تعلیم و تربیتخصوصی

فضیلت علم: قرآن کریم کی روشنی میں

ڈاکٹر محمد واسع ظفر

یوں تو علم کی اہمیت اور افادیت کو تمام ادیان نے تسلیم کیا ہے لیکن اسلام نے علم اور اہل علم کو جو مقام عطا کیا اس کی نظیر دوسرے ادیان میں شاید ہی ملتی ہو، لیکن المیہ یہ ہے کہ آج مسلمان علم کے میدان میں تمام اقوام عالم سے بہت ہی پیچھے ہیں، خصوصًا ہمارے دیار میں حصول علم سے جس درجہ بے اعتنائی برتی جارہی ہے وہ نہایت ہی قابل افسوس ہے۔ عصری علوم کے میدان میں ہماری حالت سچر کمیٹی کی رپورٹ موسوم بہ "Social, Economic and Educational Status of the Muslim Community of India, 2006” (ہندوستان کے مسلم معاشرہ کی سماجی، اقتصادی اور تعلیمی صورتحال، ۲۰۰۶ ) کے منظر عام پر آنے کے بعد تو ہر کسی پر روز روشن کی طرح عیاں ہو چکی ہے لیکن جہاں تک دین کی بنیادی تعلیمات کا سوال ہے، اس میں ہماری حالت کا صحیح اندازہ صرف ان لوگوں کو ہے جو زمینی سطح پر کار دعوت سے جڑے ہوئے ہیں۔ راقم کے مشاہدات تو اس سلسلہ میں بہت ہی افسوسناک ہیں۔ عام لوگوں کی تو بات ہی کیا وہ لوگ جو معاشرے میں پڑھے لکھے اور دیندار تصور کئے جاتے ہیں اور بعض وہ جنھوں نے دعوت و تبلیغ اور اصلاح معاشرہ کی ذمہ داری بھی اپنے کندھوں پر اٹھارکھی ہے، ان کی علمی سطح اور ان کے اندر دینی علوم کے حصول کے سلسلہ میں جو استغنا پایا جاتا ہے اسے دیکھ کر سخت حیرت ہوتی ہے۔ ان ہی مشاہدات سے متاثر ہوکر راقم نے علم کی فضیلت پر مطالعہ شروع کیا اور اس مضمون کے ذریعہ اسے منظر عام پر لانے کی کوشش کی ہے کہ شاید یہ حقیر سی کوشش قوم مسلم کے دل و دماغ پر طاری علمی و فکری جمود میں کوئی حرکت لاسکے۔ گو علماء نے علم کی فضیلت پر بہت کچھ لکھا ہے لیکن بندہ نے اس بات کی ضرورت محسوس کی کہ علم کی فضیلت کو قرآن کریم کی روشنی میں پیش کیا جائے اس لئے اپنے اس مطالعہ میں خود کو حتی الوسع قرآن کریم تک ہی محدود رکھا ہے۔ آئیے آپ بھی ملاحظہ کیجئے کہ قرآن کریم کے مطالعہ سے علم کی کیا فضیلت معلوم ہوتی ہے ؟

1 . علم اللہ کی صفت ہے:

علم کی فضیلت کو بیان کرنے کے سلسلہ میں جتنی بھی باتیں کہی جاسکتی ہیں ان میں سب سے اہم بندہ عاجز کے نزدیک یہ ہے کہ علم اللہ کی صفتوں میں سے ایک ہے اور یہ وہ صفت ہے جس کی وضاحت قرآن کریم نے صفت ربوبیت کے بعد سب سے زیادہ تاکید سے کی ہے اور اس کے تعلق سے کئی اسماء حسنیٰ کا بھی ذکر کیا ہے۔ مثلاً کہیں اس نے اللہ کو ’ اَلْعَالِمُ‘(سب کچھ جاننے والا، پوری طرح واقف) کہا ہے توکہیں ’اَلْعَلِیْمُ‘ (بہت جاننے والا،ہر چیز کا علم رکھنے والا)،کہیں ’اَلْعَلَّامُ‘ (جاننے والا)، تو کہیں ’اَلْخَبِیْرُ‘ (با خبر)،کہیں ’اَلْحَکِیْمُ‘ (حکمت والا) تو کہیں ’اَلشَّھِیْدُ‘ (ہر چیز پر نگاہ رکھنے والا،گواہ)، کہیں ’اَللَّطِیْفُ‘ (باریک بیں) تو کہیں ’اَلسَّمِیْعُ‘ ( بہت سننے والا) اور ’ اَلْبَصِیْرُ‘ (بہت دیکھنے والا) کہا ہے۔

ان میں سے ہر ایک اسم اللہ کی صفت علم کے ایک خاص رخ کو ہی واضح کرتا ہے۔ قرآن کریم پر نگاہ عمیق رکھنے والے علماء یہ بتاتے ہیں کہ کتاب اللہ میں صفات الٰہیہ کا بار بار بیان اور ان کے تعلق سے اسماء حسنٰی کا ذکر صرف اس حکمت کے پیش نظر ہے کہ بندہ ان صفات میں غور و فکر کرے، انہیں سمجھے اور اپنے اندر جذب کرے تاکہ اللہ کی صحیح معرفت اسے حاصل ہو، پھر ان صفات کواپنی ذات میں پیدا کرنے کی حتی المقدور کوشش کرے تاکہ ان صفات کے حصول کے بعداس کی ذات انوار الٰہیہ کا پرتو ہوجائے، ساتھ ہی ان کے تقاضوں کے مطابق اپنی زندگی کو ڈھالنے کی کوشش کرے جس سے اس کی زندگی اسلامی اخلاق و اقدارکا پیکر بنے۔ مثلاً گزشتہ صدی کے ایک اہم مفسر قرآن اور اسلام کے ایک عظیم داعی شیخ قطب مصریؒ (۱۹۰۶۔ ۱۹۶۶ء) سورۃ الحشر کی آیت نمبر ۲۴ کی تفسیر میں یوں رقمطراز ہیں : ’’یہ اسمائے حسنیٰ انسانوں کے دلوں پر حسن کے فیوض کرتے ہیں۔ ان پر غور و تدبر کرکے اور ان صفات کو اپنے اندر پیدا کرکے اور ان سے ہدایت لے کرانسان کمال حاصل کرسکتا ہے کیونکہ اللہ ان صفات کے ساتھ متصف ہونا پسند کرتا ہے، تو یہ پسندیدہ صفات ہیں، اوصاف حمیدہ ہیں۔ لہٰذا انسان کو ان درجات میں بلند ہوتے رہنا چاہیے۔‘‘۔ (فی ظلال القرآن اردو، ادارہ منشورات اسلامی، لاہور، سنہ اشاعت ۱۹۹۷ء، جلد۶، صفحہ۳۱۳)۔

غور کریں تو رسول پاک ﷺ کے ارشاد ’’إِنَّ لِلّٰہِ تِسْعَۃً وَ تِسْعِیْنَ اِسْمًا، مِاءَۃً إِلَّا وَاحِدًا، مَنْ أَحْصَاھَا دَخَلَ الْجَنَّۃَ‘‘ یعنی ’’بلاشبہ اللہ تعالیٰ کے ننانوے، ایک کم سو، نام ہیں، جس نے ان کا احصا کیا وہ جنت میں داخل ہوگا۔‘‘ (صحیح مسلم، کتاب الذکر و الدعاء والتوبۃ و الاستغفار، باب في أسماءِ اللہ تعالیٰ و فَضْلِ مَنْ أَحْصَاھا، بروایت ابوہریرہؓ) میں لفظ ’احصاھا‘ کے استعمال میں بھی اس کی طرف واضح اشارہ موجود ہے لیکن اکثر شارحین حدیث نے ا نھیں حفظ اور یاد کرنے تک ہی محدود کردیا اور اسے ہی اتنی بڑی فضیلت کو حاصل کرنے کے لئے کافی سمجھا لیکن دیکھئے حجۃ الاسلام و المسلمین امام ابوحامد محمد غزالیؒ (۱۰۵۸۔ ۱۱۱۱ء) کیا لکھتے ہیں ؟: ’’تجھے معلوم ہونا چاہیے کہ جو شخص اسمائے باری تعالیٰ کے معانی سے صرف اسی قدر بہرہ یاب ہے کہ ان کو الفاظ کی حیثیت سے سنتا ہے، لغات کی کتابوں میں ان کی تفسیر پڑھتا ہے اور دل سے اعتقاد رکھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ میں ان کے معانی موجود ہیں تو سمجھو وہ نہایت ہی کم نصیب اور کم رتبہ کا شخص ہے جس کے اس سرمایہ کے نسبت یہ نہیں کہا جاسکتا کہ وہ اس کی اصلی کامیابی کا باعث ہوسکے‘‘۔ (شرح اسماء الحسنیٰ از امام محمد الغزالیؒ مع اسم اعظم از علامہ ابوبکر جلال الدین سیوطیؒ مترجم علامہ عبدالاحد قادری، زاویہ پبلشرز، لاہور، سنہ اشاعت ۲۰۰۷ء، صفحہ۵۰)۔

یعنی امام غزالیؒ کے نزدیک اسمائے حسنیٰ کو سمجھنا، ان کا پڑھنایا سننا اور اللہ کی ان صفات پر جن کے ساتھ یہ اسماء حسنیٰ منسوب ہیں اعتقاد رکھنا بھی حقیقی کامیابی کے لئے کافی نہیں چہ جائیکہ ان کے الفاظ کو حفظ کرلینا اور ورد کرتے رہنا کافی سمجھا جائے۔ وہ آگے لکھتے ہیں : ’’اسمائے باری تعالیٰ میں مقربین کا حصہ تین امور ہیں : (۱) ان اسماء کے معانی کو مکاشفہ اور مشاہدہ کے طور پر سمجھناتاکہ ایسی دلیل کے ساتھ ان کے حقائق معلوم ہوجائیں جس میں خطا ممکن نہ ہو۔ اور ان صفات سے اللہ تعالیٰ کا موصوف ہونا ان پر اس طرح منکشف ہوجائے جس طرح انسان کو اپنی صفات کے متعلق یقین ہوجاتا ہے جو اس کو احساس ظاہر سے نہیں بلکہ مشاہدہ باطن سے حاصل ہوتا ہے۔۔۔۔ (۲) مقربین کا اس کی صفات جلال کو اس عظمت کی نگاہ سے دیکھناجس سے ان کو خود ان صفات سے حتی الامکان متصف ہونے کا شوق پیدا ہوجائے تاکہ وہ اس ذریعہ سے نہ صرف بالامکان بلکہ بالصفت اللہ تعالیٰ کے قریب ہوجائیں اور اس اتصاف کے ساتھ ملائکہ مقربین سے مشابہت پیدا کرلیں۔ اور جب کسی صفت کی عظمت دل میں سما جاتی ہے تو اس کے لئے لازم ہے کہ اس صفت کا شوق اور اس جمال و جلال کا عشق اور اس وصف سے اپنے باطن کو آراستہ کرنے کی خواہش پیدا ہو۔ اگر یہ سعادت کامل طور پر حاصل ہونی ممکن ہو تو کامل طور پر ورنہ بقدر امکان ضرور شوق پیدا ہو۔ اور اس شوق سے خالی ہونے کے دو ہی باعث ہوسکتے ہیں ؛ یا تو اس وصف کے اوصاف جلال و کمال میں سے ہونے کا پورا پورا یقین نہ ہویا دل کسی دوسرے شوق میں ڈوبا ہوا ہو۔۔۔۔۔ (۳) مقربین کا تیسرا حصہ یہ ہے کہ کسی ممکن حد تک ان صفات کو حاصل کریں اور ان کی خوبیوں سے اپنی باطنی حالت کو آراستہ کریں جس سے بندہ ربانی یعنی رب کا مقرب بن جاتا ہے کیونکہ ان صفات کی بدولت وہ فرشتگان ملائے اعلیٰ کا رفیق ہوجاتا ہے جو مقربان درگاہ الٰہی ہیں۔ پس جو شخص ان صفات کے ساتھ کچھ نہ کچھ مشابہت پیدا کرلیتا ہے وہ اس مشابہت کی مقدار کے موافق اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرلیتا ہے‘‘۔ (حوالہ بالا، صفحہ ۵۱۔ ۵۲)۔َ

اس لئے علم کی جستجو میں لگنا ایسا ہے گویا اللہ کی اس صفت کے کسی گوشہ کے حصول کی کوشش کرنا یا اسے اپنے اندر پیدا کرنے کی مشق کرنا جو یقیناًبقدر حصول بلندی درجات اور قرب الٰہی کا موجب ہوگا۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ اس دنیا میں علم و حکمت کا جتنا حصّہ بھی موجود ہے اس کا حقیقی منبع اور سرچشمہ اللہ ہی کی ذات ہے۔ فرشتوں کا اعتراف (لَا عِلْمَ لَنَآ اِلَّا مَا عَلَّمْتَنَا) (ہمیں کوئی علم نہیں سوائے اس کے جو تو نے ہمیں سکھادیا) (البقرۃ:۳۲) اور رسول پاک ﷺ کا فرمان ’’إِنَّمَا أَنَا قَاسِمٌ وَاللّٰہُ یُعْطِيْ‘‘ (میں تو محض تقسیم کرنے والا ہوں، عطا کرنے والا تو اللہ ہی ہے) (صحیح بخاری،کتاب العلم، بابُ مَنْ یُرِدِ اللہُ بِہِ خَیْرًا یُفَقِّھْہُ فِيْ الدِّیْنِ، بروایت معاویہ بن سفیانؓ) اس بات پر شاہد ہے۔ اس لئے علم کے فروغ اور اس کی ترویج و شاعت کی کوشش میں لگنارُوئے زمین پر اللہ کے علم و حکمت کی ترجمانی کرنے کے مترادف ہے اور اس سے بڑی علم کی کوئی اور فضیلت نہیں ہو سکتی۔

2. آدمؑ کو سب سے پہلے علم سے ہی نوازا گیا:

علم کی فضیلت اور انسان کی زندگی میں اس کی اہمیت کو یوں بھی سمجھا جاسکتا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے پہلے انسان آدم علیہ السلام کو خلافت فی الارض کے مقصد سے پیدا فرمایا تو ان کو سب سے پہلے علم کی دولت سے ہی نوازا حالانکہ وہ اس وقت تک زمین پر وارد بھی نہیں ہوئے تھے اورعلم ہی کی بنیاد پرانھیں فرشتوں پرفضیلت بخشی، چنانچہ ارشاد ربّانی ہے: (وَعَلَّمَ آدَمَ الْاَسْمَآءَ کُلَّہَا ثُمَّ عَرَضَہُمْ عَلَی الْمَلآءِکَۃِ فَقَالَ اَنبِءُوْنِیْ بِاَسْمَآءِ ہٰٓؤُلَآءِ اِنْ کُنتُمْ صَادِقِیْنَ ھ قَالُوْا سُبْحٰنَکَ لاَ عِلْمَ لَنَآ اِلاَّ مَا عَلَّمْتَنَا اِنَّکَ اَنْتَ الْعَلِیْمُ الْحَکِیْمُ ھ قَالَ یٰٓاٰدَمُ اَنبِءْہُمْ بِاَسْمَآءِہِمْ فَلَمَّا اَنبَأَہُمْ بِاَسْمَآءِہِمْ قَالَ اَلَمْ اَقُلْ لَّکُمْ اِنِّیْٓ اَعْلَمُ غَیْْبَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَاَعْلَمُ مَا تُبْدُوْنَ وَمَا کُنتُمْ تَکْتُمُوْنَ ھ)۔ ( مفہوم): ’’اور سکھادئے اس (اللہ) نے آدم ؑ کو تمام اشیاء کے نام، پھر پیش کیا انہیں فرشتوں کے سامنے اور فرمایابتاؤ تو مجھے نام ان چیزوں کے اگر تم سچے ہو۔انہوں نے کہا کہ ہر عیب سے پاک تو ہی ہے، کچھ علم نہیں ہمیں مگر جتنا تو نے ہمیں سکھا دیا۔ بیشک تو ہی علم و حکمت والا ہے۔ فرمایا (اللہ تعالیٰ نے کہ) اے آدم! بتادو انہیں ان چیزوں کے نام، پھر جب بتادئے انہوں نے ان کے نام ان کو تو( فرشتوں سے) فرمایاکیا نہیں کہا تھامیں نے تمھیں کہ میں خوب جانتا ہوں سب چھپی ہوئی چیزیں آسمانوں اور زمین کی اورمیں جانتاہوں جو کچھ تم ظاہر کرتے ہواور جو کچھ تم چھپاتے ہو‘‘۔ (البقرۃ: ۳۱۔ ۳۳)۔

مفسرین کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے آدمؑ کو کائنات کی تمام اشیاء کے نام مع ان کے آثار و خواص کے عطافرمائے تھے اور یہی بحیثیت انسان اور بحیثیت خلیفۃ اللہ فرشتوں پر ان کی فضیلت کا باعث ہوا۔ اس سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ علم خواہ اشیاء کا ہی کیوں نہ ہو جسے عام طور پر فن اور ہنر کا نام دیا جاتا ہے بہرحال فضیلت کا باعث ہے۔ پھر جب آدم ؑ کوشیطان نے لغزش دیدی جس کا واقعہ مشہور و معروف ہے اور اللہ پاک نے ان کو مع حضرت حوا کے زمین پر اترجانے کا حکم دیا تویوں ارشاد فرمایا: (قُلْنَا اہْبِطُوْا مِنْہَا جَمِیْعًا فَاِمَّا یَاْتِیَنَّکُمْ مِّنِّیْ ہُدًی فَمَنْ تَبِعَ ہُدَایَ فَلاَ خَوْفٌ عَلَیْْہِمْ وَلاَ ہُمْ یَحْزَنُوْنَ ھ وَالَّذِیْنَ کَفَرُوْا وَکَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَآ اُولٰءِکَ اَصْحٰبُ النَّارِ ہُمْ فِیْہَا خٰلِدُوْنَ)۔ (مفہوم): ’’ ہم نے کہا کہ تم سب یہاں سے اترجاؤ پھر جب پہنچے تمھارے پاس میری طرف سے کسی قسم کی ہدایت تو جولوگ پیروی کریں گے میری ہدایت کی تو نہ کچھ خوف ہوگا ان پر اور نہ ایسے لوگ غمگین ہوں گے اور جو لوگ کفر کریں گے اور تکذیب کریں گے ہماری آیتوں کی تو وہ لوگ ہوں گے دوزخ والے، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے ‘‘۔ (البقرۃ: ۳۸۔ ۳۹)۔ یہ آیت کریمہ اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ زمین پر انسان کی زندگی کا آغاز جہالت کی تاریکی میں نہیں بلکہ علم کی روشنی میں ہوا یعنی یہ اوّلین انسان حضرت آدمؑ اور حضرت حوا اس بنیادی حقیقت سے واقف تھے کہ ان کی سعادت ہدایت الٰہیہ کی پیروی میں ہے اور ان کی شقاوت اطاعت خداوندی سے روگردانی میں ہے۔ پھر جب وہ زمین پر اتار دئے گئے اس وقت بھی اللہ نے انھیں چند کلمات کی تعلیم دی اور وہی کلمات ان کی توبہ کا سبب بنے،فرمایا: (فَتَلَقّآی اٰدَمُ مِنْ رَّبِّہٖ کَلِمٰتٍ فَتَابَ عَلَیْہِ)۔ (ترجمہ): ’’ پھر سیکھ لیے آدم ؑ نے اپنے رب سے چند کلمے اور اللہ نے ان کی توبہ قبول فرمائی‘‘۔ (البقرۃ: ۳۷)۔ اس واقعہ سے یہ نتیجہ اخذ کرنا بھی دشوار نہیں کہ اللہ کو راضی کرنے اور راضی رکھنے کے لئے بھی ربّانی علوم کی ضرورت ہے جن سے انسان کبھی بھی مستغنی نہیں ہو سکتا۔

3 . علم و حکمت سے تمام انبیاء کرام نوازے گئے:

علم و حکمت ایک ایسی دولت ہے جس سے اللہ پاک نے اپنے تمام نبیوں کو سرفراز فرمایا ہے چنانچہ سورۃ الانعام میں آیت نمبر۸۳ سے ۸۸ تک اٹھارہ انبیاء کرام کے اسماء گرامی ذکر کرکے ۸۹ویں آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: (اُولٰٓءِکَ الَّذِیْنَ اٰتَےْنٰھُمُ الْکِتٰبَ وَ الْحُکْمَ وَالنُّبُوَّۃَ) یعنی یہ لوگ ایسے تھے کہ ہم نے ان کو کتاب اور حکمت اور نبوت عطا کی تھی۔ اسی طرح سورۃ الحدید آیت ۲۵ میں ارشاد فرمایا: (لَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بِالْبَیِّنٰتِ وَ اَنْزَلْنَا مَعَھُمُ الْکِتٰبَ وَالْمِیْزَانَ لِیَقُوْمَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ)۔ (ترجمہ): ’’ یقیناًہم نے اپنے پیغمبروں کو کھلی دلیلیں دیکر بھیجا اور ان کے ساتھ کتاب اور میزان نازل فرمایا تاکہ لوگ عدل پر قائم رہیں ‘‘۔ بعض انبیاء پر علم و حکمت کی جو خصوصی نوازشیں ہوئی ہیں ان کو انفرادی طور پر الگ سے بھی ذکر فرمایا۔ مثلًا ابراہیم علیہ السلام کے بارے میں فرمایا: (وَکَذَالِکَ نُرِیْٓ اِبْرَاہِیْمَ مَلَکُوْتَ السَّمٰوٰتِوَالْاَرْضِ وَلِیَکُوْنَ مِنَ الْمُوْقِنِیْنَ)۔ یعنی’’ہم نے ایسے ہی طور پر ابراہیمؑ کو زمین و آسمان کی مخلوقات دکھلائیں اور تاکہ وہ کامل یقین کرنے والوں میں سے ہو جائیں ‘‘۔ (الانعام: ۷۵)۔ مطلب یہ ہے کہ عرش سے لے کراسفل ارض تک کی مخلوقات کا مکاشفہ و مشاہدہ کرایا۔ دوسری جگہ فرمایا: (وَلَقَدْ اٰتَیْْنَآ اِبْرَاہِیْمَ رُشْدَہٗ مِنْ قَبْلُ وَکُنَّا بِہٖ عٰلِمِیْنَ)۔ ترجمہ: ’’ یقیناًہم نے اس سے پہلے ابراہیمؑ کو اس کی سمجھ بوجھ بخشی تھی اورہم اس کے احوال سے بخوبی واقف تھے‘‘۔ (الانبیآء: ۵۱)۔ اسی طرح لوطؑ کے بارے میں فرمایا: (وَ لُوْطًا اٰتَیْنٰہُ حُکْمًا وَّ عِلْمًا)۔ (ترجمہ): ’’ہم نے لوطؑ کو بھی حکم اور علم عطا کیا‘‘۔ (الانبیآء: ۷۴)۔ داؤد ؑ اور سلیمان ؑ کے بارے میں فرمایا: (وَلَقَدْ اٰتَےْنَا دَاوٗدَ وَ سُلَےْمٰنَ عِلْمًا وَقَالَا الْحَمْدُ لِلہِ الَّذِیْ فَضَّلَنَا عَلیٰ کَثِیْرٍ مِّنْ عِبَادِہِ الْمُؤْمِنِیْنَ ہ وَوَرِثَ سُلَیْمٰنُ دَاوٗدَ وَقَالَ یٰٓاَیُّھَا النَّاسُ عُلِّمْنَا مَنْطِقَ الطَّیْرِ وَ اُوْتِیْنَا مِنْ کُلِّ شَیْءٍ اِنَّ ھٰذَا لَھُوَالْفَضْلُ الْمُبِیْنُ)۔ (ترجمہ): ’’اور ہم نے یقیناًداؤد ؑ اور سلیمان ؑ کو علم دے رکھا تھا اور دونوں نے کہا، تعریف اس اللہ کے لئے ہے جس نے ہمیں اپنے بہت سے مومن بندوں پر فضیلت عطا فرمائ ہے۔ اور داؤد ؑ کے وارث سلیمان ؑ ہوئے اور کہنے لگے کہ اے لوگو! ہمیں پرندوں کی بولی سکھائی گئی ہے اورہمیں ہر قسم کی چیز عنایت فرمائی گئی ہے، بیشک یہ (اللہ کا) بالکل کھلا ہوا فضل ہے‘‘۔ (النمل: ۱۵۔ ۱۶)۔ یہاں علم سے مراد نبوت کے علم کے علاوہ وہ علم بھی ہے جن سے حضرات داؤد ؑ اور سلیمان ؑ کو خاص طور سے نوازا گیا جیسے داؤد ؑ کو لوہے کی صنعت کا علم اور حضرت سلیمان ؑ کوجانوروں کی بولیوں کا علم وغیرہ۔ اس کے علاوہ ان دونوں باپ بیٹوں کو اور بھی بہت کچھ عطا کیا گیا تھا، لیکن یہاں بطور احسان صرف علم کا ذکر کیا گیا جو دوسرے مومن بندوں پر ان کی فضیلت کا باعث تھا جس سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ علم اللہ کی سب سے بڑی نعمت ہے۔

اسی طرح یوسف ؑ کے بارے میں فرمایا: (وَلَمَّا بَلَغَ اَشُدَّہٗٓ اٰتےَنٰہُ حُکْمًا وَّ عِلْمًا وَ کَذَالِکَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ)۔ (ترجمہ): ’’اور جب (یوسف) پختگی کی عمر کو پہنچ گئے تو ہم نے اسے قوت فیصلہ اور علم دیا، ہم نیکوکاروں کو اسی طرح بدلہ دیتے ہیں ‘‘۔ (یوسف:۲۲)۔ موسیٰ ؑ کے بارے میں ارشاد خداوندی ہے: (وَلَمَّا بَلَغَ اَشُدَّہٓٗ وَسْتَوٰٓی اٰتَےْنٰہُ حُکْمًا وَّ عِلْمًا وَ کَذَالِکَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ)۔ (ترجمہ): ’’ اور جب (موسیٰ ؑ ) اپنی جوانی کو پہنچ گئے اور پورے توانا ہوگئے تو ہم نے انھیں حکمت وعلم عطا فرمایا، نیکی کرنے والوں کو ہم اسی طرح بدلہ دیا کرتے ہیں ‘‘۔ (القصص:۱۴)۔ عیسیٰ ؑ کے تعلق سے فرمایا: (اِذْ قَالَ اللّٰہُ یٰعِیْسَی ابْنَ مَرْیَمَ اذْکُرْ نِعْمَتِیْ عَلَےْکَ وَ عَلٰی وَالِدَتِکَ اِذْ اَیَّدْتُّکَ بِرُوْحِ الْقُدُسِ تُکَلِّمُ النَّاسَ فِی الْمَھْدِ وَ کَھْلًا وَ اِذْ عَلَّمْتُکَ الْکِتٰبَ وَالْحِکْمَۃَ وَالتَّوْرٰۃَ وَالْاِِنْجِیْلَ)۔ (ترجمہ): ’’ جب کہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرمائے گاکہ اے عیسیٰ بن مریم ! میرا انعام یاد کرو جو تم پر اور تمھاری والدہ پر ہوا جب میں نے تم کو روح القدس سے تائید دی، تم لوگوں سے کلام کرتے تھے گود میں بھی اور بڑی عمر میں بھی اور جب کہ میں نے تم کو کتاب اور حکمت کی باتیں اور تورات و انجیل کی تعلیم دی‘‘۔ (المآئدہ: ۱۱۰)۔

ان آیات پر غور کرنے سے کئی باتیں واضح ہوتی ہیں۔ اول یہ کہ علم وحکمت انبیاء کرام کی مشترکہ دولت ہے، اسی لئے جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’إِنَّ الْعُلَمَاءَ وَرَثَۃُ الْأَنْبِیَاءِ، إِنَّ الْأَنْبِیَاءَ لَمْ یُوَرِّثُوا دِیْنَارًا وَ لَا دِرْھَمًا، إِنَّمَا وَرَّثُوا الْعِلْمَ، فَمَنْ أَخَذَ بِہِ أَخَذَ بِحَظٍّ وَافِرٍ‘‘ یعنی ’’بیشک علماء انبیاء کے وارث ہیں، اور بیشک انبیاء نے کسی کو دینار و درہم کا وارث نہیں بنایا بلکہ انہوں نے علم کا وارث بنایا ہے، اس لئے جس نے اسے حاصل کیا، اس نے ( انبیاء کی وراثت) سے بہت سارا حصہ حاصل کرلیا‘‘۔ (سنن ترمذی، کتاب العلم، باب ماجاء في فضل الفقہ علی العبادۃ، بروایت ابوالدرداءؓ)۔ دوئم یہ کہ علم اللہ کی نعمتوں میں سے ایک بڑی نعمت ہے، اگر اس سے بڑی کوئی اور نعمت ہوتی تو اللہ پاک اپنے منتخب بندوں کو اس سے نوازتا اور اس کا خصوصی ذکر بھی کرتا۔ سوئم یہ کہ علم متقین کا زیور ہے، اللہ پاک حقیقی علم سے اپنے نیک اور صالح بندوں کو ہی نوازتا ہے اور چہارم یہ کہ انسانوں میں فضیلت کا ایک اہم میعار علم ہے جیسا کہ داؤد ؑ اور سلیمانؑ کے ا قوال سے مترشح ہے۔

4 . رسول پاکؐ پر نزول کتاب اور علم و حکمت کا فیضان :

مذکورہ بالا سطور میں راقم انبیاء کرام پر منجانب اللہ ہوئ علمی نوازشوں کا ذکر کر چکا ہے لیکن نبی کریم ﷺ کاخصوصی مقام اس بات کا متقاضی ہے کہ اللہ رب العزت کی طرف سے آپؐ پر کئے گئے علمی احسانات کا الگ سے تذکرہ ہو، لہٰذا آئیے دیکھیں کہ رسول پاک ﷺ پراللہ تعالیٰ کے جو علمی احسانات ہوئے ہیں ان کا تذکرہ قرآن کریم نے کن الفاظ میں کیا ہے۔ ارشاد خداوندی ہے: (وَکَذَالِکَ اَوْحَےْنَآ اِلَیْکَ رُوْحًا مِّنْ اَمْرِنَا مَا کُنْتَ تَدْرِی مَا الْکِتٰبُ وَ لَا الْاِیْمَانُ وَ لٰکِنْ جَعَلْنٰہُ نُوْرًا نَّھْدِیْ بِہٖ مَنْ نَّشَآءُ مِنْ عِبَادِنَا وَ اِنَّکَ لَتَھْدِیْٓ اِلیٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقِیمٍ)۔ (ترجمہ): ’’اور اسی طرح وحی کی ہم نے آپ کی طرف روح کو اپنے حکم سے، ( قبل اس کے) آپ یہ نہ جانتے تھے کہ کتاب کیا چیز ہے اور نہ یہ کہ ایمان کیاہے ؟ لیکن ہم نے اسے (یعنی قرآن کو) نور بنایا، اس کے ذریعہ سے اپنے بندوں میں سے جسے چاہتے ہیں ہدایت دیتے ہیں، اور بیشک آپ راہ راست کی رہنمائ کر رہے ہیں ‘‘۔ (الشورٰی:۵۲)۔ یہاں روح سے مراد قرآن کریم ہے جیساکہ سیاق سے بھی ظاہر ہے اور یہی امام ابن منذر اور ابن ابی حاتم رحمہم اللہ نے عبداللہ بن عباسؓ سے نقل کیا ہے (تفسیر درمنثور از امام جلال الدین السیوطیؒ، ضیاء القرآن پبلی کیشنز، لاہور، ۲۰۰۶ء ؁، جلد ۵، صفحہ ۱۰۵۹) اور صاحب تفسیر مظہری نے کلبی اور مالک بن دینار رحمہم اللہ سے بھی یہی نقل کیا ہے (تفسیر مظہری (اردو) از علامہ قاضی محمد ثناء اللہ پانی پتیؒ، ضیاء القرآن پبلی کیشنز، لاہور، ۲۰۰۲ء ؁، جلد۸، صفحہ۴۴۲)۔ دوسرے مقام پر فرمایا: (وَ مَا کُنْتَ تَرْجُوْٓا اَنْ یُّلْقٰٓی اِلَیْکَ الْکِتٰبُ اِلَّا رَحْمَۃً مِّنْ رَّبِّک) یعنی ’’آپ تو اس کی امیدنہ رکھتے تھے کہ آپ کی طرف کتاب نازل فرمائ جائے گی لیکن آپ کے رب کی مہربانی سے (یہ کتاب اتاری گئی) ‘‘۔ (القصص:۸۶ )۔ ایک جگہ فرمایا: (وَ اَنْزَلَ اللّٰہُ عَلَیْکَ الْکِتٰبَ وَ الْحِکْمَۃَ وَ عَلَّمَکَ مَالَمْ تَکُنْ تَعْلَمْ وَ کَانَ فَضْلُ اﷲِ عَلَیْکَ عَظِیْمًا) (ترجمہ) : ’’ اللہ تعالیٰ نے آپ پر کتاب و حکمت اتاری ہے اور آپ کو وہ سکھایا ہے جسے آپ نہ جانتے تھے اور اللہ کا آپ پر بڑا بھاری فضل ہے‘‘۔ (النّسآء: ۱۱۳)۔

ان تمام آیات سے یہ واضح ہے کہ کتاب وحکمت نازل فرما کر اوراحکام شرعیہ کا علم دے کر جن سے پہلے آپ بے خبر تھے اور جن کی قبل از ابتدائے نزول وحی آپ کو توقع بھی نہ تھی، اللہ نے آپ پر بڑا فضل و احسان کا معاملہ فرمایا۔ اب یہ امر غور طلب ہے کہ اللہ رب العزت اپنے حبیب کو جن چیزوں کے عطا کرنے پر احسان جتارہا ہے، کیا وہ کوئی معمولی چیز ہوگی؟ یقیناًنہیں اور یقیناًاللہ کے نزدیک اس کی کوئی قدر وقیمت ہوگی کیوں کہ عام اصول ہے کہ اپنوں کو معمولی چیزوں کے عطا کرنے پر احسان نہیں جتایا جاتا۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ کتاب اور علم و حکمت کی شکل میں نبی کریم ﷺ پراللہ کے جو انعامات ہوئے وہ درحقیقت اس امت پر ہی اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے انعامات ہیں کیوں کہ ان سب کا مقصد امت کی تعلیم اور اصلاح ہی تھا جیسا کہ (یُعَلِّمُکُمُ الْکِتٰبَ وَ الْحِکْمَۃَ وَ یُعَلِّمُکُمْ مَّالَمْ تَکُوْنُوْا تَعْلَمُوْنَ) (ترجمہ: ’’اور وہ تمھیں کتاب و حکمت کی تعلیم دیتے ہیں اور تمھیں ایسی باتیں سکھاتے ہیں جنہیں تم نہیں جانتے تھے)۔ (البقرۃ: ۱۵۱) سے مستفاد ہے۔ اس طرح علوم نبوی کے حصول کی کوشش نہ کرنا، اس سے بے اعتنائی برتنا اور اس سے استفادہ کی صورت اختیار نہ کرنا اس عظیم نعمت کی ناقدری ہے جس کا نزول بہ فضل ربی رسول پاک ﷺ پر ہوا ہے۔ اس لئے ایک مومن جو خود کو نبی مکرم ﷺ کا امّتی کہنے میں فخر محسوس کرتا ہے، کو چاہیے کہ آپؐ پر اللہ رب العزت کی طرف سے علم وحکمت کا جو فیضان ہوا ہے، اس کی طلب اور اس سے استفادہ کرنے کی ہر ممکن کوشش کرے اور اس سلسلہ میں کسی قسم کی کوتاہی نہ برتے۔

5. رسول پاک ﷺ کو زیادتی علم کے لئے دعا کرنے کا حکم:

علم کی فضیلت و اہمیت اس بات سے بھی ظاہر ہوتی ہے کہ اللہ رب العزت نے رسول پاک ﷺ کو زیادتی علم کے لئے دعاء کرنے کا حکم فرمایا۔ ارشاد خداوندی ہے: (وَ قُلْ رَّبِّ زِدْنِیْ عِلْمًا)۔ (ترجمہ): ’’اور یہ کہاکیجئے کہ اے میرے پروردگار! مجھے اور زیادہ علم عطا فرما‘‘۔ (طٰہٰ: ۱۱۴)۔ چنانچہ رسول پاک ﷺ تعمیل ارشاد میں علم میں اضافے کے لئے دعا فرمایاکرتے تھے۔ ایسی ہی ایک دعا ابن ماجہ نے ان الفاظ میں روایت کی ہے: ’’اَللّٰہُمَّ انْفَعْنِيْ بِمَا عَلَّمْتَنِيْ، وَ عَلِّمْنِيْ مَا یَنْفَعُنِيْ، وَذِدْنِيْ عِلْمًا‘‘۔( ترجمہ): ’’ اے اللہ ! نفع بخش بنادیجئے میرے لئے اس چیزکو جو آپ نے مجھے سکھایا ہے اور مجھے (مزید) وہ چیز سکھادیجئے جو کہ نفع دے مجھ کو اور میرے علم میں اضافہ فرمادیجئے ‘‘۔ ( سنن ابن ماجہ، کتابُ الدُّعَاءِ، بابُ دُعَاءِ رَسُوْلِ اللہِ ﷺ، بروایت ابوہریرہؓ)۔

یہ غور و فکر کرنے کی بات ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ علم و نبوت کے اعلیٰ مقام پر فائز ہیں، براہ راست اللہ کی رہنمائی میں ہیں اور وحی الٰہی کا سلسلہ بھی جاری ہے باوجود ان سب کے آپؐ کو علم میں زیادتی کی دعا کا حکم ہورہاہے اور آپؐ دعابھی فرما رہے ہیں، کیا یہ سب اس نتیجہ فکر کی تائید میں نہیں ہے کہ راہ علم میں لفظ ’استغناء‘ کا کوئی تصور نہیں۔ یہاں یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ زیادہ سے زیادہ علم نافع کی طلب اور موجودہ علم سے سیر نہ ہونا گویا ایک نبوی خصلت ہے جو یقیناًاللہ کے نزدیک پسندیدہ بھی ہوگی۔ اس حدیث میں علماء امت کے لئے بھی نصیحت ہے کہ وہ علم کی کسی مقدار پر بھی قانع نہ ہوں اور اس میں اضافے کی صورتیں اختیار کرنے میں کوئی کوتاہی نہ کریں، نیز اس راہ میں ہر دم اللہ کی طرف لولگائے رکھیں اور اس سے نفع بخش علم کی زیادتی کے لئے استدعا بھی کرتے رہیں چہ جائیکہ ایک ادنیٰ امتی جو زندگی کے ہر موڑ پر، ہر آن اپنی ہدایت کے لئے علوم نبوت کا محتاج ہو پھر اسے راہ طلب علم میں تساہلی کیوں کر زیب دے سکتی ہے؟

6. قرآن کریم کی ابتدائ آیتوں میں پڑھنے کا حکم اور علم و قلم کا تذکرہ:

جمہور علمائے سلف و خلف کا اس پر اتفاق ہے کہ نزول قرآن کا آغاز سورہ علق کی ابتدائ پانچ آیتوں سے ہوا ہے۔ آیتیں یہ ہیں : (اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّکَ الَّذِیْ خَلَقَ ھ خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ ھ اِقْرَاْ وَ رَبُّکَ الْاَکْرَمُ ھ الَّذِیْ عَلَّمَ بِالْقَلَمِ ھ عَلَّمَ الْاِنْسَانَ مَالَمْ یَعْلَمْ ھ)۔ (ترجمہ): ’’پڑھیے (اے نبیؐ) اپنے رب کے نام سے جس نے (سب کو) پیدا کیا، پیدا کیا انسان کو جمے ہوئے خون سے، پڑھیے اور آپ کا رب بڑا کریم ہے، جس نے علم سکھایا قلم کے ذریعہ، انسان کو وہ علم دیا جسے وہ نہ جانتا تھا‘‘۔ (العلق: ۱۔ ۵)۔ ذرا ان آیات پر غور کیجئے۔ قرآن کریم کا پہلا لفظ ہی ’’اِقْرَاْ ‘‘ ہے جو قرأت سے امر کا صیغہ ہے جس کا مطلب ہے ’پڑھیے‘ یعنی رسول پاک ؐ کوپہلی ہی آیت میں پڑھنے کا حکم ملا۔ پھر اسی لفظ کوتیسری آیت میں مکرر لایا گیا ہے جس سے غالباً حکم میں تاکید مراد ہے اور حقیقت یہ ہے کہ ان پانچ آیات میں اللہ کا یہ واحد حکم ہے، علاوہ اس کے یا توان میں اللہ کی صفات کا بیان ہے یا انسان پر اس کے احسانات کا۔ اب یہ امر بحث کا موضوع ہے کہ رسول پاکؐ کو کیا پڑھنے کا حکم ہوا؟ قاضی ثناء اللہ صاحب پانی پتی ؒ فرماتے ہیں کہ یہاں اقرأ کا مفعول بہٖ محذوف ہے جو بقول ان کے القراٰن ہے (تفسیر مظہری، جلد ۱۰، صفحہ ۳۶۸ ) مطلب یہ ہے کہ اپنے رب کے نام سے آغاز کرتے ہوئے اور اس سے برکت حاصل کرتے ہوئے قرآن کو پڑھیے۔ پھر قاضی ثناء اللہ صاحب پانی پتیؒ ؒ علامہ طیبیؒ کایہ قول بھی نقل کرتے ہیں کہ یہ امر ہے، اس میں صرف قرأت کا حکم ہے اور یہ کسی چیز کے ساتھ خاص نہیں، اس لئے مفعول بہٖ کے بغیر یہ فعل الف لام جنسی کے قائم مقام ہے اور باسم ربّک میں باء استعانت کے لئے ہے (حوالہ بالا، صفحہ ۳۶۹)۔ اس طرح مفہوم یہ ہوگا کہ اے نبی ؐ جو کچھ بھی پڑھیے جس میں یہ اور آئندہ نازل ہونے والی قرآنی آیات بدرجہ اولیٰ شامل ہیں، اللہ کے نام کے ساتھ پڑھا کیجئے یعنی تحصیل علم میں توکل بھی اللہ کی ذات پر ہو اور اس کا مقصد بھی رضائے الٰہی ہو۔ اب اصل بات جس کی طرف توجہ دلانا مقصود ہے یہ ہے کہ نبی ؐ کوپہلی وحی میں نہ ہی عبادت کا حکم ملاجو انسان کی زندگی کا اصل مقصد ہے جیسا کہ ارشاد ہے: (وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنْسَ اِلَّا لِیَعْبُدُوْنَ) (ترجمہ: ’’اور نہیں پیدا کیا میں نے جن و انسان کو مگر صرف اس لئے کہ وہ میری عبادت کریں ‘‘)۔ (الذَّارِیٰت: ۵۶) اور نہ ہی دعوت و تبلیغ اور اصلاح خلق کاجو انبیاء کی بعثت کا اصل مقصد ہے جیسا کہ آیت (یٰٓاَیُّھَا النَّبِیُّاِنَّآ اَرْسَلْنٰکَ شَاھِدًا وَّ مُبَشِّرًا وَّ نَذِیْرًا ھ وَّ دَاعِیًا اِلَی اللّٰہِ بِاِذْنِہٖ وَ سِرَاجًا مُّنِیْرًا) (ترجمہ: ’’اے نبیؐ! بیشک ہم نے آپ کوبھیجا ہے (بناکر) گواہی دینے والا،اور خوشخبری دینے والا، اور ڈرانے والا، اور اللہ کی طرف بلانے والا اس کے حکم سے، اور روشن چراغ‘‘ )۔ (الأحزاب: ۴۵۔ ۴۶)سے مستفاد ہے بلکہ حکم ملا تو پڑھنے کا اور یہ احکامات علی الترتیب سورۃ المزمّل اور سورۃ المُدَّثِّر میں آئے جو بہ اتفاق علماء جمہورفترۂ وحی کے بعد نازل ہوئیں اور فترۂ وحی کی مدت بعض اہل علم کے مطابق پہلی وحی سے دو یا ڈھائی سال ہے جیساکہ علامہ ابن کثیرؒ نے اپنی مشہور تصنیف البدایہ و النہایہ میں لکھا ہے۔ (البدایۃ و النہایۃ، مکتبۃ المعارف، بیروت، ۱۹۹۱ء ؁، جلد۳، صفحہ ۱۷)۔ اس سے دین میں علم کی اہمیت واضح ہوتی ہے اور یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ علم کی تحصیل عبادت اور دعوت پر مقدم ہے، اس لئے بھی کہ عبادت اور دعوت کے مکلف ہونے کا احساس بھی علم کے ذریعہ ہی پیدا ہوتا ہے اوران دونوں کی حسن ادائیگی میں بھی علم کو خاص دخل ہے۔

اب ذرا اللہ کے ان احسانات پر بھی غور کیجئے جن کا ذکر پہلی وحی میں ہوا ہے۔ سب سے پہلے اللہ نے اس احسان کا ذکر کیا جو انسان کی تخلیق سے متعلق ہے یعنی خون کے لوتھڑے سے جو کبھی منی کی شکل میں تھا اور اس کی کوئ حقیقت نہ تھی اسے وجود بخشا اور مختلف مراحل سے گزار کر اسے معتدل، متناسب اور حسین وجمیل صورت والا انسان بنایا۔ اس کے بعد اللہ پاک نے جس احسان کا ذکر کیا ہے وہ علم ہے۔ اس سے یہ بات مترشح ہے کہ تخلیق کے بعد انسان پر اللہ کا سب سے بڑا احسان اسے علم کی دولت سے نوازنا ہے اس لئے کہ اگر اس سے بڑا کوئی احسان ہوتا تو اللہ پاک اس کا ذکر یہاں فرماتے لیکن اللہ پاک نے تخلیق کے بعد علم کا ہی ذکر فرمایا کیوں کہ یہی وہ چیز ہے جو اسے دوسرے تمام حیوانات سے ممتاز اور تمام مخلوقات سے اشرف و اعلیٰ بناتی ہے۔ اس میں بھی علم بالقلم کو پہلے ذکر فرمایاکیوں کہ قلم کے ذریعہ تعلیم دوسری تمام تعلیمات سے مقدم ہے اور قلم کے ذریعہ دی گئی تعلیم عام طور پر محفوظ رہتی ہے اور نسلوں تک منتقل ہوتی رہتی ہے۔ امم سابقہ کی تاریخیں، اسلاف کے علمی کارنامے اور اللہ کی نازل کردہ کتابیں سب قلم کے ہی توسط سے محفوظ ہیں۔ اس کے علاوہ دنیا کے کاروبار چلانے میں بھی قلم کا خاص رول ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ قلم سے اتنے منافع وابستہ ہیں کہ ان کاشمار اور احاطہ بھی اللہ کے سواکوئی نہیں کرسکتا۔ اس کے بعد اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے فرمایا کہ ہم نے انسان کو وہ علم دیا جس سے وہ پہلے ناواقف تھا۔ مطلب یہ کہ علم بالقلم ہی نہیں بلکہ ہر وہ علم، انسان جس کا حامل ہے، اللہ ہی کا عطیہ ہے۔ یہاں یہ امر قابل غور ہے کہ انسان کے اوپر ایک ایسا دور بھی آتا ہے جب وہ ہر چیز سے نابلد ہوتا ہے، کچھ بھی نہیں جانتا، اس کیفیت کو قرآن کریم نے یوں بیان کیا ہے: (وَاللّٰہُ اَخْرَجَکُمْ مِنْ بُطُوْنِ اُمَّھٰتِکُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ شَیْءًا) یعنی اللہ نے تم کو تمہاری ماؤں کے بطن سے ایسی حالت میں نکالا کہ تم کچھ بھی نہ جانتے تھے۔ (النَّحْل: ۷۸)۔ پھر اللہ پاک ہی اسے نشو ونماکے مختلف ادوار میں مختلف ذرائع سے علم سے نوازتا ہے۔ کبھی اسے وہبی تعلیم کے ذریعہ رہنمائی ملتی ہے تو کبھی زبانی تعلیم کے ذریعہ اور کبھی قلبی تعلیم کے ذریعہ، کبھی وہ عقل، مشاہدہ اور تجربات سے فائدہ اٹھاتا ہے تو کبھی وحی اور الہام سے مستفیض ہوتا ہے۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے لفظ مَالَمْ یَعْلَمْ کے ذریعہ ان تمام ذرائع سے حاصل شدہ علم کی طرف اشارہ فرمادیا تاکہ انسان علم و ہنر کو اپنا ذاتی کمالات نہ سمجھے بلکہ اللہ کاعطیہ تصور کرے۔

اب ذراغور کیجئے کہ پہلی وحی ہے اور اس میں حکم مل رہاہے تو پڑھنے کا اور احسان جتایا جارہاہے تو علم سے نوازنے کا، کیا یہ باتیں دین میں علم کی اہمیت کو واضح نہیں کرتیں ؟

7. اﷲ کا حکم کہ اگر تم نہیں جانتے تو علم والوں سے پوچھ لو:

اللہ پاک کا ارشاد ہے: (وَ مَآ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِکَ اِلَّا رِجَالًا نُوْحِیْ ٓ اِلَیْھِمْ فَسْءَلُوْٓا اَھْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ)۔ (ترجمہ): ’’اور نہیں بھیجے ہم نے آپ سے پہلے (پیغمبر) مگر صرف مرد، جن کی جانب ہم وحی اتارا کرتے تھے پس اگر تم نہیں جانتے تو اہل علم سے دریافت کرلو ‘‘۔ (النحل: ۴۳)۔ یہ آیت کریمہ کفار و مشرکین کے اس شبہہ کے ازالہ کے سلسلہ میں نازل ہوئ کہ ایک بشر اللہ کا رسول کیسے ہوسکتا ہے؟ اللہ پاک نے یہ بتانے کے بعد کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے قبل بھی ہم نے جتنے رسول بھیجے وہ سب کے سب انسان (مرد) ہی تھے یہ فرمایا: (فَسْءَلُوْٓا اَھْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ) یعنی اس بات کو اگر تم نہیں جانتے یا تمھیں شک ہے تو اہل علم یعنی علمائے اہل کتاب جو سابقہ انبیاء اور ان کی تاریخ سے واقف ہیں، سے دریافت کرلو۔ آیت کریمہ کا یہی حصّہ ہماری توجہ کا طالب ہے کیوں کہ اس میں بے علموں کو علم حاصل کرنے کی تاکید ہے جیسا کہ الفاظ کے عام ہونے سے معلوم ہوتا ہے اور مفسرین نے بھی اس سے یہی اخذ کیا ہے۔ مفتی محمد شفیع صاحبؒ فرماتے ہیں : ’’آیت مذکورہ کا یہ جملہ (فَسْءَلُوْٓا اَھْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ) اس جگہ اگرچہ ایک خاص مضمون کے بارے میں آیا ہے مگر الفاظ عام ہیں جو تمام معاملات کو شامل ہیں، اس لئے قرآنی اسلوب کے اعتبار سے درحقیقت یہ اہم ضابطہ ہے جو عقلی بھی ہے اور نقلی بھی کہ جو لوگ احکام کو نہیں جانتے وہ جاننے والوں سے پوچھ کر عمل کریں، اور نہ جاننے والوں پر فرض ہے کہ جاننے والوں کے بتلانے پر عمل کریں ‘‘۔ (معارف القرآن، مکتبہ معارف القرآن، کراچی، ۲۰۰۸ء ؁، جلد ۵، صفحہ ۳۴۵ )۔

قاضی ثناء اللہ صاحب پانی پتیؒ فرماتے ہیں : ’’اس آیت کریمہ میں دلیل ہے کہ جاہل لوگوں کو مسائل کے بارے میں علماء سے رجوع کرنا چاہیے اور یہ بھی دلیل ہے کہ اخبار علم کا فائدہ دیتی ہیں اگر مخبر ثقہ ہو جو معتمد علیہ ہو ‘‘۔ (تفسیر مظہری، جلد ۵، صفحہ ۴۰۸)۔

ایک اور جگہ اللہ پاک کا یوں ارشاد ہے: (وَ اِذَا جَآءَ ھُمْ اَمْرٌ مِّنَ الْاَمْنِ اَوِالْخَوْفِ اَذَاعُوْا بِہٖ وَ لَوْ رَدُّوْہٗ اِلَی الرَّسُوْلِ وَ اِلآی اُوْلِی الْاَمْرِ مِنْھُمْ لَعَلِمَہُ الَّذِیْنَ یَسْتَنْبِطُوْنَہٗ مِنْھُمْ) یعنی ’’ اور جب ان کے پاس کوئی امن کی خبر پہنچتی ہے یا خوف کی تو اسے مشہور کردیتے ہیں اور اگر لوٹا دیتے اسے رسول کی طرف اور اولوالامر لوگوں کی طرف اپنی جماعت سے تو جان لیتے اس کو وہ لوگ جو نتیجہ اخذ کرسکتے ہیں بات کا ان میں سے‘‘۔ (النسآء: ۸۳)۔اس آیت کا سبب نزول یہ تھاکہ منافقین نبی کریم ﷺ اور مسلمانوں سے متعلق جھوٹی سچی مبالغہ آمیز خبریں پھیلادیا کرتے تھے جنھیں بعض ضعیف العقل اور ناتجربہ کار مسلمان بھی ان کے مضمرات اور نتائج پر غور کئے بغیر آگے بڑھاتے دیتے تھے۔ ان میں بعض خبریں وہ ہوتی تھیں جن کے نتائج جنگی و حربی پہلو سے نہایت خطرناک ہوسکتے تھے۔ اس لئے مسلمانوں کو یہ ہدایت دی گئی وہ ہر خبر پرجو ان تک پہنچے یقین کرلینے اور اسے دوسروں تک پہنچانے سے بچیں بلکہ اسے فوراً رسول اللہ ﷺ اور اپنے اولوالامر ساتھیوں تک جو معاملات میں گہری بصیرت رکھتے تھے پہنچائیں تاکہ وہ لوگ اس کی حقیقت، اس کے مضمرات اور نتائج پر غور و فکر کریں اور پھر جس حد تک ضروری اور حکمت کے موافق سمجھیں عام لوگوں کو بتائیں۔

یہ آیت گو نبی کریم ﷺ کے زمانے کے خاص حالات کے تناظر میں نازل ہوئی لیکن اس میں ہر دورکے مسلمانوں کے لئے رہنمائی موجود ہے کہ وہ ہر خبر کو خواہ اس کا تعلق دشمنوں کی جنگی چال سے ہو یا مسائل حوادث سے اپنے اولوالامر اور ذی فہم لوگوں تک پہنچائیں اور پھر ان کی ہدایات کے مطابق ہی آگے کی راہ متعین کریں۔ اس طرح عام لوگ بہت سی بے بنیاد اور کچھ صحیح خبروں کی خلاف حکمت تشہیر سے بچ سکتے ہیں اور بہت سے ملی نقصانات کوٹالا جاسکتا ہے۔اب ان اولوالامر کی تعین کے سلسلہ میں مفسرین کے دو مشہور اقوال ہیں۔ ایک قول کے مطابق اولوالامر سے مراد علماء اور فقہاء ہیں جیسا کہ حضرات عبداللہ بن عباسؓ، جابرؓ بن عبداللہ، مجاہدؒ، حسن بصریؒ، قتادہؒ، ابوالعالیہؒ، ابن ابی لیلیٰؒ وغیرہم کی رائے ہے جبکہ دوسرے قول کے مطابق اس سے مراد امراء اور حکام ہیں جیسا کہ ابوہریرہؓ، سدیؒ اور کچھ دوسرے مفسرین کی رائے ہے۔ مفتی شفیع صاحبؒ نے علامہ ابوبکر جصاص کے حوالہ سے لکھا ہے کہ اولوالامر کا اطلاق ان دونوں گروہ پر ہوتا ہے اور دونوں قول کی تطبیق اس طرح کی ہے کہ فقہی تحقیقات اور مسائل جدیدہ کے حل میں علماء اور فقہاء کی طرف رجوع کیا جائے جبکہ انتظامی امور میں حکام اور امراء کی طرف۔ (معارف القرآن، جلد۲، صفحہ ۴۵۰۔ ۴۵۲ اور صفحہ ۹۲ ۴۔ ۴۹۴؛ تفسیر مظہری، جلد۲، صفحہ ۴۰۱۔ ۴۰۲)۔ اس طرح اس آیت سے بھی علماء اور فقہاء کی فضیلت و برتری ثابت ہوتی ہے۔ امام غزالی ؒ نے بھی اس آیت سے علم اور علماء کی فضیلت پر استدلال کیا ہے اوریہ لکھا ہے: ’’ردّ حکمہ في الوقائع إلی استنباطھم، وألحقّ رتبتھم برتبۃ الأنبیاء في کشف حکم اللہ‘‘۔ (احیاء علوم الدین، دارالمنہاج للنّشر و التّوزیع المملکۃ العربیۃ السعودیۃ، جدۃ، ۲۰۱۱ ؁ء، المجلّد الاوّل، صفحہ ۲۱) یعنی باری تعالیٰ نے واقعات و معاملات کے باب میں اپنے حکم کو علماء کے استبناط و اجتہاد پر راجع فرمایا اور حکم الٰہی کے اظہار میں ان کے مرتبہ کو انبیاء کرام علیہم السلام کے درجے کے ساتھ ملایا ہے۔

مذکورہ نصوص اور ان کی تفاسیر کی روشنی میں یہ نتیجہ اخذ کرنا دشوار نہیں کہ اللہ تعالیٰ کو یہ مطلوب ہے کہ اس کے بندوں کے اندر تحقیق کا جذبہ ہو اور یہی وہ جذبہ ہے جو تمام علمی سرگرمیوں کی روح ہے کیوں کہ تمام علوم کا احاطہ کر لینا ہر کسی کے لئے مشکل ہی نہیں ناممکن بھی ہے لیکن اگر کسی کے اندر تحقیق کا جذبہ ہو یعنی ہر عملی قدم اٹھانے سے پہلے وہ معتمد علماء اور فقہاء سے یہ معلوم کر لیا کرے کہ اس سلسلہ میں اللہ او ر اس کے رسول ﷺ کے احکامات کیا ہیں، تو ان شاء اللہ وہ کبھی بے راہ نہیں ہوگا اور طلب علم سے یہی مقصود بھی ہے کہ انسان راہ ہدایت کو پہچان لے۔

8. قرآن کریم میں اعضائے حسی کو بروئے کارلانے کی ترغیب:

اللہ کی نعمتوں میں سے ایک بڑی نعمت یہ بھی ہے کہ اس نے انسان کو ایسے آلات اور ذرائع سے مزین کیا ہے جن کے ذریعہ وہ اپنی داخلی اور خارجی دنیا کا ادراک کرسکے اور نفع و نقصان کو سمجھتے ہوئے اپنے دنیوی اور اخروی تقاضوں کو پورا کرسکے۔ اس نے انسان کو آنکھ، کان، ناک، زبان اور جلد عطا فرمائے جن سے علی الترتیب قوت بصارت، سماعت، شامہ، ذائقہ اور لامسہ وابستہ ہیں۔ ان کے علاوہ اس نے انسان کو عقل کی اہم ادراکی خصوصیت سے نوازا ہے جس سے حیوانات کو محروم رکھا، جس کے ذریعہ انسان غور و فکر اور استدلال کرکے کسی چیز کی حقیقت تک پہنچتا ہے۔ اللہ نے اپنی کتاب میں علم کے ان قدرتی ذرائع میں خصوصیت سے کان، آنکھ اور دل کا تذکرہ کیا ہے اور ان کے صحیح استعمال کی ترغیب بھی دی ہے۔ ارشاد ربانی ہے: (وَاللّٰہُ اَخْرَجَکُمْ مِنْ بُطُوْنِ اُمَّھٰتِکُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ شَیْءًا وَّ جَعَلَ لَکُمُ السَّمْعَ وَالْاَبْصَارَ وَ الْاَفْءِدَۃَ لَعَلَّکُمْ تَشْکُرُوْنَ)۔ (ترجمہ): ’’اللہ نے تم کو تمہاری ماؤں کے بطن سے (ایسی حالت میں نکالا) کہ تم کچھ بھی نہ جانتے تھے، اسی نے تمھارے کان، آنکھیں اور دل بنائے تاکہ تم شکر گزاری کرو‘‘۔ (النَّحْل: ۷۸)۔ ان نعمتوں کی عملی شکرگزاری یہ ہے کہ انسان ان اعضاء اور ان سے وابستہ قوتوں کو اس طرح استعمال کرے جس سے اللہ سبحانہ و تعالیٰ راضی ہو جائے۔ اس کا واضح مطلب یہ ہے کہ ان قوتوں کو بروئے کار لائے بغیر نہ ہی کوئی عقیدہ قائم کرے اور نہ ہی کوئی عمل اختیار کرے۔ اگر وہ ایسا کرے گا تو اسے اللہ تعالیٰ کے سامنے جوابدہ ہونا پڑے گا کیوں کہ اس نے اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی ان نعمتوں کی ناقدری کی۔ ارشاد خداوندی ہے: (وَ لَا تَقْفُ مَا لَیْسَ لَکَ بِہٖ عِلْمٌ اِنَّ السَّمْعَ وَالْبَصَرَ وَالْفُؤَادَ کُلُّ اُولٰٓءِکَ کَانَ عَنْہُ مَسْءُوْلًا)۔ (ترجمہ): ’’جس بات کی تجھے خبر نہ ہو اس کے پیچھے مت پڑ کیونکہ کان، آنکھ اور دل ان میں سے ہر ایک سے پوچھ گچھ کی جانے والی ہے‘‘۔ (بنیْٓ اسرآئیل: ۳۶)۔ نیز جو لوگ اللہ کی ان نعمتوں کا حق ادا نہیں کرتے ان کی مذمت قرآن نے ان الفاظ میں کی ہے: (وَلَقَدْ ذَرَاْنَا لِجَھَنَّمَ کَثِیْرًا مِّنَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ لَھُمْ قُلُوْبٌ لَّا یَفْقَھُوْنَ بِھَا وَ لَھُمْ اَعْیُنٌ لَّایُبْصِرُوْنَ بِھَا وَ لَھُمْ اٰذَانٌ لَّا یَسْمَعُوْنَ بِھَا اُولٰٓءِکَ کَالْاَنْعَامِ بَلْ ھُمْ اَضَلُّ اُولٰٓءِکَ ھُمُ الْغٰفِلُوْنَ)۔ (ترجمہ): ’’ہم نے بہت سے انسان دوزخ کے لئے پیدا کئے ہیں جن کے دل ایسے ہیں، جن سے نہیں سمجھتے اور جن کی آنکھیں ایسی ہیں، جن سے نہیں دیکھتے اور جن کے کان ایسے ہیں جن سے نہیں سنتے۔ یہ لوگ چوپایوں کی طرح ہیں بلکہ یہ ان سے بھی زیادہ گمراہ ہیں۔ یہی لوگ غافل ہیں ‘‘۔ (الأعراف: ۱۷۹)۔ یعنی ان کے دل تو ہیں لیکن وہ حق کے دلائل میں غور و فکر نہیں کرتے، ان کی آنکھیں تو ہیں لیکن ان سے حق کے روشن دلائل کو عبرت کی نگاہ سے نہیں دیکھتے، ان کے کان تو ہیں لیکن ان سے آیات قرآنیہ اور مواعظ و نصائح کو غور سے نہیں سنتے اور ان کی اس فطرت نے انہیں جانوروں سے بھی بد تر بنا دیا ہے۔

اس آیت سے یہ بھی ظاہر ہے کہ علم و ہدایت کے قدرتی ذرائع کو بروئے کار نہ لانے کی خصلت جہنمیوں کی صفت ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ جہنم میں جانے کی ایک بڑی وجہ علم کے ان ذرائع کا صحیح استعمال نہ کرنا ہے، جیسا کہ دوسری آیت میں ہے کہ یوم آخرت میں جہنمی اپنی اس کوتاہی پر اظہار افسوس بھی کریں گے: (کُلَّمَآ اُلْقِیَ فِیْھَا فَوْجٌ سَاَلَھُمْ خَزَنَتُھَآ اَلَمْ یَاْتِکُمْ نَذِیْرٌ ھ قَالُوْا بَلٰی قَدْ جَآءَ نَا نَذِیْرٌ فَکَذَّبْنَا وَ قُلْنَا مَا نَزَّلَ اللّٰہُ مِنْ شَیْ ءٍ اِنْ اَنْتُمْ اِلّاَ فِیْ ضَلٰلٍ کَبِیْرٍ ھ وَ قَالُوْا لَوْ کُنَّا نَسْمَعُ اَوْ نَعْقِلُ مَا کُناَّ فِیْٓ اَصْحٰبِ السَّعِیْرِ)۔ (ترجمہ): ’’اورجب بھی اس (جہنم) میں ان کی کوئی جماعت ڈالی جائے گی تو ان سے اس کے داروغہ پوچھیں گے کہ کیا تمھارے پاس کوئی ڈرانے والا نہیں آیا تھا؟ وہ جواب دیں گے کہ ہاں (کیوں نہیں ) بیشک ہمارے پاس ڈرانے والا آیا تھا لیکن ہم نے اسے جھٹلایا اور ہم نے کہا کہ اللہ نے کچھ بھی نازل نہیں فرمایا، تم تو بہت بڑی گمراہی میں ہو اور کہیں گے کہ اگر ہم سنتے ہوتے یا سمجھتے ہوتے تو دوزخیوں میں شامل نہ ہوتے‘‘۔ (الملک: ۸۔ ۱۰)۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ دنیا میں حاسہ سماعت اور عقل سے محروم تھے بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان لوگوں نے اللہ کی دی ہوئی ان نعمتوں کا صحیح استعمال نہیں کیا جو ان کے لئے خسران کا موجب بنا۔

9. قرآن اور غورو فکر کی تاکید :

علم کی فضیلت اور اہمیت پر وہ آیات کریمہ بھی دلالت کرتی ہیں جن میں اللہ رب العزت اپنے بندوں کو اپنی قوت عقلیہ و فکریہ کو بروئے کار لانے کی خصوصیت سے تاکید کی ہے اور اسی تاکید کے پیش نظر اسے مستقل عنوان کے تحت ذکر کیا جارہا ہے۔ چنانچہ ان میں بعض آیات تو وہ ہیں جن میں اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے اپنی کتاب کے اندر غور و فکر کی دعوت دی ہے۔ جیسے ارشاد ہے: (کِتٰبٌ اَنْزَلْنٰہُ اِلَیْکَ مُبٰرَکٌ لِّیَدَّبَّرُوْٓا اٰیٰتِہٖ وَ لِیَتَذَکَّرَ اُولُوا الْاَ لْبَابِ)۔ (ترجمہ): ’’یہ ایک بابرکت کتاب ہے جس کو ہم نے آپ پراس واسطے نازل کیا ہے تاکہ لوگ اس کی آیتوں میں غور کریں اور تاکہ اہل فہم اس سے نصیحت حاصل کریں ‘‘۔ (ص: ۲۹)۔ ایک جگہ قرآن میں غور و فکر نہ کرنے والوں کی یوں مذمت فرمائی ہے: (اَفَلَا یَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَ اَمْ عَلٰی قُلُوْبٍ اَقْفَالُھَا)۔ (ترجمہ): ’’کیا یہ لوگ قرآن میں غور و فکر نہیں کرتے یا ان کے دلوں پر قفل لگ رہے ہیں ‘‘۔ (محمد: ۲۴)۔ اس مضمون کی اور بھی آیات ہیں مثلاً البقرہ: ۲۱۹، النسآء: ۸۲ وغیرہ۔

غور و فکر سے متعلق دوسری قسم کی آیات وہ ہیں جن میں اللہ رب العزت نے کائنات، اس کے محکم نظام اور اس میں بکھری ہوئی اپنی مخلوقات میں غور کرنے کی ہدایت دی ہے۔ جیسے ارشاد ہے: (اَوَلَمْ یَنْظُرُوْا فِیْ مَلَکُوْتِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَ مَا خَلَقَ اللّٰہُ مِنْ شَیئٍ)۔ (ترجمہ): ’’کیا ان لوگوں نے غور نہیں کیاآسمان و زمین کے عالم میں اور دوسری چیزوں میں جو اللہ نے پیدا کی ہیں ‘‘۔ (الاعراف: ۱۸۵)۔ دوسری جگہ ارشاد ہے: (قُلِ انْظُرُوْا مَاذَا فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ)۔ (ترجمہ): ’’آپ کہہ دیجئے کہ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے ا نھیں آنکھیں کھول کر دیکھو‘‘۔ (یونس: ۱۰۱)۔ ایک جگہ یوں فرمایا ہے: (اِنَّ فِی خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَاخْتِلَافِ الَّیْلِ وَالنَّھَارِ وَالْفُلْکِ الَّتِیْ تَجْرِیْ فِی الْبَحْرِ بِمَا یَنْفَعُ النَّاسَ وَ مَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ مِنَ السَّمَآءِ مِنْ مَّآءٍ فَاَحْیَا بِہِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِھَا وَ بَثَّ فِیھَا مِنْ کُلِّ دَآبَّۃٍ وَّ تَصْرِیْفِ الرِّیٰحِ وَالسَّحَابِ الْمُسَخَّرِ بَیْنَ السَّمَآءِ وَالْاَرْضِ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ)۔ (ترجمہ): ’’بے شک آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں، اور رات اور دن کے بدلتے رہنے میں، اور ان کشتیوں میں جو انسان کی نفع کی چیزیں لئے ہوئے سمندر میں چلتی پھرتی ہیں اور بارش کے اس پانی میں جسے اللہ آسمان سے برساتا ہے پھر اس کے ذریعہ مردہ زمین کو زندہ کردیتا ہے اور اس میں ہر قسم کی جاندار مخلوق پھیلاتا ہے اور ہواؤں کی گردش میں اور بادل میں جو تابع فرمان ہو کر آسمان اور زمین کے درمیان معلق رہتے ہیں، نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لئے جو عقل رکھتے ہیں ‘‘۔ (البقرھ: ۱۶۴)۔ اس مضمون کی اور بھی بہت سی آیات ہیں مثلًا؛ الانعام: ۹۵۔ ۹۹، النحل: ۱۰۔ ۱۷، ۶۵۔ ۶۹، ۷۸۔ ۸۱، العنکبوت: ۲۰، یٰسین: ۳۲۔ ۴۴، الغاشیہ: ۱۷۔ ۲۰، فاطر: ۲۷۔ ۲۸، الروم: ۱۹۔ ۲۵ وغیرہ۔ ایک جگہ اللہ پاک نے ایسے بندوں کی تعریف کی ہے جو زمین و آسمان کی تخلیق اور کائنات کے دیگر اسرار و رموز پر غور کرتے ہیں اور انہیں کائنات کے خالق کی معرفت حاصل ہوجاتی ہے: (اِنَّ فِی خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَاخْتِلَافِ الَّیْلِ وَالنَّھَارِ لَاٰیٰتٍ لِّاُولِی الْبَابِ ھ الَّذِیْنَ یَذْکُرُوْنَ اللّٰہَ قِیٰمًا وَّ قُعُوْدًا وَّ عَلٰی جُنُوْبِھِمْ وَ یََتَفَکَّرُوْنَ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ ھٰذَا بَاطِلًا سُبْحٰنَکَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ ھ)۔ (ترجمہ): ’’آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں اور رات اور دن کے بدلنے میں یقینًا عقلمندوں کے لئے نشانیاں ہیں۔ (وہ ایسے لوگ ہیں ) جو اللہ کا ذکر کھڑے اور بیٹھے اور اپنی کروٹوں پر لیٹے ہوئے کرتے ہیں اور آسمان و زمین کی پیدائش میں غور و فکر کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار! آپ نے ان سب کی تخلیق بے فائدہ نہیں کی، آپ پاک ہیں ( اس سے کہ عبث کام کریں )، ہمیں آگ کے عذاب سے بچالیجئے‘‘۔ (آل عمران: ۱۹۰۔ ۱۹۱)۔

تیسری قسم کی آیات وہ ہیں جن میں اللہ رب العزت نے انسان کو اپنی ذات میں غور وفکر کی دعوت دی ہے۔ ان میں بعض آیات ایسی بھی ہیں جن میں انفس وآفاق دونوں کا ہی تذکرہ ہے جیسے یہ آیت کریمہ: (اَوَلَمْ یَتَفَکَّرُوْا فِیْٓ اَنْفُسِھِمْ مَا خَلَقَ اللّٰہُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَھُمَآ اِلَّا بِالْحَقِّ وَ اَجَلٍ مُّسَمًّی)۔ (ترجمہ): ’’کیا انھوں نے کبھی اپنی ذات میں غور و فکر نہیں کیا کہ اللہ نے آسمانوں کواور زمین کو اور ان ساری چیزوں کو جو ان کے درمیان ہیں حق کے ساتھ اور ایک وقت مقرر تک کے لئے ہی پیدا کیا ہے؟ ‘‘۔ (الروم: ۸)۔ ایک جگہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: (سَنُرِیْھِمْ اٰیٰتِنَا فِی الْاٰفَاقِ وَ فِیْٓ اَنْفُسِھِمْ حَتّٰی یَتَبَیَّنَ لَھُمْ اَنَّہُ الْحَقُّ)۔ (ترجمہ): ’’عنقریب ہم ان کو اپنی نشانیاں آفاق عالم میں بھی دکھائیں گے اور خود ان کی اپنی ذات میں بھی یہاں تک کہ ان پر یہ بات واضح ہوجائے گی کہ یہ (قرآن ) واقعی حق ہے‘‘۔ (فصلت: ۵۳)۔ اور ایک جگہ انسان کو خود اپنی تخلیق پر غور کرنے کویوں متوجہ فرمایا: (فَلْیَنْظُرِ الْاِنْسَانُ مِمَّ خُلِقَ ھ خُلِقَ مِنْ مَّآءٍ دَافِقٍ ھ یَخْرُجُ مِنْ بَیْنِ الصُّلْبِ وَالتَّرَآءِب ھ)۔ (ترجمہ): ’’ پھر انسان ذرا یہی دیکھ لے کہ وہ کس چیز سے پیدا کیا گیا ہے ؟ اسے پیدا کیا گیا ہے اچھلتے پانی سے جو پیٹھ اور سینے کی ہڈیوں کے درمیان سے نکلتا ہے‘‘۔ (الطارق: ۵۔ ۷)۔ اس کے علاوہ اور بھی آیات ہیں جیسے القیٰمہ: ۳۶۔ ۳۹، الانفطار: ۶۔ ۸، الزمر: ۵۔ ۶، المؤمنون: ۱۲۔ ۱۴، السجدہ: ۷۔ ۹، الحج: ۵۔ ۶، عبس: ۱۷۔ ۲۰، المؤمن: ۶۷، الانسان: ۱۔ ۲ جن میں بار ی تعالیٰ نے انسان کی تخلیق کے مختلف مراحل کا تذکرہ کیا ہے تاکہ انسان ان میں غور کرے اور اللہ کی قدرت، اس کی خالقیت، صنعت اور حکمت کو پہچان سکے۔

چوتھی قسم کی آیات وہ ہیں جن میں اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے انسان کو اپنے تشریعی احکامات کی حکمتوں میں غور و فکر کی طرف متوجہ کیا ہے تاکہ وہ ان آیات و احکام کو اچھی طرح سمجھ کر صحیح طور پر اپنی عملی زندگی پر منطبق کرے۔ مثال کے طور پر اس آیت کو دیکھیں : (یَسْءَلُوْنَکَ عَنِ الْخَمْرِ وَ الْمَیْسِرِ قُلْ فِیْھِمَآ اِثْمٌ کَبِیْرٌ وَ مَنَافِعُ لِلنَّاسِ وَ اِثْمُھُمَآ اَکْبَرُ مِنْ نَّفْعِھِمَآ وَ یَسْءَلُوْنَکَ مَاذَا یُنْفِقُوْنَ قُلِ الْعَفْوَ کَذَالِکَ یُبَیِّنُ اللّٰہُ لَکُمُ الْاٰیٰتِ لَعَلَّکُمْ تَتَفَکَّرُوْنَ)۔ (ترجمہ): ’’وہ پوچھتے ہیں آپ سے شراب اور جوئے کی بابت، آپ فرمائیے ان دونوں میں بڑا گناہ ہے اور کچھ فائدے بھی ہیں لوگوں کے لئے اور ان کا گناہ ان کے فائدے سے بہت زیادہ ہے اور پوچھتے ہیں آپ سے کیا خرچ کریں ؟ آپ فرمائیے جو ضرورت سے زیادہ ہو۔ اسی طرح صاف صاف بیان کرتا ہے اللہ تمھا رے لئے اپنے احکام تاکہ تم غور و فکر کرو‘‘۔ (البقرہ: ۲۱۹)۔ احکام قصاص کے بیان کے بعد فرمایا: (وَلَکُمْ فِی الْقِصَاصِ حَیٰوۃٌ یّٰٓاُولِی الْاَلْبَابِ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ)۔ (ترجمہ): ’’اے فہیم لوگو! (اس قانون) قصاص میں تمھارے لئے زندگی ہے، امید ہے کہ تم لوگ (اس قانون کی خلاف ورزی کرنے سے) پرہیز کروگے ‘‘۔ (البقرہ:۱۷۹)۔ اسی طرح روزہ میں رخصت کے پہلو کو بیان کرکے فرمایا: (وَ اَنْ تَصُوْمُوْا خَیْرٌ لَّکُمْ اِنْ کُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ)۔ (ترجمہ): ’’لیکن تمھارے حق میں بہتر یہی ہے کہ روزہ رکھو اگر تم سمجھ رکھتے ہو‘‘۔ (البقرہ: ۱۸۴)۔ نماز جمعہ کے سلسلہ میں فرمایا: (یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْآ اِذَا نُوْدِیَ لِلصَّلٰوۃِ مِنْ یَّوْمِ الْجُمُعَۃِ فَاسْعَوْا اِلٰی ذِکْرِ اللّٰہِ وذَرُواالْبَیْعَ ذَالِکُمْ خَیْرٌ لَّکُمْ اِنْ کُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ)۔ (ترجمہ): ’’اے ایمان لانے والو ! جب اذان دی جائے نماز کے لئے جمعہ کے دن تو اللہ کے ذکر کی طرف دوڑ پڑو اور خرید و فروخت چھوڑ دو، یہ تمھارے حق میں زیادہ بہتر ہے، اگر تم جانتے ہو ‘‘۔ (الجمعہ: ۹)۔ اس قبیل کی اور بھی آیات ہیں مثلاً البقرہ: ۱۸۵، ۲۳۰، ۲۴۰۔ ۲۴۱، ۲۸۲، النسآء: ۲۳۔ ۲۶، المآئدہ: ۸۹، ۱۰۰، الانعام: ۱۱۹، العنکبوت: ۴۵، الحشر: ۷ وغیرہ لیکن سب کو یہاں نقل کرنانہ ہی ممکن ہے نہ ضروری، اگر کوئی صاحب علم و تحقیق دیکھنا چاہیں تو رجوع کرسکتے ہیں۔

غور و فکر سے متعلق پانچویں قسم کی آیات وہ ہیں جن میں تاریخی مراحل میں قوموں کے اندر جاری اللہ کی سنت پر غور کرنے کی دعوت ملتی ہے۔ جیسے فرمایا: (اَلَمْ یَرَوْا کَمْ اَھْلَکْنَا مِنْ قَبْلِھِمْ مِّنْ قَرْنٍ مََّکَّنّٰھُمْ فِی الْاَرْضِ مَالَمْ نُمَکِّنْ لَّکُمْ وَ اَرْسَلْنَا السَّمَآءَ عَلَیْھِمْ مِّدْرَارًا وَّ جَعَلْنَا الْاَنْھٰرَ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِھِمْ فَاَھْلَکْنٰھُمْ بِذُنُوْبِھِمْ وَ اَنْشَاْنَا مِنْ بَعْدِھِمْ قَرْنًا اٰخَرِیْنَ)۔ (ترجمہ): ’’کیا انہوں نے دیکھا نہیں کہ ہم ان سے پہلے کتنی ایسی قوموں کو ہلاک کرچکے ہیں جن کو ہم نے دنیا میں ایسی قوت دی تھی کہ تم کو وہ قوت نہیں دی اور ہم نے ان پر خوب بارشیں برسائیں اور ہم نے ان کے نیچے نہریں جاری کیں۔ پھر ہم نے ان کوان کے گناہوں کی پاداش میں ہلاک کرڈالا اور ان کے بعد دوسری قوموں کو پیدا کردیا‘‘۔ (الانعام:۶)۔ ایک جگہ فرمایا: (وَلَقَدْ اَھْلَکْنَا الْقُرُوْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ لَمَّا ظَلَمُوْا وَ جَآءَ تْھُمْ رُسُلُھُمْ بِالْبَیِّنٰتِ وَ مَاکَانُوْ لِیُؤْمِنُوْا کَذَالِکَ نَجْزِی الْقَوْمَ الْمُجْرِمِیْنَ ھ ثُمَّ جَعَلْنٰکُمْ خَلٰٓءِفَ فِی الْاَرْضِ مِنْ بَعْدِھِمْ لِنَنْظُرَ کَیْفَ تَعْمَلُوْنَ)۔ (ترجمہ): ’’اور ہم نے تم سے پہلے بہت سی قوموں کو ہلاک کردیا جب کہ انہوں نے ظلم کی روش اختیار کی حالانکہ ان کے پاس ان کے پیغمبر بھی دلائل لے کر آئے، اور وہ ایسے کب تھے کہ ایمان لے آتے؟ ہم مجرم لوگوں کو ایسی ہی سزا دیا کرتے ہیں۔ پھر ان کے بعد ہم نے دنیا میں بجائے ان کے تم کو جانشیں کیاتاکہ ہم دیکھ لیں کہ تم کس طرح کام کرتے ہو ‘‘۔ (یونس: ۱۳۔ ۱۴)۔ ایک جگہ یوں ارشاد ہے: (لَءِنْ لَّمْ یَنْتَہِ الْمُنٰفِقُوْنَ وَ الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِھِمْ مَّرَضٌ وَّ الْمُرْجِفُوْنَ فِی الْمَدِیْنَۃِ لَنُغْرِیَنَّکَ بِھِمْ ثُمَّ لَایُجَاوِرُوْنَکَ فِیْھَآ اِلَّا قَلِیْلًا ھ مَلْعُوْنِیْنَ اَیْنَمَا ثُقِفُوْآ اُخِذُوْا وَ قُتِّلُوْا تَقْتِیْلًا ہ سُنَّۃَ اللّٰہِ فِی الَّذِیْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلُ وَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّۃِ اللّٰہِ تَبْدِیْلًا)۔ (ترجمہ): ’’اگر منافقین اور وہ لوگ جن کے دلوں میں خرابی ہے اور وہ لوگ جو مدینہ میں افواہیں اڑایا کرتے ہیں اگر باز نہ آئے تو، ضرور ہم آپ کو ان پر مسلط کردیں گے پھر وہ لوگ آپ کے ہمسایہ (پاس) نہ رہ سکیں گے اس (شہر) میں مگر تھوڑے دنوں، (وہ بھی ہر طرف سے) پھٹکارے ہوئے، جہاں ملیں گے پکڑے جائیں گے اور خوب ٹکڑے ٹکڑے کردئے جائیں گے۔ یہ اللہ کی سنت ہے جو ایسے لوگوں کے معاملہ میں پہلے سے چلی آرہی ہے اور آپ اللہ کی سنت میں کوئی تبدیلی نہ پائیں گے ‘‘۔ (الاحزاب: ۶۰۔ ۶۲)۔ اور ایک جگہ ایمان والوں کے لئے یہ ضابطہ بتایا: (وَعَدَ اللّٰہُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْکُمْ وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَیَسْتَخْلِفَنَّھُمْ فِی الْاَرْضِ کَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِھِمْ وَ لَیُمَکِّنَنَّ لَھُمْ دِیْنَھُمُ الَّذِی ارْتَضٰی لَھُمْ وَ لَیُبَدِّلَنَّھُمْ مِنْ بَعْدِ خَوْفِھِمْ اَمْنًا یَعْبُدُوْنَنِیْ لَا یُشْرِکُوْنَ بِیْ شَیْءًا وَمَنْ کَفَرَ بَعْدَ ذَالِکَ فَاُولٰٓءِکَ ھُمُ الْفٰسِقُوْنَ)۔ (ترجمہ): ’’اللہ وعدہ فرما چکا ہے تم میں سے ان لوگوں سے جو ایمان لائے ہیں اور نیک اعمال کئے ہیں کہ انہیں ضرور زمین میں خلیفہ بنائے گا جیسے کہ ان لوگوں کو خلیفہ بنایا تھا جو ان سے پہلے تھے اور یقیناً ان کے لئے ان کے اس دین کو مضبوطی کے ساتھ محکم کرکے جمادے گاجسے ان کے لئے وہ پسند فرماچکا ہے اور ان کے اس خوف و خطر کو امن و امان سے بدل دے گا (بشرطیکہ) وہ میری ہی عبادت کرتے رہیں (اور) میرے ساتھ کسی قسم کا شرک نہ کریں اور جو لوگ اس کے بعد بھی کفر (ناشکری) کریں تو وہ یقیناً فاسق ہیں ‘‘۔ (النور: ۵۵)۔ اس طرح کی اور بھی آیات ہیں مثلاً آل عمران: ۱۳۷۔ ۱۳۸، الانعام: ۱۱، الاعراف: ۹۶، ۱۳۶۔ ۱۳۷، ھود: ۱۸۔ ۲۰، یوسف: ۱۰۹، الحج: ۴۰۔ ۴۱، النمل: ۶۹، القصص: ۴۔ ۶، الروم: ۹، غافر: ۲۱ وغیرہ

مندرجہ بالا تفصیلات سے اس بات کا اندازہ ہوتا ہے کہ قرآن نے انسان کو غور و فکر کی دعوت کس اہتمام سے دی ہے۔ یہ اہتمام انسانی زندگی میں غور و فکر کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ غور و فکر اور تدبر و تفکر ہی ہے جس سے علمی تحقیق کی راہیں کھلتی ہیں۔ انسان قرآن کے بتائے ہوئے نہج کے مطابق جس رخ پر بھی اپنے تدبر و تفکر کو مرکوز کرے گا، خود کو علم کے ایک اتھاہ سمندر میں غوطہ زن پائے گا۔ اس لئے قرآن کریم کی غور و فکر پر یہ تاکید دراصل علم و تحقیق کی دعوت ہے جو عام انسانوں کو دی گئی ہے اور ایک مسلمان چونکہ اس کا خصوصی مخاطب ہے اس لئے اس پر یہ لازم ہے کہ وہ ان میدانوں میں اپنی صلاحیتوں کو صرف کرے۔ تفسیر قرآن، علوم حدیث، فقہ، تاریخ، تصوف حتی کہ سائنس، طب، علم فلکیات اور ریاضی کے میدان میں مسلم اسکالرز نے جو کاوشیں کی ہیں اوران کے نتیجہ میں جو علمی سرمایہ وجود میں آیا، ان سب کا محرک دراصل وہ قرآنی آیات ہی تھیں جن میں ضروری علم کے ساتھ غور و فکر اور تدبر و تفکر کی دعوت دی گئی ہے۔ لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ اب ہماری نئی نسل کو اپنے اسلاف کی ان کی خدمات کا بھی علم نہیں۔ مغرب جب تاریخ کے تاریک دور سے گزر رہا تھا اس وقت مسلم اسکالرز مختلف علوم کے میدان میں اپنے جلوے بکھیر رہے تھے اور یورپ کا نشاۃ ثانیہ (Renaissance) تو بہت حد تک ان کی کاوشوں کا ہی مرہون منت ہے اوروہاں کے دیانتدار اسکالرز آج بھی اس کے معترف ہیں۔

ابھی راقم کے زیر مطالعہ ایک کتاب ہے جس کا سرورق عنوان ہے "1001 Inventions: The Enduring Legacy of Muslim Civilization” (۱۰۰۱ ایجادات: مسلم تہذیب کی پائدار وراثت) جس کا یہ تیسرا ایڈیشن نیشنل جیوگرافک سوسائٹی، واشنگٹن (National Geographic Society, Washington) نے سنہ ۲۰۱۲ء ؁ میں شائع کیا ہے اور جس کے مدیر پروفیسر سالم ٹی ایس الحسنی ہیں جو 1001 Inventions and the Foundation for Science, Technology and Civilization (FSTC), United Kingdom کے چیئرمین ہیں۔ اس کتاب کو برطانیہ میں مقیم محققین کی ایک ٹیم نے عالمی سطح پر موجود اسکالرز کے ایک نیٹ ورک کے تعاون سے تیار کیا ہے اور قابل ذکر بات یہ بھی ہے کہ اس پر تقریظ ہز ہائنس پرنس آف ویلس، چارلس نے لکھی ہے۔ جیسا کہ نام سے ہی ظاہر ہے اس کتاب میں ساتویں صدی سے لے کے تیرہویں صدی عیسوی کے درمیان کی مسلم تہذیب کی خدمات کو اجاگر کیا گیا ہے۔ خود پرنس چارلس نے بھی پیش لفظ میں اس کا اعتراف کیا ہے کہ یورپ کے نشاۃ ثانیہ میں دور مذکورہ کی علمی و تہذیبی ترقیات کا بڑا رول ہے۔ قابل صد تحسین ہیں برطانیہ کے فاؤنڈیشن فار سائنس، ٹیکنالوجی اینڈ سولائیزیشن سے جڑے محققین اور نیشنل جیوگرافک سوسائٹی، واشنگٹن کے ذمہ داران جنہوں نے مسلمانوں کی علمی و تہذیبی وراثت کو منظر عام پر لانے کی سعی کی حالانکہ یہ کام تو مسلم ممالک کے سربراہان کی سرپرستی میں مسلم محققین کے ذریعہ انجام پانا چاہیے تھا۔ لیکن دنیا طلبی اور عیش کوشی نے ہماری قوت فکر و عمل کو فنا کردیا اور علمی و تحقیقی جد و جہد سے ہم کوسوں دور ہوگئے اور آج نوبت یہاں تک آگئی کہ دوسرے ہمیں یاد دلارہے ہیں کہ تمہارے اسلاف کے یہ کارنامے تھے۔ ہمارے نئی نسل اس کتاب کو اگر پڑھ بھی لے تو شاید غنیمت ہو حالانکہ یہ کتاب اس کی مستحق ہے کہ اس کے ترجمے اردو، فارسی، عربی اور دیگر زبانوں میں کئے جائیں تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگوں تک یہ علمی سرمایہ پہنچ سکے اور نئی نسل اپنے اسلاف کے علمی و تہذیبی ورثہ سے واقف ہوسکے۔

10 . علم دین کے تحفظ اور اس کی ترویج و اشاعت کے لئے جہاد سے رخصت :

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: (وَ مَا کَانَ الْمُؤمِنُوْنَ لِیَنْفِرُوْا کَآفَّۃً فَلَوْلَا نَفَرَ مِنْ کُلِّ فِرْقَۃٍ مِّنْھُمْ طَآءِفَۃُٗ لِّیَتَفَقَّھُوْا فِی الدِّیْنِ وَ لِیُنْذِرُوْا قَوْمَھُمْ اِذَا رَجَعُوْآ اِلَیْھِمْ لَعَلَّھُمْ یَحْذَرُوْنَ)۔ (ترجمہ): ’’ اور مسلمانوں کو یہ نہ چاہیے کہ سب کے سب نکل کھڑے ہوں، سو ایسا کیوں نہ کیا جائے کہ ان کی ہر ہر جماعت میں سے ایک چھوٹی جماعت جایا کرے تاکہ باقی ماندہ لوگ دین کی سمجھ بوجھ حاصل کرتے رہیں اور تاکہ یہ لوگ اپنی قوم کو جب کہ وہ ان کے پاس آئیں ڈرائیں تاکہ وہ احتیاط رکھیں ‘‘۔ (التوبۃ: ۱۲۲)۔ ا س آیت کریمہ کی تفسیر میں مفسرین نے عموماً دو پیرائے اختیار کئے ہیں اور آیت کے الفاظ میں عربی ترکیب کے لحاظ سے دونوں ہی احتمالات موجود ہیں۔ ایک جماعت کے نزدیک لِیَتَفَقَّھُوْا اور لِیُنْذِرُوْا کی ضمیریں مجاہدین سے پیچھے رہ جانے والوں کے لئے ہیں۔ امام ابوعبداللہ محمد بن احمد بن ابوبکر القرطبیؒ نے حضرت قتادہ اور مجاہد رضی اللہ عنہماکاایسا ہی قول نقل کیا ہے اور اسے ہی زیادہ بین اور واضح کہا ہے۔ (الجامع لاحکام القرآن معروف بہ تفسیر قرطبی(اردو)، ضیاء القرآن پبلی کیشنز، لاہور، ۲۰۱۲ء ؁، جلد۴، صفحہ ۷۷۹)۔ اس کا لازمی مطلب یہ ہے کہ تَبْقَیٰ طَآءِفَۃٌ یہاں محذوف ہے اور رَجَعُوْآ کی ضمیر مجاہدین کے لئے ہے۔ اس صورت میں آیت کا مفہوم یہ ہے کہ سب کے سب جہاد کے لئے نہ نکل کھڑے ہوں بلکہ ایک گروہ جہاد پر چلا جائے اور ایک گروہ پیچھے رہے جو دین کی سمجھ حاصل کرے اور جب مجاہدین ان کی طرف واپس آئیں تو انھیں بھی احکام دین سے آگاہ کر کے اللہ سے ڈرائے۔ امام قرطبیؒ نے اس آیت سے طلب علم کے واجب ہونے پر استدلال کیا ہے اور لکھا ہے کہ ’’یہ آیت طلب علم کے واجب ہونے میں اصل ہے‘‘۔ وہ آگے لکھتے ہیں : ’’اس میں کتاب و سنت میں تفقہ کے واجب ہونے کا ذکر ہے۔ اور یہ کہ یہ کفایہ ہے عین نہیں ہے‘‘۔ (حوالہ بالا، صفحہ ۷۷۸)۔ کفایہ کا مطلب یہ ہے کہ ہر شہر اور ہر گروہ میں سے ایک تعداد کا علم دین کی طلب میں لگے رہنا واجب ہے ورنہ سب گنہگار ہوں گے۔

عبداللہ بن عباسؓ بھی اس آیت کی ایک تفسیر یہی کرتے ہیں۔ فرماتے ہیں : ’’ اور ہمیشہ کے لئے مسلمانوں کو یہ بھی نہ چاہیے کہ جہاد کے لئے سب کے سب ہی نکل کھڑے ہوں اور (آپؐ کے زمانہ میں ) نبی اکرم ﷺ کو تنہا مدینہ منورہ میں چھوڑدیں، ایسا کیوں نہ کیا جائے کہ ان کی ہر بڑی جماعت میں سے ایک ایک چھوٹی جماعت (یعنی کچھ لوگ) جہاد میں جایا کرے اور کچھ جماعت مدینہ منورہ میں رہ جایا کرے تاکہ یہ باقی ماندہ لوگ رسول اکرم ﷺ سے (آپ کے وقت میں اور آپؐ کے بعد علماء شہر سے) دینی معلومات حاصل کرتے رہیں اور تاکہ یہ لوگ اس قوم کو جو جہاد میں گئی ہے، جب کہ وہ جہاد سے ان کے پاس آئیں ان کو دین کی باتیں سنا کر اللہ کی نافرمانی سے ڈراویں تاکہ ان کو معلوم ہوجائے کہ کن کن باتوں کا حکم دیا گیا ہے اور کن کن باتوں سے منع کیا گیا ہے‘‘۔ (تفسیر ابن عباسؓ تالیف ابوطاہر محمد بن یعقوب الفیروز آبادیؒ مع کتاب لباب النقول فی اسباب النزول از علامہ جلال الدین سیوطیؒ، اردو ترجمہ از پروفیسر محمد سعید احمد عاطف، مکی دارالکتب، لاہور، ۲۰۰۹ء ؁، جلد۲، صفحہ ۱۹)۔

اس تفسیر کی تائید ان روایتوں سے بھی ہوتی ہے جو اس آیت کے شان نزول میں حضرات عبداللہ بن عبد بن عمیرؓ اور عکرمہؓ سے مروی ہیں۔ حضرت عبداللہ بن عبد بن عمیرؓ سے روایت ہے کہ جب رسول اکرم ﷺ کسی لشکر کو روانہ فرماتے تو جہاد کے جذبہ اور شوق میں مومنین سب کے سب نکل کھڑے ہوتے اور رسول اکرم ﷺ کومدینہ منورہ میں چند کمزور آدمیوں کے ساتھ چھوڑجاتے، اس پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئ اور حضرت عکرمہؓ سے روایت ہے جسے ابن ابی حاتمؒ نے نقل کیا ہے کہ جب یہ آیت اِلَّا تَنْفِرُوْا یُعَذِّبْکُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا نازل ہوئ اور دیہات میں رہنے والوں میں سے کچھ لوگ جہاد میں نہیں گئے تھے اور اپنی قوم کو دین کی باتیں سکھا رہے تھے، اس پر منافقین کہنے لگے کہ یہ دیہاتی جو جہاد میں نہیں گئے ہلاک ہوگئے، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرماء۔ (حوالہ بالا، صفحہ ۱۹۔ ۲۰)۔

علمائے متاخرین میں قاضی ثناء اللہ صاحب پانی پتی ؒ نے بھی اس آیت کی ایک توضیح حضرت عکرمہؓ کے حوالہ سے یہی کی ہے۔ فرماتے ہیں : ’’یعنی ایسا کیوں نہ ہوا کہ کچھ لوگ جہاد پر نکلتے اور کچھ نبی کریم ﷺ کے ساتھ رہتے تاکہ دینی مسائل حاصل کرتے، قرآن، سنن، فرائض اور احکام سیکھتے اور پھر جب مجاہدین واپس آتے تو انھیں بتاتے کہ تمھارے جانے کے بعد یہ یہ احکامات نازل ہوئے ہیں، پھریہ غازی حضرات بعد میں نازل ہونے والے احکامات سیکھتے اور دوسرے لوگ جہاد پر چلے جاتے تاکہ تفقہ فی الدین جو جہاد اکبر ہے اس کا سلسلہ منقطع نہ ہو کیوں کہ حجت اور دلیل سے جھگڑنا اصل ہے اور بعثت نبوی کا مقصود بھی یہی ہے۔ اسی وجہ سے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا العلماء ورثۃ الانبیاء علماء انبیاء کے وارث ہیں ‘‘۔ (تفسیر مظہری، جلد۴، صفحہ ۳۷۱)۔

حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی صاحب تھانویؒ نے بھی اپنی تفسیر بیان القرآن میں اسی توجیہ کو اختیار کیا ہے۔ اصل عبارت ملاحظہ کیجئے : ’’اور ہمیشہ کے لئے مسلمانوں کو یہ بھی نہ چاہیے کہ جہاد کے واسطے سب کے سب ہی نکل کھڑے ہوں کہ اس میں بعض اوقات مسلمانوں کا ضرر ہے سو ایسا کیوں نہ کیا جاوے کہ ان کی ہر ہر بڑی جماعت میں سے ایک چھوٹی جماعت جہاد میں جایا کرے اور کچھ اپنے وطن میں رہ جایا کریں تاکہ یہ باقی ماندہ لوگ رسول اللہ ﷺ کے وقت میں آپ سے اور آپؐ کے بعد علماء شہر سے دین کی سمجھ بوجھ حاصل کرتے رہیں اور تاکہ یہ لوگ اپنی اس قوم کو جو کہ جہاد میں گئے ہیں جب کہ وہ ان کے پاس واپس آویں دین کی باتیں سنا کر خدا کی نافرمانی سے ڈراویں تاکہ وہ ان سے دین کی باتیں سن کر برے کاموں سے احتیاط رکھیں ‘‘۔ (بیان القرآن، مطبوعہ اشرف المطابع، تھانہ بھون، مظفرنگر، یوپی، ۱۳۵۳ ؁ھ، جلد۴، ۵، ۶ (یکجا)، صفحہ ۱۴۹)۔

حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحبؒ نے بھی اپنی تفسیر معارف القرآن میں اسی تعبیر کو اختیار کیا ہے اور اس آیت کی بنیاد پر جہاد کو عام حالات میں فرض کفایہ قرار دیا ہے، ساتھ ہی فرض کفایہ کی چند دوسری مثالیں بھی بیان کی ہیں، اس کے بعد آپ فرماتے ہیں : ’’اسی فرض کفایہ کے سلسلہ کا ایک اہم کام دینی تعلیم ہے، اس آیت میں خصوصیت سے اس کے فرض ہونے کا اس طرح ذکر فرمایا ہے کہ جہاد جیسے اہم فرض میں بھی اس فرض کو چھوڑنا نہیں، جس کی صورت یہ ہے کہ ہر بڑی جماعت میں سے ایک چھوٹی جماعت جہاد کے لئے نکلے اور باقی لوگ علم دین حاصل کرنے میں لگیں، پھر یہ علم دین حاصل کرکے جہاد میں جانے والے مسلمانوں کو اور دوسرے لوگوں کو علم دین سکھائیں ‘‘۔ (معارف القرآن، جلد۴، صفحہ ۴۸۸)۔

مولانا عبدالماجدؒ دریابادی نے بھی اس آیت کی یہی تفسیر کی ہے۔ وہ لکھتے ہیں : ’’فقہاء مفسرین نے لکھا ہے کہ جب جہاد سے پیچھے رہ جانے والوں پر وعیدیں نازل ہونے لگیں تو اس خوف سے سارے کے سارے مسلمان جہاد کے لئے نکل کھڑے ہوئے اس پر یہ احکام نازل ہوئے کہ ضروریات دین کی تعلیم و تعلم کے لئے بھی کچھ لوگوں کو ضرور لگے رہنا چاہیے۔ ایسا نہ ہونے پائے کہ ادھر سے غفلت ہوجائے۔ جہاد بالدلائل تو جہاد بالاسلحہ سے بھی زیادہ اہم ہے‘‘۔ (تفسیر ماجدی مکمل، پاک کمپنی، لاہور، ۲۰۰۷ء ؁، صفحہ ۴۶۲، حاشیہ ۲۳۰ )۔

دوسری تفسیر آیت کریمہ کی یہ ہے کہ اس کا تعلق جہاد سے نہیں بلکہ اس میں علم دین سیکھنے کی اہمیت، اس کی ترغیب اور اس کے حصول کی تدبیر کا بیان ہے۔ اس تعبیر کے مطابق آیت کا مطلب یہ ہے کہ تمام لوگ یکبارگی اپنا گھر بار اور وطن چھوڑ کر طلب علم میں نہ نکل پڑیں بلکہ ہر قبیلہ یا ہر بڑی جماعت میں سے چند آدمی علم دین کے حصول کے لئے نکلیں اور مراکز علم میں جاکر دین کی سمجھ بوجھ حاصل کریں اور واپس آکر اپنی قوم کو وعظ و نصیحت کے ذریعہ احکام الٰہی کی نافرمانی سے ڈرائیں تاکہ وہ لوگ احتیاط برتیں۔ اس تفسیر کی تائید بھی عبداللہ بن عباسؓ کے ایک قول سے ہوتی ہے۔ (ملا حظہ کیجئے تفسیر ا بن کثیرؒ اردو، مکتبہ اسلامیہ، لاہور، ۲۰۰۹ء ؁، جلد۲، صفحہ ۶۴۰)۔ ان کے علا و ہ علامہ ابوحیانؒ نے بھی اسی تعبیر کو اختیار کیا ہے اور شاہ عبدالقادر صاحب محدث دہلویؒ نے بھی اس آیت کی یہی توضیح کی ہے۔ (تفسیر عثمانیؒ از علامہ شبیر احمد عثمانیؒ، شاہ فہد قرآن شریف پرنٹنگ کمپلیکس، مدینہ منورہ، ۱۹۹۳ء ؁، صفحہ ۲۷۳۔ ۲۷۴، حاشیہ نمبر۵)۔ قاضی ثناء اللہ صاحب پانی پتیؒ اور مولانا صلاح الدین یوسف نے بھی اس آیت کی ایک تفسیر یہی کی ہے۔ (دیکھیں علی الترتیب؛ تفسیر مظہری، جلد۴، صفحہ ۳۶۸ اور قرآن کریم معہ اردو ترجمہ (از مولانا محمد جوناگڑھیؒ ) و تفسیر (از مولانا صلاح الدین یوسف)، شاہ فہد قرآن کریم پرنٹنگ کمپلیکس، مدینہ منورہ، ۱۴۱۷ ؁ھ، صفحہ ۵۵۶، حاشیہ نمبر۱)۔ علامہ سید سلیمان ندویؒ نے بھی اس آیت سے یہی اخذ کیا ہے (’’پیغام برِ قوم اور اسکے اصول دعوت‘‘ از علامہ سید سلیمان ندویؒ، بصورت مقدمہ در کتاب’ ’مولانامحمد الیاسؒ اور ان کی دینی دعوت‘ ‘ از مولانا سید ابوالحسن علی ندویؒ، ادارہ اشاعت دینیات (پرائیویٹ) لمیٹڈ، ۲۰۰۵ء ؁، صفحہ ۲۴) اور مولانا ابوالاعلیٰ مودودیؒ نے بھی اس آیت کی یہی تفسیر کی ہے۔ (تفہیم القرآن، ادارہ ترجمان القرآن، لاہور، جلد۲، صفحہ ۲۵۰۔ ۲۵۱)۔ رجوع الی القرآن کے ماضی قریب کے ایک اہم داعی ڈاکٹر اسرار احمدؒ نے بھی اسی تفسیر کو اختیار کیا ہے۔ (بیان القرآن، انجمن خدام القرآن، خیبر پختونخوا، پشاور، ۲۰۱۱ء ؁، جلد۳، صفحہ ۳۲۸۔ ۳۲۹)۔

مذکورہ تفاسیر کی روشنی میں اس آیت کریمہ سے کئی اہم نکات اخذ کئے جاسکتے ہیں۔ اگر پہلی تفسیر کو اختیار کیا جائے تو اس سے علم کی بڑی فضیلت اور اہمیت واضح ہوتی ہے کہ جہاد جیسے اہم فریضہ سے رخصت صرف علم کے تحفظ اور اس کی ترویج و اشاعت کے لئے دی گئی ہے۔ اس نکتہ کی صحیح معرفت صرف اس شخص کو ہوسکتی ہے جس کے سامنے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے وہ ارشادات ہوں جن میں جہاد کی اہمیت، اس کی فضیلت اور اس سے احتراز کرنے پر وعیدوں کا بیان ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ علم کی طلب میں مشغول ہونا اور دین میں تفقہ پیدا کرنے کی سعی کرنا کسی معنی میں جہاد سے کم نہیں۔ رسول پاک ﷺ کے قول ’’مَنْ خَرَجَ فِي طَلَبِ الْعِلْمِ فَھُوَ فِي سَبِیْلِ اللّٰہِ حَتّٰی یَرْجِعَ‘‘ (یعنی جو شخص علم کی طلب میں نکلا، تو وہ جب تک واپس نہ آجائے، اللہ کی راہ میں ہے) سے بھی اس فکر کی تائید ہوتی ہے۔ (سنن ترمذی، کتاب العلم، بابُ فَضْلِ طَلَبِ الْعِلْمْ، بروایت انس بن مالکؓ)۔ مشہور صحابی ابودرداءؓ کا ایک قول بھی اس فکر کی حمایت میں ہے جسے امام غزالی ؒ نے اپنی تصنیف احیاء علوم الدین میں نقل کیا ہے، وہ فرماتے ہیں : ’’مَنْ رأیٰ أنَّ الغُدوَّ إِلی العلمِ لیسَ بجھادٍ۔۔فقدْ نقصَ في رأیِہِ و عقلِہِ‘‘ یعنی ’’ جس شخص کی یہ رائے ہو کہ صبح کے وقت علم کی طلب میں جانا جہاد نہیں وہ اپنی رائے اور عقل میں ناقص ہے‘‘۔ (احیاء علوم الدین، المجلّد الاوّل، صفحہ ۳۸)۔

اگر اس آیت کی دوسری تفسیر کو اختیار کیا جائے تو بھی اس سے علم کی فضیلت ظاہر ہے کہ اس کے حصول کے لئے اپنے گھر بار اور وطن کو چھوڑ کر مراکز علم کی طرف سفر کرنے کا حکم ہے۔

تیسرا نکتہ جو دونوں ہی تفسیر سے مشترکہ طور پر مستفاد ہے یہ ہے کہ طلب علم ہر مسلمان پر ضروری ہے۔ جہاد اور دوسری دینی و دنیوی ضروریات کے مختل ہونے اور انتظامی مشکلات سے بچانے کے لئے اس آیت میں یہ تدبیر اختیار کرنے کی ہدایت دی گئی ہے کہ ایک وقت میں ایک گروہ ہی طلب علم میں لگے لیکن اس جماعت پر یہ ذمہ داری ہے کہ موقعہ ملتے ہی باقی ماندہ لوگوں تک اپنا حاصل کردہ علم پہنچادے، پھر دوسرے موقعہ پر دوسرا گروہ طلب علم میں لگے اور اس طرح علم کی ترویج و اشاعت کا سلسلہ بھی جاری رہے اور مسلمانوں کا کوئ طبقہ علم سے محروم بھی نہ رہ سکے۔

ایک اہم نکتہ جس کی طرف مفتی شفیع صاحبؒ نے اشارہ فرمایا ہے یہ ہے کہ اس آیت میں اللہ پاک نے لِیَفْقَھُوْا الدِّیْنَ یعنی ’’تاکہ وہ دین کو سمجھ لیں ‘‘ نہیں فرمایا بلکہ لِیَتَفَقَّھُوْا فِی الدِّیْن فرمایا جو باب تَفَعُّلْ سے ہے، اس کے معنی میں محنت و مشقت کا مفہوم شامل ہے۔ مراد یہ ہے کہ دین کی سمجھ بوجھ اور اس میں مہارت حاصل کرنے میں جتنی بھی محنت و مشقت اٹھانی پڑے اس سے پیچھے نہ ہٹنا چاہیے۔ (معارف القرآن، جلد۴، صفحہ ۴۹۰)۔

یہاں ایک قابل ذکر بات یہ بھی ہے کہ مفسرین کے ایک طبقہ نے مذکورہ آیت کی ایک تیسری تفسیر بھی کی ہے جس کے مطابق لِیَتَفَقَّھُوْا اور لِیُنْذِرُوْا کی ضمیریں جہاد پر نکلنے والی جماعت کے لئے ہیں اور اس صورت میں لِیَتَفَقَّھُوْا فِی الدِّیْن کا معنی ہے تاکہ وہ بصیرت اور یقین حاصل کریں اس سے جو اللہ سبحانہ و تعالیٰ ان کو مشرکین پر غلبہ اور دین کی مدد کرکے دکھائے گا اور لِیُنْذِرُوْا قَوْمَھُمْ اِذَا رَجَعُوْآ اِلَیْھِمْ لَعَلَّھُمْ یَحْذَرُوْنَ سے مراد یہ ہے کہ جب وہ جہاد سے لوٹیں تو اللہ کی مدد و نصرت جو نبی مکرم ﷺ اور مؤمنین کے ساتھ ہوئی ان واقعات کو بتاکر اپنی کافر قوم کو ڈرائیں (کہ ان کے اندر اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے مقابلہ کی طاقت نہیں ) تاکہ وہ رسول اللہ ﷺ اور دین کی دشمنی سے اس خوف سے باز آجائیں کہ کہیں ان کا بھی وہ حشر نہ ہوجائے جو ان کے کافر ساتھیوں کا ہوا۔ یہ تفسیر مشہور تابعی حسن بصریؒ سے منقول ہے اور اسے ہی علامہ ابن جریر طبریؒ نے اختیار کیا ہے۔ ( تفسیر قرطبی(اردو)، جلد۴، صفحہ ۷۷۹)۔ شیخ قطب مصریؒ نے مذکورہ آیت کی اسی تفسیر کو درست ٹھہرایا ہے اور اس کی تائید میں اپنے دلائل بھی دئے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں :

’’اس آیت کی تفسیر میں متعدد روایات وارد ہیں اور مفسرین نے اس گروہ کے تعین میں مختلف آرا کا اظہار کیا ہے جو نکلیں اور تفقہ فی الدین حاصل کرکے واپس آئیں اور اپنی قوم کو ڈرائیں۔ ہمارے خیال میں درست تفسیر یہ ہے کہ تمام مسلمان گو ظاہر ہے گھروں سے نہیں نکل سکتے بلکہ مسلمانوں کے ہر فرقے سے ایک گروہ ہی نکل سکتا ہے اور یہ لوگ باری باری ایسا کریں گے یعنی پہلے کچھ لوگ جائیں گے اور دوسرے مقیم رہیں گے، پھر دوسرے لوگ اپنی باری پر جائیں گے۔ یہ جو لوگ نکلیں گے تو یہ لوگ جہاد، تحریک اور مہم کی شکل میں اسلامی نظریہ حیات کو لے کر نکلیں گے۔ اس جہاد اور تحریک کے دوران وہ جو عملی و علمی تجربات کریں گے ان سے ان لوگوں کو آگاہ کریں گے جو گھروں میں مقیم تھے‘‘۔ (فی ظلال القرآن اردو، ادارہ منشورات اسلامی، لاہور، سنہ اشاعت ۱۹۹۷ء، جلد۳، صفحہ ۶۹۹)۔

آگے اس تفسیر کو اختیار کرنے کی وجہ بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

’’اس آیت کی جو تفسیر ہم نے بیان کی ہے اور حضرت ابن عباسؓ کے قول میں اس طرف اشارہ بھی ہے نیز حسن بصریؒ، ابن جریرؒ اور ابن کثیرؒ نے بھی اس کی طرف اشارہ کیا ہے۔ اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ یہ دین اپنا ایک تحریکی منہاج رکھتا ہے۔ اس دین کو صرف وہی لوگ سمجھ سکتے ہیں جو اسے لے کر چلتے ہیں، جو لوگ اس دین کی راہ میں جہاد کے لئے نکلتے ہیں وہی درحقیقت اس دین کے اصل فقیہ ہوتے ہیں اور اس دین کے اسرار و رموزالٰہی ان پر منکشف ہوتے ہیں۔ جب کوئی قوم اس دین کولے کر عملاً چلتی ہے تو اس کے معجزات اور اسرار عملاً اس پر واشگاف ہوتے ہیں۔ جو لوگ بیٹھے رہتے ہیں تو ان لوگوں کو اس بات کی ضرورت پیش آتی ہے کہ وہ لوگ تحریکی لوگوں سے اس کو سمجھیں کیوں کہ بیٹھنے والے ان اسرار کا مشاہدہ نہیں کرسکتے جو اس کو لے کر چلنے والے کرتے ہیں۔ نہ یہ لوگ تحریکی لوگوں کی طرح اسلام کو سمجھ سکتے ہیں۔ پیچھے رہنے والے اور گھروں میں بیٹھنے والے اس دین کے اسرار و رموز کو ان لوگوں کی طرح نہیں پاسکتے جو اس دین کے لئے حرکت جہاد میں ہوں خصوصاً رسول اللہ ﷺ کی معیت میں گھروں سے نکلنا بذات خود انسان میں بیداری اور سمجھ پیدا کرتا ہے۔
یہ مفہوم اس مفہوم سے بالکل متضاد ہے جس کے مطابق لوگ سمجھتے ہیں کہ جہاد، تحریک اور غزا سے جو لوگ پیچھے رہتے ہیں اور گھروں میں بیٹھ جاتے ہیں اور اپنے آپ کو علمی کاموں کے لئے یکسو کرتے ہیں وہ فقہاء ہوتے ہیں، یہ خام خیالی ہے۔ یہ اس دین کے مزاج کے خلاف ہے۔ اس دین کا بنیادی عنصر اس کی ’’تحریک ‘‘ ہے، لہٰذا وہ لوگ جو تحریکی نہیں ہوتے وہ اس دین کو سمجھ ہی نہیں سکتے جو اس دین کو لے کرعملاً لوگوں کے اندرواقعی صورت حالات پر منطبق نہیں کرتے اور اسے کسی معاشرہ میں موجود جاہلیت پر غالب کرنے کی سعی نہیں کرتے‘‘۔ (حوالہ بالا، جلد۳، صفحہ ۶۹۹۔ ۷۰۰)۔

یہ تفسیر و تاویل گو کہ راقم کے دئے ہوئے ذیلی عنوان سے مطابقت نہیں رکھتی لیکن علمی دیانتداری کے تقاضہ کے تحت اسے یہاں نقل کرنا مناسب معلوم ہوا اور اس لئے بھی کہ بہرحال اس کا تعلق حصول تفقہ فی الدین کے طریقہ کار سے ہے۔اس میں علم اور تفقہ فی الدین کے حصول کا گہرا تعلق دعوت اور اقامت دین کی جدوجہد سے ثابت کیا گیا ہے۔ اسے وہی شخص سمجھ سکتا ہے اور قبول کرسکتا ہے جس نے دعوت و تبلیغ اور اقامت دین کے لئے کسی درجہ میں بھی اپنی جان، مال اور وقت کا سرمایہ لگایا ہو۔ اس خاکسار کے دعوتی تجربات و مشاہدات گو کہ بہت تھوڑے ہیں اور قابل ذکر بھی نہیں لیکن اس خیال کی تائید میں ہیں۔ اس تفسیر میں ان لوگوں کے لئے بشارت ہے جو دعوت دین کی کسی بھی تحریک سے جڑے ہیں کہ ان کے لئے علم و تفقہ فی الدین کے حصول کے مواقع و امکانات بہت زیادہ ہیں، اگر وہ ان سے فائدہ اٹھانا چاہیں تو ان کی تھوڑی سی توجہ اور کوشش بہت ثمر آور ہوسکتی ہے۔ یہ بھی ضروری ہے کہ دعوت علم کی روشنی میں ہو اور اصل دعوت تو دعوت بالقرآن ہی ہے جیساکہ قرآنی ہدایات سے سمجھ میں آتا ہے۔ جیسے ارشاد ربانی ہے: (فَذَ کِّرْ بِالْقُرآنِ مَنْ یَّخَافُ وَعِیْدِ) یعنی ’’آپ قرآن کے ذریعہ انہیں سمجھاتے رہیں جو میرے وعید سے ڈرتے ہیں ‘‘۔ (ق: ۴۵)۔ اس مفہوم کی اور بھی آیات ہیں مثلاً المائد ہ: ۶۷، الانعام: ۱۹، مریم: ۹۷، العنکبوت: ۴۵ وغیرہ۔ اس لئے دعوت کی راہ میں قرآن فہمی کی کوشش دعوت کو پرتاثیر بنانے کے لئے بھی ضروری ہے اور خود داعی کے فہم قرآن کو جلا بخشنے کے لئے بھی۔ داعیان دین کو اس نکتہ پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

11. کتاب ا للہ میں علم والوں کی تعریف:

علم کی فضیلت اس بات سے بھی عیاں ہے کہ اللہ رب العزت نے اپنی کتاب میں علم والوں کی خود تعریف فرمائ ہے، ارشاد ہے: (اِنَّمَا یَخْشَی اللّٰہَ مِنْ عِبَادِہِ الْعُلَمآؤُا) یعنی ’’اللہ سے اس کے وہی بندے ڈرتے ہیں جو علم رکھتے ہیں ‘‘۔ (فاطر: ۲۸)۔ مراد یہ ہے کہ خشیت الٰہی صرف ان بندوں میں ہوتی ہے جو کتاب و سنت اور اسرار الٰہیہ کا صحیح علم رکھتے ہیں اور جنہیں اللہ جل شانہ کی ذات اور صفات کی صحیح معرفت حاصل ہوتی ہے۔ اس طرح خشیت الٰہی کو علماء کے ساتھ خاص کر کے ایک طرف تو علم کی اہمیت بتادی گئی دوسری طرف علماء کا مقام بھی بتادیا۔ ایک جگہ فرمایا: (شَھِدَ اللّٰہُ اَنَّہٗ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ وَ الْمَلآءِکَۃُ وَ اُوْلُوا الْعِلْمِ قَآءِمًا بِالْقِسْطِ)۔ (ترجمہ): ’’گواہی دی ہے اللہ تعالیٰ نے (خود اس بات کی) کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں اور گواہی دی ہے فرشتوں نے اور اہل علم نے بھی اور وہی قائم فرمانے والا ہے عدل و انصاف کو ‘‘۔ (اٰل عمران: ۱۸)۔ غور کیجئے کہ اللہ پاک نے اس شہادت کو کیسے اپنی ذات سے شروع فرمایا اور دوسری بار میں فرشتوں کا ذکر کیا اور تیسری میں علم والوں کا۔ اللہ تعالیٰ کی شہادت تو خود ہی کافی تھی کیوں کہ اس سے زیادہ سچا شاہد اور کون ہوسکتا ہے پھر بھی اس کا اپنی شہادت کے ساتھ فرشتوں اور اہل علم کی شہادت کا یوں ذکر کرنا، علم والوں کی عظمت، شرافت اور بزرگی کو ظاہر کرتا ہے۔ یقیناًاس سے علماء کی بہت بڑی فضیلت ثابت ہوتی ہے۔ اسی طرح ایک جگہ ارشاد ہے: (قُلْ کَفٰی بِاللّٰہِ شَھِیْدًا بَیْنِیْ وَ بَیْنَکُمْ وَ مَنْ عِنْدَہٗ عِلْمُ الْکِتٰبِ)۔ (ترجمہ): ’’آپ کہہ دیجئے کہ اللہ کافی ہے گواہ میرے اور تمھارے درمیان اور وہ جس کے پاس کتاب کا علم ہے ‘‘۔ یہاں بھی اپنی گواہی کے ساتھ حاملین علم کتاب کی گواہی کو ذکر کر کے اللہ پاک نے اہل علم کو عزت بخشی ہے۔ (الرعد: ۴۳)۔

ایک اور جگہ یوں فرمایا: (وَ قَالَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ وَیْلَکُمْ ثَوَابُ اللّٰہِ خَیْرٌ لِّمَنْ اٰمَنَ وَ عَمِلَ صَالِحًا)۔ (ترجمہ): ’’اور کہا ان لوگوں نے جنہیں علم دیا گیا تھا، افسوس تم پر، اللہ کا ثواب بہتر ہے اس کے لئے جو ایمان لے آیا اور نیک عمل کئے ‘‘۔ (القصص: ۸۰)۔ یہ آیت اس واقعہ کے تناظر میں ہے جس میں یہ ہے کہ قارون، جو بنی اسرائیل کا ایک بڑا ہی دولت مند شخص تھا اور موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ سرکشی کی وجہ سے مع اپنے محل و ساز و سامان کے زمین میں دھنسا دیا گیا تھا، ایک بار پوری آرائش و زیبائش اور شان و شوکت کے ساتھ اپنی برادری کے سامنے نکلا جسے دیکھ کر بعض سادہ لوح مسلمانوں نے یہ تمنا ظاہر کی تھی کہ کاش انہیں بھی وہ ساز و سامان ملا ہوتاجن سے قارون نوازا گیا تھا اور یہ بھی کہا تھا کہ قارون تو بڑا صاحب نصیب ہے۔ ان کی اس بات پرصاحب علم مومنوں نے اظہار افسوس کیااور دنیا کی حرص و ہوس سے ان کا رخ آخرت اور ایمان و عمل صالح کی بنیاد پر وہاں ملنے والی نعمتوں کی طرف موڑنے کی کوشش کی جس کا تذکرہ مذکورہ آیت میں ہے۔ اس آیت کریمہ سے یہ ظاہر ہے کہ آخرت کی قدر و منزلت بھی علم کے ذریعہ ہی معلوم ہوتی ہے اور اہل علم ہی دنیا کی بے ثباتی اور آخرت کی لافانی نعمتوں کا صحیح ادراک رکھتے ہیں۔

اسی طرح سلیمانؑ اور ملکہ سبا کے تذکرے میں فرمایا: (قَالَ الَّذِیْ عِنْدَہٗ عِلْمٌ مِّنَ الْکِتٰبِ اَنَا اٰتِیْکَ بِہٖ قَبْلَ اَنْ یَّرْتَدَّ اِلَیْکَ طَرْفُکَ فَلَمَّا رَاٰہُ مُسْتَقِرًّا عِنْدَہٗ قَالَ ہٰذَا مِنْ فَضْلِ رَبِّی لِیَبْلُوَنِیْ ٓ ءَ اَشْکُرُ اَمْ اَکْفُرُ)۔ (ترجمہ): یعنی ’’عرض کی اس نے جس کے پاس کتاب کا علم تھا کہ میں لے آتا ہوں اسے آپ کے پاس اس سے پہلے کہ آپ کی آنکھ جھپکے، پھر جب آپ نے اسے اپنے پاس موجود پایا تو فرمانے لگے یہ میرے رب کا فضل ہے تاکہ وہ مجھے آزمائے کہ آیا میں شکر گزاری کرتا ہوں یا ناشکری ‘‘۔ (النمل: ۴۰)۔ یہ بیان اس وقت کا ہے جب کہ سلیمانؑ نے یہ چاہا کہ ملکہ سبا کو ایک معجزہ کے ذریعہ اللہ کی قدرت اور اس کی سلطانی عظمت کا مشاہدہ کرائیں اور اپنے درباریوں سے فرمایا تھا کہ تم میں سے کون اس کے تخت کو اس کے مطیع ہوکر آنے سے پہلے میرے پاس لے آئے گا؟ اس بیان میں جو اسلوب اختیار کیا گیا ہے اس سے بھی علم کی عظمت اور شرافت ظاہر ہوتی ہے کہ اس شخص کو جس نے چشم زدن میں بلقیس کا تخت سلیمانؑ کی خدمت میں حاضر کردیا، یہ کرامت اور اعجاز اس کے کتب سماویہ کے علم کے سبب ہی حاصل تھی۔ ساتھ ہی سلیمانؑ کے قول سے یہ بھی ظاہر ہے کہ ایسے علم کا حاصل ہونا اللہ کے خاص فضل وکرم کی دلیل ہے جس کا مقصد بندے کی شکرگزاری کا امتحان ہوا کرتا ہے۔

12. علم والے اور بے علم برابر نہیں :

اللہ پاک کا ارشاد ہے: ( قُلْ ھَلْ یَسْتَوِی الَّذِیْنَ یَعْلَمُوْنَ وَ الَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ اِنَّمَا یَتَذَکَّرُ اُولُوا لْاَلْبَابِ)۔ (ترجمہ): ’’آپ کہئے کیا برابر ہوسکتے ہیں علم والے اور بے علم؟ نصیحت تو عقل رکھنے وا لے ہی قبول کرتے ہیں ‘‘۔ (الزمر: ۹)۔ اس آیت کریمہ میں باری تعالیٰ نے ایک جملہ استفہامیہ کے ذریعہ علم اور اہل علم کی فضیلت کو ظاہر کیا ہے۔ قرآن کریم میں بصیرت رکھنے والے علماء جانتے ہیں کہ یہ انداز تخاطب اللہ پاک نے وہیں اختیار کیا ہے جہاں کوئ حقیقت بالکل واضح ہو، جیسے دوسری جگہ فرمایا: (قُلْ ھَلْ یَسْتَوِیِ الْاَعْمیٰ وَ الْبَصِیْرُ اَفَلَا تَتَفَکَّرُوْنَ)۔ (ترجمہ): ’’آپ کہیے کہ اندھا اوربینا کہیں برابر ہوسکتا ہے؟ سو کیا تم غور نہیں کرتے؟‘‘۔ (الانعام: ۵۰)۔ اندھے اور بینا کا فرق اتنا واضح ہے کہ اسے کسی کو بھی سمجھانے کی ضرورت نہیں۔ اس طرح یہ بالکل ظاہر ہے کہ ان آیات میں استفہام انکار کے لئے ہے، یعنی بالیقین یہ لوگ آپس میں برابر نہیں ہوسکتے۔ عالم اور بے علم کا درجہ ایک ہو ہی نہیں سکتا اور یہ ایک ایسی بیّن حقیقت ہے کہ اگر کسی کو سمجھ میں نہ آئے تو یہ اس کے عقل و فہم میں ہی نقص کی علامت ہے۔

ایک اور قابل ذکر بات یہ ہے کہ دوسری آیت جس کا ذکر سطور بالا میں ہوا، کا تعلق بھی علم ہی سے ہے۔ یہاں نبی اور غیر نبی میں قوت علمیہ کے اعتبار سے جو تفاوت ہے اس کو واضح کیا گیا ہے جیسا کہ علامہ شبیر احمد عثمانی ؒ نے اس سے اخذ کیا ہے اور یہی تعبیر مولانا ابولاعلیٰ مودودیؒ نے بھی اختیار کی ہے۔ (دیکھیں علی الترتیب، تفسیر عثمانی، صفحہ ۱۷۷، حاشیہ نمبر۶ اور تفہیم القرآن، جلد۱، صفحہ ۵۴۲، حاشیہ نمبر ۳۲)۔ ان تعبیرات کی روشنی میں غور کیجئے تو حاملین علم وحی و رسالت اور بے علموں میں بھی وہی فرق سمجھ میں آتا ہے جو اندھے اور بینا میں ہوا کرتا ہے۔ اس تمثیل سے علم اور اہل علم کی فضیلت خوب واضح ہو جاتی ہے۔

اسی طرح جناب رسول اللہ ﷺ نے ایک عالم اور ایک عابد کے مابین فرق مراتب کو علی الترتیب چاند اور ستارہ سے تشبیہ دے کر واضح کیا ہے کیوں کہ ان دونوں کی روشنی میں جو تفاوت ہے وہ ہر کسی پر عیاں ہے۔ ارشاد فرمایا: ’’إِنَّ فَضْلَ الْعَالِمِ عَلَی الْعَابِدِ، کَفَضْلِ الْقَمَرِ، لَیْلَۃَ الْبَدْرِ، عَلٰی سَاءِرِ الْکَوَاکِبِ‘‘ یعنی ’’بیشک عالم کی فضیلت عابد پر ایسی ہی ہے جیسے چودھویں رات کے چاند کی فضیلت تمام ستاروں پر‘‘۔ (سنن ابی داؤد، کتاب العلم، باب الْحَثِّ عَلٰی طَلَبِ الْعِلْمِ أو في فضل العلم، بروایت ابوالدرداءؓ)۔ اس حدیث میں یقیناًعالم سے نہ ہی بے عمل عالم مراد ہے اور عابد سے نہ ہی مطلق جاہل عابد بلکہ ضروری علم اور فرض عبادات جن میں دونوں یکساں طور پرشریک ہوں اس کے بعد اگر ایک شخص تبحر فی العلم اور اس کی ترویج و اشاعت میں لگا رہتا ہے اور دوسرا نفلی عبادت میں مصروف رہتا ہے تو ان میں سے عالم کا درجہ بہت بلند ہے کیوں کہ عالم کے علم کا فائدہ متعدی ہے کہ ہزاروں تک پہنچتا ہے جب کہ عابد کی عبادت کا نور یا اس کا فائدہ خود اسی کی ذات تک محدود رہتا ہے ٹھیک اسی طرح جیسے چودھویں رات کے چاند کی روشنی دور دور تک پھیلتی ہے اور ستاروں کی روشنی کی وسعت محدود ہوتی ہے۔ عالم کی عابد پر فضیلت کو رسول اللہ ﷺ نے ایک دوسری تمثیل سے بھی واضح کیا ہے۔ آپؐ نے ارشاد فرمایا ہے: ’’فَضْلُ الْعَالِمِ عَلَی الْعَابِدِ، کَفَضْلِي عَلٰی أَدْنَاکُمْ‘‘ یعنی ’’عالم کی فضیلت عابد پر ایسی ہی ہے جیسے میری فضیلت تم میں سے ایک عام شخص پر ہے‘‘۔ (سنن ترمذی، کتاب العلم، باب ماجاء في فضل الفقہ علی العبادۃ، بروایت ابوامامہ باہلیؓ)۔ غور کرنے کی بات ہے کہ نبی، وہ بھی نبی آخرالزماں اور امام الانبیاء، کا مقابلہ ایک ادنیٰ امتی سے کیا ہوسکتا ہے، اگر آپؐ نے’ ’تم میں سے اعلیٰ کا فقرہ‘‘ بھی استعمال کیا ہوتا جب بھی یہ فرق بیّن ہوتا (کیوں کہ ایک امتی خواہ اللہ کی معرفت کے کتنے ہی بلند مقام پر کیوں نہ فائز ہوجائے وہ نبی کے مقام کے ہزارویں درجہ کو بھی نہیں پاسکتا گو وہ ان کے اصحاب میں سے ہی کیوں نہ ہو) لیکن آپؐ نے’’تم میں سے ادنیٰ کا فقرہ‘ ‘استعمال کرکے عالم اور عابد کے درمیان مرتبہ کے اس فرق کو اور بھی واضح کردیا۔ ان تمثیلات سے نفل عبادات پر حصول علم اور اس کی ترویج و اشاعت کی تگ و دومیں لگے رہنے کی فضیلت پوری طرح واضح ہوجاتی ہے۔

13. علم و حکمت کی خیر کثیر سے تعبیر:

سطور بالا میں ان آیات کا ذکر ہوا جن میں اللہ رب العزت نے استفہام اور تمثیل کے ذریعہ علم کی فضیلت کو واضح کیا ہے۔ اب اس آیت کریمہ کو ملاحظہ کیجئے جس میں باری تعالیٰ نے علم و حکمت کی تعبیر کھلے طور پر خیر کثیر سے کی ہے۔ ارشاد ربّانی ہے: (یُؤْتِی الْحِکْمَۃَ مَنْ یَّشَآءُ وَ مَنْ یُؤْتَ الْحِکْمَۃَ فَقَدْ اُوْتِیَ خَیْرًا کَثِیْرًا)۔ (ترجمہ): ’’وہ جسے چاہتا ہے حکمت عطا فرماتا ہے اور جسے حکمت عطا کی گئی اسے بڑی خیر کی چیز مل گئی‘‘۔ (البقرۃ: ۲۶۹)۔ لفظ حِکْمَۃٌ قرآن کریم میں بار بار آیا ہے کسی جگہ اس سے مراد قرآن ہے، کسی جگہ حدیث و سنّت، کسی جگہ علم نافع، کہیں عقل و فہم، کہیں قوت فیصلہ، کہیں تفقہ فی الدین، کہیں اصابت رائے اور کہیں خشیت الٰہی۔ علامہ ابن کثیرؒ نے اس آیت کی تفسیر میں عبداللہ بن عباسؓ کا یہ قول نقل کیا ہے کہ حکمت سے مراد قرآن کریم کی معرفت اور اس کی تفسیر میں بصیرت کا حاصل ہونا ہے جس سے اس کے ناسخ و منسوخ، محکم و متشابہ، مقدم و موخر، حلال و حرام اور مثالوں کی صحیح معرفت حاصل ہوجائے۔ (تفسیر القرآن العظیم للحافظ اسماعیل بن عمر بن کثیرؒ، دار طیبۃ للنشر و التوزیع، المملکت العربیۃ السعودیۃ، الریاض، الطبعۃ الثانیۃ ۱۹۹۹م، الجزء الأول، صفحۃ ۷۰۰)۔ مفتی شفیع صاحبؒ نے تفسیر بحر محیط کے حوالہ سے لکھا ہے کہ بعض حضرات کے نزدیک زیر نظر آیت میں حِکْمَۃٌ سے یہ تمام چیزیں مراد ہیں۔ (معارف القرآن، جلد۱، صفحہ ۴۴۰۔ ۴۴۱)۔ راقم کے نزدیک ان تمام کا خلاصہ دین کی صحیح سمجھ و فہم ہے۔ رسول پاک ﷺ کے فرمان ’’مَنْ یُرِدِ اللّٰہُ بِہِ خَیْرًا یُفَقِّھْہُ فِي الدِّیْن‘‘ یعنی اللہ پاک جس کے ساتھ بھلائ کا ارادہ کرتا ہے اسے دین کی سمجھ عنایت فرماتا ہے (صحیح بخاری، کتاب العلم، باب مَنْ یُرِدِ اللّٰہُ بِہِ خَیْرًا یُفَقِّھْہُ فِي الدِّیْن، بروایت معاویہ بن سفیانؓ) سے بھی اسی فکر کی تائید ہوتی ہے۔ غور کرنے کی بات ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے دین کے صحیح علم و فہم کو خیر سے تعبیر فرمایاہے اور قرآن کریم نے تو خیر کثیر کہہ کر اسے اور بھی قوی کردیا، یہ سب علم کی فضیلت پر کھلی دلیل ہے۔

14 . اللہ رب العزت کا اپنے بیانات کی سمجھ کو علماء کے لئے مخصوص کرنا:

علم کی فضیلت اس بات سے بھی عیاں ہے کہ اللہ رب العزت نے اپنی کتاب میں کئی مقامات پر اپنے بیانات کی سمجھ کو علماء کے ساتھ مخصوص کیا ہے۔ مثلاً ارشاد ربانی ہے: (وَ تِلْکَ الْاَمْثَالُ نَضْرِبُھَا لِلنَّاسِ وَ مَایَعْقِلُھَآ اِلَّا الْعٰلِمُوْن)۔ (ترجمہ): ’’اور یہ مثالیں ہیں کہ بیان کرتے ہیں ہم انہیں لوگوں کے (غور کرنے کے) لئے اور نہیں سمجھتے انہیں مگر اہل علم ‘‘۔ (العنکبوت: ۴۳)۔ اس آیت کریمہ سے قبل اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے مشرکین کے خداؤں کی کمزوری کی مثال مکڑی کے جالے سے دی ہے اس کے بعد یہ فرمایا ہے کہ ہم ایسی واضح مثالوں سے توحید کی حقیقت بیان کرتے ہیں مگر ان مثالوں کے حسن اور فائدہ کو صرف اہل علم ہی سمجھتے ہیں کیوں کہ اللہ کی آیتوں میں تدبر و تفکر انہیں ہی نصیب ہوتی ہے۔ دوسروں میں نہ ہی سوچنے سمجھنے کا مادہ ہوتا ہے اور نہ ہی انہیں غور و فکر کی توفیق ملتی ہے۔ ایک جگہ ارشاد ہے: (وَاخْتِلَافِ الَّیْلِ وَ النَّھَارِ وَمَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ مِنَ السَّمَآءِ مِنْ رِّزْقٍ فَاَحْیَا بِہِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِھَا وَ تَصْرِیْفِ الرِّیٰحِ اٰیٰتٌ لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ)۔ (ترجمہ): ’’اور رات اور دن کے بدلنے میں اور جو کچھ روزی اللہ تعالیٰ آسمان سے نازل فرماکر زمین کو اس کی موت کے بعد زندہ کردیتا ہے (اس میں )، اور ہواؤں کے بدلنے میں بھی ان لوگوں کے لئے نشانیاں ہیں جو عقل رکھتے ہیں ‘‘۔ (الجاثیۃ: ۵)۔ ایک جگہ فرمایا: (کَذٰلِکَ نُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّتَفَکَّرُوْنَ ھ)۔ (ترجمہ): ’’ہم اسی طرح آیات کو صاف صاف بیان کرتے ہیں ایسے لوگوں کے لئے جو فکر رکھتے ہیں ‘‘۔ (یونس: ۲۴)۔ دوسری جگہ فرمایا: (کَذٰلِکَ نُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ)۔ (ترجمہ): ’’ ہم اسی طرح آیات کو صاف صاف بیان کرتے ہیں ان لوگوں کے لئے جو علم رکھنے والے ہیں ‘‘۔ (الاعراف: ۳۲)۔ اور ایک جگہ ارشاد ہے: (قَدْ فَصَّلْنَا الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّفْقَھُوْنَ)۔ (ترجمہ): ’’بے شک ہم نے دلائل خوب کھول کھول کر بیان کردئے ہیں ان لوگوں کے لئے جو سمجھ بوجھ رکھتے ہیں ‘‘۔ (الانعام: ۹۸)۔ یہ ایک کھلی ہوئی حقیقت ہے کہ تعقّل، تدبّر، تفکّر، تفقّہ یہ سب علم ہی کے مختلف ثمرات ہیں اور اللہ پاک نے ان آیات میں اپنے بیانات کی سمجھ کو ان کے حاملین کے ساتھ منسوب و مخصوص کرکے علم والوں کی ہی عزت افزائی کی ہے۔

15. کتاب اللہ کے وارث اللہ کے منتخب بندے ہی ہوتے ہیں :

اللہ پاک کا ارشاد ہے: (ثُمَّ اَوْرَثْنَا الْکِتٰبَ الَّذِیْنَ اصْطَفَیْنَا مِنْ عِبَادِنَا)۔ (ترجمہ): ’’پھر ہم نے ان لوگوں کو اس کتاب کا وارث بنایا جنھیں ہم نے اپنے بندوں میں سے چن لیا تھا‘‘۔ (فاطر: ۳۲)۔ مراد اس سے اس امت کے علماء ہیں اور وہ لوگ ہی کتاب اللہ کے حقیقی وارث کہے جانے کے مستحق ہیں کیوں کہ ان کا انبیاء کا وارث ہونا حدیث شریف میں بھی مذکور ہے جس کا بیان سطور بالا میں ہوچکا ہے۔ اس آیت سے یہ پتہ چلتا ہے کہ کتاب الٰہی کا علم اللہ پاک اپنے منتخب اور پسندیدہ بندوں کو ہی دیتے ہیں۔ اس میں بھی اہل علم کے لئے ایک خاص بشارت ہے کہ وہ اللہ کے چنیدہ اور پسندیدہ بندے ہیں۔ اسی طرح ایک جگہ باری تعالیٰ عزاسمہ نے فرمایا: (بَلْ ھُوَ اٰیٰتٌ بَیِّنٰتٌ فِیْ صُدُوْرِ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ)۔ (ترجمہ): ’’ بلکہ یہ (قرآن) تو آیتیں ہیں صاف ان لوگوں کے سینوں میں جن کو عطا کیا گیا ہے علم‘‘۔ ( العنکبوت: ۴۹)۔ یہاں بھی کتاب الٰہی کے سینوں میں محفوظ ہونے کو علماء کے ساتھ خاص کیا ہے، یہ بھی علم والوں کے لئے ایک بڑے اعزاز کی بات ہے۔

16 . علم والوں کے درجات کی بلندی کی بشارت:

اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا ارشاد ہے: (یَرْفَعِ اللّٰہُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْ مِنْکُمْ وَالَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ دَرَجٰتٍ)۔ یعنی ’’اللہ تعالیٰ تم میں سے ان لوگوں کے جو ایمان لائے ہیں اور جن کو علم دیا گیا ہے، درجات بلند کردے گا ‘‘۔ (المجادلہ: ۱۱)۔ آیت مقدسہ سے یہ بالکل واضح ہے کہ ایمان اور علم رفع درجات کے بنیادی اسباب ہیں اور اگر یہ دونوں ساتھ ہوں یعنی ایمان کے ساتھ علوم دین سے واقفیت بھی ہو تویہ مزید رفع درجات کا باعث ہے۔ حسن بصریؒ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’مَنْ جَاءَہُ الْمَوْتُ وَ ہُوَ یَطْلُبُ الْعِلْمَ لِیُحْیِيَ بِہِ الْاِسْلَامَ فَبَیْنَہٗ وَ بَیْنَ النَّبِیِّیْنَ دَرَجَۃٌ وَاحِدَۃٌ فِي الْجَنَّۃِ‘‘ یعنی ’’جس شخص کی موت ایسی حالت میں آئے کہ وہ دین کا علم حاصل کررہا تھا کہ اس کے ذریعہ سے اسلام کو زندہ کرے تو جنت میں اس کے اور انبیاء کے درمیان صرف ایک درجہ کا فرق رہے گا‘‘۔ (سنن الدارمی، کتاب العلم، باب فِي فَضْلِ الْعِلْمِ وَالْعَالِمِ)۔ حسن بصریؒ یہ بھی روایت کرتے ہیں کہ عبداللہ بن مسعودؓ نے اس آیت کی تلاوت کی اور فرمایا کہ اے لوگو! اس آیت کو سمجھو اور علم میں رغبت کرو، اللہ تعالیٰ مومن عالم کو جاہل پر کئی درجے بلند فرمائے گا۔ (تفسیر مظہری، جلد۹، صفحہ ۳۲۰)۔ امام غزالیؒ نے اس سلسلہ میں عبداللہ بن عباسؓ کا یہ قول نقل کیا ہے: ’’للعلماءِ درجاتٌ فوقَ المؤمنینَ بِسبعِ مِءۃِ درجۃٍ، ما بینَ الدرجتینِ مسیرۃُ خمسِ مءۃِ عامٍ‘‘ یعنی ’’ علماء کے درجات عام مومنین کے مقابلہ میں سات سو درجے بلند ہوں گے اور ہر دو درجوں کی درمیانی مسافت پانچ سو برس کی راہ ہوگی‘‘۔ (احیاء علوم الدین، المجلّد الاوّل، صفحہ ۲۰)۔

درجات کی بلندی کی یہ بشارت آخرت کے لئے ہی مخصوص نہیں، اس دنیا میں بھی اللہ پاک اہل علم کے درجات بلند کردیتے ہیں جیسا کہ مشاہدہ بھی ہے کہ لوگوں کی نگاہوں میں اہل علم کی عزت و وقعت ڈالدیتے ہیں، دلوں میں ان کا رعب قائم کردیتے ہیں اور زبان پر ذکر خیر جاری فرمادیتے ہیں، نیز ان کی شخصیت کو مرجع خلائق بنادیتے ہیں۔ امرا، سلاطین اور حکمرانوں کی نگاہیں بھی اہل علم کے سامنے پست رہتی ہیں۔ یہ سب اس دنیا کے نقد انعامات ہیں لیکن ایک مومن کو چاہیے کہ وہ حصول علم سے اللہ کی رضا، اخروی درجات اوراس کی لازوال نعمتوں کا ہی قصد کرے۔

17 . حکومت کے اہل علم والے ہی ہیں :

علم کی فضیلت اس بات سے بھی ثابت ہوتی ہے کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے بادشاہت اور حکمرانی کا اہل، اہل علم کو ہی قرار دیا ہے۔ قرآن کریم میں اس کی شہادت بنی اسرائیل سے متعلق ایک واقعہ کے ذیل میں ملتی ہے جوموسیٰ علیہ السلام کے گزرنے کے بعد پیش آیا جب ان لوگوں نے اپنے نبی جو اکثر مفسرین کے مطابق شمویل علیہ السلام تھے سے یہ فرمائش کی کہ ان کے لئے ایک امیر مقرر کردیں جن کی قیادت میں وہ اللہ کی راہ میں جہاد کرسکیں کیوں کہ ان دنوں وہ قوم عمالقہ کے بادشاہ جالوت کے مظالم کے شکار تھے۔ چنانچہ شمویل علیہ السلام نے بہ اذن الٰہی ان پر طالوت کو بادشاہ مقرر کردیا لیکن بنی اسرائیل نے ان پر رد و کد کیا اور بجز چند کے سب نے جہاد سے بھی منہ پھیر لیا اور اپنا وعدہ پورا نہ کرسکے۔ اللہ رب العزت نے ان کی اس سرکشی کو اپنی کتاب میں ذکر کیا ہے۔ پیش ہے وہ متعلقہ آیت جس سے زیر بحث نکتہ پر استشہاد مطلوب ہے۔ ارشاد باری ہے: (وَ قَالَ لَھُمْ نَبِیُّھُمْ اِنَّ اللّٰہَ قَدْبَعَثَ لَکُمْ طَالُوْتَ مَلِکًا قَالُوْآ اَنّٰی یَکُوْنُ لَہُ الْمُلْکُ عَلَیْنَا وَ نَحْنُ اَحَقُّ بِالْمُلْکِ مِنْہُ وَ لَمْ یُؤْتَ سَعَۃً مِّنَ الْمَالِ قَالَ اِنَّ اللّٰہَ اصْطَفٰہُ عَلَیْکُمْ وَ زَادَہٗ بَسْطَۃً فِی الْعِلْمِ وَ الْجِسْمِ وَ اللّٰہُ یُؤْتِیْ مُلْکَہٗ مَنْ یَّشَآءُ وَ اللّٰہُ وَاسِعٌُ عَلِیم)۔ (ترجمہ): ’’اور فرمایا انہیں ان کے نبی نے کہ بیشک اللہ نے طالوت کو تمھارے لئے بادشاہ مقرر کردیا ہے، تو انہوں نے کہا کہ بھلا اس کی حکومت ہم پر کیسے ہوسکتی ہے؟ اس سے تو بہت زیادہ حقدار بادشاہت کے ہم ہیں، اس کو تو مالی کشادگی بھی نہیں دی گئی۔ نبی نے فرمایا، بیشک اللہ نے اسی کو تم پر (فضیلت دی ہے اور بادشاہی کے لئے ) چن لیاہے اور اسے علمی اور جسمانی برتری بھی عطا فرمائی ہے۔ اور اللہ تعالیٰ عطا کرتا ہے اپنا ملک جسے چاہتاہے اور اللہ تعالیٰ وسعت والا سب کچھ جاننے والاہے ‘‘۔ (البقرہ: ۲۴۷)۔

اس آیت سے یہ ظاہر ہے کہ قیادت و سیادت کے لئے مال سے زیادہ علم وعقل اور جسمانی قوت و طاقت کی ضرورت ہے، گو یہ چیزیں بھی اللہ ہی کی عطا کردہ ہوتی ہیں، اسی لئے آیت کے آخری حصہ میں یہ فرمایاکہ بادشاہت کا حقیقی سبب اللہ کی عطا ہے، وہ جسے چاہتا ہے ملک کی قیادت سونپ دیتا ہے لیکن اللہ رب العزت نے اس آیت کے ذریعہ دنیا والوں کے لئے یہ ضابطہ ضرور مقرر کردیا ہے کہ اگر تمھیں اپنا امیر یا حاکم منتخب کرنے کی نوبت آئے تو علم وفہم والوں کو ہی ترجیح دو۔ یہ علم اور اہل علم کی فضیلت کی کھلی دلیل ہے۔ کچھ لوگ یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہاں علم سے مراد حکمرانی اور سیاست کاعلم ہے، تو راقم کو اس سے انکار نہیں، لیکن یہ بات بھی ذہن نشیں رہنی چاہیے کہ بادشاہ کے ذمہ لوگوں کے امور کی اصلاح بھی ہے جس کے لئے دینی علوم سے وابستگی ضروری ہے۔ اسی لئے علماء نے یہاں علم سے مراد شریعت کا علم لیاہے۔ قاضی ثناء اللہ پانی پتیؒ فرماتے ہیں : ’’میں کہتا ہوں کہ جب اللہ تعالیٰ نے طالوت کی تعریف اصطفا اور وسعت علم سے فرمائی۔(اس سے ) یہ امر ظاہر ہے کہ علم سے مراد شریعت کا علم ہے کیونکہ اس کی مدد سے ہی دین و دنیا کے امور درست ہوتے ہیں ‘‘۔ (تفسیر مظہری، جلد۱، صفحہ ۴۸۵، حاشیہ نمبر۴)۔ ہاں اگر کوئی شخص علم شریعت کے ساتھ ساتھ عصری علوم بالخصوص دنیا کے سیاسی اور معاشی نظام، جغرافیائی حالات اور انتظام عامہ کا بھی ماہر ہو تو احقر کی رائے میں یقیناًوہ شخص قابل ترجیح ہوگا۔

18.علم کو چھپانے کی ممانعت:

اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں علم کو چھپانے سے منع فرمایا ہے اور بالمقابل اس کے اس کی ترویج واشاعت کو پسند فرمایا ہے، گویا یہ ایک جائیداد عامہ ہے جس پر سب کا یکساں حق ہے اور ان تک پہنچانے کی فکر و سعی اللہ کے نزدیک پسندیدہ عمل ہے، یہ بھی علم کی فضیلت و اہمیت کی بڑی دلیل ہے۔ ارشاد باری ہے: (وَ اِذْ اَخَذَ اللّٰہُ مِیْثَاقَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْکِتٰبَ لَتُبَیِّنُنَّہٗ لِلنَّاسِ وَلَا تَکْتُمُوْنَہٗ)۔ (ترجمہ): ’’ اور جب اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں سے جن کو کتاب عنایت کی گئی تھی یہ عہد لیا کہ تم اسے سب لوگوں سے ضرور بیان کروگے اور اسے چھپاؤگے نہیں ‘‘۔ (آل عمران: ۱۸۷)۔ اس آیت میں تعلیم کا ایک طرح سے واجب ہونا مذکور ہے یعنی اہل علم پر یہ واجب ہے کہ وہ بے علموں تک علم کو پہنچائے۔ اسی طرح ارشاد ہے : (وَ لَا تَلْبِسُوا الْحَقَّ بِالْبَاطِلِ وَ تَکْتُمُوا الْحَقَّ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ)۔ (ترجمہ): ’’اور حق کو باطل کے ساتھ خلط ملط نہ کرو اور نہ حق کو چھپاؤ، جبکہ تم (خود) اس کا علم رکھتے ہو‘‘۔ (البقرہ: ۴۲)۔ ایک جگہ اہل کتاب کی مذمت ان الفاظ میں کی گئی ہے: (وَ اِنَّ فَرِیْقًا مِّنْھُمْ لَیَکْتُمُوْنَ الْحَقَّ وَ ھُمْ یَعْلَمُوْنَ)۔ (ترجمہ): ’’اور بے شک ان کی ایک جماعت حق کوچھپاتی ہے جان بوجھ کر‘‘۔ (البقرہ: ۱۴۶)۔ ان آیتوں کا حاصل یہ ہے کہ علم پر اپنی اجارہ داری قائم کرنے سے اور کتمان علم سے بچا جائے اور علم کی ترویج و اشاعت میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا جائے۔

19. علم کے مترادفات اور متعلقات کا زیادہ وارد ہونا:

علم کی فضیلت و اہمیت اس بات سے بھی عیاں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں علم اور اس کے مترادف الفاظ کوکثرت سے نازل کیا ہے۔ بعض علماء کے مطابق لفظ ’علم‘ جس کا مادہ ’’ع ل م‘‘ ہے کے مشتقات قرآن میں سات سو پچاس (۷۵۰) مرتبہ وارد ہوئے ہے۔ اس طرح الفاظ کے اعداد و شمار کے حساب سے اسے قرآن میں تیسرا مقام حاصل ہے جبکہ لفظ ’اللہ‘ اور ’رب‘ علی الترتیب دو ہزار آٹھ سو (۲۸۰۰) اور نو سو پچاس (۹۵۰) ورود کے ساتھ اول و دوئم مقام پر ہے۔ اس کے علاوہ الفکر، الفقہ، التدبر، التفکر، العقل، الفہم وغیرہ الفاظ کثرت سے وارد ہوئے ہیں۔ اسی طرز پر کفار و مشرکین کی مذمت میں ان الفاظ کے اضداد بھی کثرت سے وارد ہوئے ہیں جیسے الظلم، الجہل، لا یفقہون، لا یعقلون، لا یعلمون، بغیر علم، الریب، الظن، الباطل وغیرہ۔ اسی طرح پڑھنے لکھنے کی چیزوں کے اسماء وافعال کاکثرت سے وارد ہونا بھی علم کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے مثلاًالرق، القلم، القرطاس، المرقوم، المسطور، المستطر، المکتوب، تنحطہ، تملیٰ، یملل، الکاتب، الکتاب، الکتب، الصحف وغیرہ

20. بے علمی کفار و مشرکین کی صفت ہے:

کفار و مشرکین کی مذمت میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: (وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یُّجَادِلُ فِیْ اللّٰہِ بِغَیْرِ عِلْمٍ وَّ لَا ھُدًی وَّ لَا کِتٰبٍ مُّنِیْرٍ)۔ (ترجمہ): ’’بعض لوگ اللہ کے بارے میں بغیر علم کے اور بغیر ہدایت کے اور بغیر روشن کتاب کے جھگڑتے ہیں ‘‘۔ (الحج: ۸)۔ ایک جگہ فرمایا ہے:(وَمَا یَتَّبِعُ اَکْثَرُھُمْ اِلَّا ظَنًّا اِنَّ الظَّنَّ لَا یُغْنِیْ مِنَ الْحَقِّ شَیْءًا)۔ (ترجمہ): ’’اور ان میں اکثر لوگ صرف گمان پر چل رہے ہیں، یقیناًگمان حق (کی معرفت) میں کچھ بھی کام نہیں دے سکتا‘‘۔ (یونس: ۳۶)۔ دوسری جگہ ارشاد ہے : (بَلْ کَذَّبُوْا بِمَا لَمْ یُحِیْطُوْا بِعِلْمِہٖ وَلَمَّا یَاْتِھِمْ تَاْوِیْلُہٗ)۔ (ترجمہ): ’’بلکہ ایسی چیز کی تکذیب کرنے لگے جس کو اپنے احاطہ علمی میں نہیں لائے اور ہنوز ان کو اس کا آخری نتیجہ نہیں ملا‘‘۔ (یونس: ۳۹)۔ ان آیات سے یہ نتیجہ اخذ کرنا دشوار نہیں کہ بے علمی کفار و مشرکین کی صفت ہے، وہ صرف ظن کے پیچھے بھاگتے ہیں اور قرآن میں تدبر اور اس کے معانی میں غور کئے بغیر اس کی تکذیب کردیتے ہیں۔ اس لئے ایک مومن کو چاہیے کہ وہ کفار و مشرکین کی اس صفت کی مماثلت سے بچے اور اپنی عملی زندگی کی راہیں علم کی روشنی میں متعین کرے۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ کتاب و سنت میں تدبر و تفکر کو اپنی زندگی کا مشن بنائے اور اس راہ کی مشقتوں کو خندہ پیشانی سے بہ نیت رضائے الٰہی برداشت کرے۔ تحصیل علم کی کوشش اگر خلوص نیت کے ساتھ ہوگی تو اللہ پاک دل کی دنیا کو ضرور روشن کردیں گے اور اس ظلمت و تاریکی سے نجات حاصل ہوگی جسے اللہ نے کفار و مشرکین کے لئے مخصوص کر رکھا ہے۔

یہ ہیں قرآن کریم میں علم کی فضیلت اور اہمیت کے سلسلہ میں اہم نکات جو اس کوتاہ نظر کے مطا لعہ میں سامنے آئے۔ اگر کوئی صاحب علم و فکر دقت نظر سے قرآن کا مطالعہ کرے تو نہ جانے اور کتنے نکتے سامنے آئیں گے۔ بہر حال علم کا شوق دلانے اور تحصیل علم کا جذبہ بیدار کرنے کے لئے یہ بھی کافی سے زائد ہے کہ ماننے والوں کے لئے ایک آیت بھی کافی ہے اور نہ ماننے والوں کے لئے تو بہانے ہزار ہیں۔ آخر میں برادران ملت سے یہ اپیل ہے کہ مذکورہ بالا نکات پر غور کریں اور تحصیل علم دین کی طرف متوجہ ہوں کیونکہ بحیثیت مسلم ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اپنی زندگی کے تمام امور شرعی علوم کی روشنی میں طے کریں۔ اگر ہم علم سے بے بہرہ رہے تو ان امور کی اصلاح نہیں کرسکتے اور بروز قیامت یہ کہہ کر ہماری جان نہیں چھوٹ سکتی کہ مجھے علم نہ تھا کیونکہ دوسرا سوال یہ بھی ہو سکتا ہے کہ تم نے علم حاصل کیوں نہیں کیا؟ اس لئے اپنی مشغولیت سے کچھ وقت فارغ کریں اور علماء دین کی رہبری میں دینی کتابوں کا مطا لعہ کریں۔ ابتدا دین کی بنیادی باتوں سے ہی کریں اور درجہ بدرجہ احکامات کے دلائل، حکمتوں اور مقاصد کو جاننے کی کوشش کریں۔ اگر خلوص نیت کے ساتھ سعی مسلسل ہوگی تو کامیابی یقینی ہے۔ اس کے ساتھ ہی اپنے بچوں کو بھی دینی علوم سے آراستہ کریں کیوں کہ اللہ نے ان کی دینی تربیت کی ذمہ داری بھی آپ کے کندھوں پر ڈالی ہے۔ اگر وہ دین سے بے بہرہ رہ گئے تو آپ باز پرس سے نہیں بچ سکتے۔ داعیان دین سے یہ اپیل ہے کہ اپنی دعوت کو علم کے زیور سے مزین کریں۔ دعوت اگر کتاب و سنت کی روشنی میں ہوگی تو زیادہ پر اثر ہوگی۔

دوسری حقیقت یہ بھی ہے کہ جس کی وضاحت سطور بالا میں بھی کی گئی کہ قرآن و سنت کا صحیح فہم اور دین کے اسرار و رموز کا انکشاف دعوت کے ماحول میں ہی ہوتا ہے۔ اس لئے جو لوگ کار دعوت سے جڑے ہیں ان کے لئے یہ ایک غنیمت موقعہ بھی ہے جس سے وہ فائدہ اٹھا سکتے ہیں لیکن اس میں بھی تدریج کو ملحوظ رکھنا ضروری ہے۔ علماء سے یہ خصوصی اور مؤدبانہ درخواست ہے کہ وہ علم کی فضیلت اور اہمیت کو عوام کے سامنے زیادہ سے زیادہ بیان کریں اور ان کی دینی اور تعلیمی بیداری کے لئے آگے آئیں۔ اس کے لئے جلسہ جلوس کی نہیں بلکہ زمینی سطح پر لائحہ عمل تیار کرنے کی ضرورت ہے۔ علماء اگر آگے آئیں تو عوام ان کا ساتھ ضرور دیں گے پھر کامیابی نہیں ملنے کی کوئی وجہ سمجھ میں نہیں آتی۔ آخر میں اللہ سے دعا ہے کہ ہم سب کو علم نافع سے نوازے اور اس کے حصول اور ترویج و اشاعت کی تگ و دو میں مشغول رہنے کی توفیق عطا فرما ئے۔ آمین!

مزید دکھائیں

ڈاکٹر محمد واسع ظفر

مضمون نگار پٹنہ یونیورسٹی پٹنہ کے شعبہ تعلیم کے سابق صدر ہیں۔

2 تبصرے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close