خصوصیسیاست

غزل غالب کی ہو، اس میں بھی  مودی کا بیاں کیوں ہو 

ڈاکٹر سلیم خان

بی جے پی نے مودی جی کو اقتدار میں لانے کی خاطر راہل گاندھی کو پپو ّ بنادیا۔ اس کے جواب میں کانگریسیوں نے مودی کو گپوّ کے لقب سے نواز دیا۔ ۲۰۱۴ ؁ کے انتخاب میں پپو فیل ہوگیا اور گپو پاس ہوگیا ۔ وقت کے ساتھ راہل نے اپنی شبیہ بدل دی اور  ۲۰۱۹ ؁ میں اگر  کوئی راہل کو  پپو کہتا ہے تو لوگ اس کو مودی جی اندھے بھکتوں کے ریوڈ  میں شمار  کرنے لگتے ہیں۔    اسی کے ساتھ یہ بھی  ایک تلخ حقیقت ہے کہ اقتدار میں آنے کے بعد مودی جی  نےاپنے آپ کو گپوّ   ثابت کرنے  میں غیر معمولی  کامیابی حاصل کی۔ اب حالت یہ ہے کہ   راہل گاندھی دن بہ دن پراعتماد ہوتے جارہے ہیں اور مودی جی ہر روز اپنی اعتباریت پر پانی پھیر رہے  ہیں۔ ایسے میں یہ غلط فہمی ہوسکتی ہے کہ  وزیراعظم کی خستہ حالی کا کریڈٹ تنہا راہل گاندھی کے سر ہے لیکن یہ مفروضہ غلط  ہے۔ مودی جی کے  دشمنوں کی فہرست  میں راہل گاندھی کانام  شامل تو ہے مگر  بہت نیچے آتا ہے۔ آنجہانی کانشی رام کے لہجے میں کہا جائے تو  ’ مودی جی کے دشمن چار، تلک ترازو،شودر، تلوار‘ ۔ نرگسیت کا شکار  وزیراعظم کویہ  دشمن دکھائی نہیں دیتے اسی لیے وہ کہتے ہیں؎

یہ کہہ سکتے ہو "ہم دل میں نہیں ہیں” پر یہ بتلاؤ

کہ جب دل میں تمہیں تم ہو تو آنکھوں سے نہاں کیوں ہو

کل یگ میں منو شاستر  کے ورن آشرم کی  ترتیب  بدل گئی ہےمگردشمنوں کی قطار  میں اب بھی  سب سےاونچا مقام  براہمنوں  کے تلک  کا ہے ۔   یہ جانتے ہوئے بھی کہ مودی براہمن نہیں ہیں  سنگھ نے بادلِ ناخواستہ  ان کے مکٹ (تاج)  پر  تلک لگا رکھا ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ تلک   دھاری مودی کی ذاتِ والا صفات ہی ان کی دشمن اول ہے ۔  مودی جی کی  خود پسندی  نے  ان کو جتنا  نقصان پہنچایا ہے اتنا کسی اور کے بس کی بات  نہیں ہے۔ وہ اپنے آپ کو دیکھ دیکھ کر اور اپنی احمقانہ باتوں کو سن سن کر پھولے نہیں سماتے اس لیے اصلاح حال کا دروازہ ہی نہیں کھلتا اور دن بہ دن  حماقتوں میں اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے۔ اب  یہ دباو اتنا بڑھ چکا  ہے کہ  کسی بھی وقت ۵۶ انچ کی چھاتی کو  پھاڑ کر باہر آ  سکتا ہے۔ اس کے چلتے  دماغ اور زبان کا تعلق منقطع ہوچکا۔ وہ خود نہیں جانتے کہ کیا اوٹ پٹانگ بول رہے ہیں۔ جسودھا بین سے ناطہ توڑ کر اقتدار کی پری  پر فریفتہ  دل پھینک عاشق کی اپنی قوت گویائی سے شکایت بجا ہے ؎

کسی کو دے کے دل کوئی نوا سنجِ فغاں کیوں ہو

 نہ ہو جب دل ہی سینے میں تو پھر منہ میں زباں کیوں ہو

وزیراعظم پر آج کل خطابات عام کے علاوہ ٹیلیویژن انٹرویو کا بھوت سوار ہے۔ ان کی تقاریر تفریح کا سامان ضرور ہوتی ہیں لیکن انہیں    سنجیدگی سے نہیں لیاجاتا تھا۔ جب وہ تمام  اخلاقی حدود کو پامال  نہیں کردیتے ان پر بحث مباحثہ نہیں  ہوتا ہے۔ اس لیے  انتخابی مہم کے آخری مرحلے میں  ضابطہ ٔ اخلاق کے نافذ ہوجانے کے باوجود ان سے یہ  حرکت  بار بار سرزد ہوتی رہی  مگر بدنامی کے سوا کچھ ہاتھ نہ آیا۔ فی الحال  ان کے انٹرویو موضوعِ بحث بنے ہوئے  ہیں۔ اپنے احمقانہ دلائل سے انہوں نے ہر خاص و عام کی توجہ  اپنی جانب مبذول کرنے میں کامیابی حاصل کرلی ہے۔ ان  مکالمات میں مودی جی جن تیار شدہ سوالات کے بنے بنائے جوابات دیتے ہیں ان میں چند چیزیں مشترک ہوتی ہیں۔ حزب اختلاف خاص طور پر نہرو خاندان کی تضحیک اور پاکستان کی  تذلیل و مغلظات۔ دیش بھکتی اور ائیراسٹرائیک کے علاوہ  ہمدردی سمیٹنے کی خاطر اپنے آپ کو غریب مسکین چائے والے کا بیٹا  بناکر پیش کرنا۔   وزیراعظم دوسروں  کو برا بھلا کہہ کر عوام کو اپنا بنانا چاہتے ہیں  لیکن غالب تو پہلے ہی فرما گئے کہ اس طرح دال نہیں گلتی۔  یہ حسن اتفاق ہے کہ اس مقطع میں اگر غالب کو مودی سے بدل دیا جائے تو اس کا وزن بھی نہیں بگڑتا؎

نکالا چاہتا ہے کام کیا طعنوں سے تُومودی

 ترے بے مہر کہنے سے وہ تجھ پر مہرباں کیوں ہو

یہاں پر ’وہ‘ سے مراد ملک کے عوام ہیں۔ مودی جی کا دعویٰ ہے کہ دیش کے لیے انہوں نے اپنا گھر بار چھوڑ دیا  لیکن حقیقت یہ ہے کہ اقتدار کی خاطر وہ  عوام کو چھوڑ کر سرمایہ داروں کے چوکیدار بن گئے۔ اپنی اس شبیہ کو بدلنے کے لیے   اپنے حالیہ انٹرویو  میں انہوں نے دہلی کے لٹین علاقہ میں رہنے والے امیر کبیر لوگوں کو  تنقید کا نشانہ بنا دیا ا ور اپنی غربت کو اس طبقہ  میں عدم   مقبولیت کےلیے ذمہ دار قرار دے دیا۔ ایسے میں  ضروری معلوم ہوتا ہے مودی جی  کے معیار زندگی کا مختصر جائزہ لے لیا جائے۔ ریس کورس روڈ  پر واقع ۱۲ ایکڑ پر محیط  پانچ کوٹھیوں پر وہ  فی الحال قابض ہیں۔  پہلے بھی وزیراعظم وہیں رہتے تھے لیکن کوئی اپنی مسکینی کا ڈھنڈورا نہیں پیٹتا تھا۔ اس  مکان کی دیکھ ریکھ کے لیے مامور  مالیوں، خدمت گاروں، باورچیوں، ڈرائیوروں اور بجلی کی  کاریگروں  کی جملہ  تعداد ۵۰ ہے۔ اس کے علاوہ ۲۴ گھنٹوں کال پر ڈاکٹر، نرس، درزی اور حجام موجود ہے۔ سوال یہ ہے کہ   ۲۰ گھنٹہ کام کرنے والے اس  غریب سنگھ پرچارک کو آخر اس عیش و عشرت کی کیا ضرورت ؟

مودی جی خوب سفر کرتے ہیں اس لیے ان کی خدمت میں پہلے سے پانچ بلیٹ پروف بی ایم ڈبلیو گاڑیاں موجود تھیں اس  کے باوجود انہوں نئی رینج روور منگوالی ہے۔ وہ  ائیر انڈیا کے جمبو جیٹ میں ایک نہایت مختصر عملہ کے ساتھ سفر کرتے ہیں۔ یہ کسی چھوٹے سے پرتعیش  جہاز میں بھی ممکن ہے۔ آرٹی آئی کے مطابق اس ایک سال میں ان کے غیر ملکی دوروں کا بل ۴۴۳ کروڈ ہے۔ اس معلومات کے بعد انہوں نے ارجنٹینا اور جاپان ملاکر پانچ ممالک کا دورہ کیا۔ پہلے کے چار سالوں کا خرچ ۲ ہزار کروڈ ہے۔   اندرون ملک ان کے سفر کا خرچ رکھنے کی زحمت نہیں کی جاتی۔  ۲۰۱۸ ؁ تک اپنی تشہیر پر مودی جی سرکاری خزانے سے ۴ہزار ۴ سو کروڈ روپئے پھونک دیئے اور اس انتخابی مہم سے قبل بی جے پی نے  جو ۲۱۰ کروڈ روپئے چندہ وصول کیا ہےاس کا بڑا حصہ مودی جی جلسوں پر لٹایا  جارہا ہے۔ جہاں تک لباس کا سوال ہے مودی جی کا دس لاکھ والا کوٹ،برانڈیڈ گھڑی، عینک اور شال   ضرب المثل بنے ہوئے ہیں۔  ایسی ٹھاٹ باٹ کی زندگی بسر کرنے والے وزیراعظم  کو چھوڑ کر دیگر جماعتوں کا رخ کرنے والے  غریب  رائے دہندگان ان سے کہہ رہے ہیں؎

کہا تم نے کہ کیوں ہو غیر کے ملنے میں رسوائی

 بجا کہتے ہو، سچ کہتے ہو، پھر کہیو کہ ہاں کیوں ہو

مودی جی دشمنوں میں دوسرے نمبر پر ان کے وہ کرم فرما ہیں جو انہیں  خطابات عام کی  تقاریر  یا انٹرویو کے  سوالات و جوابات لکھ کر دیتے ہیں۔ یہ کوئی الزام نہیں ہے۔ نیوز نیشن کے انٹرویو میں جس کاغذ کے اوپر مودی جی نام نہاد شاعری لکھی ہوئی تھی اس پر سوال بھی درج تھا۔ اس کو ساری دنیا نے اپنی آنکھوں سے دیکھا۔  ایسا لگتا ہے ان لکشمی کے پجاری صحافیوں نے ویشیہ (بنیا) ورن اختیار کررکھا ہے جس میں منافع خوری ہی سب سے بڑا دھرم ہے۔ ان  پڑھے لکھے لوگوں سے یہ توقع نہیں کی جاسکتی کہ وہ ایسی اوٹ پٹانگ باتیں لکھ کر وزیر اعظم کو دیتے ہوں گے جومودی جی  ارشاد فرماتے رہتے  ہیں مثلاً بادلوں کے سبب ائیر اسٹرائیک کے دوران جنگی طیاروں کا  راڈر کی شعاعوں سے محفوظ ہوجانا یا ۱۹۸۸ ؁ میں ڈیجیٹل کیمرے سے اڈوانی جی کی   رنگین تصویر نکال کر ویرگام سے ای میل کے ذریعہ اسے دہلی روانہ کردینا۔ اس تصویر کو دوسرے دن اخبار   میں دیکھ کر اڈوانی جی کا حیرت زدہ رہ جانا۔

  یہ ایسا بے فائدہ جھوٹ ہے کہ انٹرویو کے اندر اس کی مطلق ضرورت نہیں تھی۔ ایک ایسے وقت میں جب ڈیجیٹل کیمرہ ایجاد نہیں ہوا تھا اور ہندوستان کے بڑے شہروں میں بھی انٹرنیٹ  کی خدمات عام نہیں ہوئی تھیں مودی بابا نے یہ چمتکار کردکھایا کیونکہ ’مودی ہے تو ممکن ہے‘ یعنی بڑا سے بڑا  جھوٹ  بول دینا ممکن ہے۔   ان ساری باتوں کا تعلق چونکہ مودی جی کی ذاتی زندگی سے  ہے اس لیے کسی اور کے لکھ کر دینے کا سوال ہی پیدا  نہیں ہوتا۔انٹرویو لینے والے تعلیم یافتہ صحافی اگر چاہتے تو مودی جی خبردار کرسکتے تھے۔ مودی جی  کے یہ چھپے  دشمن اگر اس میں دس سال  کا اضافہ کروا دیتے اور اسے ۱۹۹۸ ؁ سے منسوب کردیتے تویہ کذب بیانی چھپ سکتی تھی  لیکن انہوں نے اپنے مفاد کی خاطر ایسا نہیں کیا ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ  مودی جی  صرف اپنے من کی بات  سناتے ہیں کسی ایک  نہیں سنتے۔   ویسے جب قدرت کو انہیں بے نقاب کرنا مقصود ہو تو کس کی مجال ہے  کہ آڑے آئے۔ انتخابی ناکامی کے بعد  آزمائش میں ڈالنے والے ان دوست نما  دشمنوں سے مودی جی   کہیں گے ؎

یہی ہے آزمانا تو ستانا کس کو کہتے ہیں

 عدو کے ہو لیے جب تم تو میرا امتحاں کیوں ہو

دشمنوں کی فہرست میں  تیسرے مقام پر بھکتوں کی وہ  فوج ہے جو ان کی ہر حماقت پر آنکھ موند کر ایمان لے آتی ہے۔ سنگھ پریوار نے اگر کچھ سمجھدار لوگوں کو اپنے حلقہ  اثر میں شامل  کیا ہوتا یا اپنی شاکھا میں  آنے والے کارکنان کی ٹھیک سے تربیت کی ہوتی تو اسے یہ دن نہ دیکھنا پڑتا۔ ان لوگوں کی حرکات و سکنات  دیکھ کر یقین ہوجاتا  ہے کہ   سنگھ پریوار میں پرویش (داخل)  کے بعد آدمی  کی بدھی بھرشٹ  (دماغ خراب) ہوجاتی ہے اور وہ نہ صرف اپنے رہنما کی احمقانہ تائید کرتا ہے بلکہ خود بھی  وہی سب کرتاہے۔ یہ اندھے بھکت نہ ہوتے اور وزیر اعظم پر اعتراض کرتے  تو مودی جی لامحالہ دو چار ٹھوکریں کھا کر مائل بہ اصلاح ہوجاتے لیکن ان  بھکتوں کو تو  دن رات مودی بھجن کے سوا کچھ سجھائی ہی نہیں دیتا۔ آج کل   سماجی رابطے کے ذرائع ابلاغ میں مودی بھکت سب سے بڑا کامیڈین بنا ہوا ہے اور عوام وخواص کی تفریح کا سامان کررہا ہے۔ خوش فہمیوں کے پنجرے میں بند یہ طوطے  اس طرح کے اشعار سے  ایک دوسرے کا حوصلہ بڑھاتے ہیں ؎

قفس میں مجھ سے رودادِ چمن کہتے نہ ڈر ہمدم

 گری ہے جس پہ کل بجلی وہ میرا آشیاں کیوں ہو

ایک ٹویٹ میں بھکتوں کے ارتقا ئی مراحل  کو یوں بیان کیا گیا کہ ۲۰۱۳ ؁ میں یہ کہتے تھے مودی واحد متبادل ہے۔ ۲۰۱۴ ؁  کے اندر وہ  پرجوش دعویٰ کرنے لگے کہ مودی یہ کردے گا وہ کردے گا وغیرہ۔ ۲۰۱۵ ؁ کے آتے آتے ان کے منہ لٹک گئے اور وہ کہنے لگے وہ بیچارہ تنہا  کیا کرسکتا ہے؟ ۲۰۱۶ ؁ میں حالت مزیدپتلی ہوگئی تو یوں صفائی پیش کی کہ اس نے اچھا نہ سہی، کچھ برا بھی تو نہیں کیا؟ ۲۰۱۷ ؁  میں وہ  دوسروں پر انگشت نمائی کرکے  سوال کرنے لگے   مودی سے پہلے والوں نے کیا کیا؟ پچھلے سال ۲۰۱۸ ؁ میں یہ مودی سینا  پوری طرح مدافعت میں آگئی اور یہ کہاٹھیک کچھ نہیں کیا لیکن اب متبادل  کیاہے؟  ۲۰۱۹ ؁ میں آئے دن  یہ اپنے پیروں پر سرجیکل اسٹرائیک کرکے لہولہان ہورہے ہیں۔

 ان لوگوں کے پاس مودی جی کی ہر حماقت کا جواز موجود ہے۔ وزیر اعظم جب  جھوٹ بولتے ہیں تو وہ اس کو ان  ذہانت قرار دیتے   ہیں۔ جب وہ    ضابطۂ  اخلاق کی خلاف ورزی کرتے ہیں تو ان کے نزدیک یہ  چالاکی کہلاتی  ہے۔  بی جے پی اگر تشدد پر اکسا تی ہے تو  وہ سینہ پھلا کر دلیری کی شیخی بگھارتے  ہیں۔ بی جے پی غنڈے جب  قانون ہاتھ میں لے کر  فساد برپا کرتے  ہیں تو وہ اس کو  فوری انصاف  کا نام دیتے ہیں۔  کولکاتہ کے اندر  میں زبردست  دھنائی کے بعد ان کا  عقل  ٹھکانے   آجانی  چاہیے تھی لیکن اس کے آثار نظر نہیں آتے اس لیے کہ جب دماغ موجود ہی نہیں ہے تو درست کیسے ہو؟ قانون شکنی کے باوجود  سرزنش سے بچ نکلنےکو یہ  مودی جی  کے باصلاحیت ہونے    کی دلیل بنا کر پیش کرتے ہیں۔ انہیں  بیوقوف لوگوں  کی اندھی محبت نے مودی جی کی رسوائی میں چار چاند لگا دیئے  ہیں اور یہ ان کے بہت  بڑے دشمن ہیں ۔ بقول غالب ؎

کِیا غم خوار نے رسوا، لگے آگ اس محبّت کو

 نہ لاوے تاب جو غم کی، وہ میرا راز داں کیوں ہو

راہل گاندھی کی تلوار چھاپ  دشمنی  سب سے نیچے   چوتھے نمبر پر آتی ہے۔ وہ  شال میں لپیٹ مودی جی  کے چیتھڑے اڑا رہے  ہیں۔  راہل گاندھی   نے  بی جے پی کی طرح دولت کا سہارا لینے   کے بجائے جارح حکمت عملی سے اپنی شخصیت کا لوہا   منوالیا ہے۔ اب حال یہ ہے بی جے پی کے روپیوں پر پلنے والے  نیوز چینل ان کا انٹرویو لینے پر مجبور ہوگئے ہیں۔ راہل نے صحافیوں سے گفتگو کے لیے  کسی اسٹوڈیو کا رخ نہیں کیا   بلکہ  وہ یاتو پریس کانفرنس میں کھل کر بات کرتے ہیں یا کسی  جلسۂ عام کے دوران کھلی فضا میں تکلف برطرف سوالات کے جوابات دیتے ہیں۔ ان کی سوجھ بوجھ کا ثبوت یہ ہے کہ اپنے والد پر ذاتی نوعیت کا جھوٹا الزام بھی انہیں مشتعل نہیں کرسکا۔ انہوں یہ کہہ کے سارے سنگھ پریوار کو شرمسار کردیا کہ میں ان کے والدین کو گالی نہیں دوں گا اس لیے کہ میری تربیت سنگھ کی شاکھا میں نہیں ہوئی ہے۔ میری مودی سے نہیں سنگھ کے  نفرت انگیز نظریہ   سے دشمنی  ہے  اور میں اس کی بیخ کنی کرکے رہوں گا۔وزیراعظم  کے سرجیکل اسٹرائیک کا جواب میں  وہ  غربت پر حملہ کرکے اس کا خاتمہ کرنے کا اعلان کرتے ہیں۔

نیوز نیشن جہاں کاغذ کے اوپر لکھے سوال کے ساتھ مودی جی  رنگے ہاتھ پکڑے گئے تھے راہل نے انٹرویو لینے والے دیپک چورسیا   کو اپنی حاضر جوابی سے  لاجواب کردیا۔ ان سے جب سوال کیا گیا نوٹ بندی اور جی ایس ٹی پر وزیراعظم نے پرینکا کے اعتراضات کا جواب دے دیا ہے   تو انہوں نے یہ پوچھ  لیا کہ وہ جواب یادداشت  سے دیا  گیا یا اس نوٹ شیٹ میں  درج تھا جو آپ نے فراہم کی تھی۔ بوفورس پر بحث کے لیے چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ مودی جی نوٹ شیٹ تو دور پوری کتاب بھی لائیں تو میرے چار سوالات کا جواب نہیں دے سکتے اور یہ بھی کہہ دیا کہ اگر آپ کو ڈر لگتا ہے میرا جواب حذف کردو۔ مودی اور راہل کا فرق جاننے کے لیے نیوز نیشن پر دونوں کا انٹرویو دیکھ لینا کافی ہے۔ مودی جی اگر الیکشن جیت بھی جائیں تب  بھی  اخلاقی میدان  میں وہ شکست فاش سے دوچار ہوچکے ہیں۔ انہیں اگر وزیراعظم بننے کا موقع مل بھی گیا  تو ان کی حالت بہادر شاہ رنگیلا سے  بھی  گئی گزری  ہوگی۔  مودی جی ان پانچ سال میں   اپنے سب سے بڑے حریف کا تو کچھ نہیں بگاڑ سکے  لیکن بی جے پی کو موجی پی بنا کر رکھ دیا   اور سنگھ پریوار کے ۹۰ سال کی محنت پر پانی پھیر دیا۔ سنگھ کے تناظر وزیراعظم   پر  غالب کا یہ  مشہور  شعر  من و عن صادق آتا ہے ؎

یہ فتنہ آدمی کی خانہ ویرانی کو کیا کم ہے

 ہوئے تم دوست جس کے، دشمن اس کا آسماں کیوں ہو

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

سلیم خان

ڈاکٹر سلیم خان معروف کالم نگار اور صحافی ہیں۔

متعلقہ

Back to top button
Close