خصوصیہندوستان

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی: اردو ترے انجام پہ رونا آیا

ڈاکٹر خالد اختر علیگ

    سر سید احمد خاں جن کا لازوال کارنامہ مسلمانان ہند کی تعلیم کے لئے ایک اعلیٰ درجہ کی یونیورسٹی کا قیام ہے وہیں ان کا بے مثل کارنامہ اردو زبان کو نیا آہنگ دینا بھی ہے۔ انہوں نے نہ صرف اردو کی زلفیں سنواریں بلکہ اس زبان کو ترسیل کا اہم ذریعہ بنادیا۔ انہوں نے اس زبان کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کیا، سائنسی فکر وخیالات کی اسی زبان میں ترویج کی۔ غرض ان کی پوری زندگی اس زبان کی آبیاری میں گزر گئی۔ مگر ان کے بسائے چمن میں اردوزبان کی آج جتنی ناقدری ہورہی ہے اتنی ایک دہائی قبل بھی نہ تھی۔ حالیہ دنوں سوشل میڈیا پرعلی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے مختلف سائن بورڈوں کی تصاویر شائع ہوئیں جن میں دور دور تک اردو کانام و نشان نہیں ہے۔

          آزاد ہندوستان میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کو اردو کا ایک اہم مرکز مانا جاتا رہا ہے جہاں اردو کی بڑی خدمت کی گئی۔ جس کے ہر در ودیوار سے اردو کی رونمائی ہوتی تھی۔ جہاںمشتاق احمد یوسفی، رشید احمد صدیقی، شہر یار، مجاز، آل احمد سرور جیسی زبان و ادب کی نابغہ روزگار شخصیتیں پروان چڑھیں۔ مگر آج اردو کو جس طرح اس ادارے سے بے دخل کرنے کی کوشش ہورہی ہے وہ نہ صرف قابل افسوس بلکہ قابل مذمت بھی ہے۔ راقم نے اپنے دور طالب علمی میںیونیورسٹی کے اندر اردو زبان کو انگریزی کا ہمسر پایا۔ جہاں خط و کتابت سے لے کر بیشتر دفتری کام میں انگریزی کے ساتھ اردو بھی کسی حد تک شریک رہی مگر اب دفتری کام میں اردو کس طرح دخیل ہے اس کا اندازہ لگانا میرے بس میں نہیں ہے ہاںموجودہ وقت میں دفتری کاموں اور خط و کتابت کے لئے انگریزی کے ساتھ ہندی کوضرور لازمی قرار دیا گیا ہے اور ظاہری طور پر ہی سہی اردو کے جو مظاہر تھے وہ تقریباً ناپید ہوتے جارہے ہیں یا دوسرے الفاظ میں اس کے راستے مسدود کئے جارہے ہیں۔

          حالیہ دنوں سوشل میڈیا کے توسط سے ہی معلوم ہوا کہ ہائر سکینڈری تک اردو ذریعہ تعلیم کا جو انتظام تھا اس میں پانچ سال سے کوئی بھی داخلہ نہیں ہوا ہے۔ اسی طرح چند سال قبل ہائر سیکنڈری سطح تک اردو کی لازمیت بھی ختم کی جاچکی ہے۔ اچھی طرح یاد ہے کہ۷۰۰۲ءسے قبل پوری یونیورسٹی کی فیکلٹیز، شعبہ جات، کالجس، ادارے اور طلبہ کے ہاسٹلوں کے سائن بورڈ انگریزی اور اردو میں لکھے جاتے تھے جس میں اولاً انگریزی اور ثانیاً اردو ہوتی تھی ہر سائن بورڈ پر اردو کو نمایاں جگہ دی جاتی تھی مگر پی کے عبدالعزیز کی وائس چانسلر شپ میں ہندی بھی لکھی جانے لگی مگر وہ محدود پیمانے پر ہی تھی اور اس کا دائرہ صرف رجسٹرار آفس تک ہی محدود تھاجس سے اردو پر کوئی زیاد ہ فرق دیکھنے میں نہیں آیا۔ لیکن جنرل ضمیرالدین شاہ صاحب کی وائس چانسلری میں اردوکا درجہ نہایت کم ہوا اور وہ سائن بورڈوں پر ایک کونے میں جاکر سمٹ گئی ہے مگرانہوں نے ایک تحسین آمیز کام یہ کیا کہ اردو زبان کو گریجویشن سطح پر ہر طالب علم کے لئے پڑھنا لازمی قرار دیا۔ ان کا یہ فیصلہ یونیورسٹی کی تاریخ میں سنہری حروف میں لکھا جائے گا۔ مگرحال میں تو اردو زبان کا وجود ہی خطرہ میں پڑتا ہوا نظر آرہا ہے۔

          اردو زبان کو ملک کے ایک سخت گیر طبقہ کی جانب سے قیام پاکستان ذمہ دار بھی مانا جاتا ہے۔ چند ماہ قبل بانی پاکستان محمد علی جناح کی تصویر جو ان کو طلبہ یونین کی تاحیات رکنیت دینے کی وجہ سے گزشتہ صدی  میں تیس کی دہائی سے یونین ہال کی دیوار پر دیگر معزز شخصیات کی تصاویر کے ساتھ آویزاںہے جس کو لے کر دائیں بازو کی سخت گیر جماعتوں نے کافی ہنگامے کئے تھے اوریونیورسٹی کی فضا اور اس کی شبیہ کومکدر کرنے کی کوشش کی تھی۔ شایدیونیورسٹی کے ارباب اقتدار اردو کا استعمال بھی جناح کی تصویر جیسا ہی سمجھ رہے ہیں اسی لئے وہ کسی امکانی خطرہ سے بچنے کے لئے ہی اس زبان کو کیمپس سے باہر کا راستہ دکھا رہے ہیں۔ خدا کرے کہ یہ صرف وہم ہو مگر آثار و قرائن اسی سمت میں اشارہ کررہے ہیں۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی جو کہ اپنے اقلیتی تشخص کے لئے برسر پیکار ہے۔ اس کے اہم تشخص کو ادارے سے نکالنا بہت سارے وسوسے ذہن میں پیدا کردیتا ہے۔

          کیا صرف زبانی طور پر ہی اپنا تشخص ظاہر کیا جاتا رہے گا۔ میری ناقص رائے میں کیمپس کی ایک ایک اینٹ، ایک ایک عمارت، ایک ایک ادارہ اور اس کے درودیوارپر ثبت نقوش، درج تحریریں، خط تحریر، لباس اور طرز گفتگو سب ہی اقلیتی کردار کا بین ثبوت ہیں تو آخر کیوں اس زبان کو جو اس کے بانی اور ان کے رفقاءکی زبان ہے، اس ادارے کے قیام کی تحریک کی زبان ہے اس کو یونیورسٹی سے کیوں نکالا جارہا ہے۔

بہرحال معاملہ جو بھی ہو یہ مناظر دیکھ کر تو اب ایسا لگنے لگا ہے کہ مسلم یونیورسٹی میں اردو جو اس کی تہذیب ہی نہیں بلکہ یونیورسٹی کے اقلیتی کردار کی تحریک سے جڑا ہوا ایک اہم ثبوت ہے بہت جلد آنکھوں سے اوجھل ہونے والی ہے۔ آج یونیورسٹی میں اردو کے ساتھ جو سوتیلا سلوک کیا جارہا ہے، اس سے بے اعتنائی برتی جارہی ہے، مصلحت کا نام لے کر اردو کا قتل کرکے ہندی کو فروغ دینے کا جوکاروبار بہت زور وشور سے جاری ہے اس سے یہ بات صاف ہوجاتی ہے کہ یہ زبان بہت جلد تاریخ کا حصہ بن جائے گی جس کا لازمی اثر ہماری ثقافت اور تہذیب پر پڑے گااورہم اپنے اہم علمی اثاثے سے محروم ہوجائیں گے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

خالد اختر علیگ

ڈاکٹر خالد اختر علیگ معالج اور آزاد کالم نویس ہیں۔

ایک تبصرہ

  1. دل کی آواز ہے ….. مگر دب کے گھٹ کے ہی رہ جائے گی …. کیونکہ اس کی آواز سننے والے مرتے جارہے ہیں…. اور اردو جینے کی آرزو لئے سسکیاں لے رہی ہے ….

    خالد اختر صاحب کو دل سے دعائیں …

    * احمد نثار

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close