تعلیم و تربیتخصوصیملی مسائل

علمی اختلاف کی حقیقت: اسباب و آداب

مولانا ولی اللہ مجید قاسمی

 شکل و صورت، قد و قامت، زبان و بیان اور رنگ و نسل کے اختلاف کی طرح عقل و فکر او ر طبیعت و میلان کا اختلاف ایک حقیقت ہے، جس کی وجہ سے فقہی اور علمی احکام و مسائل میں اختلاف ایک فطری امر ہے، جسے نہ ختم کیا جاسکتا ہے اور نہ اس سے بچ کر رہا جاسکتا ہے۔

 یہ اختلاف کسی انسان کے باشعور اور دیانت دار ہونے کی دلیل ہے، مفتی محمد شفیع نے بجا طور پر لکھاہے کہ :

’’اگر کسی کے دل میں یہ خواہش ہو کہ نظریات کے اختلاف مٹ جائیں تو یہ تمنا کبھی پوری نہیں ہوسکتی ہے، وجہ اس کی یہ ہے کہ نظریاتی اختلاف کا مٹ جانا دو ہی صورتوں میں ممکن ہے یا تو سب بے عقل ہوجائیں یا بددیانت ‘‘۔(رسالہ وحدت امت)

 اگر عقل اور سوچنے سمجھنے کی صلاحیت موجود نہ ہوتو کسی نے کوئی بات کہہ دی تو دوسرا اس کی تائید اور تصدیق کے سوا اور کیا کرسکتا ہے، یا عقل ہے مگر بد دیانت ہے، اس لیے اختلاف کے باوجود حق گوئی کی جرأت نہیں کرتا ہے، اگر عقل اور دیانت دونوں ہوں تو پھر اختلاف ناگزیر ہے۔

 یہی وجہ ہے کہ نبیوں جیسی پاکباز اور معصوم ہستیوں کے درمیان بھی اختلاف ہوا ہے، حضرت دائودؑ اور سلیمانؑ کے درمیان ایک فیصلے میں اختلاف کو خود قرآن حکیم میں بڑے اہتمام سے بیان فرمایا گیاہے، نبیوں اور رسولوں کے بعد سب سے زیادہ پاکیزہ گروہ صحابہ کرام کی جماعت ہے، ان میں بھی بے شمار مسائل میں باہم اختلاف رہا ہے، یہی حال تابعین عظام اور ائمہ کرام کا بھی ہے، جو کتاب وسنت سے خوب واقف، انتہائی مخلص اور خواہش نفس سے کوسوں دور تھے، اس سلسلے میں اہمیت اس کی ہے کہ اختلاف دلوں میں نفرت اور کدورت کا سبب نہ بنے بلکہ الفت ومحبت اور یگانگت برقرار رہے، جیساکہ صحابہ کرام کاحال تھا کہ وہ اختلاف کے باوجو د شیر وشکر ہوکر رہتے، کسی کی نیت پر حملہ نہ کیاجائے او ر اس کی وجہ سے کسی کے احترام میں کمی اور عزت نفس پر آنچ نہ آنے دی جائے، یہ یقین رکھا جائے کہ ہر ایک مقصد میں متحد ہے اور وہ ہے اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کی کوشش اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت اور اتباع کا جذبہ۔

 اس معاملے میں جو چیز ممنوع اور قبیح ہے وہ اختلاف کو فرقہ بندی اور دشمنی کا ذریعہ بنالینا اور اس کی وجہ سے ایک دوسرے کی عزت و آبروکو حلال سمجھ لینا، اس کی برائیوں اور لغزشوں کو تلاش کرنا اور پھیلانا، بدگمانی اور بد زبانی کرنا، حالانکہ یہ اختلاف زیادہ تر فروعی مسائل میں ہیں جن میں سے ایک سے زیادہ نقطہ نظر کی گنجائش ہے، او ر اس کے برخلاف مسلمانوں سے الفت ومحبت کرنا اور ان کے احترام و اکرام کا لحاظ رکھنا اور ایک دوسرے سے بغض و عداوت اور حسد کاحرام ہونا، بدگمانی اور بد گوئی سے بچنا، غیبت،الزام تراشی اور عیب جوئی سے پرہیز کرنا قطعی اور یقینی دلیل سے ثابت ہے جس سے اختلاف کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔

فقہی اختلاف کی حقیقت :

 مسائل واحکام میں اختلاف کے بارے میں بعض لوگ یہ تاثر دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ یہ کتاب وسنت کے مقابلے میں شخصی رایوں اور ذاتی رجحانات کانتیجہ ہیں، اس لیے انہیں چھوڑ کرکتاب وسنت کی طرف رجوع کرنا چاہیے اور ایساکرنے سے اختلافات مٹ جائیں گے لیکن واقعہ یہ ہے کہ اس طرح کا دعویٰ کرنے والوں کے درمیان بھی سیکڑوں مسائل میں اختلاف ہیں۔

 اس لیے کہ ائمہ کے درمیان اختلاف، کتاب و سنت میں اجتہاد کانتیجہ ہے اور جب بھی اجتہاد کی نوبت آئے گی تو عقل وفہم میں تفاوت کی وجہ سے اختلاف ضرور پیداہوگا، جس کی تفصیل یہ ہے کہ شریعت کی بنیادی دلیلیں چار ہیں : کتاب و سنت، اجماع اور قیاس، ثبوت کے اعتبار سے قرآن کریم کی تمام آیتیں قطعی او ر یقینی ہیں، لیکن تمام حدیثوں اور اجماعی مسائل کو یہ حیثیت حاصل نہیں ہے، ان میں سے بعض قطعی ہوتی ہیں، جیسے حدیث متواتر اور قطعی ذریعے سے حاصل شدہ اجماع اور بعض روایتیں ظنی ہوتی ہیں، یعنی ان کی صحت قطعی اور یقینی نہیں ہوتی ہے بلکہ ان کی صحت و ضعف کاحکم اجتہادی ہوتا ہے جس کی وجہ سے ایک حدیث کسی محدث کی نظرمیں صحیح ہوتی ہے، مگر دوسرے کے یہاں ضعیف مانی جاتی ہے، جیسے کہ امام مسلم روایت کی بعض شکلوں میں ثبوت کے لیے راوی اور اس کے استاذکا ہم عصر ہونا کافی قرار دیتے ہیں، دونوں کی ملاقات کے ثبوت کامہیا ہونا ضروری نہیں ہے، اس کے برخلاف امام بخاری وغیرہ ثبوت ملاقات کوضروری قرار دیتے ہیں، اس شرط کے نتیجے میں سیکڑوں ایسی حدیثیں ہیں جو دونوں کے درمیان اختلافی بن گئیں، زیادہ تر حدیثوں کا تعلق اسی دوسری قسم سے ہے، متواترروایتوں کی تعداد بہت محدود ہے، اسی طرح سے قیاس اور اجماع کی بعض قسمیں بھی ظنی ہیں۔

 مفہوم کے اعتبار سے آیتیں اور روایتیں دونوں طرح کی ہیں، بعض اپنے معنی اور مفہوم پر اس طرح سے دلالت کرتے ہیں کہ اس میں دوسرے مفہوم کی گنجائش نہیں رہتی ہے اور بعض میں ایک سے زائد مفہوم کا احتمال رہتا ہے اور اسی کی بنیاد پر اختلاف پیدا ہوتا ہے، جیسے کہ بنوقریظہ سے متعلق واضح اور صریح ترین فرمان نبوی کوسمجھنے میں صحابہ کرام کے درمیان اختلاف ہوا لیکن آ پ ﷺ نے کسی پرنکیرنہیں فرمائی، اس طرح کی جگہوں میں فقہاء مجتہدین نے پوری دیانت داری اور اخلاص کے ساتھ حقیقت تک پہنچنے کی کوشش کی مگر فکر وفہم اور مزاج و مذاق میں فرق کی وجہ سے اس کے نتائج میں اختلاف ہوا۔

اسبابِ اختلاف :

 بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ صحیح حدیثوں پر عمل کرکے اختلاف کوختم کیاجاسکتا ہے، لیکن حقیقت کی دنیا سے اس کی تائیدنہیں ہوتی ہے، اس لیے کہ حدیثوں کی صحت اور صحیح حدیثوں کی شرطوں کے سلسلے میں خود محدثین کے درمیان اختلاف ہے، اسی طرح سے حدیث کے راویوں کو ضعیف اور قابل اعتماد قرار دینے میں بھی سب متحد نہیں ہیں، جیسے کہ رکوع میں قرآن مجید پڑھنے کی ممانعت سے متعلق حدیث امام مسلم کے نزدیک صحیح ہے لیکن امام بخاری کی نگا ہ میں غیرمعتبر ہے ا س لیے وہ رکوع میں قرآن حکیم پڑھنے کو جائز سمجھتے ہیں۔

 نیز اختلاف کی وجہ صرف بعض حدیث کا ثبوت اور عدم ثبوت نہیں ہے بلکہ اس کے متعدد اسباب ہیں، مثلاً اس میں ایک سے زائد مفہوم کی گنجائش ہے، جیسے ایک حدیث میں ہے کہ نماز کی ابتداء تکبیر سے ہے ’’تحریمہا التکبیر‘‘ کیا اس میں تکبیر سے مرادلفظ اللہ اکبر کہنا ہے یا مقصد اللہ تعالیٰ کی کبریائی او رعظمت کا اعلان ہے، لہٰذا کوئی بھی تعظیمی کلمہ کافی ہے، ظاہر ہے کہ اس میں دونوں معنوں کی گنجائش ہے، اسی طرح سے ایک روایت میں ہے کہ بیچنے والے اور خریدار میں سے ہر ایک کو بیع کے ختم کردینے کااختیار ہے، جب تک کہ دونوں الگ نہ ہوجائیں، ’’البیعان بالخیار مالم یتفرقا‘‘کیا اس حدیث میں الگ ہونے سے مراد جسمانی اعتبار سے الگ ہونا اور مجلس بیع سے ہٹ جانا ہے یا قولی اعتبار سے دونوں کاالگ اور غیر متحد ہونا ہے، امام مالک جیسے محدث اور فقیہ نے اسی دوسرے مفہوم کو اختیارکیا ہے اور یہی رائے امام ابوحنیفہ کی بھی ہے، اس کے برخلاف امام شافعی اور احمد بن حنبل نے پہلے مفہوم کو ترجیح دی ہے لیکن جب ان کے سامنے محدث ابن ابی ذئب نے سخت الفاظ میں امام مالک پر نکیر کی تو انہوں نے کہاکہ امام مالک نے حدیث رد نہیں کی ہے بلکہ اس کی تاویل کی ہے (طبقات الحنابلہ:۱/۲۵۱) او ر تاویل و تردید کے درمیان وہی فرق ہے جو زمین و آسمان میں ہے اور اسی فرق کو نظرانداز کردینے کی وجہ سے حدیث کے انکار کا الزام لگادیاجاتا ہے۔

 اسی طرح سے کبھی ایک مسئلے سے متعلق صحیح حدیثیں موجود ہوتی ہیں، مگر ان کے مفہوم میں باہم تعارض ہوتا ہے، ایسی صورت میں یہ معلوم کرنے کی ضرورت ہوتی ہے کہ کون سا حکم پہلے کا ہے او ر کون بعد کا ہے یا اس کا محل اورمو قع کیا ہے ؟ ان میں جمع اور ترجیح کے بارے میں اختلاف ہوتا ہے جیسے کہ حالت احرام میں نکاح کا مسئلہ ہے، حضرت عثمان غنیؓ سے منقول روایت کے مطابق حالت احرام میں نکاح ممنوع ہے، اس کے برخلاف حضرت ابن عباسؓ سے مروی روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت میمونہؓ سے حالت احرام میں نکاح کیا، دونوں طرح کی حدیثیں صحیح بخاری و مسلم میں مذکور ہیں۔ (دیکھیے بلوغ المرام:۳۰۸)

 کبھی ایسا ہوتا ہے کہ صحیح حدیث، قرآنی آیت یا مسلم معاشرے میں تواتر کے ساتھ جو سنت منقول ہے اس کے برخلاف ہوتی ہے اور ظاہر ہے کہ حدیث کے مقابلے میں قرآنی آیت یا سنت کو فوقیت حاصل ہوگی، اس لیے حدیث میں تاویل وغیرہ کا راستہ اختیار کیا جاتا ہے، جیسے کہ حضرت فاطمہ بنت قیس کہتی ہیں کہ میرے شوہر نے مجھے تین طلاق دے دی اور رسول اللہ ﷺ نے میرے لیے ان کی طرف سے رہنے اور نفقے کا کوئی نظم نہیں فرمایا لیکن جب حضرت عمرؓ سے یہ روایت نقل کی گئی تو انہوں نے فرمایا کہ ہم اللہ کی کتاب یا نبی کریم ﷺ کی سنت کو ایک عورت کے کہنے کی وجہ سے نہیں چھوڑ سکتے، ہمیں معلوم نہیں ہے کہ شاید اس نے یاد رکھا یا بھول گئی، (رواہ مسلم نیل الاوطار: ۲/۱۴۴۶) اسی طرح سے حضرت عائشہ صدیقہؓ نے ان پر شدید نکیر فرمائی  اور ان کے واقعے کا ایک خاص پس منظر بیان فرمایا، (صحیح بخاری وغیرہ نیل الاوطار:۲/۱۴۴۵)اسی طرح سے امام مالک نے نماز میں ہاتھ باندھنے سے متعلق روایت کو مؤطا میں جگہ دی ہے، لیکن ان کا عمل اس کے برخلاف ہے، کیونکہ مدینے میں جو سنت جاری تھی اس سے اس کی تائید نہیں ہوتی تھی اور مشہور محدث امام سفیان ثوری نے نماز میں سینے پر ہاتھ باندھنے، آمین آواز سے کہنے وغیرہ سے متعلق روایتیں بیان کی ہیں لیکن اس پر ان کا عمل نہیں تھا، کیونکہ یہ ایک دولوگوں سے منقول روایتیں ہیں جو اس سنت کے بر خلاف ہیں جو متعدد صحابہ کرامؓ کے ذریعے سے کوفے میں جاری تھی، غرضیکہ حدیث کی صحت پراتفاق کے باوجود اختلاف ہوسکتا ہے اور ہوا ہے، اس لیے کہ اختلاف کی وجہ محض حدیث کا ثبوت یا عدم ثبوت نہیں ہے بلکہ اس کے متعد د اسباب ہیں۔

اختلاف کے آداب :

 اختلاف کی نوعیت خواہ کیسی بھی ہو، اس میں سنجیدگی، متانت اور وقار کے دامن سے وابستہ رہنا ضروری ہے، لڑائی، جھگڑا، گالم و گلوج اور طعنہ زنی سے بچنا لازمی ہے، یہاں تک کہ کفر و شرک اور بدعت و ضلالت کے حامیوں سے اعلان برأت تو ضروری ہے لیکن ان کے ساتھ بحث و مباحثے میں تیز و تند او ر تکلیف دہ الفاظ کے استعمال سے پرہیز کرنا لازمی ہے، اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :

’’ اُدْعُ اِلٰی سَبِیْلِ رَبِّکَ بِالْحِکْمَۃِ وَالْمَوْعِظَۃِ الْحَسَنَۃِ وَجَادِلْھُمْ بِالَّتِیْ ھِیَ اَحْسَنُ ‘‘(سورۃ النحل:۱۲۵)

’’اپنے رب کے راستے کی طرف حکمت اور بہترین نصیحت کے ساتھ بلائو او ر لوگوں سے بہتر طریقے سے گفتگو کر و ‘‘۔

اس لیے کہ مقصد حق کی تفہیم اور تبلیغ ہے، جس کے لیے نر م خوئی اور دلسوزی، شفقت اور ہمدردی، خوبصورت انداز بیان اور مشفقانہ لب و لہجہ مطلوب اور مفید ہے، درشتی اور تلخی، بداخلاقی ا س راہ میں نہایت مضر اور بے نتیجہ ہے او ردلآزار اور جگرخراش باتوں کا الٹا اثر ہوتا

ہے، اللہ عز و جل نے فرعون جیسے سرکش او ر گمر اہ کے پاس حضرت موسیٰؑ اور حضرت ہارونؑ جیسے پیغمبر اور مصلح کو بھیجتے ہوئے حکم دیا :

’’فَقُوْلَالَہٗ قَوْلًا لَّیِّنًا لَّعَلَّہٗ یَتَذَکَّرُ اَوْیَخْشٰی‘‘(سورہ طہٰ:۴۴)

’’تم دونوں اس سے نر م لہجے میں گفتگو کرو، ہوسکتا ہے کہ وہ نصیحت قبول کرلے ‘‘۔

 فرعون کے متعلق اللہ تعالیٰ کو علم ہے کہ وہ راہ راست پرنہیں آسکتاہے، اس کے باوجود ایک معصوم نبی کو تلقین کی جارہی ہے کہ اس سے نرمی سے بات کر و، ظاہر ہے کہ ہم میں سے کوئی پیغمبر سے بڑھ کر ہمد ر د اور مصلح نہیں ہوسکتا ہے او ر نہ اسے معلوم ہے کہ ا س کا مخاطب بہر حال باطل پر قائم رہے گا، تو ایسی حالت میں سخت اور دل آزار گفتگو کی اجازت کیسے ہوسکتی ہے، حکمت اور مخاطب کی رعایت کرتے ہوئے ایک موقع پر قرآن حکیم میں کہا گیا ہے :

’’قُلْ مَنْ یَّرْزُقُکُمْ مِّنَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِط قُلِ اللّٰہُ لا وَاِنَّآ اَوْ اِیَّاکُمْ لَعَلٰی ھُدًی اَوْ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍO قُلْ لَّا تُسْئَلُوْنَ عَمَّآ اَجْرَمْنَا وَلَا نُسْئَلُ عَمَّا تَعْمَلُوْنَO‘‘(سورۃ السبا:۲۴-۲۵)

’’ان سے پوچھو کہ تمہیں آسمان اور زمین میں روزی کون دیتا ہے اور خود ہی جواب دو کہ اللہ تعالیٰ، اور کہہ دو کہ ہم یا تم یقینا ہدایت پر ہیں یا کھلی گمراہی میں، ان سے کہہ دو کہ ہمارے جرم کی بابت تم سے سوال نہیں کیاجائے گا اور نہ تمہارے اعمال کے بارے میں ہم سے پوچھا جائے گا ‘‘۔

 یہ بات یقینی اور قطعی ہے کہ کافر و مشرک کھلی ہوئی گمراہی میں مبتلا ہیں، لیکن اس کے باوجود و ٹوک لہجے میں یہ نہیں کہا گیا کہ تم گمراہ ہو بلکہ کہا گیا کہ ہم میں اور تم میں سے کوئی ایک یا تو ہدایت پر ہے یا گمراہ ہے، اسی طرح سے رسول اور ان کے پیروکاروں کے افعال کے متعلق جرم کا لفظ استعمال کیا گیا او رجو واقعی مجرم تھے ان کے لیے ’’عمل ‘‘ کا لفظ بولا گیا۔

اجتہادی مسائل اور فقہی و علمی اختلا ف میں یہ طریقہ ہونا چاہیے کہ اپنے مسلک کو چھوڑا نہ جائے اور دوسرے مسلک کو چھیڑا نہ جائے، نہ چھیڑنے کا مفہوم یہ نہیں ہے کہ علمی تنقید نہ کی جائے بلکہ علمی تنقید کا دروازہ ہمیشہ کھلا رکھنا چاہیے، البتہ اسے لڑائی جھگڑا او ر دلوں میں دور ی کا ذریعہ نہیں بنانا چاہیے، کشادہ دلی کے ساتھ اختلاف اور تنقید کو بر داشت کرنا چاہیے نیزکسی کو اپنے خیال اور رائے کا پابند نہیں بنانا چاہیے، یہ ایک بے جا اور غیر فطری خواہش ہے کہ تمام لوگ کسی ایک رائے پر جمع ہوجائیں، اپنے مسلک و مذہب کو دلائل کے ساتھ بیان کرنے میں اور اسے راجح قرار دینے میں کوئی حرج نہیں ہے لیکن اس کی طرف دعوت دینا غلط ہے، اس لیے دعوت دین کی طرف ہونی چاہیے نہ کہ مسلک و مذہب کی طرف۔

 حج کے موقع پر رسول اللہ ﷺچار رکعت والی نماز کو مسافر ہونے کی وجہ سے دورکعت پڑھا کرتے تھے، حضرت ابوبکر صدیقؓ و حضرت عمر فاروقؓ کا بھی یہی طریقہ تھا، خلافت کے بعد کچھ سالوں تک حضرت عثمان غنیؓ بھی اسی پر عامل رہے لیکن پھر انہوں نے چار رکعت پڑھنا شروع کردیا، صحابہ کرام میں سے بہت سے لوگوں نے اس سلسلے میں ان پر تنقید کی، جن میں سر فہرست حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کانام ہے، لیکن جب نماز شروع ہوئی تو وہ بھی شامل ہوگئے اور چا ر رکعت ادا کی، ان سے اس کی بابت سوال کیاگیا تو فرمایا الخلاف شر (لڑنا، جھگڑنا بری بات ہے)،( مصنف عبد الرزاق:۴۲۶۹) یعنی اختلاف او رتنقید اپنی جگہ لیکن اسے افتراق اور انتشار کا ذریعہ بنا لینا اور دوسروں پر اپنی رائے مسلط کرنا درست نہیں ہے۔

 حضرت عمر فاروقؓ کے پاس ایک صاحب مسئلہ دریافت کرنے کے لیے آئے، انہوں نے کہا کہ جائو علی اور زید سے پوچھ لو، وہ معلوم کرکے آئے اور حضرت عمرؓ کو اس کی اطلاع دی، انہوں نے کہا کہ اگر میں ہوتا تو اس کے برخلاف فیصلہ کر تا، سائل نے کہا کہ  آپ با اختیار ہیں، آپ کو ایسا کرنے سے کس نے روکا ہے ؟ انہوں نے کہا کہ اگر کتاب و سنت میں صراحتاً اس کا حکم مذکور ہوتا تو میں ضروراسی کے مطابق فیصلہ کرتا لیکن یہ صرف میری ایک رائے ہے اور رائے کے سلسلے میں ہم دونوں برابر ہیں، اس لیے کسی کو دوسرے کی رائے کا پابند نہیں بنایا جاسکتا۔ (دیکھیے اعلام الموقعین :۱/۵۴)

 اجتہادی مسائل میں کسی پر نکیر کرنا بھی درست نہیں ہے، کیونکہ اس طرح کی چیزو ں میں اختلاف، حق اور باطل کا اختلاف نہیں ہے بلکہ صواب اور غیر صواب کا اختلاف ہے اور نکیر کسی منکر پر کیاجاتا ہے اور یہ منکر نہیں بلکہ اس میں ہر فریق لائق اجر ہے، اللہ کے رسولؐ کا ارشاد ہے :

’’ اذا حکم الحاکم فاصاب فلہ اجران واذا حکم فاخطأ فلہ اجر واحد‘‘(بخاری و مسلم)

’’حاکم اپنے اجتہاد کے ذریعے درست فیصلہ کردے تو اسے دوہرا اجر ہے اور جب فیصلے میں چوک ہوجائے تو اکہرا ثواب ہے ‘‘۔

 اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اجتہاد ی مسائل میں غلطی ہوسکتی ہے اور غلطی ہونے کا مطلب ہے کہ اختلا ف ہوگا او ر غلطی کے باوجود اجر کا ثبوت اس اختلاف کے جائز ہونے کی دلیل ہے۔

 حضرت یحییٰ بن سعید کہتے ہیں کہ اہل فتویٰ کے درمیان ہمیشہ بعض چیزوں کے حلال و حرام ہونے میں اختلاف رہا ہے لیکن حلال یا حرام قرار دینے والوں میں سے کوئی ایک دوسرے کے متعلق یہ خیال نہیں کرتا کہ جسے وہ حلال یا حرام سمجھ رہا ہے دوسرا اس کے برخلاف سمجھنے کی وجہ سے ہلا ک ہوگیا۔ (جامع بیان العلم :۲/۸۸)

 اور امام شافعی لکھتے ہیں کہ جو آدمی کسی علمی و فقہی مسئلے میں مجھ سے اختلاف رکھتا ہے  میں اس سے یہ نہیں کہتا کہ وہ اللہ سے توبہ کرے، کیونکہ توبہ گناہوں سے ہوتی ہے اور ایسا آدمی گنہگار نہیں ہوتا ہے بلکہ ایک یا دو ثواب کاحقدار ہو تا ہے۔ (اختلاف رائے آداب واحکام، از ڈاکٹر سلمان فہد عودہ :۱۰۳)

 او رعلامہ ابن تیمیہ کہتے ہیں کہ جو لوگ اجتہاد کرتے ہیں، اہل سنت ان کو گنہگار نہیں مانتے ہیں، وہ ا س معاملے میں اصول و فروع کے درمیان کسی فرق کے قائل نہیں ہیں، لہٰذا جوشخص اللہ عز و جل کی مراد کو سمجھنے کی پوری کوشش کر ے اور وہ اس کا اہل ہوتو وہ اس اجتہاد کی وجہ سے گنہگار نہیں ہوگا بلکہ وہ ایک یا دو اجر کا مستحق ہوگا، حاصل یہ ہے کہ اجتہادی مسائل میں کسی کو گنہگار قرار دینے کی کوئی وجہ نہیں ہے اور نہ اس کی وجہ سے مسلمانوں سے قطع تعلق صحیح ہوگا۔ (مجموع الفتاویٰ :۱۳/۱۲۵)

 آج صورت حال یہ ہے کہ اس طرح کے مسائل میں اختلاف کی بنیاد پر مخالفین کو گمراہ کہاجارہا ہے، یہاں تک کہ امت کے فقہاء او رمحدثین پر فرد جر م عائد کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، نمازیں تو بہت ناپ تول کے ادا کی جارہی ہیں اور اس سلسلے کے بعض اختلافی مسائل میں ایسے جوش و جذبے کا مظاہرہ کیا جارہا ہے گویا کہ یہی مدار نجات ہیں، لیکن ان کی زبانیں اساطین امت کی آبرو ریزی سے تر رہتی ہیں، وہ زندہ و مردہ سب کی عزت وآبر و پر خاک ڈالتے رہتے ہیں لیکن انہیں اس کی کوئی پروانہیں، وہ یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ فقہی اختلاف ایک دینی اختلاف ہے اور یہی وہ فرقہ بندی ہے جس سے قرآنی آیتوں اور حدیثوں میں منع کیاگیا ہے، ڈاکٹر صالح بن عبداللہ بن حمید کہتے ہیں کہ یہ روش غلط اور کوتاہ نظری ہے کیوں کہ یہ بات گزر چکی ہے کہ کچھ اختلاف جائز ہوتا ہے اور ان لوگوں کے اس خیال کا انجام سلف امت، صحابہ و تابعین، ائمہ مہدیین اور ان کے متبعین کو ملعون قراردینا ہے۔ (ادب الخلاف :۵۴)

اختلاف صحابہ کی مثالیں :

 1۔ اللہ کے رسول ﷺ نے یہود بنو قریظہ سے جنگ کے لیے صحابہ کرام کو روانہ کرتے ہوئے فرمایا :’’تم میں سے کوئی عصر کی نماز نہ پڑھے مگر بنی قریظہ میں جاکر ‘‘۔(صحیح بخاری:۴۱۱۹)

 اس صریح اور واضح ترین حکم کے سمجھنے میں بھی صحابہ کرام کے درمیان اختلاف ہوا، بنی قریظہ کی طرف جاتے ہوئے لوگ دو طبقوں میں بٹ گئے، کچھ لوگ کہنے لگے کہ اس جملے سے رسولؐ کا مقصد جلدی روانہ ہونا اور تیزی کے ساتھ چلنا تھا، لیکن وسعت کے بقدر تیز چلنے کے باوجود بنو قریظہ تک پہنچتے ہوئے عصر کی نماز قضا ہوجائے گی، اس لیے ہم راستے میں عصر کی نماز پڑھ کر آگے بڑھیں گے، دوسرے لوگوں کا کہنا تھا کہ چاہے نما ز قضا ہوجائے مگر ہم وہیں جاکر پڑھیں گے، اس لیے کہ رسول اللہ ﷺ نے واضح لفظ کے ذریعہ ہمیں وہیں جاکر نماز پڑھنے کاحکم دیا ہے، چنانچہ انہوں نے بنو قریظہ پہنچ کرعصر کی نماز پڑھی۔

 رسول اللہ ﷺ کی زندگی میں صریح ترین حکم کے باوجود حلال و حرام کا اختلاف ہوا کیوں کہ نبی ﷺ کے حکم کو نہ ماننا یا بے وقت نماز پڑھنا دونوں حرام ہے لیکن جب آپؐ کو اس کی اطلاع ملی تو آپؐ نے کسی پر نکیر نہیں کی اور نہ کوئی گرفت فرمائی، بلکہ اس بات کی بھی وضاحت نہیں فرمائی کہ ان میں کون صحیح تھا، اس لیے کہ آپ جانتے تھے کہ اس طرح کا اختلا ف ممکن ہے اور آئندہ بھی رونما ہوگا اور اس میں کسی سے باز پر س کرنا لوگوں کی سوچ پر پہرہ بٹھانا اور اجتہادی صلاحیت کو ختم کرنا ہے جو قیامت تک باقی رہنے والے اور ہر عہد و ماحول کے مسائل کا حل پیش کرنے والے دین کے لیے سخت نقصان دہ ہے۔

 2۔ ایک مرتبہ سفر کے دوران پانی نہ ملنے کی وجہ سے دو لوگوں نے تیمم کرکے نماز ادا کرلی اور پھر وقت کے اندر ہی پانی مل گیا، ایک صحابی نے وضو کر کے دوبارہ نماز پڑھی، جب کہ دوسرے صحابی نے پہلی نماز کو کافی سمجھا، سفر سے واپسی کے بعد آپ ﷺ کو اس کی اطلاع کی گئی، آپؐ نے وضو کرکے دوبارہ پڑھنے والے سے فرمایا کہ تمہارے لیے دوہرا اجر ہے اور دوسرے سے فرمایا کہ تم نے سنت پرعمل کیا اور تمہاری پہلی نماز کافی ہے۔ (سنن ابو دائود :۳۳۸، سنن نسائی :۴۳۳)

قرآ ن میں وضو کے لیے پانی نہ ملنے کی صورت میں تیمم کرنے کا حکم ہے، لیکن تیمم کرکے نماز پڑھنے کے بعد وقت رہتے ہوئے پانی مل جائے تو نماز کو دہرانے کی ضرورت ہے یا نہیں ؟اس سلسلے میں کوئی حکم مذکور نہیں ہے، جس کی وجہ سے صحابہ کرام کے درمیان اختلاف ہو ا، اور چونکہ اس اختلاف کی گنجائش تھی اس لیے آنحضرت ﷺ نے اصل حکم بیان کرنے کے ساتھ دوبارہ پڑھنے والے کی حوصلہ افزائی فرمائی، اگر آنحضور ﷺ اصل حکم بیان نہ فرماتے تو آج بھی یہ مسئلہ اختلافی رہتا، جیسے کہ حج بدل کے سلسلے میں اختلاف ہے کہ اگر کوئی شخص حج کے لیے جانے پر قدرت نہ رکھنے کی وجہ سے کسی کو اپنی طرف سے حج کرادے اور پھر وہ تندرست ہوجائے تو کیا اس کے لیے خود حج کے لیے جانا ضروری ہے یا نہیں ؟

 3۔ حضرت ابوبکرؓ و عمرؓ کے درمیان متعد د مسئلوں میں اختلاف تھا، یہاں تک کہ جب حضرت عمرؓ خلیفہ ہوئے تو انہوں نے حضرت ابوبکرؓ کے بعض فیصلوں کو بدل ڈالا، لیکن اس کے باوجود ونوں کے دل ایک دوسرے کے احترام سے لبریز تھے، جب حضرت ابوبکرؓ نے ان کو خلیفہ بنانے کا اعلان کیا تو کسی نے ان سے کہا کہ عمر جیسے سخت آدمی کوخلیفہ بنارہے ہیں، اللہ تعالیٰ کے یہاں کیا جواب دیں گے ؟ تو بر جستہ فرمایا کہ میں عرض کروں گا کہ تیرے بندوں میں سے سب سے بہتر کو اپنی جگہ متعین کرکے آیا ہوں، ایک مرتبہ کسی نے حضرت عمرؓ سے کہا کہ آپ ابوبکرؓ سے بہتر ہیں تو ان کی آنکھوں سے آنسو چھلک پڑے اورروتے ہوئے فرمایا کہ ان کی ایک رات عمر اور آل عمرکی پوری زندگی کے عمل سے بہتر ہے۔

 4۔ علامہ ابن قیم کے بیان کے مطابق سو سے زیادہ مسائل میں حضرت عمرؓ اور ابن مسعودؓ کے درمیان اختلاف رہا ہے لیکن اس کے باوجود باہمی ربط وضبط اور عقیدت ومحبت میں کوئی کمی نہ تھی، ایک مرتبہ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کو آتے ہوئے دیکھ کر حضرت عمرؓ نے فرمایا کہ علم و فقہ کا خزانہ آرہا ہے اور جب ابن مسعودؓ کے سامنے حضرت عمرؓ کا تذکرہ ہوتا تو فرماتے کہ وہ اسلام کا ایسا قلعہ تھے کہ جس میں لوگ داخل ہو کر باہر نہیں نکلتے تھے لیکن ان کی شہادت کی وجہ سے اس میں شگاف پڑگیا۔

 5۔ جنگ جمل میں حضرت طلحہؓ، حضرت علیؓ کے مخالف خیمے میں شامل تھے اور اسی جنگ میں وہ شہید ہوئے، ان کے لڑکے حضرت عمران جب حضرت علیؓ کے پاس آتے تو اپنے قریب بٹھاتے اور فرماتے کہ مجھے امیدہے کہ اللہ تعالیٰ مجھ کو او ر تمہارے والدکو ان لوگوں میں شامل کرے گا جن کے بارے میں قرآن میں ہے کہ :

’’ہم ان کے سینوں میں موجود خفگی کوختم کردیں گے اور وہ مسند پر آمنے سامنے بھائی بن کر بیٹھے ہوں گے ‘‘۔

 اس محفل میں موجود دو شخص کہنے لگے کہ یہ دیکھو کل تک تو لڑتے رہے او رجنت میں جاکر بھائی بن جائیں گے، کیا انصاف پر مبنی اللہ کا فیصلہ ایسا ہوسکتا ہے ؟ یہ سن کر حضرت علیؓ ناراض ہوگئے اور کہنے لگے کہ تم دونوں میرے ساتھ رہنے کے لائق نہیں ہو، یہاں سے اٹھو کہیں اور چلے جائو، اگر میں اور طلحہ ایسے نہیں ہوں گے تو پھر کون ہوگا۔ (ادب الخلاف :۲۵)

 6۔حضرت زید بن ثابتؓ اور ابن عباسؓ کے درمیان ایک مسئلہ میں شدید اختلاف تھا، اس کے باوجود ایک دن انہوں نے حضرت زیدؓ کو سواری پر دیکھا تو اس کی رکاب پکڑکر چلنے لگے، انہوں نے کہا رسول اللہ ﷺ کے چچا زاد ! اسے چھوڑ دیجیے، انہوں نے کہا کہ نہیں، ہمیں اہل علم اور بڑوں کے ساتھ ایسا ہی کرنے کاحکم دیاگیاہے، حضرت زیدؓ نے کہا کہ اچھا اپنا ہاتھ دکھلائیے، انہوں نے اپنا ہاتھ بڑھایا توحضرت زیدؓ نے اسے چوم کرکہا کہ ہمیں اہل بیت کے ساتھ ایسا ہی کرنے کا حکم دیا گیاہے اور جب ان کا انتقال ہوا توحضرت ابن عباسؓ نے فرمایا کہ اسی طرح سے علم مٹ جائے گا، آج علم کا بڑاحصہ زمین میں دفن ہوگیا۔ (حوالہ مذکور :۲۴)

 صحابہ کرام کے درمیان یہ اختلاف صرف فروعی مسائل میں ہی نہیں تھا بلکہ اعتقادی نوعیت کے ضمنی مسئلوں میں بھی اختلاف رہا ہے، چنانچہ علامہ ابن تیمیہؒ لکھتے ہیں کہ صحابہ کرام میں جن مسائل میں اختلاف تھا اس میں ان کے درمیان اس بات پراتفاق تھا کہ ہرفریق اپنے اجتہاد پر عمل کرسکتا ہے، جیسے عبادات، نکاح اور میراث وغیرہ کے مسائل ……اور بعض اعتقادی مسائل میں بھی ان کے درمیان اختلا ف رہا ہے، جیسے میت کا زندہ آدمی کی آواز سننا اور اس کے اہل و عیال کے رونے کی وجہ سے اسے عذاب کاہونا اور معراج کے موقع پر آنحضور ﷺکا اپنے رب کو دیکھنا۔ (فتاویٰ ابن تیمیہ :۱۹/۱۲۲)

 فرق صرف یہ ہے کہ فقہی میدان کا اختلاف وسیع ہے اور عقیدہ کا اختلاف بہت محدود ہے لیکن ہر طرح کے اختلاف کے باوجود ایک دوسرے کے خیرخواہ تھے، اخوت ومحبت کے وسیع میدان میں کبھی تنگی محسوس نہیں ہوتی تھی، ان کے دل ایک دوسرے سے جڑے ہوئے اور اللہ کی مضبوط رسی سے بندھے ہوئے تھے۔

تابعین اور ائمہ مجتہدین:

 تابعین میں بھی باہم متعدد مسائل میں اختلاف تھا، کچھ لوگ نماز میں بسم اللہ نہیں پڑھتے تھے اور کچھ لوگ پڑھتے تھے، اور بعض لوگ آہستہ پڑھتے اور دوسرے لوگ آواز سے، کچھ لوگ نکسیر اور قے سے وضو کے قائل تھے، کچھ نہیں تھے لیکن اس کے باوجود باہم احترام و توقیر میں کوئی فرق نہیں تھا، وہ ایک دوسرے کی اقتدا ء میں کسی جھجک کے بغیر نماز ادا کرتے تھے، اسی طرح سے ائمہ مجتہدین میں سے ہر ایک سے دوسرے کے متعلق تعریفی کلمات منقول ہیں، حالانکہ ان کے درمیان جو اختلاف ہے وہ محتاج بیان نہیں ہے۔

ایک مرتبہ ہارون رشید نے وضوکے بعد اپنے جسم سے فاسد خون نکلوایا اوردوبارہ وضو کیے بغیر نماز پڑھائی اور امام ابو یوسف نے ان کی اقتدامیں نماز اداکی، حالانکہ ان کے  نزدیک جسم سے خون کانکلنا ناقص وضو ہے، حنفیہ کی طرح امام احمد بن حنبل بھی خون نکلنے کی وجہ سے وضوٹوٹ جانے کے قائل ہیں، لیکن جب ان سے پوچھاگیا کہ اگر امام کوخون نکل آئے

اور وہ وضو نہ کرے تو کیا آپ اس کے پیچھے نماز پڑھیں گے ؟ انہوں نے جواب میں کہا کیا میں امام مالک اور سعید بن مسیب کی اقتدا میں نماز نہیں پڑھوں گا ؟ یعنی یہ دونوں حضرات بھی خون کی وجہ سے وضو ٹوٹنے کے قائل نہ تھے، تو کیا اگر یہ موجود ہوتے تو اور نماز پڑھاتے تو میں ان کے ساتھ شریک نہ ہوتا۔ (ادب الخلاف :۴۳)

 امام احمد بن حنبلؒ اور امام بخاریؒ وغیرہ کے مایہ ناز استاذعلی بن مدینی میں ایک مسئلے میں اختلاف ہوا اور بحث وتکرارکی نوبت آگئی، اندیشہ تھا کہ اس کی وجہ سے بد مزگی پیدا ہوجائے گی، لیکن جب ابن مدینی واپس جانے کے لیے سواری پر بیٹھے تو امام احمد بن حنبل نے اس درجہ احترام کا معاملہ کیا کہ سواری کی رکاب تھام لی۔ (جامع بیان العلم :۲/۱۰۷)

امام شافعی اور ان کے شاگرد یونس حلافی کے درمیان ایک مسئلے کولے کر خوب بحث و تکرار ہوئی، لیکن جب دوبارہ ملاقات ہوئی تو امام شافعی نے ان کا ہاتھ پکڑ کر کہا، اگرچہ ہم ایک مسئلے میں متفق نہ ہوسکے تو کیا آپس میں بھائی بن کر نہیں رہ سکتے۔ (سیر اعلام النبلاء:۱۰/۱۶)

 یعنی ایمانی اخوت و محبت اور باہمی احترام و قدردانی بہر حال ضروری ہے اور ایسے عمل سے پرہیز لازمی ہے جو آپسی انتشار اور فرقہ بندی اور نفرت وکدور ت کا ذریعہ بنے، اگرچہ اس کے لیے کسی پسندیدہ اور مستحب کام کو چھوڑناپڑے، چنانچہ علامہ ابن تیمیہ نے لکھا ہے کہ اگر کہیں مسلمانوں کا کسی بات پرعمل نہ ہوکیونکہ وہ اس کے قائل نہیں ہیں اور دوسرا کوئی شخص اسے مستحب اور بہتر سمجھتا ہوتو اسے وہاں جاکر اس مستحب عمل کو ترک کردینا چاہیے، کیونکہ مسلمانوں کے درمیان باہمی الفت ومحبت اور دلجوئی اس طرح کے مستحبات سے زیادہ اہم ہے۔ (فتاویٰ ابن تیمیہ :۲۲/۴۰۶)

اختلاف رحمت و سہولت کا باعث ہے :

 مخلصانہ اختلاف رائے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک رحمت اور نعمت ہے جس میں  رہتی دنیا تک باقی رہنے والی امت کے لیے بڑی سہولت ہے، اس لیے کہ اجتہادات کے نتائج مختلف ہونے کی وجہ سے زمان و مکان اور حالات و واقعات کے بدلنے کے نتیجے میں پیش آنے والے مسائل کے حل میں ان سے بڑی مدد ملتی ہے، اگر صرف ایک ہی رائے ہوتی تو ایسی صورت میں بڑی پریشانی اور دقت محسوس ہوتی، اور اس کے برخلاف عمل کرنے میں بڑی تنگی اور کراہت ہوتی، چنانچہ خلیفہ راشد حضرت ابوبکرؓ کے پوتے حضرت قاسم بن محمد کہتے ہیں کہ صحابہ کرامؓ کے اختلاف کو اللہ تعالیٰ نے اس امت کے لیے بڑانفع بخش بنایا ہے، اگر کوئی ان میں سے کسی کے قول کو اپنالے تو وہ محسوس کرے گا کہ اس کی گنجائش ہے اور اسے اطمینان رہے گا کہ اس پر مجھ سے بہتر لوگوں کا عمل رہا ہے۔ (جامع بیان العلم :۲/۸۰)

اور حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ کہا کرتے تھے، اگر صحابہ کرام میں تمام باتوں پراتفاق ہوتا تو اس سے ہمیں خوشی نہیں ہوتی بلکہ ان کااختلاف میرے لیے باعث مسرت ہے، کیونکہ اگر ان سے صرف ایک قول منقول ہوتا تو لوگ تنگی میں پڑ جاتے، (حوالہ مذکور) ان سے کسی نے درخواست کی کہ کیا ہی اچھا ہوتا کہ آپ یکساں قانون نافذ کر دیتے، انہوں نے جواب دیا کہ مجھے یہ پسند نہیں ہے کہ اختلافات ختم ہوجائیں۔ (سنن دارمی، باب اختلاف الفقہاء: ۱/۱۵۱)

 امام مالک سے بعض عباسی خلفاء نے خواہش ظاہر کی کہ آپ کی کتاب موطا کو ملکی قانون کا درجہ دے دیاجائے تاکہ تمام لوگ اسی کے مطابق فتویٰ دیں اور عمل کریں اور اس طرح سے اختلاف ختم ہوجائے، لیکن امام مالک نے ان سے یہ کہتے ہوئے انکارکر دیا کہ مختلف جگہوں پر الگ الگ حدیثیں پہنچ چکی ہیں اور فقہاکی رایوں میں اختلاف ہے، اس لیے لوگوں کو ان کے چھوڑنے پرمجبورنہ کیاجائے، (طبقا ت الکبریٰ:۱/۴۴۰، سیر اعلام النبلاء:۸/۷۵)بعض لوگوں نے اس موقع پر امام مالک کا یہ قول نقل کیاہے کہ :

’’اس امت کے لیے علماء کااختلاف رحمت ہے ‘‘۔(کشف الخفاء للعلجلونی:۱/۶۵)

اور علامہ ابن قدام حنبلی صحابہ کرام کے اختلاف کے متعلق لکھتے ہیں :

’’ان کا کسی مسئلے میں اتفاق ایک قطعی دلیل ہے اور اختلاف ایک بڑی رحمت ہے ‘‘۔(المغنی :۱/۲۹)

علامہ ابن تیمیہ نے لکھاہے کہ ایک صاحب نے فقہا ء کے اختلافی مسائل کو کتابی شکل میں جمع کیا اور اس کا نام ’’کتاب اختلاف ‘‘ رکھا، امام احمد نے ان سے کہا کہ اس کے بجائے کتاب السعۃ(سہولت اور گنجائش کی کتاب ) رکھو۔ (فتاویٰ ابن تیمیہ:۳۰/۷۹)

 اس لیے اختلاف سے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے کہ یہ ایک فطری اور طبعی چیز ہے، صرف ضرورت اس بات کی ہے کہ اسے بر داشت کرنے کی عادت ڈالی جائے اور اختلافی مسائل پر گفتگو کرتے ہوئے اس کے آداب کی رعایت رکھی جائے، جس نقطہ نظر سے مطمئن ہو اس پر قائم رہے اور اس کے برخلاف لوگوں کے عمل کو باطل اور گناہ قرار نہ دے اور نہ ان کی نیتوں پر حملہ کرے اور اس کی عیب جوئی اور لغزشوں کی تلاش میں نہ رہے کہ یہ ایمانی اخوت اور انسانی مروت کے خلاف ہے، علامہ صالح بن عبداللہ لکھتے ہیں کہ اختلافی مسائل میں غلو کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ اس سے متاثر شخص متقدمین کی بعض ایسی عبارتوں کو ڈھونڈکر لاتا ہے جس سے بعض اماموں کی تنقیص ہوتی ہے، یہ شخص اس طرح کی چیزوں کو مختلف جگہوں سے تلاش کرکے جمع کرتا اور پھرانہیں پھیلاتا ہے او ر بغض وعداوت کی تخم ریزی کرتا ہے، علمی لغزشوں اور فقہی شذوذ کو ڈھونڈنے اور انہیں عوام میں پھیلانے سے صرف مخصوص مسلک ہی نہیں بلکہ پورے دین پر اعتماد مجروح اور متزلزل ہوجاتا ہے، یہ کا م نہایت بدترین اور اسلام سے عداوت پر مبنی ہے، ایسا کرنا بیمار دل اور بدنیت شخص کاکام ہے۔ (ادب الخلاف :۵۴)

حدیث افتراق امت:

 بعض کتابوں میں یہ حدیث مذکور ہے کہ :

’’بنی اسرائیل بہتر72   فرقوں میں بٹ گئے اور میر ی امت تہتر ۷۳ فرقوں میں بٹ جائے گی، سب جہنم میں جائیں گے سوائے ایک کے، لوگوں نے پوچھا کہ وہ کون لوگ ہوں گے؟ فرمایا کہ جو میرے اور میرے صحابہ کے طریقہ پر ہوں ‘‘۔

 اس حدیث کو امام احمد اور ترمذی وغیر ہ نے نقل کیاہے اور بعض محدثین نے اسے صحیح یا حسن قرار دیاہے، اس کے برخلاف علامہ ابن حزم اور ابن وزیر وغیرہ نے اسے ضعیف کہا ہے۔

اس حدیث کو پیش کرکے بعض لوگ یہ باور کرانے کی کوشش کرتے ہیں کہ صرف وہی جنتی ہیں اور دوسرے لوگ ان سے اختلاف کی وجہ سے بہتر فرقوں میں شامل ہیں اور ہمیشہ کے لیے جہنم میں رہیں گے لیکن یہ ایک غلط تصور ہے، خود مذکورہ حدیث کے الفاظ سے اس خیال کی تردید ہوتی ہے اور کلمہ گوہونے کی حیثیت سے اختلاف کے باوجود اتحاد کی تائید ہوتی ہے، اس لیے کہ رسول اللہ ﷺ نے اختلاف کے باوجود تمام فرقوں کواپنی امت کہا ہے جس کا مطلب ہے کہ وہ تمام فرقے او ر گروہ امت محمد یہ میں شامل ہیں، چنانچہ علامہ خطابی لکھتے ہیں :

’’یہ حدیث بتلاتی ہے کہ ان میں سے کوئی فرقہ دین اسلام سے خارج نہیں ہے، اس لیے کہ اللہ کے رسول نے ان سب کو اپنی امت قرار دیا ہے ‘‘۔(معالم السنن:۴/۷)

 یہی بات علامہ عبدالوہاب شعرانی اور امام ابواسحاق شاطبی نے بھی لکھی ہے۔ (دیکھیے الیواقیت:۲/۱۶۸، الموافقات :۴/۱۹۳)

اور علامہ ابن تیمیہ لکھتے ہیں :

’’اسی طرح سے تمام بہتر فرقے، ان میں جو منافق ہوگا وہ تو باطن میں کافر ہے اور جو منافق نہیں ہے بلکہ باطن میں بھی اللہ اور رسول پر ایمان رکھنے والاہے تو وہ کافر نہیں ہے، اگر چہ وہ تاویل میں خطاکار ہو اور کیسی ہی غلطی کرے ‘‘۔(فتاویٰ ابن تیمیہ :۷/۲۱۸)

 اور حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ بعض فرقے بدعملی اور بد اعتقادی کی وجہ سے جہنم میں ڈالے جائیں گے لیکن پھر ایمان کی بنیاد پر انہیں وہاں سے نکال کر جنت میں داخل کیاجائے گا جیسے کہ یتیموں کے مال کو باطل طریقے سے کھانے والوں کے متعلق قرآن میں ہے کہ :

’’وہ اپنے پیٹ میں آگ بھر رہے ہیں اور جلد ہی جہنم میں داخل کر دیے جائیں گے ‘‘۔(سورۃ النساء :۱۰)

 ظاہر ہے کہ کسی کے نزدیک اس کا مفہوم یہ نہیں ہے کہ ایسے لوگ اپنے گناہوں کی وجہ سے ہمیشہ جہنم کا ایندھن بنے رہیں گے بلکہ ایک متعین وقت تک سزا بھگتنے کے بعد مومن ہونے کی وجہ سے وہ وہاں سے نکالے جائیں گے، یہی حال بد عملی اور بد اعتقادی میں مبتلا فرقوں کا بھی ہوگا، لیکن اگران کی بد اعتقادی کفر تک نہیں پہنچی ہوئی ہے تو وہ کافر نہیں سمجھے جائیں گے، چنانچہ تمام علماء کا اتفاق ہے کہ اسلامی فرقوں میں سب سے پہلا فرقہ خوارج کا ہے اور وہی اس حدیث کے مصداق ہیں، جس میں کہا گیاہے کہ :

’’اس شخص کی نسل سے ایک ایسی قوم نکلے گی جس کی زبان کتاب الٰہی کی تلاوت سے تر ہوگی لیکن وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گی، یہ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے کہ شکا ر سے تیر، اگر وہ میری زندگی میں پیدا ہوگئے تو انہیں قوم ثمود کی طرح ہلاک کر دوں گا ‘‘۔(بخاری :۴۳۵۱، مسلم ۱۰۶۴)

 زید بن وہب کہتے ہیں کہ وہ حضرت علیؓ کے ساتھ اس لشکر میں موجود تھے، جنہوں نے خوارج سے جنگ کی تھی، جنگ سے پہلے حضرت علیؓ نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ میری امت میں کچھ ایسے لوگ ہوں گے جو قرآن پڑھیں گے ……اور ان کی نشانی یہ ہوگی کہ ان میں ایک ایسا شخص ہو گاجس کے صرف بازو ہوں گے، کلائی نہیں ہوگی، جنگ کے بعد خوارج کے مقتولین میں تلاش کے بعد اسی طرح کاایک شخص پایاگیا، حضرت علیؓ نے اسے دیکھ کر نعرہ تکبیر بلند کی اور کہاکہ اللہ کے رسول ﷺ نے سچ فرمایا۔ (دیکھیے صحیح مسلم مع المنہاج :۶۷۳)

 لیکن ایسے لوگوں کو بھی رسول اللہ ﷺ نے اپنی امت میں شمار کیا ہے اور یہی وجہ ہے کہ جب حضرت علیؓ سے ان کے متعلق پوچھا گیا تو فرمایا، یہ ہمارے بھائی ہیں جنہوں نے ہمارے خلاف بغاوت کی ہے۔ (مصنف ابن ابی شیبہ :۳۷۷۳، سنن کبریٰ :۸/۱۷۳)

 اور مذکورہ روایت میں ’’دین سے خروج ‘‘ کی تاویل کی گئی ہے کہ اس سے مراد اسلام سے خروج نہیں بلکہ امام کی اطاعت سے خروج ہے یعنی بغاوت، (المنہاج للنووی :۶۶۹) چنانچہ امام نووی لکھتے ہیں کہ امام شافعی اور ان کے اکثر شاگردوں کے نزدیک خوارج کو کافر نہیں کہاجائے گا، یہی حکم قدریہ اورمعتزلہ کابھی ہے۔ (حوالہ مذکور)

 اور علامہ شامی لکھتے ہیں :

’’اکثر تابعین ومحدثین کے نزدیک خوارج کاحکم باغیوں جیساہے اور بعض محدثین انہیں کافر قرار دیتے ہیں لیکن علامہ ابن منذر کہتے ہیں کہ میں نہیں جانتا کہ کوئی بھی اس معاملے میں ان محدثین کے ساتھ ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ خوارج کو کافرنہ کہنے پر تمام فقہا ء کااتفاق ہے ‘‘۔(ردالمحتار :۶/۴۱۳)

 اور جب خوارج جیسے فرقے کو کافر نہیں کہا گیاہے تو پھر اس سے بہت کم درجے کے اختلاف کی وجہ سے کسی کوکا فر یا گمراہ قرار دینا کیسے صحیح ہوگا اور کیوں کر اس کی وجہ سے  فرقہ بندی اور مسجدوں کو الگ کرنے کی اجاز ت ہوگی اور ایک دوسرے کی نمازوں کے غیر در ست ہونے کا فتویٰ صادر کرناکیسے صحیح ہوگا؟ واقعہ یہ ہے کہ آج مسلمانوں کی بہترین صلاحیتیں اور ذہانتیں فروعی مسائل میں مناظرہ بازی میں ضائع ہورہی ہیں، علم و تحقیق کا سارا زور اس پر  صرف ہورہا ہے کہ کیسے دوسرے فریق کو گمراہ اور اس کے موقف کو بے وزن ثابت کردیا جائے، سینے کے نیچے اور اوپر ہاتھ باندھنے پر لڑائی ہورہی ہے اور اس کی وجہ سے مسجدیں الگ ہورہی ہیں، حالانکہ ان کا دشمن ان کے ہاتھ کاٹنے کی تیاری کر رہا ہے اور ان کے قبلہ وکعبہ کو منہدم کرنے کی سازشیں کر رہا ہے اور ان میں اس طرح کے اختلافات کو ہوا دے کر انہیں اپنی ریشہ دوانیوں سے غافل رکھناچاہتا ہے، ضرورت اس بات کی ہے کہ امت کی صفوں میں پائے جانے والے انتشار کوختم کیاجائے، اختلاف کو بر داشت کرنے اور دوسرے کی رائے کو اہمیت دینے کی عادت ڈالی جائے اور علمی وفقہی اختلاف کو فرقہ بندی کا ذریعہ نہ بنایا جائے اور دشمنانِ اسلام نے جو محاذکھول رکھا ہے ان پر اپنی صلاحیتیں اور توانائیاں صرف کی جائیں اور مسلمان جس پستی اور رسوائی کا شکار ہیں انہیں ان سے نکالنے کی کوشش کی جائے۔

مزید دکھائیں

ولی اللہ مجید قاسمی

مولانا ولی اللہ مجید قاسمی معروف عالم دین ہیں اور جامعتہ الفلاح، اعظم گڑھ میں فقہ و حدیث کےاستاذ نیز دار الافتاء کے ذمہ دار بھی ہیں۔

3 تبصرے

  1. السلام علیکم
    محترم مولانا کے شاگردوں میں سے ایک شاگرد ہوں میں۔
    جزیرِِ  انڈومان سے۔۔۔۔۔۔آپ کے تحریر کردہ مضامین میں بڑہے غور سے پڑہتا ہوں۔۔۔۔اللہ آپ کو اچہی صحت عنایت فرمائے ۔۔
    آمین

  2. ماشآءاللہ استاذ محترم بڑی نپی تلی معتدل رائے رکھتے ہیں ، اور یہی بزرگوں کا رنگ ھے ! اللہ تعالی ہم سبھی کو اختلافات میں اعتدال کی راہ نصیب فر مائے !

  3. اختلاف رائے اچھی چیز ہے۔ ہر بندہ اسی نظریے کو اپناتا ہے جس کو وہ دوسرے نظریات سے بہتر سمجھے۔پھر وہ نظریات کن وجوہات کی بنا پر اس کو بہترین لگے اس کا انحصار اس کے ذاتی مشاہدے تجربے اور مطالعے پر بھی ہوتا ہے۔
    آپ کسی کے نظریات کا مذاق بنائے بغیر بھی اپنا نظریہ پیش کرسکتے ہیں۔ یاد رکھیں نظریات ایسی چیز ہیں کہ لوگ ان کو صحیح ثابت کرنے کے چکر میں غلط ترین کام مثلاً گالم گلوچ، مارکاٹ تک کر جاتے ہیں۔ یہ مہذب لوگوں کا طریقہ نہیں ہے۔ لیکن کسی نظریے کو آپ طنزو مزاح میں ایسے بیان بھی کر سکتے ہیں کہ اس نظریے کے فائدے اور نقصان لوگوں پر واضح ہوجائیں۔ لیکن اگر آپ میں یہ صلاحیت نہیں تو براہ مہربانی بندر کتا جیسے خطاب دے کر سطحی طنزومزاح نہ کریں۔ایسا طنزومزاح انسان کو اکساتا ہے کہ وہ اپنی غلطی سمجھ میں آجانے کے بعد بھی کسی طرح آپ کو بھی اپنے جتنا غلط ثابت کردے یا جبراً خاموش کردے۔۔ کیونکہ اصلاح کی نیت رکھتے ہوئے آپ کو یہ ذہن نشین رکھنا چاہیے کہ کسی کی انا کو چوٹ پہنچانے کے بعد آپ اس کو ہمنوا نہیں بنا سکتے ۔ بلکہ اس طرح آپ اسکی نظر میں فسادی ٹہرتے ہیں_______

متعلقہ

Close