خصوصیسیاست

عدالت اور حکومت کا فٹبال میچ

ڈاکٹر سلیم خان

2014 کا قومی انتخاب فٹ بال کے حالیہ ورلڈ کپ کی طرح تھا۔ فیفا ہر سال مختلف قومی ٹیموں کی درجہ بندی کرتی ہے۔ اس  مقابلے سے قبل عالمی سطح پر فرانس ساتویں مقام اور کروشیا آخری یعنی ۲۰ ویں درجہ پرتھا۔  اس لیے ان دونوں کے فائنل  کھیلنے کی توقع کسی کو نہیں تھی مگروہ  ہوگیا۔ ہندوستانی قومی انتخاب میں بھی میدان کے  دونوں جانب ناتجربہ کار کھلاڑی تھے ۔ ۲۰۰۹ ؁ میں خود  نریندرمودی نے بھی نہیں سوچا تھا کہ فائنل کھیلیں گے اور راہل گاندھی  کی حالت  کروشیا سے بھی گئی گزری تھی۔ فرانس کو جس طرح  ۲۰ سال قبل عالمی کپ جیتنے کا تجربہ تھا  اسی طرح مودی جی کو گجرات کے وزیراعلیٰ کا عہدہ سنبھالنے تجربہ تھا لیکن راہل جی تو بالکل کورے تھے۔ نتیجہ ماسکو جیسا نکلا مودی جی کے ہاتھ بٹیر لگ گئی اور وہ کامیاب ہو گئے  ۔ راہل گاندھی ۲ کے مقابلے ۴ گول سے ہارگئے لیکن اس کے باوجود دوسال تک انہوں نے ہار تسلیم نہیں کی  اور اپنے آپ کو اقتدار کا مالک  سمجھتے رہے۔ صوبائی انتخاب میں پے درپے ناکامی کے بعد ان کی عقل تو ٹھکانے آگئی لیکن مودی جی ہنوز اپنے آپ  حزب اختلاف  کا رہنما سمجھتے  ہیں۔

مغربی جمہوریت میں حکومت چلانا  حزب اقتدار کی ذمہ داری ہوتی ہے اور اس کی مخالفت کرکے انتخاب جیتنا حزب اختلاف کا کام ہوتا ہے۔ مودی جی نے ان چار سالوں میں حکومت چلانے پر بالکل توجہ نہیں دی بلکہ دن رات نہرو خاندان اور کانگریس کے خلاف زہر اگلتے رہے اور یکے بعد دیگرے انتخابی مہمات میں اپنے آپ کو مصروف رکھا۔ درمیان میں جب فرصت ملتی یا تھک جاتے  تو آرام کرنے کے لیے غیر ملکی دورے پر نکل جاتے  لیکن وہاں بھی  پردیسی ہندوستانیوں  کو اپنا بھاشن سنانے سے نہیں چوکتے۔ مودی جی کی  کامیابی  کا ثبوت ایمنسٹی انٹرنیشنل کی حالیہ رپورٹ ہے۔ حقوق انسانی کی اس عالمی   تنظیم کے مطابق اترپردیش  کو’نفرت کی آگ‘پھیلانے میں اول قراردیا گیا ہے اور گجرات دوسرے نمبر پر ہے۔ یہ مودی جی کا عظیم کارنامہ ہے اس لیے کہ یوپی کا بنارس  ان کی کرم بھومی ہے اور گجرات کا وادنگر ان کی  جنم بھومی ہے۔

اترپردیش اور گجرات کے صوبائی انتخابات میں کمل کھلانے کے لیے مودی جی نے ان ریاستوں کو نفرت کی  آگ سے سینچا اور اب  ۲۰۱۹؁ میں سب کا ساتھ سب کا وکاس کے بجائے  فرقہ وارانہ منافرت کی بنیاد پر انتخاب لڑنے کی تیاری ہورہی ہے۔ ایسے میں سابق کرکٹ کھلاڑی ہربھجن سنگھ  کا بیان یاد آتا ہے کہ ۴۰ لاکھ کی آبادی و الا کروشیا ورلڈ کپ  فائنل کھیلتا ہے  اور ہم  (۱۳۵ کروڈ)ہندو مسلم کھیلتے ہیں۔ بھجی اپنے دلچسپ ٹویٹ کے لیےخاصے  مشہور ہیں۔ انہوں  نے قومی ٹیم کے سابق کپتان مہندر سنگھ دھونی کو لکھا تھا ’’ بیٹا اب سوچنا چھوڑ دے۔ کچھ ٹائم بعد ٹیم مینجمنٹ  خود ہی ٹیم سے باہر نکال دے گی پھر جتنا مرضی ہے آرام کرلینا میری طرح ۰۰۰۰۰‘ ہر بھجن کا یہ مشورہ وزیراعظم پر بھی صادق آتا  ہے اس لیے کہ ۲۰۱۹ ؁ میں اگر  بی جے پی کو ۲۲۰ یا اس سے کم نشستیں ملیں گی تو مودی جی کے ساتھ بی جے پی یہی  کرےگی۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ کے مطابق، ملک بھر میں سال۲۰۱۸ ؁ کی پہلی ششماہی کے اندر جملہ ۱۰۰ نفرت پر مبنی جرائم درج کئے گئے۔ اس میں ۱۸ واقعات  کے ساتھ یوپی نے طلائی تمغہ حاصل کیا ہے۔ اس کے بعد۱۳واقعات والے  گجرات  کو نقرئی  تمغہ حاصل کرنے پر افسوس ہے نیز کانسے کا تمغہ بھی بی جے پی کی زیر اقتدار راجستھان کے حصے میں آیا جہاں ۸ واقعات درج کئے گئے۔ اس کے بعد چوتھا اور پانچواں تمغہ تمل ناڈو اور بہار کو ملا۔ ان دونوں مقامات پر بی جے پی کی حلیف جماعتیں حکومت کررہی ہیں۔ انا ڈی ایم کے عملاً بی جے پی سے بغلگیر ہے اور بہار میں بی جے پی فی الحال جے ڈی یو کا بایاں ہاتھ بنی ہوئی ہے جس سے نہ جانے کون کون سے کام لیے جاتے ہیں۔  نفرت کے جرائم کی رفتار گزشتہ سال کے برابر ہےاس لیے کہ پچھلے پورے سال میں ۲۰۰ واقعات رونما ہوئے تھے اور اس۶ ماہ میں نصف کا ہدف پورا کرلیا گیا ہے لیکن چونکہ ۲۰۱۹ ؁ کے قومی انتخابات قریب سے قریب تر ہوتے جارہے ہیں بعید نہیں کہ اس میں حسبِ ضرورت اضافہ ہو۔

ایمنسٹی کے علاقائی سربراہ  آکار پٹیل نے اعداوشمار پیش کرتے ہوئے جن وجوہات کا ذکر کیا ہے وہ حقیقی معنیٰ میں قابلِ شرم ہیں مثلاً دلتوں پر مونچھ رکھنے کی وجہ سے،  مسلمانوں پر گائےپالنے کے سبب اور دلت عورتوں کو چڑیل کہہ کر مارنایا آبروریزی کرنا وغیرہ۔ انہوں  نے تو اپنی ‘ ہالٹ دی ہیٹ ‘  نامی ویب سائٹ پر دلت، آدیواسیوں، نسلی یا مذہبی اقلیتوں اور مخنثوں کے خلاف ہونے والے نفرت کی وارداتوں کے اعدادو شمارپیش  کردیئے  مگر جب ایوان پارلیمان کے اجلاس میں ان جرائم سے متعلق سوال کیا گیا تو  وزیر مملکت برائے داخلہ ہنس راج اہیر نے  ڈھٹائی سے جواب دیا،  ‘نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو ملک میں بھیڑ کے ذریعہ اقلیتوں کے قتل کے واقعات سے متعلق مخصوص اعداد و شمار نہیں رکھتا ہے۔ ڈیجیٹل انڈیا میں یہ اہم اعدادو شمار کیاکوئی مشکل کام ہے؟   وزیر موصوف جس دن یہ جواب دے رہے تھے اس کے بس ایک روز قبل سپریم کورٹ نے یہ فیصلہ صادر کیا کہ ’’صوبائی حکومتیں ۳ ہفتوں کے اندر ان مقامات کی نشاندہی کریں جہاں پچھلے پانچ سالوں میں ہجومی تشدد کی وارادتیں ہوئی ہیں‘‘۔ اب حکومت معلومات فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے اور  یہ کہہ کر پلہّ  نہیں جھاڑا جاسکتا کہ  قومی اعدادوشمار کا بیورو معذور ہے۔

حقائق کو  پیش کرنے سے احتراز  حکومت کی بدنیتی کا مظہر  ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ سرکار  اس ظلم کو ختم کرنے کی بابت سنجیدہ نہیں ہیں۔ ورنہ وزیر مملکت  کم از کم ایمنسٹی کی سائٹ سے استفادہ کرکے بتادیتے کہ ۲۰۱۷؁  میں مبینہ ہیٹ کرائم کےتحت دلت مخالف ۱۴۱ واقعات اور مسلمانوں  کے خلاف ۴۴واقعات درج کئے گئےجن  میں سے ۶۹  واقعات میں ۱۴۶ لوگ مارے گئے۔ ۱۳۵ واقعات  میں اس طبقہ کی خواتین  پر  جنسی تشدد کیا گیا۔ اس بابت چھوٹے میاں تو چھوٹے میاں  (ہنس راج) بڑے میاں (راجناتھ سنگھ)  سبحان اللہ نکلے۔  وزیرداخلہ  نے  بے حسی کے مظاہرے میں اپنے نائب کو مات دے دی۔ ایوانِ زیریں میں ہجومی تشدد کے سوال  کا جواب یوں دیا کہ ،  ’’یہ سچ ہے کہ ملک کے مختلف علاقوں میں موب لنچنگ کی گئی ہے اور کئی لوگوں کی جان بھی گئی ہے لیکن ایسا پہلی بار نہیں ہوا ہے۔‘‘

اپنے من کی بات کہنے دینے کے بعد غالباً  راج ناتھ سنگھ کو اپنی غلطی کا احساس ہوگیا تو وہ اپنی صفائی میں بولے ’’میں حکومت کی جانب سے ہجومی تشدد کے واقعات کی سخت مذمت کرتا ہوں‘‘ لیکن اس کی روک تھام کی ذمہ داری اپنے سر لینے کے بجائے فرمایا   ’’ایسے واقعات روکنے کی ذمہ داری ریاستی حکومت کی ہے۔‘‘ راجناتھ سنگھ کااس طرح صوبائی حکومتوں کو ذمہ دار ٹھہرا کر خود کنارہ کشی اختیار کرلینا عدالت عظمیٰ  کے فیصلے کی خلاف ورزی ہے۔ چیف جسٹس کی قیادت میں سپریم کورٹ کی بنچ نے نہایت دو ٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ ’’ سماجی رابطے کے ذرائع ابلاغ میں  ایسے غیر ذمہ دارانہ اور اشتعال انگیز پیغامات اور ویڈیوز کو پھیلنے سے روکنا   جن سے ہجومی تشدد اور قتل کا امکان  مرکزی حکومت اور صوبائی حکومت دونوں کا فرض  ہے۔ اس جرم کا ارتکاب کرنے والوں کے خلاف تعزیرات ہند کی  دفع ۱۵۳ اے کے تحت ایف آئی آر درج ہونی چاہیے‘‘۔

وزیرداخلہ کی سرد مہری اس بات کا ثبوت ہے کہ ان کی سرکار میں  اس ظلم   پر قابو  پانے کی خواہش کا فقدان ہے۔ ایسا لگتا ہے  کہ بی جے پی  ہجومی تشدداپنے سیاسی مقاصد کے حصول کی خاطر مفید جانتی ہے۔ ہجومی تشدد کی تحریک التواء پر حزب اختلاف نے ایوان کا واک آوٹ تو کیا لیکن اس سے قبل اسے چاہیے تھا کہ حکومت سے پوچھتی کہ  سپریم کورٹ کی ہدایت پر عمل کرتے ہوئے  ماب لنچنگ  کے سدِ باب کی خاطر وہ  قانون سازی کا ارادہ رکھتی ہے یا  نہیں ؟  اور اگر ہاں تو کیا اسے آئندہ  سرمائی اجلاس میں منظوری کے لیے  پیش کیا جائے گا؟ اور بحث و منظوری کے بعد اس پر عمل ہوگا؟  عدالت عظمی ٰ نے ہجومی تشدد کے متاثرین کی نقصان بھرپائی کے لیے  حکم دیا ہے کہ صوبائی حکومت ایک ماہ کے اندر لنچنگ کا شکار  ہونے والوں کے لیے معاوضے کی اسکیم تجویز کرے۔ اس کے اندر متاثر ہونے والے یا اس کے اہل خانہ کو واردات کے ایک ماہ کے اندر دی جانے والی فوری  امداد کی تفصیل ہونی چاہیے۔

 اس  ہدایت پر عملدرآمد کے لیے اولین شرط یہ ہے صوبائی حکومت کو متاثرین سے ہمدردی ہو جو کہیں نظر نہیں آتی۔ اتر پردیش کا تو یہ حال  ہے کہ وہ ہاپوڑ  میں گئوکشی کے معاملے  کو موٹر سائیکل کا جھگڑا قرار دے  کر رفع دفع کررہی ہے اور ملزمین کو ضمانت پر رہا ہونے معاون بنی ہوئی  ہے۔ اگر کوئی  تسلیم  ہی نہ کرے کہ ہجومی تشدد ہوا ہے تو نقصان بھرپائی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ ہجومی تشدد کے مقدمات خصوصی تیز رفتار عدالتوں   میں چلائے جائیں۔ اس کی روزآنہ سماعت ہو نیز ۶ ماہ کے اندر فیصلہ سنا دیا جائے اور جو واقعات پہلے رونما ہوچکے ہیں ان کے تئیں بھی یہی رویہ اختیار کیا جائے۔ لیکن اگر کوئی ریاستی حکومت ہجومی تشدد کا الزام خود اس کا شکار ہونے والے پر رکھ دے تو فاسٹ ٹریک کورٹ کس کو سزا سنائے گی؟

یہ کوئی مفروضہ نہیں ہے بلکہ حقیقت ہے اگر یقین نہ آتا ہوتو سوامی اگنویش  کی   مارپیٹ کے بعد پر جھارکھنڈمیں  شہری ترقیاتی امور کے وزیر سی پی سنگھ کا بیان دیکھ لیں۔ وہ کہتے ہیں میں  سوامی اگنویش سے ذاتی طور پر۴۰ سال سے واقف ہوں۔ وہ   فراڈہیں اور ہندوستانیوں کو ٹھگنے کے لیے بھگوا لباس پہنتے ہیں۔ وزیر موصوف انکشاف  کیا   کہ ’’ ان کی معلومات کے مطابق  سوامی اگنویش غیر ملکی عطیات پر جیتے ہیں، اور انہوں نے تشہیر کے لیے منصوبہ بند طریقہ سے خود پر حملہ کروایا ہے ‘‘۔ کسی صوبے میں وزیر کے ذریعہ  ظلم کا الزام اگر مظلوم کے سرمنڈھ دیا جائے تو وہاں انصاف کی توقع کیسے ممکن ہے؟ ایسے میں عدالت عظمیٰ کے اس فیصلے کی بجاآوری  کیسے ہو  سکے گی جس میں کہا گیا ہے کہ ’’جن لوگوں پر ہجومی تشدد ثابت ہوجائے انہیں عبرتناک سزا دے کر مثال بنادیاجائے۔ ٹرائل کورٹ انہیں  آئین کے تحت سخت ترین  سزا دے‘‘۔ انصاف مہیا کرنے کی موجودہ صورتحال کا بیان  ایمنسٹی کی رپورٹ میں اس طرح ہے کہ ’’ کچھ معاملوں میں مجرمانہ تفتیش شروع کی جا چکی ہے، لیکن بہت سے معاملوں میں کسی کو سزا نہیں ملی ہے۔ متاثرین اور ان کے اہل خانہ کو انصاف دلانے کے لئےا نتظامیہ کو بہت کچھ کرناپڑے گا “۔

آکار پٹیل نے اپنی ویب سائٹ کے اجراء کی خاطر شہرلکھنو کا انتخاب کیا۔ انہیں امید رہی  ہوگی کہ شاید وہاں جانے سے ان  کی آواز صوبائی حکومت کے گوش گذار ہو  جائے  گی، لیکن جس یوگی حکومت کے کان پر خود اپنی سرکار کے وزیر اوم پرکاش راج بھر کے سنگین الزامات سے جوں نہیں رینگتی اس پر بھلا کسی غیر کا کیا اثرہوسکتاہے؟ اترپردیش میں بی جے پی کی اتحادی سہیل دیو بھارتیہ سماج پارٹی کے صدر نے الزام لگایا ہےکہ فرضی انکاؤنٹرس کے ذریعہ پولیس بے قصور افراد کو نشانہ بنا رہی ہے۔ راج بھر کاکہنا ہےکہ عہدہ میں ترقی اور ذرائع ابلاغ میں مقبولیت کا لالچ  پولیس حکام  سے بلاخوف  وخطر فرضی تصادم کروا رہا ہے۔ اس لئے  صوبے میں ہونے والے اب تک کی  تمام مڈبھیڑ کی غیرجانبدارانہ جانچ ہونی چاہیے۔  بی جے پی کو چاہیے کہ اپنے حلیف راج بھر کو نظر انداز کرنے کے بجائے ان  کی  باتوں پر توجہ دے  اس لیے کہ  آئندہ انتخابات میں پسماندہ، نہایت پسماندہ اور دلت اہم رول ادا کریں گے۔ ۲۰۱۹ ؁ میں اقتدار  کس کے حصے میں آئے گا یہ وہی  طے کریں گے۔

سیاست کا کھیل اور کھیل کی سیاست مماثل  ہوتی ہے۔ گزشتہ سال پرتگال اور ریال میڈرڈ کے لیے کھیلنے والے سٹار فٹبالر کرسٹیانو رونالڈو کو لندن میں منعقدہ فیفا ایوارڈز میں بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا تھا۔رونالڈو نے ارجنٹینا کے کھلاڑی لیونل میسی اور برازیل کے کھلاڑی نیمار کو پچھاڑ کر یہ اعزازحاصل کیا تھا۔ رونالڈو نے اپنے کلب کیلئے سب سے زیادہ ۴۵۱گول کرچکے تھے۔ اس دوران انھوں نے پانچ بار دنیا کے سب سے بہترین کھلاڑی ہونے کا ایوارڈ بیلن ڈور’ بھی حاصل کیا جبکہ پچھلےپانچ میں سے چار سیزن میں رونالڈو نے ریال میڈرڈ کو چیمپیئنز لیگ میں کامیابی دلوائی اور فیفا کلب ورلڈ کپ بھی جیتا۔ اس لیے جیسی توقعات لوگ مودی جی سے ۲۰۱۹ ؁ میں وابستہ کررہے ہیں ایسا ہی معاملہ رونالڈو کے ساتھ حالیہ عالمی چمپئن شپ میں تھا۔  ویسے بھی۔ مودی جی کی انتخابی  کامیابیاں  رونالڈو کے مقابلے  کیا جائے تو وہ پھیکی  لگتی ہیں۔

اب دیکھیں کہ ورلڈ کپ میں کیا ہوا؟   بڑی شان سے  میدان میں اترنے والی  رونالڈو کی پرتگال   ٹیم نے جملہ چار میچ کھیلے لیگ کے تین مقابلوں میں اسے صرف  مراکش کے خلاف فتح ہاتھ لگی  اور باقی دو مقابلوں میں وہ ایران اور اسپین سے برابری پر چھوٹا۔ گول کے برتری  پرتگال کو ناک آوٹ راونڈ  میں تولے گئی  لیکن وہاں پہلے ہی میچ میں وہ یوراگوئے سے ہارکر ٹورنامنٹ سے باہر ہوگیا۔ اس طرح رونالڈو اور اس کی پرتگال اپنے انجام کو پہنچی جس نے  چار مقابلوں میں کل ۶ گول کیے اور ان میں ۴ رونالڈو کے تھے۔ اس ٹورنامنٹ سے پہلے کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ رونالڈو کی پرتگال کوارٹر فائنل بھی نہیں کھیل سکے گی اور نہ ہی کسی کے خواب و خیال میں تھا کہ فائنل میں شکست سے دوچار ہونے والے لوکا موڈریچ کو بہترین کھلاڑی کے خطاب سے نوازہ جائے گا۔ ستم در ستم یہ کہ ٹورنامنٹ کے بعد  فیفا نے جو ورلڈ الیون کا اعلان کیا اس میں بشمول  رونالڈو  پرتگال کا کوئی کھلاڑی اپنی جگہ بنانے میں کامیاب نہیں ہوسکا۔ فٹبال  کے میدان میں تو یہ چمتکار ہوگیا دیکھنا یہ ہے کہ ۲۰۱۹؁ کے قومی انتخاب میں مودی جی اور ان کی بی جے پی کا  کیا حشر ہوتا ہے؟     ویسے سیاست کے کھیل اور کھیل کی سیاست  میں یہ بھی  ہوتا ہے کہ؎

یہ ان کا کھیل تو دیکھو کہ ایک کاغذ پر

لکھا بھی نام مرا اور پھر مٹا بھی دیا

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

سلیم خان

ڈاکٹر سلیم خان معروف کالم نگار اور صحافی ہیں۔

متعلقہ

Close