خصوصیمذہبی مضامین

عیدالفطر کے پیغام کو سمجھیں مسلمان!

یہ ایک تشویشناک امر ہے کہ مسلمان فی زمانہ سخت اختلاف وانتشار کے شکار ہیں، ان کے درمیان اتحاد ویکجہتی ختم ہوگئی ہے۔

مولانااسرارالحق قاسمی

اسلام نے اتحاد قائم کرنے کے لیے اپنے ماننے والوں کو اجتماعی نظام دیا ہے جس کے ذریعہ مسلمانوں کے درمیان اتحاد قائم ہوتا ہے۔مثال کے طورپر دن بھر میں پانچ وقت کی نمازوں کو فرض کیا گیا ہے اور ان پانچ فرض نمازوں کو جماعت کے ساتھ ادا کرنے کی تاکید کی گئی ہے۔تاکہ محلہ دار دن رات میں پانچ بار مسجدمیں ایک ساتھ جمع ہوں، ایک ساتھ رکوع وسجود کریں۔ ظاہر ہے کہ جب روزانہ وہ متعینہ لوگ اللہ کے گھر میں ایک دوسرے کودیکھیں گے، توانھیں ایک دوسرے کے ساتھ وقتاً فوقتاً بات کرنے کا موقع بھی ملے گا، اس طرح ان کے درمیان آپس میں تعارف ہوگا، میل جول ہوگا، مسجد سے نکلنے کے بعد وہ ایک دوسرے کے کام آئیں گے۔جمعہ کے دن نمازِ جمعہ کو شہر کی جامع مسجد میں ادا کرنے کی تاکید کی گئی ہے۔ اگر دیکھا جائے تو یہ ایک بہت بڑااجتماع ہے اور پورے شہر کے لوگ اس میں شریک وموجود ہوتے ہیں۔ ہر جمعہ کے دن جب ایک دوسرے کو دیکھیں گے تو ضرور ایک دوسرے کو پہچانیں گے، کچھ لوگوں کے درمیان بات چیت بھی ہوگی اور پھر ان کے درمیان میل جول بڑھے گا۔ سال میں دوبار عیدگاہ میں شہر اور قرب وجوار کے مسلمانوں کو جمع ہونے کا موقع دیا گیا۔یہ اجتماع نہ صرف شہر بلکہ شہر کے مضافات کو بھی اپنے دائرے میں لیے ہوئے ہوتا ہے۔عید گاہ میں دو مواقع نماز ادا کرنے کے عید الفطر اور عیدالاضحی کی شکل میں ہوتے ہیں۔ حج کے موقع پر عالمی اجتماع ہوتا ہے اور تمام عالم کے مسلمانوں کے درمیان محبت وبھائی چارگی اور اخوت و اتحاد قائم کرنے کا یہ موثر ذریعہ ہے۔اسی طرح اور بھی متعدد چیزیں اسلام میں ایسی رکھی گئی ہیں جو ایک ساتھ کی جاتی ہیں۔ جیساکہ روزہ بھی متعینہ دنوں میں سب پر فرض کیا گیا۔ چنانچہ رمضان میں سارے مسلمان روزے سے ہوتے ہیں، اور اس حال میں وہ ایک دوسرے سے ملتے ہیں تو ان کے لیے ہمدردانہ جذبہ ان کے سینوں میں موجزن ہوتاہے۔ گویاکہ اسلام کے اجتماعی نظام سے مسلمانوں کے مابین اتحاد واتفاق کا کام لیا جاسکتاہے۔

عید الفطر مسلمانوں کے لیے خوشی کا موقع ہوتا ہے۔ وہ اس دن کا خاص اہتمام کرتے ہیں، نئے کپڑے پہنتے ہیں، اچھا کھانا بناتے ہیں، رشتہ داروں کے یہاں جاتے ہیں اور انھیں اپنے گھر بلاتے ہیں، گلے بھی ملتے ہیں، مصافحہ بھی کرتے ہیں۔ اس موقع پر ان کے چہرے خوشی سے تمتاتے ہوئے ہوتے ہیں۔ اس دن ہر شخص مسرور نظر آتا ہے، مثبت فکر رکھتا ہے، ایک دوسرے کو اچھی نظر سے دیکھتا ہے، کسی کے لیے بغض اور کدورت نہیں رکھتا۔ مبارکبادیوں کا سلسلہ چلتا ہے۔یہ دن مسلمانوں کے مابین اتحاد بین المسلمین کے قیام کی دعوت دیتا ہے۔کاش مسلمان عید الفطر کے پیغام کو سمجھتے اور اس پر عمل پیرا ہوتے۔ عید الفطر کا پیغام یہ ہے کہ جس طرح مسلمان ایک دوسرے کے لیے اس دن نرم گوشہ رکھتے ہیں، اسی طرح دوسرے دنوں میں بھی ایک دوسرے کے تئیں نرم گوشہ رکھیں، جس طرح ایک دوسرے سے خوشی کے ساتھ اس دن ملتے ہیں، اسی طرح دوسرے دنوں میں بھی ملا کریں، جس طرح اس دن مصافحہ اور معانقہ کرتے ہیں، اسی طرح دوسرے دنوں میں بھی مصافحہ اور معانقہ کیا کریں، جس طرح اس دن رشتہ داروں کو عزت دیتے ہیں، اسی طرح دوسرے دنوں میں بھی عزت دیا کریں، جس طرح اس دن مثبت سوچتے ہیں اور خوشی کی خوشبو بکھیرتے ہیں اسی طرح دوسرے دنوں میں بھی خوشی کا مظاہرہ کیا کریں۔ تو یقیناًمسلمانوں کے معاشرے میں پائے جانے والے باہمی اختلافات ختم ہوجائیں گے، عائلی اور خاندانوں جھگڑوں کا سد باب ہوجائے گا۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ عید کے موقع سے فائدہ اٹھائیں اور اپنی صفوں میں اتحاد قائم کریں۔

یہ ایک تشویشناک امر ہے کہ مسلمان فی زمانہ سخت اختلاف وانتشار کے شکار ہیں، ان کے درمیان اتحاد ویکجہتی ختم ہوگئی ہے۔مسلمان چھوٹی چھوٹی ٹکڑیوں میں تقسیم ہوگئے ہیں۔ اور یہ تقسیم کہیں مسلک کے نام پر ہے، کہیں برادری کے نام پر ہے، کہیں خاندان اور قبیلے کے نام پر ہے۔ ان اختلافات کے سبب مسلمانوں کے درمیان بعض اوقات شدید لڑائیاں ہوجاتی ہیں، بعض مرتبہ ایک دوسرے کو مٹانے کے درپے ہوجاتے ہیں۔ اس صورت حال نے ساری دنیا سے مسلمانوں کے دبدبے کو ختم کردیا ہے۔ غیرمسلم اقوام نے اس بات کو جان لیا ہے کہ بھلے ہی دنیا بھر میں مسلمانوں کی تعداد ایک ارب ہو یا ہو اس سے زیادہ لیکن یہ بڑی تعداد بھی بے اثر ہے۔ کیونکہ فی الواقع ان کے درمیان اس قدر گروہ ہیں کہ ایک ارب سے زائد مسلمانوں کی تعداد کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔

عملاً ایسے بہت سے واقعات ثبوت کے طورپر پیش کیے جاسکتے ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ مسلمانوں کی رواں صدی میں نہ کوئی حیثیت ہے اور نہ کوئی طاقت۔ گزشتہ کئی سالوں سے ملک شام میں مسلمانوں کے درمیان تباہی وبربادی کا جوسلسلہ چل رہا ہے، وہ تھمنے کا نام نہیں لے رہاہے۔ شام میں لڑنے والے دونوں گروہوں کا تعلق مسلمانوں سے ہے۔ مسلمانوں کی اس لڑائی اور باہمی منافرت کا فائدہ غیرملکی طاقتیں اور قومیں اٹھارہی ہیں۔ چنانچہ دیکھا جاسکتاہے کہ دوسرے ممالک نے وہاں مداخلت کرنی شرو ع کردی ہے۔ اور اس کی کمزوری سے سیاسی فائدے اٹھانے شروع کردیے ہیں۔ اس سے پہلے کئی مسلم ممالک باہم لڑکر تباہ وبرباد ہوکر بے حیثیت ہوچکے ہیں۔ آج ان کا کوئی پرسان حال بھی نہیں ہے۔ میانمار میں جس طرح مسلمانوں کو قتل کیا گیا،اور ان کے ساتھ تشدد وبربریت کے پہاڑ توڑے گئے تو اس کی ایک وجہ یہ نظرآتی ہے کہ میانمار کی غیر مسلم طاقتیں یہ اچھی طرح جانتی ہیں کہ میانمار کے مسلمانوں پر چاہے کتنے ہی ظلم ڈھالیے جائیں، ظالموں کا کچھ بگڑنے والا نہیں ہے، اس لیے کہ میانمار کے مسلمانوں کی حمایت کرنے والا کوئی نہیں ہے۔افسوس کی بات یہ ہے کہ گزشتہ چند سالوں کے درمیان میانمارمیں مسلمانوں کی جو درگت بنائی گئی ہے، اس پر کوئی احتجاج کرنے والا بھی نہیں ہے، کوئی مسلمان میانمار کے حکام سے بات کرنے کے لیے بھی تیار نہیں ہے۔اس کا نتیجہ یہ سامنے آرہا ہے کہ وقت کے ساتھ میانمارکے مسلمانوں کے دشمن مسلمانوں پر عرصۂ حیات تنگ کرنے کے نئے نئے انداز اختیارکررہے ہیں اور ان ان پر ظلم ڈھارہے ہیں۔

اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ چھوٹی چھوٹی قومیں بھی مسلمانوں کو مٹانے پر کمر بستہ ہیں۔ مسلمانوں کے مقابلے میں آنے، انھیں للکار نے، انھیں قتل کرنے اور ان پر ظلم ڈھانے کی ہمت انھیں اس لیے ہی ہوئی کہ وہ یہ جان چکے ہیں کہ مسلمانوں کی تعداد دکھاوے کی ہے ورنہ اس تعداد میں کوئی دم خم نہیں ہے۔ایسے حالات میں مسلمانوں کو وقت ضائع کیے بغیر اپنے درمیان اتحاد قائم کرلینا چاہیے۔ اتحاد قائم کرنے کے لیے اسلامی تعلیمات اور اصول وضوابط کو سامنے رکھا جائے اور ان مواقع سے فائدہ اٹھایاجائے جن کے ذریعہ مسلمانوں کے درمیان سے اختلاف ختم ہوں اور ان کے مابین اتحاد قائم ہو۔یہاں یہ بات بھی یاد رکھنی ضروری ہے کہ اگرمسلمانوں نے وقت کی نزاکت وحالت سے سبق نہ لیا اور اپنی صفوں میں اتحاد پیدا نہ کیا تو آنے والا وقت ہمارے لیے اور زیادہ خطرناک ہوسکتا ہے۔اور ہماری آنے والی نسلوں کوبھی اس کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔ دانشمندی کا تقاضہ ہے کہ اس بابت بلاتاخیر قرآن وحدیث پر عمل کیا جاتائے۔

عید الفطر کے دن ان غریبوں، مفلسوں اور ناداروں کو بھی فراموش نہ کیاجائے جو غربت وافلاس کی زندگی گزاررہے ہیں۔ انھیں صدقۂ فطردیا جائے اور عید کی نماز سے پہلے پہلے دے دیاجائے۔ اسلام نے صاحب نصاب افراد پر صدقۃ الفطر کو لازم قرار دیا ہے، تاکہ کمزور طبقات کی بھی ہمت افزائی ہوسکے اور وہ بھی دوسروں کی طرح عید کی خوشیوں میں شریک ہوسکیں۔ اللہ تعالیٰ تمام مسلمانوں کو عید کی خوشیاں نصیب فرمائے اور اسے دنیابھر میں اجتماعی امن و امان اور سلامتی و خوشحالی کا پیش خیمہ بنائے۔ (آمین)

مزید دکھائیں

ایک تبصرہ

  1. انتہائی بہترین تجزیہ
    مولانا اسرار الحق صاحب

متعلقہ

Close