خصوصی

عدلیہ سے سیاست کی قربت اور مداخلت کی باتیں

ایسا دور بھی آیا جب ہائی کورٹ میں بھی سیاست سے رشتے کی باتیں کہی اور تسلیم کی جانے لگیں۔

عمیر کوٹی ندوی

عدلیہ سے سیاست کی قربت ہمارے ملک کے لئے کوئی نئی بات نہیں ہے۔ نچلی سطح پر اس کے وجود کو ہر کوئی تسلیم کرتا ہے، بہ بانگ دہل تسلیم کرتا ہے اور ایک عرصہ سے تسلیم کررہا ہے۔ یہیں سے بدعنوانی اور لاقانونیت کو راہ ملتی ہے جسے خود عدالت نے بھی متعدد بار تسلیم کیا ہے۔  پھر ایسا دور بھی آیا جب ہائی کورٹ میں بھی سیاست سے رشتے کی باتیں کہی اور تسلیم کی جانے لگیں۔ لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہا جاتا رہا کہ سپریم کورٹ سیاسی رشتوں سے محفوظ ہے۔ اب تو حال یہ ہے کیا ہائی کورٹ اور کیا سپریم کورٹ سیاست سے رشتہ اور قربت کی باتیں بہ بانگ دہل دلائل کے ساتھ کہی جارہی ہیں۔  ابھی حال کی بات ہے کہ سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس چلمیشور نے  چیف جسٹس آف انڈیا کے نام تحریر کردہ ایک مکتوب میں ایک معاملہ میں مرکزی حکومت کی طرف سے کرناٹک ہائی کورٹ کے چیف جسٹس دنیش مہیشوری سے رابطہ قائم کرنے اور ہدایات دینے پر اپنی ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ "چیف جسٹس(کرناٹک ہائی کورٹ)نے خود کو سرکار کا وفادار دکھاتے ہوئے اس پر قدم اٹھایا”۔ اسی مکتوب میں چیف جسٹس آف انڈیا سے انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ "حکومت اور عدلیہ کے درمیان ضرورت سے زیادہ دوستی جمہوریت کے لئے خطرناک ہے”۔ سپریم کورٹ  میں سیاست کی دستک کی جو بات زبانوں  پر آئی ہے وہ دن بہ دن تیز تر ہوتی جارہی ہے۔حالیہ ماہ وایام میں جو باتیں ہوئیں اور جس طرح کے معاملات سامنے آئے وہ سب کے سامنے ہیں۔

 حالیہ معاملہ  اتراکھنڈ کے چیف جسٹس کے ایم جوزف کے سپریم کورٹ  کے جج بنائے جانے کی کالجیم کی سفارش کو مرکزی حکومت کی طرف سے واپس کرنے اور  سینئر وکیل اندو ملہوترا کو سپریم کورٹ کا جج مقرر کرنے سے متعلق ہے۔ اس  معاملہ نے  نئی صف بندی کردی ہے۔  اس صف بندی نے  عدلیہ اورججز کے وقار کو مجروح ہی نہیں کیا بلکہ  عدلیہ سے لے کر سیاست تک بہتوں کو باہم دست وگرباں کردیا ہے۔ ا س کی وجہ سے ایک دوسرے پر الزام تراشی، چھینٹا کشی اور بد زبانی کا نیا دور شروع ہوگیا ہے۔ حکومت کے فیصلہ کی پرزور مخالفت کرنے پر کانگریس پر تنقید کرتے ہوئے مرکزی وزیر قانون روی شنکر پرشاد نے کہا ہے کہ "کانگریس کا ریکارڈ سب کو معلوم ہے”۔ یہ بات درست ہے کہ ایک طویل عرصہ تک کانگریس نے اس ملک پر حکومت کی ہے۔ اس لئے جہاں اس عرصہ میں  ملک کی تعمیر وترقی میں اس کے کردار کو تسلیم کیا جاتا ہے وہیں اس کے غلط قدم اور کاموں کی بھی نشاندہی کی جاتی ہے۔ کسی بھی حکومت کے لئے سابقہ حکومت کے اچھے کاموں سے فائدہ اٹھانا، ان کی کشادہ دلی اور تعاون کو تسلیم کرنا مثبت سوچ اور کشادہ دلی کی علامت تصور کی جاتی ہے اور اس کی ستائش بھی کی جاتی ہے۔ خود سابق وزیر اعظم اٹل بہاری باجپئی  نے نرسمہا راؤ کے زمانہ میں اپوزیشن لیڈر ہونے کے باوجود  حکومت کی طرف سے خود  کوجینوا کنونشن میں شرکت کے لئے بھیجے جانے اور ملک کی نمائندگی کرنے  کا اپنے دور حکومت میں نہ صرف پارلیمنٹ میں ذکر کیا تھا بلکہ اس کی ستائش کی تھی۔

سابق وزیر اعظم اٹل بہاری باجپئی  نے اس وقت ملک کی شناخت اور مفاد میں سیاسی اختلافات ومفادات کو درکنار کرنے پر زور دیا تھا۔ ان جیسے ہی الفاظ کا استعمال موجودہ وزیر اعظم بھی ماضی میں پارلیمنٹ میں کرچکے ہیں۔ لیکن ماضی کے غلط کاموں سے فائدہ اٹھانا اور ان غلط کاموں کو اپنے غلط کاموں کے جواز کے لئے بطور نظیر پیش کرنا  جیسا کہ اس وقت خوب ہورہا ہے اور اس مقصد سے ماضی سے خوب حوالے تلاش کئے جارہے ہیں ،کیا یہ بھی مثبت سوچ اور کشادہ دلی کی علامت تصور کی جاتی ہے۔ ظاہر سی بات ہے کہ ہر ہوشمند  اور عقل مند کے یہاں اس کا جواب  نفی میں ہوگا۔اس لئے کہ اس صورت میں عدل وانصاف سے ملک ومعاشرہ ہٹ جائے گا۔ منصف مزاجی کی جگہ توجہ اپنے پرائے پر مرکوز ہوجائے گی۔ سپریم کورٹ کے سینئر وکیل اور سابق مرکزی وزیر کپل سبل کا وہ بیان اس کا ثبوت ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ "ہندوستانی عدلیہ کا نظام خطرہ میں ہے اور حکومت اپنے لوگوں کو عدالتی نظام میں لانے کی کوشش کررہی ہے”۔ اس صورت میں بات انانیت اور ڈکٹیٹر شپ کی طرف چلی جاتی ہے جس کے نتیجہ میں حق تلفی وناانصافی،ظلم وزیادتی، فساد وبگاڑ کا ماحول پیدا ہوتا ہے۔  قانون مفلوج ہوجاتا ہے اور لاقانونیت کو فروغ حاصل ہوتا ہے۔

  امن وامان، دستور وقانون،  ملک کی شناخت اور اس کی خوبی ،جمہوری اقدار، انسانیت کے لئے ضروری ہے کہ  سیاسی اور نظریاتی دلچسپیوں اور تمام تر اختلافات کے باوجود   اس ملک کو اس  راہ پر جانے سے روکا جائے جہاں لاقانونیت ، قانونی مفلوک الحالی کا دور دورہ ہوتا ہے، انسانیت پر ظلم وجبر  کے دروازے کھلتے ہیں اور انسان کے مابین نسل، جنس، علاقہ ، ذات اور مذہب کے نام پر تفریق ہوتی ہے۔ اس وقت ملک کے عدالتی نظام اور قانون کی حکمرانی کو جس قسم خطرات لاحق ہوگئے ہیں اس پر ملک کے ججز، وکلاء،  ماہرین قانون، اہل سیاست، ملک کے ہوشمند وفکرمند لوگ، عام شہری کا تشویش میں مبتلا ہونا  اور وقتاً فوقتاً اپنی فکرمندی کا اظہار کرنا بلا وجہ نہیں ہے۔ سپریم کورٹ میں جو کچھ ہورہا ہے اس سے ملک کے داخل میں جو صورتحال پیدا ہوگی وہ ہوگی بیرون ملک بھی اچھی تصویر نہیں بنے گی۔ اس سے ملک کی عدلیہ  سے وابستہ مظلوموں کی امیدوں پر ہی پانی نہیں پھرے گا اس کے تئیں عوام کا اعتماد  بھی مجروح ہوگا۔ اس کی زد میں ملک کو لاقانونیت کی طرف لے جانے ، دستور وقانون کو مفلوج کرنے اور عدلیہ کے نظام کو اپنے مفادات کی خاطر  متاثر کرنے والے بھی آئیں گے۔ عدلیہ کے خلاف نازیبا الفاظ کا استعمال یقیناً نامناسب اور ناقابل قبول بات ہے اور اس کی گرفت ہونی چاہئے۔ اسی کے ساتھ اصل گرفت اس کو شش کی ہونی چاہئے جو ملک کے دستور، قانون اور عدلیہ کو ہی زیر کرنے کے درپے ہے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Close