عصری تعلیم سے وابستہ افراد کے لئے علم دین کیوں ضروری ہے ؟

ڈاکٹر محمد واسع ظفر

یوں تو علم دین ہر مسلمان کے لئے بلکہ ہر انسان کے لئے ضروری ہے کیوں کہ عقائد و اعمال کی درستگی کا انحصار علم کے اوپر ہے جس پر دنیا و آخرت کی حتمی کامیابی کا دارومدار ہے لیکن کئی وجوہات کی بنا پر راقم کا خیال یہ ہے کہ عصری تعلیم سے وابستہ افراد کے لئے علم دین کی فکر کرنازیادہ ضروری ہے۔ اس کی سب سے پہلی وجہ یہ ہے کہ عصر تعلیمی اداروں میں جس فلسفہ حیات کی تعلیم و تبلیغ کی جارہی ہے وہ اس کی بنیاد ہی مادیت پرستی (Materialism) ، عقل پرستی (Rationalism) ،آزاد خیالی (Heterodoxy/Nonconformism)، نفس پرستی (Epicurism)، مذہب بیزاری (Irreligiousness)اور اللہ اور اس کے رسولوں کے احکامات سے بغاوت پر ہے جس کا مقابلہ کرنے اور دین پر جمے رہنے کے لئے علم دین کا ہونااشد ضروری ہے۔بصورت دیگر مغربی تہذیب(Western Culture) اور طرز معاشرت سے مرعوبیت اور اپنے مذہبی و تہذیبی ورثے کے تئیں احساس کمتری کا شکار ہوجانا ، دل و دماغ سے دین کی عظمت کافرو ہوجانااور اسلام کے بنیادی عقائد اور بہت سے احکام کے سلسلہ میں شکوک و شبہات اور تذبذب کا شکار ہوجانا، عصری تعلیم کے لازمی ثمرات میں سے ہے۔علاوہ از یں عصری تعلیم کا حتمی مقصد چونکہ اقتصادی ترقی، آشائش بخش زندگی کا حصول اور عیش کوشی ہی بن کر رہ گیا ہے اس لئے عصری تعلیمی اداروں کے فارغین کے اندر مال و دولت کی حرص و ہوس کا پیدا ہوجانا اور اس کے نتیجہ میں حلال وحرام کی تمیز کا کھودیناعام طور پرمشاہدہ میں ہے جس کی وجہ سے انسانی قدریں بھی پامال ہورہی ہیں ۔اور عصری علوم کے لئے اگر کانونٹ (Convent)اور مشنری (Missionary) کے اداروں کا سہارا لیا گیا تو معاملہ کفر و الحاد تک بھی پہنچ جائے تو کچھ مستبعد نہیں۔

ان باتوں کا مطلب قطعی طور پر یہ نہیں ہے کہ عصری علوم کے اندر یہ خرابیاں ذاتی و خلقی طور پر (inherently)موجود ہیں بلکہ ان میں بہت سے ایسے علوم ہیں جو انسانیت کے لئے بہت ہی نفع بخش ہیں لیکن انہیں چونکہ مغربی افکار اور مغربی تہذیب کے قالب میں ڈھال کر پیش کیا جاتا ہے اس لئے مذکورہ نتائج سامنے آجاتے ہیں ۔ یہ اسلام ہی ہے جوایک انسان کو مادیت پرستی اور الحاد سے ہٹاکر خدا پرستی کی طرف لیجاتا ہے، عقل کو وحی الٰہی کے تابع کرنا اور نفس کی بندگی چھوڑ کر اللہ کی بندگی کرنا سکھاتا ہے اور اسے اللہ اور اس کے رسول کے احکامات کا پابند بناتا ہے۔لیکن یہ سب تب ہی ممکن ہے جب اسے اسلامی تعلیمات سے نہ صرف یہ کہ روسناش کرایا جائے بلکہ اس کی تعلیم و تربیت اسلامی اقدار کے مطابق کی جائے۔

ہمارے معاشرہ میں تو ایک عجیب چلن ہوگیا ہے کہ بچہ تین سال کا ہوا نہیں کہ اسے کسی کانونٹ یا مشنری اسکول میں ڈال دیتے ہیں جہاں وہ اپنے دینی و ثقافتی ورثہ سے بالکل کٹ جاتا ہے اور خالی ذہن پر مغربیت اور کفریہ افکار بہ آسانی نقش کردئے جاتے ہیں جس کے نتیجہ میں رسول پاک ﷺ کا ایک امتی جس کی صلاحیتوں کا استعمال دین کا دفاع کرنے اوراسلامی اقدار کی احیاء و بقاء کے لئے ہونا چاہیے تھا، اپنی صلاحیتوں کا استعمال دینی و شرعی اقدار کوتنقید کا نشانہ بنانے کے لئے کرتا ہے ، علماء کو تاریک خیال اور خود کو روشن خیال تصور کرتا ہے اور دشمنان دین کو تالیاں پیٹنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ اس طرح دنیا بنانے کی فکر میں والدین خود ہی اپنے بچے کی آخرت کو داؤ پر لگادیتے ہیں ۔جو لوگ دیندار تصور کئے جاتے ہیں وہ بھی اپنے بچوں کے لئے قرآن کی ناظرہ خوانی اور چند دعاؤں کو حفظ کرادینے سے زیادہ کی فکر نہیں کرتے جس سے ان کے عقائد و افکار پر کوئی معنی خیزفرق نہیں پڑتا جب کہ ہونا یہ چاہیے تھا کہ ان کے دل و دماغ میں اسلامی عقائد کو راسخ کیا جاتا، دین کی عظمت ان کے دلوں میں بٹھائی جاتی،اسلام کی بنیادی تعلیمات سے اسے روسناش کیا جاتا اور ان کے اندر داعیانہ صفات پیدا کی جاتی تاکہ زمانہ کی تیز و تند ہواؤں کا وہ مقابلہ کرسکتے لیکن افسوس صد افسوس کہ ایسا ہوتانہیں ہے۔

عصری تعلیم سے وابستہ مسلمانوں کے لئے علم دین کی ایک گونہ زیادہ فکر کرنے کی دوسری وجہ یہ ہے کہ ان کا اختلاط زمانہ طالب علمی سے لیکر عملی زندگی تک مختلف شعبہ حیات میں غیروں سے ہوتا ہے۔مدرسوں کے فارغین کا واسطہ غیروں سے نہیں کے برابر پڑتا ہے کیوں کہ عام طور پر وہ لوگ مکاتب ، مدارس،مساجداور خانقاہوں تک ہی محدود رہتے ہیں ، اس لئے ان کی زندگی میں جو دین ہے وہ غیروں کے سامنے نہیں جاتا۔اس کے برعکس عصری اداروں کے فارغین کی پوری زندگی غیروں کے نگاہ میں ہوتی ہے اور اسلام کے بارے میں جو تصور وہ قائم کرتے ہیں وہ عصری تعلیم کے حامل مسلمانوں کی زندگی کو دیکھ کر ہی کرتے ہیں اور چونکہ ان کی زندگی میں دین نہیں ہوتااس لئے وہ لوگ اسلام سے متاثر تو کیا ہوتے الٹا بدظن ہوجاتے ہیں ۔تجربہ اور مشاہدہ میں یہ بھی ہے کہ اگر کسی غیر مسلم نے کبھی کوئی سوال اسلام کے بارے میں اپنے مسلمان ساتھی سے کردیا تو اس بیچارے کے پاس اتنا علم بھی نہیں ہوتا کہ اس کا تشفی بخش جواب دے سکے، اس لئے یا تو وہ خاموش رہ جاتا ہے یا الٹی سیدھی باتیں بناکر اسے مزید بدظن کردیتا ہے۔ اس طرح غیروں کے نزدیک اسلام کا غلط تصور قائم کرنے کے ذمہ دار عام طور پر عصری اداروں کے فارغ مسلمان ہی ہوتے ہیں نہ کہ مدرسوں کے فارغ علماء الّا یہ کہ ان کے بیانات  یا ان کی کارکردگی میڈیا کے ذریعہ غیرمسلموں تک پہنچیں ۔اس لئے بھی بہت ضرورت اس بات کی ہے کہ عصری تعلیم سے وابستہ مسلم نوجوانوں کے لئے علم دین کی زیادہ سے زیادہ فکر کی جائے۔

تیسرا سبب جس کی وجہ سے عصری تعلیم سے وابستہ مسلمانوں کے لئے علم دین کی زیادہ فکر کرنے کا داعیہ پیدا ہوتا ہے یہ ہے کہ ایک عام تاثر یہ پایا جاتا ہے کہ آج کے دور میں تمام شعبہ حیات میں مکمل اسلامی اقدار کے ساتھ زندگی گزارنامشکل ہی نہیں تقریباً ناممکن ہے۔اس کا مطلب یہ ہوا کہ اسلام ایک فرسودہ نظام حیات ہے جو اس دور کے لئے پریکٹیکل اور موزوں نہیں ۔اس طرح کی باتیں صرف غیر مسلم ہی نہیں کہتے بلکہ ایمان کی کمزوری اور اپنی تہذیب کے تئیں احساس کمتری کے شکار کچھ مسلمان بھی کہتے سنے جاتے ہیں جبکہ یہ سراسر غلط ہے۔اسلام ایک آفاقی نظام حیات ہے اور اللہ رب العزت نے اس کی تکمیل کرکے اور انبیاء کا سلسلہ موقوف کرکے تمام عالم کے انسانوں کو یہ پیغام دے دیا ہے کہ یہی وہ نظام حیات ہے جو رہتی دنیا تک کے لئے موزوں اور کارآمد ہے اورتم سب کی دنیا و آخرت کی کامیابی اسی نظام سے وابستہ ہے۔

اس میں کچھ شک نہیں کہ دنیا کے اندر عدل و انصاف اور امن و سکون صرف اور صرف اسلام ہی لاسکتا ہے اور اسلام ہی انسانیت کے جملہ مسائل کا حل دے سکتا ہے شرط یہ ہے کہ اسلام اپنی پوری اسپرٹ کے ساتھ ہم سب کی زندگیوں میں موجود ہو، صرف دعوائے مسلمانی نہ ہو۔یہ بات تو تجربہ سے بھی ثابت ہوچکی ہے کہ اسلام کے مقابلہ میں جتنے بھی فلسفہ حیات پیش کئے گئے سب کے سب سیاسی ، سماجی اور اقتصادی محاذ پر بالکل ناکام ثابت ہوئے۔لیکن ہماری بدقسمتی بھی یہ ہے کہ موجودہ دور میں ہم کوئی خطہ ارض نمونہ کے طور پر پیش نہیں کرسکتے جہاں اسلامی نظام پورے طور پر نافذ ہو۔اس لئے اغیار کو یہ کہنے کا موقعہ ملتا ہے کہ اسلامی معاشرت اور اسلامی اقدار کی باتیں محض کتابی باتیں ہیں جس کا حقیقت سے دور کا تعلق نہیں ؟ اس لئے دور حاضر کے مسلمانوں کے لئے یہ ایک چیلنج ہے کہ وہ عملاً اس بات کو ثابت کریں کہ اسلام ایک پریکٹیکل مذہب ہے، اس دور میں بھی اس کی تعلیمات پر چلنا ممکن ہے اورآج بھی اس کی اتنی ہی معنویت(relevance) ہے جتنی کہ رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرام ؓ کے زمانہ میں تھی۔اس کے لئے یہ ضروری ہے کہ ہر مسلمان خواہ وہ جس شعبہ میں ہو خود کو اس شعبہ میں رسول اللہ ﷺ کے دین کا ایک نمائندہ تصور کرے اور اول درجہ میں اپنی زندگی میں اسلام کو نافذ کرکے دوسروں کے لئے عملی نمونہ بنے تاکہ دنیا والے یہ دیکھیں کہ ایک ایمان والا ڈاکٹر، انجینئر،پروفیسر، ایڈووکیٹ،تاجر، منتظم اور سماجی کارکن وغیرہ کیسا ہوتا ہے؟ آج تو غیروں کی طرز زندگی اور ہماری طرز زندگی میں کوئی فرق ہی نہیں ، سود اگر ایک غیرمسلم کھارہا ہے تو ایک مسلمان بھی، رشوت اگر ایک غیر مسلم لے رہا ہے تو ایک مسلمان بھی لے رہا ہے ، دھوکہ دھڑی اگر ایک غیر مسلم کررہا ہے تو ایک مسلمان بھی توپھر کوئی اسلام یا مسلمانوں سے کیوں کر متاثر ہو۔ظاہر ہے کہ ان مختلف شعبہ حیات میں عملی نمونہ عصری علوم کے حاملین ہی بن سکتے ہیں مدرسوں کے فارغین نہیں ،الاماشاء اللہ ا ور یہ تب تک ممکن نہیں جب تک لوگ علم دین حاصل نہ کریں اور ان کی تربیت اسلامی ماحول میں اسلامی خطوط پر نہ ہو۔

مذکورہ وجوہات کا جائزہ لینے کے بعد ایک ہوشمند مسلمان یہ سمجھ سکتا ہے عصری تعلیم سے وابستہ افراد کی اسلام سے عدم واقفیت، بے علمی اور بد عملی کے نتائج کتنے سنگین نوعیت کے ہیں اور انسانی معاشرے پر اس کے کیا اثرات مرتب ہورہے ہیں ؟لیکن ایک عجیب بات یہ ہے کہ اس کی طرف نہ کسی نام نہاددانشور کا خیال جاتا ہے نہ کسی تاریک خیال تصور کئے جانے والے مولوی صاحب کا، الاماشاء اللہ بلکہ جسے دیکھو مدرسوں کے نصاب تعلیم کی اصلاح اور اسے عصری تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کی فکر میں پڑا ہے۔کسی دانشور کی زبان سے حرف غلط کی طرح بھی یہ نہیں نکلتا کہ عصری تعلیمی اداروں میں دین اور دینی تعلیم کو داخل کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کی وجہ صرف یہی ہے کہ ہم نے دنیا کی محدود زندگی کو ہی سب کچھ سمجھ رکھا ہے اور آخرت کی لامحدود زندگی کو بالکل بھلارکھا ہے جب کہ دنیوی زندگی کی اہمیت صرف اس لئے ہے کہ اس میں آخرت کی تیاری کرنے کا موقعہ فراہم کیا گیا ہے اور عقلمند انسان وہ ہے جو اس موقعہ کا صحیح استعمال کرلے۔یہاں یہ واضح کردینا بھی مناسب معلوم ہوتا کہ بندہ مدارس کے نصاب تعلیم اور طرز تعلیم میں اصلاح اور اسے عصری تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کی فکر کا مخالف نہیں ہے بلکہ صرف اس بات کا داعی ہے کہ جس درجہ میں اس کی ضرورت ہے اس سے کہیں زیادہ ضرورت عصری اداروں کو اسلامائز(Islamize)  کرنے کی ہے۔

اس لئے بندہ عاجز کی عصری علوم کے حاملین اور کالج و یونیورسٹی کی تعلیم سے وابستہ افرادسے خصوصاً اپیل ہے کہ وہ اس مسئلہ کو سنجیدگی سے لیں اور اپنی تمام مشغولیوں کے ساتھ علم دین کے حصول کی بھی فکر کریں ۔خود بھی دین پر گامزن ہوں اور اپنے اہل و عیال کی تربیت بھی اسلامی انداز میں کریں تاکہ دنیا کے ساتھ ان کی آخرت بھی سنور جائے اور لوگوں کے لئے ان کی زندگی ایک عملی نمونہ ہو۔وہ اپنے کردار وعمل سے بھی اور زبان و قلم سے بھی اسلام اور اسلامی تہذیب کی سر بلندی کا ذریعہ بنیں نہ کہ ان کی رسوائی کا۔شاعر مشرق علامہ اقبالؒ نے کیا خوب کہا  ہے:

مری زندگی کا مقصد تیرے دیں کی سرفرازی

میں اسی لئے مسلماں ، میں اسی لئے نمازی

علماء اور مبلغین حضرات کو بھی چاہیے کہ عصری تعلیم سے وابستہ افراد کی دینی بیداری اور اصلاح کی خصوصی فکر کریں ۔ عصری تعلیمی اداروں سے اپنا ربط بڑھائیں اور وہاں طلباء اور اساتذہ کے لئے اسلامی معلومات پر مبنی قلیل مدتی کورسز (Short Term Courses)  کا وقتاً فوقتاً انعقاد کریں تاکہ اسلام کی صحیح جانکاری ان تک پہنچ سکے اور اسلام سے ان کا لگاؤ بھی بڑھے۔ اس کے علاوہ اسلامی موضوعات پر مضمون نگاری، تقاریر،مباحثہ، کوئز وغیرہ کا انعقاد بھی کیا جاسکتا ہے اور انعامات کے ذریعہ شرکاء کی حوصلہ افزائی بھی کی جاسکتی ہے۔ بڑے مدارس کے ذمہ داران اگر چاہیں تو اس طرح  کے پروگرام منظم ڈھنگ سے چلاسکتے ہیں جس کے دور رس نتائج ہوسکتے ہیں ۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ ہم سب کو دین کی صحیح فکر نصیب کرے اور ان باتوں پر عمل کی توفیق عطا فرمائے۔آمین!



⋆ ڈاکٹرمحمد واسع ظفر

ڈاکٹرمحمد واسع ظفر
مضمون نگار پٹنہ یونیورسٹی پٹنہ کے شعبہ تعلیم کے سابق صدر ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے