خصوصی

عمر و عیار کی زنبیل سے تیسرا عجوبہ

حفیظ نعمانی
آخر کار حزب مخالف کو تنگ آکر نوٹ بندی کے 30 ویں دن یوم سیاہ منانا پڑا۔ وزیر اعظم مودی نے 8؍ نومبر کو ایک ہزار اور پانچ سو کے نوٹ بند کرنے کا اعلان کیا تھا۔ جب اس پر ہر طرف شور ہوا تو مودی جی نے ہاتھ جوڑ کر کہا کہ مجھے صرف ۵۰ دن دے دو۔ دن تو کسی نے ایک بھی نہیں دیا لیکن صبر کرکے بیٹھ گئے۔ اس لیے کہ ہر کسی نے سن رکھا تھا کہ جمہوری حکومت کا مطلب یہ ہے کہ عوام کی حکومت عوام کے ذریعہ اور عوام کے لیے۔ لیکن حکومت صرف عوام کے ذریعہ تو ہے باقی سب جھوٹ ہے۔ حکومت صرف ایک آدمی کے لیے ہے جو وزیر اعظم ہے اور اسی کا نتیجہ ہے کہ کچھ تو صبر کرکے بیٹھ گئے اور جو اسے بھی اپنی حکومت سمجھ رہے ہیں وہ ۵۰ دن کے بعد آنے والے سنہرے دنوں کی یاد میں مودی مودی کی مالا جپنے لگے۔ وہ 20دن کے بعد روئیں گے۔
وزیر اعظم نے نوٹ بند کرنے کے بعد کہا تھا کہ یہ فیصلہ اس لیے کرنا پڑا کہ تھوڑے سے بڑے آدمیوں نے ساری دولت دبالی ہے اور غریب پریشان ہورہے ہیں اور دشمن ملک جعلی نوٹ چھاپ کر دہشت گردوں کو دیتا ہے۔ وہ ان نوٹوں کے ذریعہ ملک کی سرحدوں میں داخل ہوتے ہیں اور ہمارے سوتے ہوئے جوانوں کو مار کر یا بھاگ جاتے ہیں یا مقابلہ میں مر جاتے ہیں۔ اور ان ہی جعلی نوٹوں سے بھرشٹاچار بڑھ رہا ہے۔
مودی جی نے ملک میں ہونے والی ہر بربادی کی ذمہ داری بڑے نوٹوں پر ڈال دی اور انہیں ردّی کاغذ بنا دیا۔ اس دوران مودی نے وزیر مالیات کے ذریعہ ایک بل بغیر بحث و مباحثہ کے اپنی بھرپور اکثریت کے بل پر اس کے باوجود پاس کرالیا کہ لوک سبھا کے بارے میں سب کہہ رہے ہیں کہ حزب مخالف اسے چلنے نہیں دے رہی 151 جس کا مطلب یہ ہوا کہ لوک سبھا چلے نہ چلے اکثریت والی حکومت اپنے بل پاس کراسکتی ہے۔ وہ بل عوام کی یعنی آپ کی بہتری کے لیے نہیں تھا بلکہ وہ بل حکومت نے پاس کراکے اشارہ دے دیا کہ وہ نوٹ بند کرکے بھی کالا دھن نکلوانے میں ناکام ہوگئی۔ اس بل کے ذریعہ اس نے لالچ دیا کہ اگر ضرورت سے زیادہ نوٹ آپ کے پاس ہیں تو ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے حکومت آپ کو تکلیف نہیں دے گی بس آپ نوٹ لے کر آئیے اور آدھے نوٹ حکومت کو دے کر باقی آدھے سفید کراکے عیش کیجئے۔
اس بل کے پاس کرالینے کے بعد حکومت کا یہ الزام ختم ہوگیا کہ حزب مخالف لوک سبھا اور راجیہ سبھا چلنے نہیں دے رہی۔ حقیقت یہ ہے کہ حکومت نہیں چاہتی کہ پارلیمنٹ چلے۔ اس لیے اس کا کوئی کام نہیں رُک رہا۔ وزیر اعظم ہر دن ایک نیا اعلان کرتے ہیں اور دوسرے دن اسے بدل کر دوسرا اعلان کردیتے ہیں اور پچاس دنوں میں سے تیس دن گذرنے کے بعد اور بینکوں میں 12 لاکھ کروڑ روپے کے نوٹ آجانے کے بعدحکومت نے سمجھ لیا کہ وہ مات کھا گئی اور ایک ہی جگہ سے سو کلو سونا پکڑنے اور جے للتا کے مرنے کے بعد ان کے پاس سے ایک اعلان کے مطابق 12 کلو اور دوسرے اعلان کے مطابق 20 کلو سونے بتادیا کہ دولت کے کھلاڑیوں نے نوٹ بدل کر سونے لے لیا ہے۔ اب مودی لاٹھی پیٹا کریں۔
ملک کے مختلف حصوں میں دوہزار کے نئے نوٹ ہزاروں کی تعداد میں پکڑے جانے سے یہ بھی ثابت ہوگیا کہ حکومت کی پکڑ نہ بینکوں پر ہے اور نہ خزانہ کی حفاظت کرنے والوں پر۔ پورے ملک کے بینکوں اور اے ٹی ایم مشینوں کے سامنے ایک ایک نوٹ کے لیے لائنیں لگی ہیں اور شریف لوگ پولیس کے ڈنڈوں اور تھپڑوں سے بے عزت ہورہے ہیں اور ملک میں جگہ جگہ ہزاروں نئے نوٹ پکڑے جارہے ہیں۔
وزیر اعظم نے کہا تھا کہ غریب چین کی نیند سورہا ہے اور امیر بازار میں نیند کی گولیاں خریدنے کے لیے مارا مارا پھر رہا ہے۔ لیکن ہوا یہ کہ غریب تو مررہا ہے اور امیر اپنی بیٹی کی شادی کررہا ہے تو پانچ سو کروڑ روپے خرچ کررہا ہے اور پچاس ہزار آدمیوں کی دعوت کررہا ہے۔ اور یہ امیر سونیا گاندھی یا ملائم سنگھ یا ممتا بنرجی کی پارٹی کا نہیں ہے بلکہ نریندر مودی اور امت شاہ کی پارٹی کا ایم پی ہے۔ اتنے بڑے پاپی کو جس نے مودی سرکار کو اور پارٹی کو بھرے بازار میں ننگا کردیا نہ تو گرفتار کیا گیا نہ جیل بھیجا گیا، بلکہ انکم ٹیکس محکمہ کی آفس سے اسے ایک نوٹس بھیجا گیا ہے۔
جس ملک میں بینک کے 27 سب سے بڑے افسر کالے دھن کو سفید کرانے کے الزام میں معطل کیے گئے ہوں اس ملک کے انکم ٹیکس افسر کی قیمت کیا ہوگی؟ 50 لاکھ۔ایک کروڑ زیادہ سے زیادہ پورے دفتر کو اگر خریدنا چاہے تو 5 کروڑ؟ اور جو پانچ سو کروڑ بیٹی کی خوشی کے لیے خرچ کردے وہ اپنی عزت بچانے کے لیے ۵ کروڑ تو ردّی کاغذ کی طرح پھینک دے گا اور ہوگا صرف یہ کہ تحقیقات چل رہی ہے اور 2019 تک چلے گی اور کھیل ختم۔
مودی جی نے ہر طرف سے مات کھانے کے بعد اپنی پٹاری سے ایک نیا کھیل نکالا ہے جس کا نام ہے ’’کیش لیس‘‘ ۔اب نہ کسی کو لائن میں لگنے کی ضرورت ہے نہ نوٹ نکلوانے کی نہ جیب میں رکھنے کی۔ بس اپنا موبائل اپنے پاس رکھئے وہی آپ کا بینک ہے وہی پرس ہے اور وہی خزانہ۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہندوستان جیسے ملک میں جہاں راہ زنی اور لوٹ مار کے واقعات نہ ہونے کے برابر ہیں جہاں شہر میں ایک مہینہ میں دو چار واقعات گلے کی زنجیر کھینچنے یا پرس چھین کر بھاگنے کے ہوتے ہیں وہاں نوٹ لے کر چلنے میں کیا ڈر ہے۔ مودی تالی بجا بجا کر اور دانت دکھا دکھا کر چاہے اس کے جتنے فائدے گنائیں یہ صرف سازش ہے اور وہ سازش کہ ملک کے کسی آدمی کے پاس پیسہ نہ رہے سب بینکوں میں آجائے ا ور وہاں سے مودی اپنے چہیتوں کو قرض دلائیں اور جب جانے کا وقت آجائے تو وجے مالیہ کی طرح ان سے آدھا لے کر قرض معاف کردیں اور پھر ۸۰ ہزار کروڑ خرچ کرکے الیکشن جیت لیں اور پھر ۵ برس تک کے لیے ملک کو نچوڑیں اور کوئی مخالف پارٹی ایسی نہ ہو جس کے پاس ایک ہیلی کاپٹر کا کرایہ دینے کے پیسے بھی ہوں۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی معروف سنیئر صحافی، سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

متعلقہ

Close