خصوصی

عوام کی جیب پر سرجیکل اسٹرائک کے بعد

 ڈاکٹر محمد اسلم فاروقی

ہندوستانی عوام گزشتہ مہینے دو مہینے سے مسلسل ایسے واقعات سے دوچار ہورہے ہیں جیسے کوئی موتیوں کا ہار ٹوٹ گیا ہو اور اس کے دھاگے سے لگاتار موتی گر رہے ہوں۔ ایک واقعہ کے اثرات سے عوام اپنے آپ کو بھلا بھی نہیں پاتے کے دوسرا کوئی ایسا واقعہ ہوجاتا ہے جو ان کی ذاتی اور سماجی زندگی کو جھنجھوڑ کر رکھ دیتا ہے۔ موجودہ مرکزی حکومت نے اپنے اقتدار کے دو سال مکمل کر لیے ہیں اور وہ اپنے ایجنڈے پر خاموشی سے عمل پیرا ہے۔ دور کیوں جائے مہینہ دو مہینے پہلے تک صحافتی گوشوں میں کشمیر میں بڑھتی شورش ‘ مسلسل کرفیو کی بدولت عوامی زندگی ٹھپ ہوجانے اوراور عوام پر پولس اور فوج کی پلیٹ گنس سے فائرنگ کے واقعات پر کافی لے دے ہوئی تھی۔ کشمیر سے عوام کی توجہہ ہٹی ہندوستان میں پاکستانی دہشت گردوں کی در اندازی اور فوجیوں کی ہلاکت کے واقعے سے۔ پھر اعلان ہوا کہ ہندوستان نے پاکستان کی سرحد میں گھس کر سرجیکل اسٹرائک کامیابی سے انجام دی اور دہشت گردوں کے بڑے ٹھکانوں کو تباہ کردیا۔ پھر بھوپال انکاؤنٹر خبروں میں رہا اور اب8نومبر کی رات وزیر اعظم کے خصوصی خطاب کے بعد سارا ہندوستان اس فیصلے سے متاثر ہوگیا جس کی رو سے وزیر اعظم نے اپنے ایک بیان سے سارے ہندوستان میں موجود500اور 1000کے نوٹوں کی شکل میں موجود ہزاروں کروڑوں روپیوں کو غیر قانونی قرار دیا۔ اور اس کی جگہ نئے500اور2000کے نوٹوں کو متعارف کرانے کا اعلان کیا۔ جمعہ کی شب یہ اعلان ہوا تو راتوں رات فیس بک‘واٹس ایپ‘ٹی وی اور فون سے لوگوں میں ایسی افواہ مچی کہ لوگ اپنے گھروں سے نکل آئے۔ وزیر اعظم نے اعلان کردیا تھا کہ دیش سے بھاری مقدار میں موجود کالا دھن باہر لانے اور پاکستان اور اندرون ملک پھیلائے گئے جعلی نوٹوں کو بے کار کرنے کے لیے انہوں نے یہ انقلابی قدم اٹھایا ہے۔معلوم ہوا کہ بڑے شہروں خاص طور سے دہلی ‘بمبئی وغیرہ میں ہی راتوں رات عوام نے سونے کی بھاری مقدار میں خریدی کی اور صبح تک دکانیں کھلی رہیں اور ساری دکان خالی ہونے تک بکری ہوتی رہی۔ وزیر اعظم نے ایک دن بنک کے بند ہونے اور دو دن تک اے ٹی ایم کے بند ہونے کا اعلان کیا تاکہ نئے نوٹوں کی تقسیم شروع ہو۔ عوام نے ایک دن کسی طرح گذارا لیکن اس کے بعد ملک میں نوٹوں کی تبدیلی اور حکومت کے اعلان کے مطابق 4000کے حصول کے لیے جو افراتفری پھیلی اس کی مثال ہندوستان کی تاریخ میں کبھی نہیں ملتی۔ ہندوستان کی معیشت گزشتہ ایک دہائی سے بہتر مانی جاتی تھی اور لوگوں کا معیار زندگی بڑھتا گیا ان کی ضروریات بھی بڑھتی گئیں۔ ہندوستان میں آج بھی95%عوام نوٹ کے ذریعے ہی اپنے کاروبار کرتے ہیں۔ جب لوگوں کو پہلے دن صرف4000دئے گئے اور ان سے کہا گیا کہ وہ صرف ہفتے میں20,000ہی نکال پائیں گے تب عوام کی بے چینی بڑھ گئی۔ دوسری طرف بازار میں چھوٹے نوٹوں کی قلت سے افراتفری مچی ہوئی ہے۔ وزیر اعظم نے اعلان کیا تھا کہ نئے نوٹ2000اور 500کے ہوں گے۔ لیکن تاحال صرف کچھ لوگوں کے ہاتھ میں2000کے نوٹ دکھائی دے رہے ہیں اورعوام کی اہم ضرورت500کی نوٹ کا کہیں پتہ نہیں ۔ اس کے بعد سے بازار میں افراتفری مچ گئی۔ کہ لوگ اگر 100روپئے خریداری کریں اور دکان دار کو2000کی نوٹ دیں تو وہ بچے روپئے واپس کرنے کے موقف میں نہیں رہا۔ سوشیل میڈیا پر عوام ‘عورتوں اور بڑے بوڑھے حضرات کو شکایت کرتے ہوئے دکھایا گیا کہ ہمیں دودھ لینے سبزی لینے اور روز مرہ کی ضروریات لینے چھوٹے نوٹ دستیاب نہیں ہیں۔ ادھر ہائے ویز پر ٹول ٹیکس والوں کی جانب سے پرانے نوٹ رد کردینے اور بڑے نوٹ کا چلر نہ دینے سے جو ٹریفک جام ہوا اس پر حکومت کو اعلان کرنا پڑا کہ 14نومبر تک ٹول ٹیکس نہیں لیا جائے گا۔ وزیر اعظم نے اعلان کیا تھا کہ دو دن میں اے ٹی ایم کام کرنے لگیں گے۔ لیکن بعد میں وزیر خزانہ ارون جیٹلی نے اعلان کیا کہ پرانے نوٹوں کی جگہ نئے نوٹ کے سائز کے باکس جب تک اے ٹی ایم مشینوں میں نہیں لگیں گے اس وقت تک اے ٹی ایم صرف 100روپئے کے نوٹ ہی دے پائیں گے ۔ اے ٹی ایم کی ناکامی سے بھی بنکوں کے سامنے قطاریں بڑھتی گئیں۔ حکومت نے بھلے ہی یہ اعلان کیا کہ وہ اس فیصلے سے قبل تیاری کرچکی تھی اور نئے نوٹ وافر مقدار میں چھاپ لیے گئے ہیں۔ لیکن اب تک نئے500کے نوٹوں کی عدم دستیابی سے حکومت کے اعلان کی تصدیق نہیں ہوتی۔ پرانے نوٹوں کو واپس لینے کے طریقہ کار پر دہلی کے چیف منسٹر ارویند کیجریوال مسلسل سوال اٹھارہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جب2000کی نوٹ لائی جائے گی تو کالا دھن رکھنا اور آسان ہوجائے گا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ برسراقتدار پارٹی کے دولت مند طبقے کو پہلے سے نوٹوں کی تبدیلی کا علم تھا یہی وجہہ ہے کہ وزیر اعظم کے اعلان سے دو دن قبل ہی فیس بک پر آئی ایک تصویر میں ایک نوجوان قائد کے ہاتھوں میں نئے نوٹوں کا بنڈل دکھایا گیا ہے۔ کیجریوال نے کہا کہ ان کی عام آدمی پارٹی نے سب سے پہلے کالے دھن کے خلاف آواز اٹھائی تھی لیکن انہوں نے کہا کہ دیش کے دولت مندوں کا اصل کالا دھن سویس بنکوں میں پڑا ہے۔ اور ہندوستان میں جو کالا دھن ہے حکومت اس طرح غریب عوام کو مشکلات میں ڈال کر کیسے نکالے گی۔ انہوں نے اس خدشے کا اظہار کیا کہ کچھ عناصر کالے دھن والوں کو نئے نوٹ کمیشن پر سپلائی کرسکتے ہیں۔ وزیر اعظم کے اعلان کے اگلے دن ہی ایک رکن اسمبلی کی تصویر آئی جس میں اس کی جانب سے غریبوں کو فی کس تین لاکھ لون دینے کا اعلان کیا گیا تھا۔ کہا جارہا ہے کہ دیش کا سب سے زیادہ کالا دھن سیاست دانوں کے پاس ہے اور حکومت کا یہ اقدام انتخابات سے قبل کالے دھن کو باہر لانا ہے لیکن سیاست دان غریبوں کو چھ مہینے تک بغیر کسی سود کے قرض دے رہے ہیں اور ان سے بعد میں سفید دھن لینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ وزیر اعظم کے فیصلے کے بعد خدشہ ہے کہ کالا دھن اکاؤنٹ رکھنے والے غریب عوام کے کھاتوں میں ڈال کر آہستہ آہستہ نکالا جاسکتا ہے اس کوشش کو دبانے کے لیے حکومت نے اعلان کیا کہ اگر کسی کھاتے میں بغیر آمدنی کے اعلان کے ڈھائی لاکھ سے زیادہ جمع ہوں تو ان پر ٹیکس کے علاوہ دوسو فیصد جرمانہ عائد ہوگا۔ بہر حال ان حالات میں ہندوستان کے غریب عوام کو کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ نوٹوں کی منسوخی کے اعلان کے دوسرے دن ہی وزیر اعظم جاپان کے دورے پر جاچکے تھے۔ جس پر انہیں کافی تنقیدوں کا سامنا کرنا پڑا۔ ملک سے واپسی پر انہوں نے ایک تقریب میں خطاب کرتے ہوئے عوام سے جذباتی انداز میں کہا کہ دیش کی جنتا نے انہیں چنا ہے وہ دیش کے لیے اپنے گھر کو چھوڑے ہیں انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ اس فیصلے سے جو مشکلات سامنے آرہی ہیں اس پر وہ ان کا ساتھ دیں۔ انہوں نے کہا کہ 50دن تک و ہ صبر کریں اس کے اندر کالا دھن سب باہر آجائے گا اور ملک دشمن کے عزائم سے پاک ہوجائے گا۔ وزیر اعظم نے جب پہلے دن یہ اعلان کیا تھا تو عوام نے اس کا خیر مقدم کیا تھا۔ لیکن جب ان کے خون پسینے کی کمائی کے حصول کے لیے انہیں بنکوں کے سامنے لمبی قطاروں میں کھڑے ہونا پڑا تو ملک بھر سے حکومت کے فیصلے کے خلاف غم و غصے کا اظہار ہورہا ہے۔ سوشیل میڈیا پر بنکوں کے سامنے عوام کی لمبی قطاریں دکھائی جارہی ہیں۔ دواخانوں میں زیر علاج مریض اس فیصلے سے متاثر ہوئے ہیں۔ جن کے گھر شادیاں تھیں وہ منسوخ ہوچکی ہیں۔ رات میں اچانک یہ افواہ پھیلتی ہے کہ نمک اور شکر کی قلت ہے اور عوام رات کے بارہ بجے یہ اشیا لینے دکانوں پر ٹوٹ پڑتے ہیں۔ یہ تو اچھا ہوا کہ گزشتہ تین دن سے چھٹی رہی اور لوگ بھی اپنے خرچے کے چار ہزار روپئے لانے بنک کی لائن میں کھڑے رہے لیکن جب بازار اور سرکاری دفاتر اور اسکول و کالج کھلیں گے اور عوام کے ہاتھوں میں لین دین کے لیے چھوٹی کرنسی نہیں رہے گی اور اتفاقی حالات میں بڑی رقم نہیں رہے گی تو ہندوستان میں اگلے کچھ دنوں میں بڑے ہنگامی حالات پیدا ہوسکتے ہیں۔ اس ترقی یافتہ دور میں حکومت یہ کیوں واضح نہیں کر رہی ہے کہ عوام کو درکار نئے نوٹ جلدی ان تک کیوں نہیں پہونچ رہے ہیں۔ پانچ سو کا نوٹ کب بڑی تعداد میں باہر آئے گا۔ اور عوام کو ان کے پیسوں میں سے ان کی ضرورت کے پیسے کب بنک سے نکالنے کی سہولت ہوگی۔ حکومت جہاں بھی نوٹ چھاپتی ہے وہاں ایک دو دن میں بھاری مقدار میں نوٹ چھاپے جاسکتے ہیں۔ لیکن عوامی تکالیف کو دیکھنے کے باجود ان کی تکلیفوں کو دور نہیں کیا گیا تو حکومت پر سے عوام کا اعتبار اٹھ سکتا ہے۔ اس لیے حکومت کو بہت جلد ہنگامی اعلانات کرنا ہوگا۔ ابھی یہ خبر آئی کہ شادی بیاہ کے کاموں کے لیے خصوصی اجازت سے پانچ لاکھ تک نکالنے کی گنجائش دی جاسکتی ہے۔ حکومت چاہتی ہے کہ عوام آہستہ آہستہ نوٹ کم استعمال کریں اور کرنسی کے جدید ذرائع ڈیبٹ کارڈ‘کریڈٹ کارڈ ‘ اور الیکٹرانک رقمی منتقلی کی سہولت جیسے پے ٹی ایم وغیرہ کے استعمال کی عادی ہوجائییں۔ تجزیہ نگاروں کا کہنا کہ بڑے دولت مند عوام کے گھروں سے اور جیبوں سے دولت نکال کر بنکوں میں منتقل کر رہے ہیں جیسے حال ہی میں بڑے پیمانے پر ڈیبٹ کارڈ اسکام کی خبر آئی تھی اگر ایسی ہی کوئی خبر آئے کہ بنکوں کے نظام میں وائرس آگیا ہے اور لوگوں کے کھاتے جام ہوگئے ہوں تو غریب عوام جو کارڈوں میں اور فون کے ذریعے رقمی منتقلی کو فیشن سمجھ کر جی رہے ہیں وہ راتوں رات کنگال بن سکتے ہیں۔ اس لیے کالے دھن والے اور سیاست دان جس طرح سونے کی خریدی اور پراپرٹی میں اپنا دھن محفوظ کرتے ہیں اسی طرح تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ دولت کے محفوظ رکھنے کا یہ ایک طریقہ ہے۔ حکومت نے بڑی مقدار میں سونا خریدنے والوں پر شکنجہ کسنے کا اعلان کیا ہے کہ جنوری میں بنک لاکر چیک کئے جائیں گے۔ حکومت سے عوام کا مطالبہ ہے کہ وہ فوری کرنسی بحران کو دور کرے۔ صرف ٹی وی پر بیان بازی کے بجائے زمینی حقیقیت دیکھی جائے کہ عوام کس قدر پریشان ہورہے ہیں۔ بازار میں اگر دولت کا چکر مناسب نہ چلے تو اس کے طویل مدتی اثرات پڑ سکتے ہیں۔ اب بھی روزانہ کئی ہزار کروڑ کے کاروبار نہ ہونے کی اطلاعات مل رہی ہیں۔ تلنگانہ کے چیف منسٹر نے کہا کہ اگلے ماہ سرکاری ملازمین کو تنخواہ آدھی ہی دی جاسکے گی کیوں کہ خزانہ خالی ہے۔ اس طرح کے مایوس کن بیانات سے عوام کے دلوں میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ عوام کو خوشیاں دینے کے لیے ان کا انتخاب عمل میں لایا تھا جب کہ یہ سیاست دان اپنے عوام دشمن فیصلوں سے ان کی زندگیوں سے کھیل رہے ہیں کیوں کہ ابھی تک نوٹوں کے حصول کے لیے لائن میں کھڑے ہونے اور دواخانوں میں علاج نہ ہونے کے سبب کئی اموات کی اطلاعات آگئی ہیں۔ حکومت چاہے تو اس ہنگامی صورتحال پر قابو پاسکتی ہے۔ نوٹوں کی طلب اور رسد میں توازن لایا جائے۔ اے ٹی ایم مشینوں کو فوری کارکرد بنایا جائے۔ عوام کی ضرورت کے مطابق انہیں رقم مہیا کرائی جائے اور ملک میں معاشی سرگرمیوں کو بحال رکھا جائے۔ عوام کے اعتماد کی بحالی کے لیے سیاست دان ان سے بات کریں۔ اور عوام کو خوش کرنے والے کچھ کام کریں۔ ورنہ جو عوام اپنے پسندیدہ قائدین کو ووٹ ڈال کر لائی تھی وہی عوام اپنی ووٹ کی طاقت سے انہیں اقتدار سے بھی بے دخل کرسکتی ہے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

ڈاکٹر محمد اسلم فاروقی

ڈاکٹر محمد اسلم فاروقی سینیئر صحافی اور صدر شعبہ اردو گری راج کالج نظام آباد ہیں ۔اس سے پہلے روزنامہ سیاست حیدرآباد میں بحیثیت سب ایڈیٹر اپنی خدمات دے چکے ہیں۔

متعلقہ

Back to top button
Close