت اور رواداری پیدا کرنا پڑے گی۔ ‘‘اس کے ساتھ ہی جمہوری نظام حکومت کے سلسلے میں بھی ان کا بہت ہی واضح نظریہ تھا کہ’ ’ جمہوری نظام حکومت کو کسی ایک شخص کے رحم وکرم پر نہیں چھوڑا جا سکتا، خواہ وہ شخص کتنا ہی عظیم کیوں نہ ہو۔ ‘ ‘اس سیاق و سباق کے ساتھ ہی ان کا ایک خواب یہ بھی تھا کہ ’ بھارت کے تمام مذاہب اور نسلوں کے افراد کو ایک ہی جھنڈے کے نیچے لا کر جمع کر دو اور ان میں اتحاد اور یکجہتی کا جذبہ اس شدت کے ساتھ پید اکر دو کہ ان کے ذہنوں سے فرقہ واریت اور تنگ نظری کا نام و نشان تک مٹ جائے۔ ‘ لیکن افسوس کہ لاکھوں لوگوں نے اپنی جان کی قربانی دے کر ملک کو انگریزوں کی غلامی اور ظلم  وتشدد سے آزاد کرایا، کہ آنے والی نسل خود کو کسی بھی طرح غلام نہ سمجھے، اسے ہر طرح کی آزادی نصیب ہو۔ لیکن المیہ یہ ہے کہ آج ہمارے ملک میں مذہبی منافرت اور تعصب کی ایسی گرم ہوا بہہ رہی ہے کہ ہر وہ انسان جو محبت، اخوت، مساوات، یکجہتی پر یقین رکھتا ہے، وہ پریشان ہے، ڈرا ڈرا، سہما سہما سا اور خوف زدہ ہے۔ ملک کے گوشے گوشے سے نفرت، عداوت، تشدد اور عدم رواداری کے شعلے بھڑک رہے ہیں، جو ملک کے  امن وامان، دوستی، بھائی چارگی اور گنگا جمنی تہذیبی اقدار کو خاکستر کر رہے ہیں۔ سیاست کی ایسی گرم فضا تیار کی جا رہی ہے کہ اقلیت واکثریت جو اس ملک میں برسہا برس سے شیر وشکر کی طرح رہتے آئے ہیں، ان کے درمیان منافرت اور اختلافات کی خلیج پیدا کر ملک کی سا  لمیت کو خطرے میں ڈالا جا رہا ہے۔ نام نہادمذہب اور حب الوطنی کاسہارا لے کر دوسرے مذاہب کے لوگوں کو سرے عام ذلیل و رسوا ہی نہیں بلکہ انھیں بڑی بے رحمی سے قتل تک کیاجا رہا ہے اور افسوس کا مقام یہ ہے کہ ایسے تمام خونین سانحات پر حکومت خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ کہا تو یہ بھی جا رہا ہے کہ ایسے واقعات کے انجام دینے والو ں کو حکومت کی پشت پناہی حاصل ہے۔ مہاتما گاندھی کی دور اندیش نگاہیں ان امور پر بھی تھیں اور انھوں نے اس سلسلے میں بھی بہت واضح طور پر کہا تھا کہ۔ ۔ ۔ ۔ "Religion is not test of nationality, but a personal matter between man and his god. In the sense of nationality they are Indians first and Indians last , no matter what religion they protess”

        اس ضمن میں میرا خیال ہے کہ ان تمام مذہبی منافرت، عداوت، تشدد، نا انصافی، استحصال، ظلم و بربریت، قتل وغارتگری کو فراموش کر مہاتما گاندھی کے اصولوں اور ان کی تعلیمات و ترجیہات، جو ہر مذہب و ملت کے ماننے والوں کے لئے، اس لئے قابل قبول ہو سکتی ہے کہ ان تعلیمات میں ان تمام مذاہب کی تعلیمات کی روح کو پیش کیا گیا ہے۔ انسانیت اور انسانی اقدار کی حفاظت اور ان پر عمل کرنے کی تاکید اور تعلیم ہر مذہبی کتابوں اور پیامبروں نے دی ہے، پھر ان میں اختلاف کہاں ہو سکتا ہے۔ لیکن افسوس کا مقام  تو یہ ہے کہ عدم تشدد کے پیامبر مہاتما گاندھی خود ہی ان دنوں متعصبانہ، فرقہ وارانہ اور جارحانہ ذہنیت کے لوگوں کے نشانے پر ہیں، ایسے میں مہاتما گاندھی کی تعلیمات او رنظریات پرعمل تو دور، ان کی شناخت تک مٹانے پر لوگ درپئے ہیں۔ ان کے قاتل کو نہ صرف بے گناہ بلکہ مسیحا تک قرار دیا جا رہا ہے اور ان کے قاتل کا جگہ جگہ مجسمہ لگانے اور اس کی عقیدت میں مندر تک تعمیر کرنے کی کوششیں ہو رہی ہیں۔

 پورے ملک میں گوڈسے کا مجسمہ لگا کر آر ایس ایس اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے لوگ علامتی طور پر ملک کو کیا پیغام دینا چاہتے ہیں۔ اسے بتانے  کی ضرورت نہیں ہے کہ اب اس ملک میں مہاتما گاندھی کے عدم تشدد اور آپسی اتحاد و اتفاق کی تعلیمات کے بجائے نفرت، عداوت،عدم رواداری، عدم مساوات اور انتشارو خلفشار ترجیحات میں شامل ہیں ۔  30 ؍ اکتوبر 1948 ء کو مہاتما گاندھی کے جسم کو گولیوں سے چھلنی کیا گیاتھا اور اب ان کی روح کو قسطوں میں قتل کیا جا رہا ہے۔ کانگریس کے نائب صدر راہل گاندھی نے بڑی جرأت کے ساتھ گزشتہ پارلیامانی انتخاب کے دوران یہی بات کہی تھی کہ مہاتما گاندھی کا قتل آر ایس ایس کے لوگوں نے کرایا تھا۔ راہل گاندھی کے اس بیان پر آر ایس ایس نے ان پر ہتک عزت کا مقدمہ دائر کیا، لیکن راہل گاندھی کا کہنا ہے کہ وہ اپنی اس بات پر قائم ہیں اور اس کے لئے وہ مقدمہ کا سامنا کرنے کو تیار ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ جو تاریخی حقائق ہیں، انھیں کیسے جھٹلایا جا سکتا ہے۔ ملک میں مہاتما گاندھی کے ساتھ جو سلوک کیا جا رہا ہے، وہ بہر حال افسوسناک ہی نہیں بلکہ تشویشناک ہے۔ اس تناظر میں ہم یہ دیکھیں کہ جس شخصیت کے  عدم تشدد کے پیغام کو قبول کرتے ہوئے اقوام متحدہ نے عدم تشددکا عالمی دن، ہر سال ان کے یوم  پیدائش پر منانے کا فیصلہ کیا ہے، اس کے اثرات بین الاقوامی سطح پر کس طرح پڑ رہے ہیں، تو ہمیں بہت مایوسیون کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ لیکن مایوسی کوکفر کہا گیا ہے، اس لئے ہمیں بہت زیادہ مایوس نہیں ہونا چاہئے، اندھیرے کی حکمرانی زیادہ دنوں تک نہیں رہتی ہے، اس پر ضرور یقین رکھنا چاہئے۔

مزید دکھائیں

سیّد احمد قادری

ڈاکٹرسیّد احمد قادری معروف کالم نویس ہیں۔

متعلقہ

Back to top button
Close