خصوصیمذہبی مضامین

فضیلت رمضان کے عملی پہلو

اللہ تعالیٰ اس ماہ مبارک کی عبادات کے ذریعہ ہمیں اپنے مقصد حیات کی جامعیت اور ہمہ گیریت سے روشناس فرماتاہے۔

محمد عبد اللہ جاوید

ماہ رمضان اپنے ساتھ بے شمار رحمتیں اور برکتیں لاتا ہے‘ ان کے مستحق کون اور کیسے بن سکتے ہیں‘ اس کا فہم و شعوربھی اسی ماہ کی فضیلتوں میں سے ہے۔ ذیل میں انہیں سے متعلق تین عملی پہلوؤں کا ذکر کیا جارہاہے:

پہلا عملی پہلو

اللہ تعالیٰ رمضان کی عبادتوں کے ذریعہ ہمارے اندر تقوی کی کیفیات پیدا فرماتا ہے۔ ان کیفیات کا جس قدرشعور ہوگا‘ ممکن ہے اسی قدر رمضان اور اسکے بعد کی زندگی‘ تقوی والی زندگی ہوگی۔ ان کیفیات میں دراصل ہمارا وہ احساس اور یقین شامل ہے جس کا شعور مختلف عبادات اور معاملات انجام دیتے وقت حاصل ہوتا رہتا ہے۔ یہ احساس اس کثرت اورتیزی سے قلب وذہن میں سرایت کرجاتا ہے جیسے آسمان سے مسلا دھار برسنے والی بارش کے قطرے زمین میں جذب ہوتے ہیں۔ اس پہلوسےغورکیجئےتو معلوم ہوگاکہ سحر کیلئے جلدی اٹھنے کا معاملہ یہ احساس دلاتا ہے کہ نماز تہجد کی ادائیگی کیلئے رات کے آخری پہر اٹھنا ممکن ہے۔ یہ احساس بس ایسا ہی نہیں بلکہ وہ اپنے اندر بڑی گہرائی وگیرائی رکھتا ہے۔ یہ دراصل گہری نیند سے بیدار ہونے کی کوشش سے لے کر‘تہجد اور نماز فجر کی ادائیگی اور اس کے درمیان کی تلاوت‘ ذکر واذکار اور مناجات تک کی تمام عبادات کے ساتھ…قلب وذہن پرحب خدا اور خوف خدا کے باعظمت اورپرجلال اثرات بڑی سرعت و تیزی سے مرتب کرتا چلا جاتاہے۔ اسکے ایک ایک پل کی مٹھاس اور لطف ہی وہ اصل توانائی ہے جودن بھرکیلئے ایمانی قوت بہم پہنچاتی رہتی ہے۔

پھریہ بھی کہ روزہ کے دوران بھوک اور پیاس کی شدت کو صبر کے ساتھ برداشت کرنا‘ یہ احساس دلاتا ہے کہ ہمارے اندر کس قدروسیع وگہرا صبر کا مادہ موجود ہے؟صبر کا احساس ہی‘صبرسے کام لینا کا ذریعہ بنتا ہے۔ جب تک کسی کو معلوم ہی نہ ہو کہ اسکے پاس صبر جیسی کیسی بیش بہا دولت موجودہے‘ وہ اس سے کام لینے کی جانب توجہ بھی دے نہیں سکتا۔ لہذا روزوں سے یہ شعورپختہ ہوتا چلاجاتاہے کہ ہر حال میں صبر کرنا ممکن ہے‘ تکلیف اور آزمائش کے موقع پربھی اور کو‏ئی چیزوقت پر نہ ملے تب بھی۔ حالات سازگار ہوں تب بھی اور اور جب حالات صبر کا شدید تقاضہ کررہے ہوں تب بھی۔ غرض صبر سے کام لینا بالکل دسترس کی بات محسوس ہوتی ہے۔ قرآن مجید میں صبر کرنے والوں کی مختلف النوع  کیفات کا ذکر کچھ ایسے ہی پس منظر کے ساتھ کیا گیا ہے۔ گویا صبر کے مختلف رنگ ہوں اور ہر رنگ میں بندہ مومن کا ایک کردار جھلک رہا ہو۔ آزمائش پر صبر‘ ناپسند باتوں پر صبر‘ دل دکھانے والے رویوں پر صبر‘ ذہنی وجسمانی تکالیف پر صبر‘ نقصانات پرصبر۔ غرض صبروہ مومنانہ صفت ہے جس کے اختیار کرنے کی جانب رب کریم‘ اسکے تصور اورعملی تقاضوں کے ساتھ متوجہ فرماتا ہے۔

اسی طرح نمازوں کا اہتمام‘ قرآن مجید کی کثرت سے تلاوت‘ذکر واذکار کا اہتمام‘ دعاؤں میں دلچسپی اور دلجمعی‘ زبان اور نگاہوں پر قابو ‘ حلال وحرام کی تمیز‘زکوۃ و صدقات اوراعتکاف جیسے کئی امور ہیں جن کے انجام دینے سے ہمیں گوناں گوں خوبیوں کا بخوبی اندازہ ہوتاچلاجاتا ہے۔ ان میں کا ہر عمل انجام دینا نہ صرف آسان معلوم ہوتا ہے بلکہ اس کے فیوض وبرکات سے قلب وذہن پر پڑنے والے خوشگوار اثرات سے آگاہی بھی ہوتی چلی جاتی ہے۔ انہی فیوض وبرکات کو یادرکھنا اور ماہ رمضان اور اسکے بعد‘ اللہ کی محبت وخوف کے ساتھ زندگی گزرنا‘ تقوی کی زندگی کیلئے زاد راہ کی حیثیت رکھتا ہے۔

دوسرا عملی پہلو

ماہ رمضان میں بڑی کثرت سے عبادات کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ یوں تو دن کا ہر پل روزے کی حالات یعنی عبادت میں گزرتا ہے لیکن اس کے علاوہ پانچ وقت کی نمازیں‘ سنت ونوافل کا خصوصی اہتمام‘ تلاوت قرآن مجید‘ ذکر واذکار اور مناجات‘ قیام اللیل‘صدقات وخیرات کا اہتمام‘ اعزہ واقربا کی خبرگیری‘ دوسروں تک اسلام کا پیغام پہنچانے کی کوشش جیسی عبادتوں کے ذریعہ رمضان المبارک کے شب وروز گزرتے ہیں۔ چونکہ خدا کی بندگی‘ زندگی بھر کرنی ہے‘ اس لئے جس طرح زندگی کے لمحات کی کثرت ہوتی ہے‘اسی طرح عبادت کی بھی کی کثرت ہونی چاہئے تاکہ زندگی کا کوئی بھی شعبہ بلکہ کوئی بھی معاملہ‘خدا کی بندگی‘اس کی یاد اور اسکے احکام کی پابجائی کے بغیر نہ گزرسکے۔ لیکن یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک شخص اپنی زندگی کی بے پناہ مصروفیات اور گہماگہمی میں‘ اپنے خالق کی وسیع الاطراف بندگی کا ایسا جامع اورہمہ گیر تصور کا شعور حاصل کرسکے؟ماہ رمضان کے ایام میں کی جانے والی عبادت کی کثرت ‘ یہ زندہ احساس کراتی ہے کہ‘ تمام مراسم عبودیت اور جینا اور مرنا‘ صرف اللہ ہی کیلئے مخصوص ہونا ممکن ہے۔ یہ حقیقت بالکل ایسے ہے جیسے یہ کہنا کہ آسمانوں اور زمین کی ساری چیزوں کاانسانوں کے لئے مخصوص ہونا یہ لازم کردیتا ہے کہ ان کی مادی اور روحانی زندگیاں‘ صرف اسی خدا کیلئے خاص ہوں جس نے  انہیں اس کا‏ئنات  میں ایک بااختیار مخلوق بناکر پیدا فرمایا ہے۔

یہ عبادت کی کثرت ہی زندگی کا مقصد ہے۔ اللہ تعالیٰ اس ماہ مبارک کی عبادات کے ذریعہ ہمیں اپنے مقصد حیات کی جامعیت اور ہمہ گیریت سے روشناس فرماتاہے۔ لہذا رمضان اور اسکے بعدکی زندگی‘ اسی طرح اللہ کی کثرت سے عبادت میں گزرنی چاہئے۔ چنانچہ قرآن مجیدمیں روزوں کی فرضیت کے ساتھ‘ اسی حقیقی مقصدکا اظہار کیا گیا:

…. وَلِتُكَبِّرُوا اللَّهَ عَلَى مَا هَدَاكُمْ …..

اور جس ہدایت سے اللہ نے تمہیں سرفراز کیا ہے،  اُس پر اللہ کی کبریائی کا اظہار واعتراف کرو۔ (سورۃ البقرہ:185)

اس سلسلہ میں رسول اللہﷺ کا اسوہ حسنہ ہماری تربیت وراہنمائی فرماتاہے۔ لہذاآپ ﷺ کی ہدایات اور نصیحتوں کوجاننا اورسمجھنا‘ ماہ رمضان کے معمولات کا ایک اہم جز ہونا چاہئے۔

تیسرا عملی پہلو

تیسرا پہلو گویاپہلے دو پہلوؤں کا حتمی اور منطقی نتیجہ ہے۔ ماہ رمضان کی جن رحمتوں اور برکتوں سے فیض یاب ہوتے ہوئے‘ خدا کی مثالی عبادت میں شب وروز گزررہے ہیں‘ ان کا سلسلہ کب تک دراز رہے گا؟ ہر شخص کے دل میں اس سوال کااٹھنا لازمی ہے‘ اسی طرح‘ جس طرح زمین میں موجود بیج پر بارش پڑنے سے کونپلوں کا نکلنا۔

دلوں میں اٹھنے والا یہ سوال بڑا معروضی اور منطقی ہے جس کی بنا اور بھی کئی سوالات  ایک کے بعد دیگرے اٹھتے چلے جاتے ہیں اوروہ یہ کہ….. ان تمام عبادات کا نہایت ہی خشوع وخضوع سے اہتمام اور اس قدر نظم وضبط کے ذریعہ پورے مہینہ بھر کی ٹریننگ کس لئے؟ کیونکہ بغیر کسی مقصد کے کسی کو کہیں بھی کوئی ٹریننگ نہیں دیتا؟اور نہ ہی کوئی بغیر کسی مقصد کے کسی تربیتی کورس سے گزرتا ہے؟ اور یہ بھی کہ کام جتنا اہم ہوتا ہے اسی قدر اہم ٹریننگ کا طریقہ بھی ہوتا ہے۔

لہذاماہ رمضان کی عبادات سے یہ پہلو بخوبی منکشف ہوجاتا ہے کہ….ہر سال‘مکمل ایک ماہ…. دنیا بھر کے تمام مسلمانوں کو ایک ساتھ…. ایک ہی قسم کی ٹریننگ جس خاص مقصد کیلئے دی جاتی ہے وہ اس کے سوا کچھ نہیں کہ وہ جیسے ماہ رمضان میں ہیں ویسے ہی ایمانی جذبات و احساسات کے ساتھ دوسرے دنوں میں بھی رہنے کی کوشش کریں۔ جیسے وہ ایک اللہ کی عبادت کرتے ہیں اسی طرح سارے انسان بھی ایک اللہ کی عبادت کرنے والے بنیں۔ اس جانب وہ حاصل شدہ جذبات واحساسات کے تحت رات دن مصروف رہنے کی کوشش کریں۔ ظاہر بات ہے تمام انسانو ں کو ایک اللہ کی بندگی کی طرف بلانا‘انہیں باربار متوجہ کرنا‘ اتنا آسان نہیں۔ جب انسانوں کو اللہ کی طرف بلانے کی کوئی دنیوی غرض اور مفادات نہ ہوں تو پھر کیسے ممکن ہے کہ ہر ایک انسان کو نہایت ہی محبت اور اپنائیت کے ساتھ باربار متوجہ کیا جاتا رہے؟ اور انہیں خدا کی نعمتوں سے بہرہ ور کرنے اورآخرت کی سخت گرفت اور عذاب سے بچانے کی ان تھک کوشش کرتے رہیں؟

اس کا موزوں ترین جواب اس کے سوا اور کیا ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر سال ماہ رمضان کے ذریعہ ہمیں گناہوں‘ خطاؤں اور ان کے مضر اثرات سے پاک و صاف کرتے ہوئے ہمارے اندر وہ تمام احساسات‘جذبات اور کیفیات پیدا فرماتا ہے جوخالص اسی کی بندگی کرنے اورتمام انسانوں تک بندگی رب کاپیغام پہنچانے کے لئے ضروری ہیں۔

٭٭٭

مزید دکھائیں

محمد عبداللہ جاوید

مضمون نگار انگریزی و اردو کے معروف قلم کار ہیں۔ تعلیم کے اعتبار سے موصوف ڈبل ماسٹرز ہیں: اول نیوکلیئر اینڈ انرجی فزکس میں اور دوم سوشیالیوجی میں۔ علاوہ ازیں عربی، مطالعات ِاسلامی اور تقابل ِادیان پر بھی آپ وسیع و عمیق مطالعہ رکھتے ہیں۔ آپ کے خاص موضوعات اسلامی افکار، تعلیم، سائنس، عمرانیات، سماجی علوم ،شخصیت کا ارتقا، وسائل انسانی کی تنظیم اور حالات حاضرہ ہیں۔ موصوف ان دنوں مختلف سماجی فورمز پر فعال کردار ادا کررہے ہیں۔ علاوہ ازیں آپ اپنے ایک نجی تحقیقی ادارہ - اے جے اکیڈمی فار ریسرچ اینڈ ڈیلوپمنٹ - کے تحت اساتذہ اور طلبہ کی تربیت اور ان میں سائنسی و تحقیقی رجحان پیدا کرنے کیلئے مصروف عمل ہیں۔ قرآن و حدیث اور سیرت رسول ص پر آپ کی چھ کتابیں شائع ہوئیں ہیں۔ان کے علاوہ تربیت وتنظیم، دعوت ، تعلیم ، شخصیات اور مختلف سماجی مسائل پر کئی کتا بچے اور مضامین بزبان اردو و انگریزی ملکی وبین الاقوامی اداروں سے شائع ہوئے ہیں۔

2 تبصرے

  1. محترم برادر عبداللہ جاوید صاحب
    السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
    ماشاءاللہ مختلف ٹاپک پر آپ کے مضامین سے میں استفادہ
    کرتا رہتا ہوں، رمضان سے متعلق آپ کے اس مضمون کو پڑھ کر
    بہت اچھا لگا، جزاک اللہ خیرا
    والسلام
    اعظم خان

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close