خصوصیہندوستان

عدالت عظمیٰ میں بابری مسجد کا قضیہ

سوال یہ ہے کہ اگر زمین کی ملکیت کا فیصلہ عدالت میں ہوجائے تو قانون سازی کی ضرورت ہی کیا ہے؟

ڈاکٹر سلیم خان

بابری مسجد رام جنم بھومی  تنازع  کی سماعت میں آخری روڑا اسماعیل فاروقی بنام دفاقی حکومت کا فیصلہ آجانے کے بعد نکل چکا  ہے۔  ۲۹ اکتوبر سے اس  مسئلہ پر شنوائی شروع  ہونے جارہی ہے اس لیے  ہندوتوا وادیوں کے پیٹ میں  مروڈ شروع ہو گیا  ہے۔ اسماعیل فاروقی نے حکومت کے ذریعہ بابری مسجد کی اراضی کو تحویل میں لینے کے فیصلے کو چیلنج کیا تھا۔  اس پر فیصلہ سناتے ہوئے  پانچ رکنی آئینی بنچ نے کہا تھا کہ اسلام مذہب میں نماز ادا کرنے کے لئے مسجد کی ضرورت نہیں ہے۔ نماز کہیں بھی پڑھی جاسکتی ہے۔ اس فیصلے کے خلاف  عرضی گذار کا کہنا تھا کہ اجودھیا زمینی تنازعہ میں الہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کےخلاف اپیل کے نمٹانے سے قبل ’اسماعیل فاروقی بنام حکومت ہند ‘ معاملے میں نماز کے سلسلے میں ۱۹۹۴ ؁ کے فیصلے میں کئے گئے مذکورہ تبصرہ پر غور کیا جانا چاہئے۔ اس معاملے میں سپریم کی سہ رکنی بنچ  کے  میں شامل  جسٹس ایم عبدالنظیر  کادیگر ججوں سے  اختلاف ہوگیا۔ جسٹس نظیر  چاہتے تھے کہ اسے ایک وسیع تر آئینی بنچ کے حوالے کیا جائے لیکن  چیف جسٹس  دیپک مشرا ا ور جسٹس اشوک بھوشن اس کو بڑی بنچ  میں بھیجنے سے انکار کردیا کہ اسلام میں نماز پڑھنے کے لئے مسجد ضروری  نہیں ہے۔

جسٹس دیپک مشرا  کا  یہ خیال تھا کہ  اسماعیل فاروقی معاملے میں عدالت کا تحویل اراضی سے متعلق  فیصلہ خصوصی پس منظر میں تھا۔ اجودھیا زمینی تنازعہ کی سماعت میں اس نقطہ کو شامل نہیں کیا جاسکتانیز اجودھیا زمین تنازعہ سے متعلق اپیل میں اس نقطہ پر توجہ نہیں دی جائے گی۔چیف جسٹس کی  سربراہی والی بنچ نے یہ وضاحت  بھی کردی کہ اسماعیل فاروقی فیصلہ کا بابری مسجد خطۂ اراضی کے  مالکانہ حقوق والے  مقدمہ پر کوئی اثرنہیں پڑے گا۔ عدالت نے واضح کیا کہ بابری مسجد-رام جنم بھومی تنازعہ کا فیصلہ صرف اور صرف ملکیت کے مقدمہ کی طرح سنا جائے گا اور اس میں عقیدت اور مذہب کی دلائل  کو قبول نہیں کیا جائے گا۔ یہی آخری فقرہ ہے جس نے آستھا اور شردھا  کے نام پر  سیاسی روٹیاں  سینکنے والی ہندو احیاء  پرست تنظیموں  کے ابتدائی جشن پر اوس ڈال دی  اور وہ عدالت کے اوپر سے ان کا اعتماد اٹھ گیا۔ اسی لیے بھاگوت جی کو  عدالت کی توہین کا مرتکب ہوکرقانون بنانے کا مشورہ دینا پڑا۔

 ایم آئی ایم کے سربراہ بیرسٹر اسدالدین اویسی نے  بھی  فاروقی کی اپیل پر آنے والے فیصلے پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے  کہا تھا کہ اب اس ملک میں مسلمانوں کے لیے بچا ہی کیا ہے؟  اس کے برعکس بابری مسجد مقدمہ کے سب سے اہم فریق  آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے رکن اور وکیل ظفر یاب جیلانی کہنا تھا کہ،  ’’اس فیصلے کا بابری مسجد کے اصل تنازعے کی اپیلپر کوئی اثر نہیں پڑے گاکیونکہ  سپریم کورٹ  خود اعتراف کرچکا  ہے کہ ایک خاص تناظر میں دی گئی  اس رائے  کا حق ملکیت سے کوئی تعلق نہیں ہے ‘‘۔مولانا سید ارشدنی نے بھی  وضاحت کی کہ یہ معاملہ آستھا (عقیدت) کانہیں بلکہ ملکیت کا ہے۔ انہوں نے قانون اورعدلیہ پر مکمل اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے  امید کی کہ بابری مسجد ملکیت کے مقدمہ میں عدالتتمام شواہد کو مدنظررکھ کر اپنا فیصلہ صادر کرے گی۔ اس طرح گویا ۲۹ اکتوبر سے سپریم کورٹ میں سماعت کا راستہ صاف ہوگیا۔

سپریم کورٹ ڈیڑھ سال قبلاپریل ۲۰۱۹ ؁  تک ان معاملات کو نمٹانے کاحکم دے چکا ہے۔ اس کے باوجود دسہرہ کی اپنی تقریر میں سر سنگھ چالک  موہن بھاگوت  نے مندر کی اہمیت بتانے کے بعد جلد از جلد زمین کی ملکیت کے تنازع کو حل کرنے  کا فیصلہ سنانے کا مطالبہ کرتے ہوئے  حکومت کو  مندر کی تعمیر کا راستہ ہموار کرنے کے لیے مناسب قانون سازی کرنے   کا مطالبہ بھی کر دیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر زمین کی ملکیت کا فیصلہ عدالت میں ہوجائے تو قانون سازی کی ضرورت ہی کیا ہے؟ دراصل یہ مطالبہ سنگھ کے عدم اعتماد کی دلیل ہے۔ اس معاملے میں  سب سے پہلے اپریل کے مہینے میں اترپردیش کے سخت گیر رہنما  رام بلاس داس ویدانتی نے آئندہ برس رام نومی تک ایودھیا میں رام مندر کے  نہ بننے پر ہزاروں رام بھکتوں کے ساتھ خود سوزی کی دھمکی دی ۔ اس پر تبصرہ کرتے ہوئے ہندو تنظیم کے رکن ستیندر شرما نے کہا کہ عدالت عظمی کا حکم پورے ملک کی عوام کے لیے قابل قبول ہوگا۔ یہ ویدانتی کا ذاتیفیصلہ ہےمگر اس قسم کے بیانات عدالت کی توہین ہیں۔اس وقت  انتخابی ماحول  نہیں تھا لیکن  اکتوبر کے آتے آتے موسم بدل گیا ہے۔  اب  سر سنگھ چالک    بھی عدالت کے بجائے قانون بناکر اس مسئلہ کو حل کرنے کی بات کرنے لگے ہیں ۔ سوال یہ ہے کہ آخر وہ کون ساخطرہ  ہے جو ان لوگوں کو عدالت کے فیصلے سے خوفزدہ کررہا ہے؟

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

سلیم خان

ڈاکٹر سلیم خان معروف کالم نگار اور صحافی ہیں۔

متعلقہ

Close