خصوصیگوشہ خواتین

عصرِ جدیدمیں خواتین کا عدم تحفظ

ڈاکٹر سلیم خان

مثل مشہور ہے ’ جب آیا دیہی کا انت جیسے گدھا ویسا سنت‘۔  اس کل یگ کا یہ حال ہے کہ ہر عام و خاص کا اخلاقی معیار یکساں سطح تک گرگیا ہےاس لیے ’سادھو اور شیطان ‘ میں کوئی فرق باقی نہیں رہا۔ اس کا ایک ثبوت یہ ہے کہ عمر قید کی سزا کاٹ رہے آسارام کے بیٹے نارائن سائیں نے بھی اپنے باپ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اپنےآپ کو اسی سزا کا مستحق بنالیا۔  سورت کے سیشن کورٹ نے ایک  سادھوی کی آبروریزی  کے معاملے میں نارائن سوامی کو  قصوروار قرار دےکر۳۰ اپریل  ۲۰۱۹ ؁ کو عمر قید کی سزا سنا دی ۔  اس طرح انگریزی کا محاورہ ’’جیسا باپ ویسا بیٹا(Like father like son ) کا عملی مظہر سامنے آگیا۔ یہ نہایت افسوسناک معاملہ ہے جس میں باپ بیٹے نے دو سگی بہنوں  کو اپنی ہوس کا شکار بنایا۔  بڑی بہن  ۱۹۹۷ ؁ سے ۲۰۰۶ ؁   تک آشرم کے اندر آسارام کے ظلم کا شکار رہی اور چھوٹی بہن کو ۲۰۰۲ ؁ سے ۲۰۰۵ ؁ تک بیٹا نارائن  اپنی ہوس کا شکار کرتا رہا۔  نارائن سائیں کو جس وقت سزا سنائی گئی وہ ضمانت پرتھا  اور اس کا باپ  آسا رام ایک  نابالغ طالبہ کی عصمت دری کے جرم میں جیل میں عمر قید کی سزا  کاٹ رہا  ہے ممکن ہے بہت جلد باپ بیٹے ساتھ ہوجائیں اور نارائن کو اپنے باپ کی خدمت کا موقع میسر آجائے۔

یہ عجیب اتفاق ہے کہ جس دن سورت کی سیشن عدالت نے آسارام کے بیٹے نارائن سائیں کو عصمت دری کے الزام میں  قصور وار پایا  اسی دن  اپنی بیوی کا قتل  کرنےکے جرم میں  عمر قید کی سزا کاٹ رہے سشیل شرما کو دہلی ہائی کورٹ نے فوراً رہا کرنے کا حکم دے دیا۔  اس طرح  تندور قتل کے ملز  م کے ساتھ کی جانے والی عدالتی  نرمی نے  آسارام اور اس  کے بیٹے کی خاطر  امید کا چراغ روشن کردیا ہے۔ یہ معاملہ ۱۹۹۵ ؁ کا ہے جب  کانگریس کے سبزی خوررہنما شرما نے  اپنی اہلیہ نینا ساہنی کا قتل کیا اور پھر اس کی  لاش کے ٹکڑے کرکے جن پتھ پر واقع ایک ہوٹل کے تندور میں جلا دیا تھا۔ اسے عمر قید کی سز اسنائی گئی تھی۔اس معاملے میں شرما کو نچلی عدالت نے ۲۰۰۳ ؁ میں پھانسی کی سزا سنائی۔  دہلی ہائی کورٹ   نے سزا برقر ار رکھی مگر  تھامگرسپریم کورٹ نے اسے  عمر قید میں تبدیل کردیا۔  عدالت عظمیٰ کی دلیل یہ تھی کہ  وہ جرائم پیشہ نہیں ہے اور اس نے معاشرے کے خلاف جرم کا ارتکاب نہیں کیا بلکہ ذاتی زندگی کی کشیدگی نے اس سے یہ جرم کروایا۔

عدالت عظمیٰ کے نرم رویہ سے حوصلہ پاکر سشیل نے دوبارہ  عدالت عالیہ سے رجوع کیا تو جسٹس سدھارتھ مردل اور جسٹس سنگیتا ڈھینگرا سہگل کی بنچ نے سختی کے ساتھ  دہلی حکومت سے پوچھا کہ کیا کسی شخص کو قتل کے جرم میں غیر معینہ مدت کے لئے جیل میں بند رکھا جاسکتا ہے جب کہ وہ پہلے ہی مقررہ سزا کاٹ چکا ہو۔ یہ دلچسپ انکشاف  ہے کہ عمر قید کی سزا تاحیات نہیں ہوتی بلکہ  موت  سے قبل مکمل ہوجاتی ہے۔ عدالت نے حکومت سے سوال کیا کہ ۲۹سال سزا مکمل کرلینے کے بعد بھی  شرما کو رہا کیوں نہیں کیا گیا ؟ اس بنچ کی نظر میں کسی   قیدی کو انسانی حقوق سے محروم کرنا  انتہائی سنگین  معاملہ ہے۔وقت کے ساتھ عدلیہ  نے جرم کی سنگینی کو بھلا دیا۔  وطن عزیز میں عدالتی نظام کی اس نقص کے سبب دسمبر ۲۰۱۲ ؁  کو دہلی میں اجتماعی عصمت دری کا  شکار ہو نے والی نربھیا(بدلا ہوا نام) کے والدین نے  اس بار ووٹ نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

۱۶ دسمبر ۲۰۱۲ ؁  کی شب آبرو ریزی کا شکار ہونے والی  پیرامیڈیکل اسٹوڈنٹ کی موت کے بعد تمام سیاسی  پارٹیوں نے اس کے والدین کو  انصاف  دلانے کے وعدے کیے۔  اس وقت اقتدار کی بلاواسطہ زمامِ کار سونیا گاندھی کے ہاتھوں میں تھی  اور  دہلی کی وزیر اعلیٰ شیلا دکشت  تھیں لیکن یہ دونوں  طاقتور سیاسی خواتین بھی بربھیہ کے والدین  کو انصاف دلانے میں ناکام رہیں۔  بیٹی بچاو بیٹی پڑھاو  کی دہائی دینے والے اور ’ بہت ہوا ناری پر اتیاچار اب کی بار مودی سرکار ‘  کا لگاکر اقتدار پر فائز ہوئے والے  اپنی مدت کار پوری کرچکے لیکن انصاف نہیں ملا تو نہیں ملا۔  اس لیے نربھیا کے والدین کا کہنا ہے کہ وہ  ان وعدوں  سے تھک چکے ہیں کیونکہ ان کے بارے میں  زبانی جمع خرچ سے آگے بڑھ کرکچھ نہیں کیا جاتا۔ نربھیا کے والدین  پولیٹیکل پارٹیوں کی  ہمدردی کو سیاسی نوٹنکی قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں۔

نربھیا کی  والدہ آشا دیوی کا اس  نظام سیاست  کے اوپر سے بھروسہ اٹھ چکا ہے کیونکہ مجرم ابھی تک زندہ ہیں اس لیے وہ اس بار کسی بھی پارٹی کے لیے ووٹ دینے کا من نہیں  بنا پارہی ہے۔  چار سال قبل بھی انہوں نے یہی کہا تھا کہ ’’ جب تک میری بیٹی کے گنہگاروں کو پھانسی نہیں ہو جاتی، تب تک ہمیں انصاف نہیں ملے گا۔ جو کچھ بھی ہوا ہے،  وہ صرف کاغذوں پر ہوا ہے۔ اگر انصاف ملا ہوتا تو وہ لوگ اب کیا زندہ رہتے؟ پتہ نہیں کب تک ہمیں یہ جنگ لڑنی پڑے گی؟ سپریم کورٹ میں لگاتار سماعت ہو رہی ہے۔ ہم ہر سماعت پر جاتے ہیں۔ دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے‘‘۔  آشادیوی  کی پریشانی صرف اپنی ذات تک محدود نہیں ہے بلکہ وہ کہتی ہیں شہر کی  سڑک اب بھی  خواتین اور بچوں کے لیے غیر محفوظ ہیں۔  حکومتوں نے عورتوں اور بچوں  کی حفاظت کے لیے مؤثر اقدامات  نہیں کیے۔  سی سی ٹی وی کیمرے ابھی تک نہیں لگائے گئے ( اور جو لگے بھی تو کام نہیں کرتے)۔  مائیں اپنی بیٹیوں کے گھر لوٹنے تک فکرمند رہتی ہیں۔

انتخابی مہم کے شوروغل میں ان  الفاظ کے اندر دبے ہوئے کرب اور مایوسی کو نظر انداز کیا جارہا ہے۔ سشیل شرما کے متعلق فیصلے کو سن کر   نربھیا کے والدین کی فکرمندی یقیناً  اضافہ ہوگیا ہوگا کیونکہ بعید نہیں کہ آگے چل کر  نربھیا کے قاتل بھی اس  درندے  کی مانند رہا کردیئے جائیں  حالانکہ سپریم کورٹ نے اس  معاملہ کو  ریئرسٹ آف ریئر قرار دیا تھا۔  عدالت کے مطابق  مرنے سے پہلے متاثرہ کا بیان بے حد اہم اور پختہ ثبوت تھالیکن ہمارے سماج میں  کب کس کو کس سے ہمدردی ہوجائے یہ کہا نہیں جاسکتا اس لیےجیوتی سنگھ عرف نربھیا کے والد بدری ناتھ سنگھ نربھیا کا  یہ کہنا کہ  کچھ بھی نہیں بدلا۔  اس بار مجھے بھی اپنا ووٹ ڈالنے جانے کا من نہیں ہے۔  سسٹم میں میرا بھروسہ ڈگمگا گیا ہےایک نہایت  سنگین اور قابلِ توجہ پہلو ہے اور یہ کسی فرد کی جیت یا ہار سے کہیں زیادہ اہمیت کا حامل ہے کیونکہ  ہمارا ملک فی الحال عصمت دری کے معاملے میں چوتھے نمبر پر ہے  لیکن اس جانب توجہ نہیں دی گئی تو بعید نہیں کہ لوگ اپنی سیاست چمکانے کے لیے برقعہ پر پابندی لگانے کے مطالبہ میں مصروف رہیں اور  آبرو ریزی میں ملک پہلے نمبر پہنچ جائے۔

وطن عزیز میں بے دریغ لفظ ’  ماتا‘  کا استعمال   ہوتا ہے۔  کوئی  ’ بھارت ماتا کی جئے کا نعرہ لگاتےنہیں تھکتا کسی کو،  گائے  میں  ماتا نظر آتی ہے۔ سنتوشی ماتا کی آرتی اتارنے والوں کی بھی کمی نہیں ہے  لیکن یہاں اصلی  ماں، بہن اور بیٹی کی عزت محفوظ نہیں ہے۔  ایک حالیہ  رپورٹ کے مطابق ہندوستان کے اندر ہر۲۰ منٹ میں ایک عصمت دری کا معاملہ درج  ہوتا ہے۔  روزانہ ۹۳عورتوں کی آبرو ریزی کی  جاتی ہے۔ اس معاملے میں نہایت افسوسناک پہلو  یہ ہے کہ اس  گھناونی حرکت کا ارتکاب کرنے والے  ۹۴فیصدلوگ اجنبی نہیں بلکہ شناسا ہوتے ہیں۔  کچھ لوگ یہ سمجھتے ہیں تعلیم و ترقی سے صورتحال کو بدلا جاسکتا ہے لیکن انہیں پتہ ہونا چاہیے کہ ’می ٹو‘ تحریک چلانے والی اپنے اور ہونے والے مظالم کا بیان کرنے والی پڑھی لکھی روشن خیال خواتین تھیں اور ان کو اپنی ہوس کا شکار بنانے والے بھی مغربی تہذیب یافتہ نام نہاد مہذب طبقہ تھا۔   ۲۰۱۳کے اعداد و شمار سے پتہ چلا کہ ملک کے دارالخلافہ  دہلی میں عورتوں پر جنسی حملہ سب سے زیادہ ہواتھا۔ دہلی کے بعد دوسرے نمبر پر معاشی راجدھانی ممبئی تھی ۔  اس کے بعد  گلابی شہرجئے پور اور پھر مہاراشٹر ثقافتی راجدھانی  پونے نے جگہ پائی تھی۔ان  اعدادوشمار کی بابت اس شعبے کی ماہر  ماہر مدیہہ کارک کا خیال ہے کہ  صرف ۴۶ فیصد جنسی معاملات  کی شکایت پولیس میں کی جاتی ہے جب کہ ایک مہر سریواستو تو کہتے ہیں  کہ جنسی زیادتی کے ۹۰ فیصد  شکایتیں پولیس تک نہیں پہنچ پاتیں۔

تھومسن رائیٹر فاونڈیشن نامی عالمی ادارے میں خواتین کے تحفظ کی خاطر کام کرنے والے دنیا بھر کے ۵۵۰ ماہرین سے رابطہ کرکے ایک تفصیلی جائزہ پیش کیا۔  اس کے مطابق خواتین عدم تحفظ کے معاملے ہندوستان پہلے نمبر پر پہنچ چکا ہے اور اس کی حالت خانہ جنگی کا شکار افغانستان اور شام سے بھی بدتر ہو گئی ہے۔ ہندوستان کے بعد اس فہرست میں صومالیہ اور سعودی نمبر کا نمبر آتا ہے۔  حیرت کی بات یہ کہ دنیا کی عظیم ترین جمہوریت امریکہ بھی اس معاملے میں  سعودی عرب   کے ہم پلہ ہے یعنی تیسرے مقام پر کے ایس اے کے ساتھ یو ایس اے ہے۔ وہ روشن خیال دانشور جو خواتین کی فلاح و بہبود  کے معاملے میں  مغرب امریکہ  اپنا قبلہ و کعبہ سمجھتے ہیں ان کے لیے امریکہ سے ایک بہت بری خبر آئی ہے۔ ابھی حال میں یہ انکشاف ہوا ہے کہ امریکی     فوج کے اندر خواتین اہلکاروں پر جنسی حملوں میں بڑے پیمانے پر اضافہ ہوا ہے۔ان حملوں کا شکار ہونے والیوں کی ۱۷ تا ۲۴  سال  کی نئی بھرتی ہونے والی خواتین ہوتی  ہیں۔  ۲۰۱۸ ؁ میں کی جانے والی ایک تحقیق کے مطابق ایک سال میں جنسی ہراسانی کے بیس ہزار پانچ سو واقعات درج کیے گئے جبکہ ۲۰۱۶ ؁  میں یہ تعداد  ۱۴ ہزار نو سو تھی۔ جبری جنسی دست درازی سے لے کر عصمت دری تک کے واقعات میں گویا دو سالوں کے اندر ۳۸ فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔

معاشرےمیں سب سے زیادہ  طاقت  فوج کے پاس ہوتی۔  اس کی کئی وجوہات ہیں اول تو اس کے پاس اسلحہ ہوتا ہے دوسرے نظم و ضبط ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ عوام اور حکومت کی سرپرستی حاصل ہوتی ہے۔  اب اگر اس ادارے میں خواتین کا استحصال ہوتا ہو  تو دیگر مقامات کا اللہ ہی  حافظ ہے۔  ان  واقعات کی شکایت کرانے کے  معاملے میں بھی امریکہ کی حالت بہت اچھی نہیں ہے یعنی  ہر تین میں سے صرف ایک کیس اعلی حکام تک پہنچایا  جاتا ہے دو تہائی خواتین اس کو خاموشی سے سہہ لیتی ہیں۔ یہ نہ تو خیالی پلاو ہے اور بدنام کرنے کی کوئی سازش بلکہ اس  رپورٹ کو تیار کرنے کے لیے  ایک لاکھ اہلکاروں سے رابطہ کیا گیا  اس لیے محققین اس  سروے پر ۹۵  فیصد تک قابلِ اعتبار سمجھتےہیں  خواتین کی جنسی ہراسانی کے معاملے میں   اس سے قبل ۲۰۱۱؁ میں اس طرح کا جائزہ لیا گیا تھا۔ اس وقت  ہندوستان کی حالت افغانستان،  کانگواور پاکستان سے بہتر تھی جبکہ صومالیہ پانچویں نمبر  پرتھا لیکن  بعد کے سات سالوں میں ہمارے یہاں خواتین کی حالت بدترین  ہو گئی اورہندوستان  خواتین کے تحفظ کے حوالے سے خطرناک ترین ملک  قرار دیا گیا۔ اس کی ۳   بنیادی وجوہات بتائی گئیں۔ اول تہذیبی،  قبائلی اور روایتی  بنیادوں پر جنسی تشدد،  دوسرے خواتین کی بردہ فروشی اور جنسی غلامی  نیز گھریلو تشدد کے معاملات۔    امید ہے قومی انتخابات سے فارغ ہوجانے کے بعد لوگ  ان  امور کی جانب  بھی توجہ فرمائیں  گے  اس لیے کہ یہ کمل کے کھلنے اور ہاتھ کے ہلنے سے زیادہ اہم  ہے ۔

مزید دکھائیں

سلیم خان

ڈاکٹر سلیم خان معروف کالم نگار اور صحافی ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close